خانہ جنگی کی کال اور تاریخ
شیخ رشید اپنی پندرہویں وزرات سے ہاتھ دھونے کے بعد عوام کو خانہ جنگی پر اکسا رہے ہیں۔ حالانکہ شیخ صاحب کے پاس جمہوری اور آئینی راستہ ہے۔ عدالت جا سکتے ہیں دھرنا دے سکتا ہے۔ مگر نہیں شیخ صاحب کو خانہ جنگی کی پڑی ہے۔ شاید شیخ صاحب کے من میں ہو۔ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے۔ لیکن یہ نہیں سوچا ہے کہ جو خانہ جنگی کا حصہ بن جائیں وہ کیا کریں گے۔ کیونکہ جن ممالک میں خانہ جنگی ہے وہاں نقصان صرف عوام کا ہے عوام کی زندگیاں ہر پل ایک قیامت میں گزرتی ہے۔
جہاں خانہ جنگی ہے وہاں غربت بھی ایک بم ہے غربت کے اس بم کو ڈی فیوز کرنے کے لیے باپ بیٹی بیوی بہن کا ہاتھ پکڑ کر سر عام انہی کی عزت بھیجنے کی صدائیں لگاتا ہے۔ اسی کمائی سے یہ سارا فیملی پیٹ پالتے ہیں۔ جس کے لیے عوام ایک دوسرے کے گلے کاٹتے ہیں۔ وہ لوگ یورپ امریکا یا دنیا کے دوسری ممالک میں مزے سے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ جن لیڈران کے لیے عوام نے ایک دوسرے کا جینا حرام کیا ہے وہی لوگ عوام پر اسلحہ بھیجتے ہیں۔
چاہے اس کا چاہنے والا ہو چاہے مخالف ہو دونوں کو اسلحہ بھیجتی ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی عیاشیوں کے لیے پیسہ چاہیے اور یہی پیسہ پھر اسلحہ بھیجنے سے لاتی ہیں۔ یہی اسلحہ ان کو وہ ممالک فراہم کرتی ہیں۔ جو کمزور معاشی ممالک کی بھاگ دوڑ اپنی من پسند لوگوں کے ہاتھوں دینا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ گیم کو اتنی خوبصورتی اتنی ٹیکنیکل انداز میں لے کر آتے ہیں کہ اچھے اچھے سمجھتے ہیں۔ کہ یہ سب کچھ ہماری مفاد میں بہتر ہیں۔ جیسا کہ عمران خان کی تین سالہ حکومت خان صاحب اپنی کارکردگی کا ذکر نہیں کرتا ہے مگر اداروں کو ٹارگٹ کرتا ہے۔
عوام یا اپنی سپورٹرز کے ذہن میں یہ بات ڈالی ہے کہ آپ کی بنائی ہوئی حکومت کو زور زبردستی ختم کیا ہے۔ اس طرح آہستہ آہستہ نفرت بڑھتی جاتی ہیں اور ایک دن بم بن کر بلاسٹ ہو جائیں گی۔ کیا شیخ رشید عمران خان یا ان تمام لیڈران کی اپنی اولاد خانہ جنگی کا حصہ یوں گے؟ یا صرف غریب اور امیدوں پر جیے جانے والے عوام ایک دوسرے کا گلا کاٹیں گے؟ کیا ملک کے دفاعی ادارے شیخ رشید سے سوال کرنے کی جرات کر سکتے ہیں کہ بھائی آپ کیوں خانہ جنگی چاہتے ہیں؟
کیا سپریم کورٹ شیخ رشید یا پی ٹی آئی کی بنائی گئی اس بیانیے کا از خود نوٹس لے گی؟ کیا عوام نواز شریف زرداری کو اپریشیٹ کرے گا جنہوں نے عدالتی فیصلوں کے خلاف انصاف کے لیے انہیں عدالتوں سے رجوع کیا جہاں سے ان کو سزائیں ملی تھی مگر عدالتوں کے خلاف اپنے ورکروں کو جنگ پر نہیں اکسایا۔ عمران خان کی اپنی تقریر ہے کہ یہ لوگ اب عدالتوں کے خلاف نکلیں گے، کاروبار تباہ ہو جائے گا ملک اور عوام کا نقصان ہو جائے گا۔
وغیرہ وغیرہ مگر آج ان کو عوام ملک کاروبار اور عدالت کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عمران خان کرسی کے لیے جنگ لڑ رہا ہے۔ نہ کہ ملک یا عوام کے لیے۔ ملک اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے۔ ساڑھے تین سال مرکز میں اور نواں سال پختونخوا میں ہے عوام کو یا ملک کو کیا ریلیف دیا گیا؟ یہی اگر وہ اپنی تقاریر کا موضوع بنائیں تو بہتر ہو گا۔ آخر میں ایک بار پھر سپریم کورٹ اور ملک کی دفاعی اداروں سے درخواست ہے کہ شیخ رشید کے بیان کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ کیونکہ جو بیانیہ وہ یا پی ٹی آئی لیڈر شپ بنا رہی ہے۔ ملک اور عوام کے لیے باہر کی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔

