دوشیزاؤں کا گھر سے بھاگنا: ذمہ دار کون؟


روشنیوں کے شہر کراچی سے گزشتہ دس روز کے دوران تین نوجوان لڑکیاں لاپتہ ہوئیں۔ 16 اپریل کو الفلاح گولڈن ٹاؤن سے ”دعا زہرہ“ ، 20 اپریل کو سعود آباد سے ”نمرہ کاظمی“ اور 22 اپریل کو سولجر بازار سے ”دینا“ نامی لڑکی لاپتہ ہوئی۔

والدین نے اول فرصت میں ہی قریبی تھانوں میں مقدمات درج کرائے اور پولیس نے ہنگامی بنیادوں پر لاپتہ لڑکیوں کی تلاش کا سلسلہ شروع کیا۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی اس حوالے سے کافی تگ و دو ہوئی۔

شروع میں ان واقعات کو اغوا کے واقعات سمجھ کر سب نے لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور اور سوشل میڈیا کے واسطے ہر ممکن آواز اٹھانے کی کوشش بھی کی۔ کسی نے پولیس کو مورد الزام ٹھہرایا اور کوئی اغواکاروں کو بددعائیں دیتا رہا۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ جوں جوں تفتیش کا سلسلہ آگے بڑھتا گیا گتھیاں سلجھتی گئیں۔

جب قلعی کھلی تو معلوم ہوا لڑکیاں اغوا نہیں ہوئیں بلکہ اپنے آشناؤں کے ساتھ بھاگ نکلی ہیں۔ ”دعا زہرہ“ نے لاہور کے نوجوان ”ظہیر احمد“ اور ”نمرہ کاظمی“ نے ڈیرہ غازی خان کے ”شاہ رخ نجیب“ سے شادی رچائی۔ جبکہ ”دینا“ نے وہاڑی کے نوجوان ”اسد عباس“ سے پسند کی شادی کی۔

یہ تین واقعات گزشتہ دس روز سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بنے رہے۔ لیکن درحقیقت وطن عزیز میں ایسے واقعات تسلسل کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔ بالخصوص دیہی علاقوں میں ایسے واقعات کی کثرت ہے۔ ہر دوسرے دن کوئی دوشیزہ کسی نوجوان کے ساتھ گھر سے بھاگ کھڑی ہوتی ہے۔ بلکہ میری معلومات میں ایسے واقعات بھی ہیں کہ شادی شدہ لڑکیاں اپنے خاوند اور بچوں کو چھوڑ کر یاروں کے ساتھ بھاگ نکلیں۔

اب ان واقعات کا مجرم کس کو ٹھہرایا جائے۔ بھاگنے والی لڑکی کو، بھگانے والے لڑکے کو یا دونوں کے والدین کو، یا معاشرے کو؟ ان سب پر ہر شخص اپنے اپنے ذہن کے مطابق سوچ سکتا ہے۔ لیکن میرے خیال کے مطابق یہ تینوں قسم کے لوگ ان واقعات کے ذمہ دار ہیں۔ بھاگنے اور بھگانے والے یقیناً مجرم ہیں لیکن اس وقت تک جب تک وہ ایک دوسرے کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھیں۔ لیکن جوں ہی وہ نکاح کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں شریعت کی نظر میں ان پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ اب ان کے لیے محبت کے سارے رشتے نفرت میں بدل چکے ہیں۔ ماں کا سایہ دار آنچل، باپ کی شفقت اور بہن بھائیوں کی محبت اب ان کو کبھی نصیب نہیں ہوگی۔

جہاں تک والدین کا تعلق ہے تو والدین کی ذمہ داری اس حوالے سے سب سے بڑھ کر ہے۔ والدین کا کام صرف بچے پیدا کرنا اور ان کی پرورش کا بندوبست کرنا نہیں ہوتا بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے ہر قول و فعل پر نظر رکھنا بھی والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ خاص کر جب بچہ نیا نیا جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ چکا ہو، اس کا سکول یا کالج میں نوجوان لڑکیوں سے اختلاط بھی ہو اور اس کے پاس سمارٹ فون بھی ہو۔ تو والدین کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ بچے کی مکمل نگرانی کریں۔

ہمارے ہاں والدین بچوں کو سمارٹ فون تو تھما دیتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ بچہ موبائل پر دن رات کن کاموں میں مصروف رہتا ہے۔ بالخصوص کسی کے ساتھ بات کرنے کا شائبہ تو والدین کو ضرور ہوجاتا ہے لیکن والدین نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ اس طرح کے واقعات کی صورت میں نکلتا ہے۔

مذکورہ واقعات میں ”دعا زہرہ“ کے شوہر ”ظہیر احمد“ کا کہنا ہے کہ میرا دعا سے رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا۔ اور پچھلے تین سال سے ہم باہم رابطے میں تھے۔ والدین نے اول تو دوشیزہ کو موبائل تھمایا پھر پب جی کھیلتے ہوئے کوئی سرزنش بھی نہ کی اور پھر تین سال تک ان کی بیٹی ایک لڑکے سے رابطے میں تھی لیکن انہوں نے اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔

اگلی بات جو نہایت اہم ہے کہ دعا کے شوہر ”ظہیر احمد“ کے مطابق اس کے والدین نے ”دعا“ کے والدین سے شادی کے بارے میں بات بھی کی لیکن ”دعا“ کے والدین رضا مند نہ ہوئے جس کی وجہ سے دعا کو بھاگ کر میرے پاس آنا پڑا۔ یقیناً یہ مسئلہ بھی نہایت حساس ہے کہ شادی کرتے وقت بچوں سے ان کی رضا مندی نہیں پوچھی جاتی۔ بس اپنی مرضی سے ان کی زندگیوں کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے یا تو بچوں کی پوری زندگی جھگڑوں میں گزرتی ہے اور یا پھر بچے اپنی زندگی کی خاطر انتہائی قدم اٹھا کر گھر چھوڑ جاتے ہیں۔

اس طرح کے واقعات میں تیسرا مجرم ہمارا معاشرہ ہے۔ جس میں گناہ انتہائی سہل اور نیکی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔ معاشرے نے نکاح کو ایک مشکل ترین عمل بنا دیا ہے۔ نکاح ہمارے پیارے آقاﷺ کی سنت ہے اور ایجاب و قبول اور معمولی مہر سے مکمل ہوجاتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں نکاح بھاری جہیز اور بڑے شادی ہالوں میں ولیمے کے بغیر نہیں ہوتا۔ جب نکاح مشکل ہوجاتا ہے تو پھر نوجوان اپنی فطری خواہشات کے پیش نظر ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

بعض اوقات والدین اپنے جوان لڑکوں کو چھوٹا سمجھ کر ان کی شادیاں نہیں کرتے۔ میں ایسے کئی نوجوانوں کو جانتا ہوں جو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سرکاری ملازمت یا اپنے کاروبار کر کے ٹھیک ٹھاک کماتے ہیں لیکن والدین ان کو اب بھی چھوٹا سمجھ کر ان کی شادیاں نہیں کرتے۔

مذکورہ بالا واقعات کی بیخ کنی کے لیے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کی بہترین تربیت اور کڑی نگرانی سمیت رسوم و رواج کے دبیز پردوں کو توڑ کر نکاح جیسی سنت کو آسان تر بنا دیا جائے۔ اور بچوں کی جسمانی غذا سمیت ان کی حلال شہوانی غذا کا بھی انتظام کیا جائے۔ وگرنہ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد عاقب جدون کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments