آزاد لڑکی (کہانی)۔


آج ماں نے میری بیوی (مسیرا) سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ماں ہمارے گھر سے صرف تیس میٹر کی دوری پر رہتی ہے۔ میں نے مسیرا کو تیار ہونے کو کہا اور ساتھ میں یہ حکم بھی صادر کیا کہ جب وہ غسل لے چکے تو میرے لئے پانی کی بالٹی بھر کر رکھ دے۔ علاوہ ازیں تولیہ، صابن اور وہ تمام چیزیں جو غسل کے دوران غسل خانے کو رونق بخشتی ہیں سے غسل خانے کو سجا دے۔ تیار ہونے کے بعد اس نے کھیر ایک پلیٹ میں ڈالی جو ابھی گھنٹہ پہلے ہی اس نے بنائی تھی اور پھر ہم ماں کے گھر کی طرف چل دیے۔

دروازے سے نکلے ہی تھے کہ میرا تین سالہ بھتیجا مچل کے کھڑا ہو گیا کہ اس نے بھی ساتھ جانا ہے۔ میرا چہیتا بھتیجا کوئی فرمائش کرے اور میں نہ مانوں، یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا۔ اس کو بھی میں نے مسیرا کی گود میں تھما دیا۔ مجھے بچے اچھے تو لگتے ہیں مگر ان کو سنبھالتے ہوئے بڑی کوفت ہوتی ہے۔ خیر ہم ماں کے پاس پہنچے اور ڈھیر ساری باتیں کیں۔ اتنے میں میری بیوی چائے بھی بنا لائی۔ خوب مزے لے لے کر چسکیاں لیں۔ بیگم صاحبہ چائے پکڑا کر ماں کے پیر دبانے میں مصروف ہو گئی اور اپنی چائے ٹھنڈی کر ڈالی۔ جب میرے پاس مزید کوئی بات کرنے کو نہ بچی تو واپسی کی راہ لی۔ واپسی پر ایک عجیب سا واقعہ پیش آیا۔

میرا بھتیجا کافی شرارتی ہے۔ واپسی پر وہ پیدل تھا اور مسیرا نے اس کی انگلی تھام رکھی تھی۔ سڑک پار کرنے کے دوران اچانک سے اس نے اپنی انگلی چھڑا لی اور وہ میری طرف بھاگا۔ دور سے ایک شخص ایک ہاتھ میں موبائل تھامے دوسرے ہاتھ سے بائیک کا ہینڈل پکڑے بائیک کو بے ربط انداز میں بھگائے لا رہا تھا۔ شاید اگر مسیرا اسی وقت بھاگ کر میرے بھتیجے کو نہ پکڑتی تو وہ بائیک کی پکڑ میں آ چکا ہوتا۔ بھتیجا تو بچ گیا مگر اس دوران مسیرا کا دوپٹہ اس کے سر سے کھسک گیا۔ سڑک پہ کھڑے اوباش قسم کے لڑکے جو کہ پہلے بھی میری بیوی کو گھور رہے تھے، اب مزید گھور گھور کر دیکھنے لگے اور آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔ میرا خون کھول اٹھا۔

میرا دل چاہا کہ میں انہیں بھون دوں مگر وہ تعداد میں زیادہ تھے۔ میں زخمی ہو سکتا تھا۔ پوری سڑک پہ نظر دوڑائی تو بس ایک ہی مخلوق ایسی نظر آئی جس پر میرا بس چل سکتا تھا۔ اور مجھے یقین تھا کہ وہ آگے سے چوں چرا بھی نہیں کرے گی۔ اس طرح میرا غصہ بھی نکل جائے گا اور میں زخمی بھی نہیں ہوں گا۔ نہ دماغی طور پر اور نہ جسمانی طور پر۔ پس میں سڑک کے اس پار سے چیخا،

”کچھ عقل کرو مسیرا، ایک بچہ نہیں سنبھل رہا تم سے، آگے ہمارے بھی بچے ہونے ہیں، پتا نہیں وہ کیسے سنبھالو گی۔“ میرا لہجہ کافی کرخت تھا۔

بس پھر کیا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی مسیرا نے دوپٹہ اتار پھینکا اور چیخ چیخ کے رونے لگی۔ پھر خود ہی چپ ہو گئی، کیونکہ میں نے کوئی خاص پروا نہ کی۔ خیر میں باہر دوستوں کی طرف نکل گیا۔ شام کو لوٹا تو مسیرا کے پاس آنے کی کوشش کی۔ مگر وہ دن کے واقعہ پر ناراض تھی۔ شاید انتظار میں تھی کہ میں اسے مناؤں۔ مگر اس وقت تو میری آنکھوں پہ پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میں بھلا کیوں مناتا جبکہ میری کوئی غلطی نہیں تھی۔ یہ سب میں نے اسی کی حفاظت کے لئے کیا تھا۔ جب اس نے مجھے اپنے قریب نہ آنے دیا تو میرا پارا مزید چڑھ گیا۔ میں اس کا شوہر تھا، بھلا اس کو کیا حق پہنچتا تھا کہ وہ مجھے انکار کرے ؛ یہ سوچ کر میں اس پر پل پڑا اور بھوک مٹا کر ہی ہٹا۔

اگلی صبح مسیرا بستر پر نہیں تھی۔ میں نے گھر میں دیکھا۔ ماں کے ہاں پتا کیا۔ مگر وہ نہیں تھی۔ وہ اپنے گھر جا چکی تھی اور ایک رقعہ چھوڑ گئی تھی۔

”میں جا رہی ہوں۔ اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو آجانا۔“

مگر میں تو اس گھمنڈ میں تھا کہ میری تو کوئی غلطی ہے ہی نہیں۔ اسی طرح ایک ماہ بیت گیا۔ میں نے اس کی خبر نہیں لی۔ بھلا میں کیوں لیتا۔ میں تو اس کا شوہر تھا۔ اس سے برتر۔ مجھے کیا آن پڑی تھی کہ میں اپنی انا کی آگ پر پانی چھڑک کر اسے کال کروں۔

اور پھر ایک دن خبر آئی کہ وہ حاملہ ہے۔ ہمارا بچہ اس کے اندر پل رہا تھا۔ مگر وہ بچہ بھی میری انا کو نہ دفع کر سکا۔ میں اپنی ضد پر قائم تھا۔ اور قائم رہا۔ اسی طرح دو ماہ گزر گئے۔

تیسرے ماہ مجھے ایک لفافہ موصول ہوا۔ یہ عدالت کی طرف سے تھا۔ میں نے اس کو کھولا اور میرے طوطے اڑ گئے۔ میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کمزور سی، بے وقوف سی، یتیم مسیرا اس حد تک جا سکتی تھی۔ وہ تو ایک عام سی لڑکی تھی جو دوسروں پہ انحصار کرتی تھی۔ میں تو اس خوش فہمی میں تھا کہ ایک دن اس کو واپس آنا ہی پڑے گا۔ اس کے گھر والے خود اسے چھوڑ کر جائیں گے۔ پھر وہی ہو گا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ میری انا کو تسکین ملے گی۔ میں اس کو پھر مزید دبا کے رکھ سکوں گا۔ مزید من مانی کر سکوں گا۔ اس کو دھمکا ڈرا سکوں گا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔

میری انا، میرا غرور، سب خاک میں مل گیا تھا۔ میں یہ بھول گیا تھا کہ وہ ایک آزاد خاندان کی آزاد لڑکی تھی۔ اور وہ آزادی لے چکی تھی۔ وہ میری انا اور تکبر کی سلاخوں سے بنی جیل سے آزادی حاصل کرچکی تھی۔ اس نے خود کو تاحیات مرنے سے بچا لیا تھا۔ خلع کا نوٹس میرا منہ چڑا رہا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اوبئین کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments