جنرل ڈائر: بلوچستان کے خرابوں میں
مترجم: عتیق بزدار
(Translation of “In Dyre’s footsteps” by Salman Rashid)
سینڈک۔ بلوچستان کی ایک دور ماندہ بستی۔ تانبیں کی کانیں نہ ہوتیں تو اس کا نام بھی عام پاکستانی کے حاشیہ خیال میں نہ ہوتا۔ چند بکھرے پڑے جھونپڑوں پر مشتمل یہ پرانی بستی ایک روایتی بلوچ گاؤں کا منظر پیش کرتی ہے۔ مگر بستی کا انڈسٹریل ایریا جدت کا احساس لیے ہوئے ہے۔ جہاں تہاں تانبا اور کنکریٹ، ہارن بجاتی لاریاں اور باربردار ٹرک نظر آتے ہیں مشینوں کی بھنبھناہٹ اور پسِ منظر میں خاکستری دھواں اگلتی چمنیاں کسی فیکٹری کا پتہ دیتی ہیں۔
کوئٹہ سے غربی سمت، اجاڑ چٹیل ویرانوں میں اک ریل کی پٹڑی بچھائی گئی جسے برٹش انجینئرز ” اداس ویران لائن” کہا کرتے تھے۔ اس لائن پر کوئٹہ سے چھ سو کلو میٹر پرے، کوہ تفتان سے قریب بیس ڈِگری شمالاً، سینڈک، پاکستان کا آخری ریلوے اسٹیشن ہے۔ پھر اس کی بعد ریل کی پٹڑی سرکتی ہوئی ایران کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے
یوں سینڈک واقعتاً پاکستان کا آخری کنارہ ہے۔ جس کے گرد شمال مشرق سے جنوب مغرب تک صحرا اِک کمان کی طرح کھِچا چلا جاتا ہے۔ کہیں تاحدِ نگاہ ہلال صورت ریتلے ٹیلے ملتے بچھڑتے نظر آتے ہیں۔ تو کہیں بے آب و گیاہ چٹیل میدان ہیں۔ کہیں مخروطی ٹیلے بجھ چکے آتش فشاؤں کا پتہ دیتے ہیں۔ تو کہیں سلفر کا سنگھار کیے آڑھی ترچھی نوکدار پہاڑیاں سر اٹھائے کھڑی ہیں۔ سینڈک کے مغرب میں سرمئی اور بھوری پہاڑیاں دراصل سلسلہ ہائے ” کچا کوہ” کا جنوبی سِرا ہیں جو قریب سو کلومیٹر شمال مغربی سمت پھیلا ہوا ہے۔
انیسویں صدی کے آخری سالوں میں ہنری میکموہن کی سربراہی میں ایک کمیشن کو ایران، افغانستان اور برٹش بلوچستان کے مابین سرحد کی باقاعدہ تعیین کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کمیشن نے بارڈ پوسٹس کے قیام اور تین سو کلومیٹر طویل سرحد کی تعیین میں کئی سال صرف کیے۔ اس کمیشن کے ایک سروئیر، جی پی ٹیٹ نے اس راہ میں بیتے دلچسپ احوال اپنی کتاب "فرنٹیرز آف بلوچستان” میں بیان کیے ہیں۔ اس کتاب میں بکھری کئی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کے بیچ ایک تصویر ایسی ہے جسے میں میکموہن، ٹیٹ، اور دو ہمکار ایک پتھری ڈھیری کے ساتھ سستاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ تصویر کا کیپشن کچھ یوں ہے "سرحدی بُرجی نمبر 186 : کوہِ مالک سیاہ سن 1896”
ٹیٹ بتاتے ہیں کہ یہ سرحدی ستون تین مملکتوں، برٹش بلوچستان، ایران اور افغانستان کا سنگم ہے – آج اسے پاکستان، ایران اور افغانستان کا سنگم کہا جا سکتا ہے۔ بایاں ہاتھ پر ایک سنگی لوح پر کندہ تحریر یاد دلاتی ہے کہ گورا سرکار کی 106 پائینئر بٹالین انیس سو پندرہ میں یہاں سے گزری تھی
15 اپریل 1915 – 106 پائینیرز ” Pioneers Battalion’
راقم کو جغرافیہ اور نقشوں سے ایک گونہ رغبت ہے۔ مجھ ایسے نقشوں کے عاشق آدمی کو کہیں اگلے وقتوں کا "ایک انچی نقشہ” نظر آ جائے تو رُواں رُواں خوشی سے معمور ہو جاتا ہے۔ اب تو "کلومیٹر نقشوں” کا رواج ہو چلا ہے۔ اب”ایک انچی نقشے” فقط فوج میں استعمال ہوتے ہیں۔ اور عام آدمی کے لیے با آسانی دستیاب نہیں ہیں۔ خدا خوش رکھے میرے فوجی احباب کو جن کی مہربانی سے میں متعلقہ نقشے دیکھ پایا۔ بنظرِ غائر دیکھا تو نمبر 186 کی توجیہہ سمجھ میں آئی۔ ان بُرجیوں کی نمبر شماری ضلع ژوب سے شروع ہوتی ہے۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ اس سنگم کے قریب واقع پہاڑ، سلسلہ ہائے کچا کوہ سے تھوڑا ہٹ کر واقع ہیں اور ٹیٹ نے انہیں کوہِ مالک سیاہ کے نام سے قلمبند کیا ہے۔ بُرجی نمبر 186 سےجنوب مشرقی سمت میں دیکھتے جائیں تو نقشے پہ بُرجی نمبر 186 سے لیکر بُرجی نمبر ایک تک تمام بُرجیوں کی نشاندھی با آسانی کی جا سکتی ہے
اگر پاکستان کے نقشے پر نظر دوڑائی جائے تو یہ مغربی سمت ملک کا آخری کونا ہے۔ پاکستانی نقشے میں سمندر کنارے جیونی کے مقام پر بھی ایسی ہی ایک تکون بنتی نظر آتی ہے۔ مگر سینڈک کی تکون اُس تکون سے بھی طول البلد کا پورا ایک منٹ مزید مغرب میں واقع ہے
اب اگر آپ اس سے مزید مغرب میں جانے کی جرأت کرتے ہیں تو اندیشہ ہے کہ کسی ایرانی سپاہی کی گولی آپ کو خالقِ حقیقی سے جا ملائے۔ مگر فقیر کے سر میں تو یہ سودا سوار تھا کہ ٹھیک اُسی جاء پر جا کر پاؤں جمائیے جہاں جنابِ ٹیٹ نےاپنے پاؤں دھرے تھے۔ بُرجی نمبر 186
وطنِ مالوف کے اس دورافتاده کونے سے محبت کی دوسری وجہ رَباط تھی ( پاکستانی اٹلس میں اسے غلطی سے رِباط لکھا گیا ہے)۔ رباط، پاکستان کی غربی سرحد پر واقع آخری آبادی ہے۔ زبانِ عربی کا رباط دراصل زبانِ فارسی میں سرائے کہلاتا ہے۔ ایسی کاروان سرائے جہاں قافلے شب بسری کے لیے قیام کرتے تھے۔ ایسی سراؤں کے ساتھ پنپنے والی آبادی بھی مرورِ ایام کے ساتھ "رباط” کے نام سے معروف ہو جاتی تھی۔ افغانستان اور وسطی ایشیا میں بہتیرے ایسے "رباط” آج بھی موجود ہیں۔ میری اس بلوچ رباط سے الفت کی وجہ بھی دراصل کسی اجاڑ کاروان سرائے کی تلاش تھی۔
گلگت کے مغرب میں ہندو کش کے بیچوں بیچ، اشکومن گاؤں کے شمال میں، بر کنارِ دریائے کرومبر ایک اور رباط بھی موجود ہے۔مگر سروے آف انڈیا کے نقشوں میں اسے باقاعدہ "رباطِ سوخته” ( ایک سرائے جو جل کر خاک ہوئی) کے نام سے نشان زد کیا گیا ہے۔میں نے کئی مہم جوؤں کے سفری احوال کھنگال ڈالے، مگر کسی صاحب نے یہاں جل چکی سرائے کے کھنڈرات دیکھنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ سو غالب گمان یہی ہے کہ سرائے کی باقیات اتنی مدت ضرور قائم رہیں کہ عوام الناس میں یہ علاقہ سوختہ آباد کے نام سے معروف ہو چلا۔ ایک بزعم خود اردو سفرنامه نگار نے اپنی ایک لغو سی کتاب میں اس علاقے کا نام بگاڑ کر "سوختر آباد” لکھا ہے۔ میں اسے تاریخی حقائق مسخ کرنے کی بھونڈی کوشش سمجھتا ہوں۔ اس ملک میں عوام کی اکثریت ایسی ہی لغویات پڑھنے کی عادی ہے، بعید از قیاس نہیں کہ کچھ مدت میں اصلی نام بُھلا دیا جائے۔ پھر کسے خبر ہو گی کہ اس ویرانے میں کوئی کاروان سرا بھی تھی۔ جہاں قافلے گھڑی دوگھڑی رُکا کرتےتھے۔ یوں ایک احمق کی حماقت ایک تاریخی حوالہ ہماری یاد سے محو کر ڈالے گی۔۔
صاحبو! میں آپ کو ایک بار پھر پاکستان کی غربی سرحد کی طرف لیے چلتا ہوں۔ جہاں ایک اور داستان شنوائی چاہتی ہے۔
امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں خون کی ہولی کھیلنے سے چار برس ادھر کی بات ہے کہ رینالڈ ڈائر آٹھ ماہ کے لیے یہاں تعینات رہا۔ جیسے ہی پہلی جنگ عظیم کا بِگل بجا، جرمن سرکار نے چپکے سے ایرانی سرحد پر آباد دامانی بلوچوں کو مسلح کرنا شروع کر دیا تاکہ برٹش سرکار کے خلاف ایک مسلح بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔ اگست انیس سو چودہ میں کوئٹہ کی چوتھی ڈویژن سے ایک مختصر دستہ اس بغاوت کی سرکوبی کیلیے بھیجا گئی۔ ایک ہی سال میں اس دستے کو "مشرقی فارسی سرحدی سپاہ” کا درجہ دے کر تعداد میں خاصا اضافہ کر دیا گیا۔ مارچ انیس سو سولہ میں ڈائر جو تب لیفٹننٹ کرنل تھا، کو اس سرحدی سپاہ کی قیادت کے لیے بھیجا گیا۔
دامانی قبائل بلا کے سرکش تھے۔ اگلے آٹھ ماہ ڈائر ان کی سرکوبی کیلیے کوشاں رہا۔ وہ” لدیز” اور "خواش” کے ایرانی علاقوں میں مصروفِ پیکار رہا۔ اس کی عملداری رباط کے شمال تک پھیلی ہوئی تھی۔ مگر اس کی ساری کوششیں رائیگاں رہیں۔ وہ دامانیوں کو مات دینے میں ناکام رہا۔ تنگ آ کر ڈائر نے سرکار سے درخواست کی کہ اس تپتے ہوئے بیاباں سے اس کا شملہ تبادلہ کیا جائے۔ اس نے اپنی عرضی میں لکھا کہ اب اس کی ہمت جواب دے چکی ہے۔ اس کی آنتوں میں ورم رہتا ہے۔ اور اسہال جان کا روگ بن چکا ہے۔
اکتوبر 1916 میں اس کی روانگی کا وقت آ پہنچا۔ مگر نحوست نے آخری وقت تک اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔ سینڈک سے روانہ ہوا۔ کچا کوہ پر نظر دوڑائی تو دل نے کہا اب ان اجاڑ چٹیل پہاڑوں کو آخری بار دیکھتا ہوں۔ شاید یہ بھی سوچا ہو کہ اگلے دو روز میں نوشکی کے ریلوے اسٹیشن پر جا پہنچوں گا۔ 1918 تک "اداس ویران لائن” ایرانی سرحد تک نہ پہنچی تھی اور نوشکی اس کا آخر اسٹیشن تھا۔ ڈائر ابھی سینڈک سے تھوڑا ہی دور نکلا تھا کہ موٹر کار”مشکی چاہ” کے قریب خراب ہو گئی۔ سینڈک سے اس گاؤں کا رستہ آج بھی کچا ہے۔ یہ بل کھاتا رستہ اک صحرا سے گزرتا ہے جو پتھروں سے پِٹا پڑا ہے۔ اس راستے پہ فور ویل ہی چل سکتی ہے۔ موٹر کار کا مشکی چاہ تک پہنچنا ہی بڑی بات تھی۔ ڈائر کار کی مرمت کے لیے سینڈک لوٹ آیا۔ اگلی بار روانہ ہوا تو کار اس بار بھی رستے میں خراب ہو گئی۔ مگر اس بار ڈائر نہیں رُکا اور اونٹ پر سوار ہو کر نوشکی جا پہنچا۔
صاحبو! اب ذرا زمانہ حال کی بات کرتے ہیں۔ ایک بلوچ شناسا کے ساتھ سفر کی نیت کی۔ مگر عین وقت پر وہ صاحب دغا دے گئے۔ غضب یہ ڈھایا کہ اس وقت غائب ہوئے جب میں کوئٹہ پہنچ چکا تھا۔ میرا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے بلوچ اس ملک کے سب سے وفا شعار اور قابل بھروسہ لوگ ہیں۔ شاید میرے اس ناهنجار شناسا کو ان بلوچی روایات کا پاس لحاظ نہ تھا۔ اگر ایک بااثر بلوچ دوست کی مہربانیاں شاملِ حال نہ ہوتیں تو میں شاید کبھی کوئٹہ سے ہی باہر نہ نکل پاتا۔ اب کی بار بھی انہوں نے ہی کرم نوازی فرمائی اور میں ایک فرسٹ کلاس سواری میں ایک نو تعمیر شدہ سڑک پر مغربی سرحد کی طرف رواں دواں تھا۔
خاران رائفلز کے ونگ کمانڈر لیفٹننٹ کرنل رضوان اپنے رینک کے لحاظ سے بانکے جوان نظر آتے تھے۔ انہوں نے میرے سینڈک کے قیام کو پُر آسائش بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ کرنل صاحب نے بتایا کہ ان کا دفتر اُسی بنگلے میں قائم ہے جہاں کبھی ڈائر نے قیام کیا تھا۔ میرا ناقص خیال تھا کہ تب ڈائر نے یہاں کسی خیمے میں چند روزہ قیام کیا ہوگا۔ راقم کو کیا خبر تھی کہ ڈائر کئی ماہ اسی بنگلے میں ڈیرے ڈال کر بیٹھا رہا۔ سینڈک قلعے کے سائے تلے ڈھلانی چھت والے اس کاٹیج میں سامنے کے رُخ برآمدے تھے اور بیرونی دیوار کے ساتھ مناسب فاصلے پر پشتے لگائے گئے تھے۔ ایک خوابگاہ (بیڈ روم جہاں اب کرنل صاحب کا دفتر تھا)، ایک کمرہء نشست (جہاں اب کلرک بابو بیٹھتا تھا), عقب میں ایک غسلخانہ، اور ایک کچن جو اب یونٹ کا ریکارڈ روم بن چکا تھا۔ یہ ننھا منھا سا کاٹیج بنگلہ کہلانے کا سزاوار ہرگز نہ تھا۔
اس کاٹیج پر کہیں بھی تاریخِ تعمیر لکھی نظر نہ آئی۔ البتہ قلعے کے مرکزی دروازے پر 1903 کا سن کندہ ہے۔ جو کہ مشرقی فارسی سپاہ "East Persia Cordon” کی تشکیل سے بھی بارہ سال اُدھر کی بات ہے۔ تب اس علاقے میں جرمن چھیڑ چھاڑ بھی شروع نہ ہوئی تھی۔ بس ایک مکموہن باؤنڈری کمیشن تھا جو اُن دنوں سرحدوں کی نشاندہی کا کام۔تقریباً مکمل کرنے والا تھا۔ اور برٹش سرکار نے اس دور افتادہ علاقے میں قلعہ تعمیر کر کے "راج ” کےجھنڈے گاڑ دئیے تھے۔ اب اس گیریثرن کی نگرانی کے لیے ایک افسر کی ضرورت پڑی۔ میرا قیاس یہی ہے کہ یہ گھر خصوصاً ڈاٰئر کے لیے نہیں بلکہ اس وقت نو تعمیر شدہ گیریثرن کے کمانڈر کے کیے تعمیر کیا گیا۔ لیکن یقینناً یہی خوابگاہ ہو گی جہاں مستقبل کا خون آشام بھیڑیا دردِ شکم سے کراہتا ہو گا۔ باہر بھنگی انتظار کرتا ہو گا کہ کب صاحب حوائجِ ضروریہ سے فارغ ہوں۔ اور وہ صفائی کا کام نمٹائے۔ شاید یہ بھی دعا کرتا ہو کہ صاحب جلد یہاں سے "لدیز ” کوچ کر جائے۔
کرنل ڈائر کا اقامتی بنگلہ
رضوان صاحب سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے رباط (یہ علاقہ ان کے زیرِ کمان تھا) کے دورے کے لیے نکل رہے تھے اور آج میں ان کا رفیقِ سفر تھا۔ ہم شمال مغربی سمت سلسلہ ہائےکچا کوہ کے کنارے محوِ سفر تھے۔۔ابھی کل شام میں جو پہاڑیاں خاکستری مائل نظر آتی تھیں، آج نور ظہور کے تڑکے ان کا جوبن ہی کچھ اور تھا۔ روپہلی کرنیں ان کے بدن پر مچلتی تھیں۔ اور ان کا سنگلاخ بدن کہیں گیروا، کہیں سرمئی تو کہیں عنابی چھب دکھلاتا تھا۔ ہر رنگ اک دوجے سے ایسا جدا کہ گمان ہوتا تھا کسی مشاق مصور کا موقلم عارضِ گیتی پہ رواں ہے۔
قریب ہر بیس کلومیٹر پر ہمیں خاران رائفلز کے قلعے نظر آئے۔ کرنل صاحب کا کہنا تھا کہ یہ رستہ عموماً افغان سمگلر، ایران اور غربِ ایران کے دیگر ممالک کی طرف سمگلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور سمگلنگ کے سدِ باب کے لیے یہاں قلعے ناگزیر ہیں۔ معاش کی تلاش میں سرگرداں اَن پڑھ بیروزگار افغانی نوجوان مشرق وسطیٰ اور مغربی ممالک کی جاب مارکیٹ تک رسائی کے لیے انہی سمگلرز کا سہارا لیتے ہیں۔ معاشی جبر کے مارے ان جوانوں کی یہ ہجرت غیر قانونی ہی سہی مگر خود کش بمبار یا نشئی بننے سے تو بدرجہا بہتر ہے۔ سمگلر پاکستانی علاقہ پار کرنے کے کیے جس تنگ سی پٹی سے گزرتے ہیں وہ خاصی دشوار گزار ہے۔ شمال کی طرف کئی اور راستے بھی ہیں مگر وہ سب راستے وسیع و عریض میدانی علاقوں سے گزرتے ہیں جہاں ایرانی سرحدی فوج کو جُل دینا آسان نہیں۔ اب یہ دشوار گزار پاکستانی راستہ چٹیل پہاڑوں اور بے آب و گیاہ پہاڑوں سے گزرتا ہے جہاں پاکستانی ملیشا کے لیے ان کو پکڑنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ راستہ زاہدان ریلوے اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے سب سے مختصر راستہ ہے جہاں سے ریل گاڑی پر سمگلنگ قدرے آسان اور برق رفتار ہو سکتی ہے
رباط سے واپسی پر ہم کچاؤ کی ملیشا پوسٹ پر رُکے۔ یہاں ساتھ ہی کچاؤ گاؤں تھا۔ ملیشیا والوں نے گاؤں سے تین بڑے بوڑھوں کو بھی مدعو کر رکھا تھا۔ میں خاصا پُر امید تھا کہ ان بزرگوں کے سینے بھانت بھانت کی علاقائی داستانوں سے ابل رہے ہوں گے اور ہم ان کی گوہر افشانیوں سے بہرہ مند ہوں گے۔ مگر ان صاحبان نے خاصا مایوس کیا۔۔ نہ کسی پھرتیلے انگریز افسر کا تذکرہ، نہ کسی داستانوی سورما کے قصے جس نے تنِ تنہا بڑے بڑے لشکروں کو مات دی۔ وہ کوئی بھی قصہ چھیڑنے سے گریزاں نظر آئے۔ میں نے کئی حیلے بہانے تراشے کہ صاحبان قصہ گوئی کی طرف مائل ہوں۔ مگر شاید میرا پنجابی ہونا ان کے لیے ناگوار تھا۔ اور وہ کچھ شکوک و شبہات کا شکار تھے۔ خبر نہیں صد ہا سال سے ان گنت محافل و اجتماعات میں سنائی جانے والی لوک داستانیں مجھ فقیر کو سنا دینے سے ان کے کاز کو کیا نقصان ہونے کا اندیشہ تھا۔ یہاں کیرتھر کے ایک داستان گو کی بے طرح یاد آئی۔ اس کا دماغ تھا کہ بے شمار قصے کہانیوں کا خزانہ۔
ان بڑے بوڑھوں کے علاوہ ایک اور صاحب بھی شریکِ محفل تھے۔ نام تھا محمد خان۔ چالیس کے پیٹھے میں ہوں گے۔ ان کے بارے مشہور تھا کہ سمگلروں کے گائیڈ ہیں۔ اسی علاقے کا جم پل ہیں اور اپنی نگری کے چپے چپے سے واقف ہیں۔ ان راستوں کی کوئی ٹیکری یا پتھر بھی ایسا نہ ہو گا جس سے یہ صاحب واقف نہ ہوں۔ ان کا طریقہ واردات کچھ یوں ہے کہ سمگلر حضرات اپنی گاڑیوں پر سرحد کے اُس پار طے شدہ وقت اور مقام پر ان کے منتظر ہوتے ہیں۔ مقرر وقت پر محمد خان اپنی موٹر سائیکل دوڑاتا ہوا وہاں پہنچتا ہے۔ پھر شام کے دھندلکے میں، قافلہ، خان کی رہبری میں کئی ریگزاروں سے گزرتا ہے۔ کچا کوہ کے پُرپیچ پہاڑی رستے طے کرتا ہے۔ آخرش پاکستان ایران سرحد پر خان اپنا معاوضہ وصول کرتا ہے، قافلے کو الوداع کہتا ہے۔ موٹر سائیکل واپس موڑتا ہے اور اُنہی راستوں پہ گرد اڑاتا ہوا گھر لوٹ آتا ہے۔ اور پھر رات میں چین کی نیند سوتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ وہ کبھی پکڑا نہیں جا سکتا۔
قانون کے ہاتھ چاہے جتنے لمبے ہوں، محمد خان اپنی عیاریوں میں یکتا ہے۔ اس کا طریقہ واردات خاصا دلچسپ ہے۔ وہ سمگلروں کے قافلے کی رہبری تو کرتا ہے مگر خود اس قافلے سے چند سو میٹر آگے ہی رہتا ہے۔ اب اگر ملیشیا کو مخبری ہو جائے اور وہ خان کو پکڑنے کے لیے چھاپا مار دیں۔ تو خان ٹارچ کے خفیہ اشارے سے سمگلر قافلے کو خبردار کر دیتا ہے۔ یوں سمگلر قافلہ واپس افغانستان کی سمت یہ جا وہ جا۔ ملیشیا والے خان کو دھر بھی لیں تو خان پر کوئی جرم ثابت نہیں کر پاتے۔ خان ناٹک کرتا ہے کہ وہ تو موٹر سائکل پر شام کی سیر کا لطف لے رہے تھا۔ اسی مڈبھیڑ میں خان ملیشا والوں کا کچھ وقت ضائع کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور سمگلر اسی وقت کے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کمین گاہوں کی طرف رفوچکر ہو جاتے ہیں۔
کسی برے دن اگر خان اپنی دُھن میں رواں دواں، گھات لگائے ملیشیا والوں سے مطلق بے خبر چلے جا رہا ہو۔ اپنے سمگلر ساتھیوں کو بروقت خبردار نہ کر پائے۔ اور اسی اثناء میں ملیشیا سمگلروں کو دھر بھی لے تو خان قافلے سے چند سو میٹر آگے رہتے ہوئے قافلے سے لاتعلقی ظاہر کرتا ہے۔ وہی پرانا شام کی سیر کا ناٹک۔ اور گھر واپس جا کر چین کی نیند سوتا ہے۔بس سمگلر دھر لیے جائیں تو اس کی جیب گرم نہیں ہوتی۔ اب دھندے میں اتنا رسک تو چلتا ہی ہے اور دھندے کے اصول خان سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔ خان نے کبھی ان سمگلروں کو چھڑوانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا۔ وہ دوسروں کے لیے جان جوکھم میں نہیں ڈالتا۔ سمگلروں کا کیا ہے، آج یہ تو کل کوئی دوسرا گروہ اس کی رہبری کا خواستگار ہو گا۔
مزے کی بات یہ کہ خاران رائفلز کے کمانڈانٹ سے لے کر ادنیٰ سپاہی تک ہر خاص و عام خان کی عیاریوں سے واقف ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ خان سمگلروں کی راہبری کا ببانگ دہل اقرار کرتا ہے مگر آج تک کوئی مائی کا لال اسے رنگے ہاتھوں پکڑ نہیں سکا۔ وہ ہمیشہ آپ کو گھومتا پھرتا نظر آئے گا۔ کبھی کسی گمشدہ اونٹ کے پیچھے تو کبھی کسی گمشدہ بھیٹر کی تلاش کا ناٹک رچائے۔ راقم نے محمد خان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی خواہش ظاہر کی تو خان صاحب نے مکر بھری مسکراہٹ کے ساتھ معذرت کر لی۔
ہم ہنوز رباط کی طرفِ محو سفر تھے۔ در ایں اثناء، ہم ایک خشک گھاٹی سے گزرے جس کے دونوں طرف پستہ قد پہاڑیاں نظر آ رہی تھیں۔ رضوان نے بتایا کہ دایاں سمت کی پہاڑیاں افغانستان کا حصہ ہیں اور ہم اس وقت سرحدی لکیر کو تقریباً چُھوتے ہوئے گزر رہے ہیں۔ ایک موڑ کاٹتے ہوئے ہمیں ایک پہاڑی کی بالائی پٹی پر ایک بے ڈھب سی عمارت نظر آئی۔۔ چھت پر دو آدمی پہرہ دے رہے۔ رضوان نے بتایا یہ طالب ہیں اور اس علاقے میں انہی کا راج ہے۔ افغان فوج کا اس علاقے میں کوئی نام نشان نہیں۔ شوخ و شنگ شالوں اور گاؤن کے شوقین کرزئی صاحب کی حیثیت فقط کابل کے مئیر جیسی ہے۔
درحقیقت، دالبندین واپسی پر میں نے کئی لوگوں سے سرحدی بُرجی نمبر 186 کے بارے پوچھ تاچھ کی تھی۔ ناظم کے خیال میں رباط سے اس ستون تک رسائی خاصی مشکل ہے۔ بہتر ہو گا آپ افغان کمانڈر عیدو سے رابطہ کیجیے۔ اس کی سرپرستی میں افغانستان داخل ہو جائیے اور اُس پار سے بُرجی نمبر 186 پہنچ جائیے۔ اب عیدو سے رابطہ کیسے ہو۔ سنا ہے وہ ایک چھلاوا ہے۔ آج یہاں تو کل وہاں۔
آخرکار ہم رباط جا پہنچے۔ رباط کیا تھا اک آڑھا ترچھا سا پیالہ تھا جس چٹیل پہاڑیوں نے جوڑ رکھا تھا۔ ان پہاڑیوں کے خاکستری بدن پر جہاں تہاں زرد اور سرخ دھبے نظر آتے تھے۔ اس سارے منظرِ ارضی میں ایک پستہ قامت پہاڑی پر ایستادہ ملیشیا کا قلعہ سب سے نمایاں تھا۔ اور اس قلعے کے گرد پانچ شکستہ بدن عمارتوں کے کھنڈر نظر آئے۔ تھوڑی سی گھاس کے علاوہ سارے میں اگر کوئی روئیدگی تھی تو بس کھجور کے دو تنہا شجر اور ایک آدھ اور درخت جن کے نام مجھے معلوم نہیں۔ سبزے کا ایک اور ٹکڑا بھی نظر آیا۔ ایک کیاری جسے ملیشیا کے جوانوں نے اس بنجر ویرانے خاصی محنت سے سینچا ہوگا۔ دھوپ میں تپتے گارے مٹی کے کھنڈروں کے بیچ ملیشیا کا قلعہ سنگ و خشت سے چُنی اکلوتی آباد عمارت تھی
یہ میرے خوابوں کا رباط تھا۔ اک گم گشتہ کاروان سرائے۔ سب سے بڑے کھنڈر کی اونچی دیوار کے ساتھ قریب سو مربع میٹر کا ایک احاطہ تھا جہاں کبھی سینکڑوں اونٹ اور گھوڑے باندھے جاتے ہوں گے۔ قافلوں کا مال اسباب رکھا جاتا ہوگا۔ تین دیوارین جو ہنوز سلامت تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ مستطیل شکل کے اقامتی کمرے جن کی لمبائی کے رُخ کی دیواریں قریب ڈھائی میٹر کی ہوں گی۔ یہی وہ گم گشتہ سرائے ہے جس کے نام سے یہ نگری موسوم ہے۔ رباط۔۔گئے دنوں میں جب یہ کاروان سرائے فعال تھی تو یہاں مسافروں کے لیے ساٹھ اقامتی کمرے موجود تھے
رباط کاروان سرائے
کاروان سرائے کا اندرونی منظر
گرمی ہو یا سردی، یہاں کا درجہ حرارت انتہاؤں کو چھوتا ہے۔ سردیوں میں شاید منفی بیس سیلسیس تک جا پہنچتا ہو۔ ایسے کڑاکے کے جاڑے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر کمرے میں ایک خوبصورت آتش دان کا اہتمام بھی تھا۔ گرمیوں میں تپش ایسی پڑتی تھی کہ پارہ پچپن سیلسیس کو چُھوتا تھا۔ ایسے میں اس سرائے کی گارے مٹی سے چُنی موٹی دیواریں اندر کا درجہ حرارت معتدل رکھتی تھیں۔ راقم نے بہت سوچا مگر یہ عقدہ لاینحل ہی رہا کہ اس بے آب و گیاہ ویرانے میں سرائے کا مالک چولہے گرم کرنے کو ایندھن کہاں سے لاتا ہو گا۔
ایک وسیع احاطے کے عین درمیان ایک قدرے شکستہ اکیلا کمرا نظر آیا۔ جس کی ٹوٹی پھوٹی چھت پہ گماں ہوتا تھا کہ کبھی یہاں گنبد رہا ہوگا۔ چشمِ خیال سے دیکھتا ہوں تو مجھے اس ہال کمرے میں زندگی گنگناتی نظر آتی ہے۔ بھانت بھانت کے مہمان سرزمینِ شیراز کی شرابیں چھلکاتے نظر آتے ہیں۔ ابھی دستر خوان چُنے جانے میں کچھ دیر ہے اور اک خواجہ سرا مغنی اپنی موہنی آواز میں عمر خیام کی رباعیوں سے مہمانوں کا دل لبھاتا ہے۔ دن بھر کے تھکے ہارے مسافر کھانا کھا چکتے ہیں تو لڑکھڑاتے ہوئے اپنے کمروں میں کی راہ لیتے ہیں۔
کاروان سرائے کا عملہ مرکزی دروازہ بند کرتا ہے۔ پھر مالک اور عملہ بھی بستروں میں جا لیٹتے ہیں۔
اونٹوں کے گلے کی گھنٹیوں کی جھنکار اور گھوڑوں کی سموں کی کھڑکھڑاہٹ کی لوری سنتے سنتے تھکے ہارے مسافر نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔
مشرقی سمت تھوڑا پرے ایک اور عمارت نظر آتی ہے۔ ایک احاطہ ہے جس کی ایک دیوار کے ساتھ قطار میں کچھ کمرے ہیں۔ یہ کسی کی ذاتی رہائش گاہ معلوم ہوتی ہے۔ شاید کبھی یہاں سرائے مالک کا خاندان آباد ہو۔ ملیشیا قلعے کی دوسری طرف ایک اور عمارت بھی نظر آئی جس کے محراب دار برآمدے سے برٹش راج کا روایتی طرزِ تعمیر جھلک رہا تھا۔ عمارت کے اندر کارنس والے روشندان بھی یورپی وضع کے تھے۔ گئے دنوں میں جب بھی مشرقی سرحدی سپاہ کے کمانڈر رباط کے دورے پر آتے تو یہاں قیام کرتے تھے۔ بعد ازاں یہ رباط قلعے کے کمانڈر کی سرکاری رہائش گاہ قرار پائی۔
اس کھنڈر سے تھوڑا پرے اِک اور کھنڈر تھا جو خد و خال سے ایک اور کاروان سرائے معلوم ہوتا تھا۔ پھر اس کے جنوب میں ایک اور کھنڈر۔ رباط کےصوبیدار صاحب کے بقول یہ کھنڈر یہاں کا چرچ ہوا کرتا تھا۔ اس سے آگے دریا کے خشک پاٹ سے پرے قریب چھ سو میٹر کے فاصلے پر ایرانی سرحدی فورسز کا قلعہ تھا جو اس خاکستری منظر میں ایسا ڈھل چکا تھا کہ بمشکل تمام نظر آتا تھا۔
صوبیدار صاحب کہنے لگے یہ ایرانی انتہائی روکھے مزاج کے لوگ ہیں۔ ہمیشہ لیے دئیے ہی رہتے ہیں۔ اور ہمارے لوگوں کی طرح سامنے آنے سے کتراتے ہیں۔ ایسے اکھڑ مزاج ہیں کہ ہاتھ ہمیشہ بندوق کی لبلبی پہ رکھتے ہیں۔ اب اگر ہلکی سی بھی نقل و حرکت، بھلے ہماری حدود میں کیوں نہ ہو، یہ لوگ اپنا سارا گولہ بارود جھونک ڈالتے ہیں۔ ان کے قلعے تک پکی سڑک موجود ہے اور ان کا قلعہ چوبیس گھنٹے بجلی سے جگمگ جگمگ کرتا ہے۔ آخری بات صوبیدار صاحب نے قدرے رشک آمیز لہجے میں کہی۔
جب میں نے سرحدی برجی نمبر 186 کے بارے اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کیا تو صوبیدار صاحب نے کہا کیوں نہیں۔ اور ہم چل پڑے۔ تنگ اور خشک گھاٹیوں کے بیچوں بیچ میں اور رضوان صوبیدار صاحب اور ان کے مسلح دستے کے پیچھے چلتے رہے۔ ایک جگہ رُک کر اُس نے سامنے ایک پہاڑی کی بالائی پٹی کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک سفید ستون اور پسِ منظر میں نیلا آسمان نظر آ رہا تھا۔ صوبیدار صاحب نے بتایا یہی وہ ستون ہے۔ ساتھ ہی کہنے لگے کہ اگر ہم یہاں سے سیدھے اوپر کی سمت گئے تو ایرانی ہمیں دیکھ کر سیدھا فائر کھول دیں گے۔ اور مجھے اپنے ان دوست ہمسایوں کا نشانہ آزمانے کوئی شوق نہ تھا۔
ایرانی بندوقوں کے زد سے محفوظ رہنے کے لیے ہم نے جس راستے کا انتخاب کیا تھا۔ وہ ابھی چار کلومیٹر باقی تھا اور ہم نے سنگریزوں سے پِٹی پڑی، کئی نیم عمودی ڈھلانوں کو عبور کرنا تھا۔ دوپہر کے دو بج چکے تھے۔ برجی نمبر 186 تک تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت باقی تھی اور اتنا ہی وقت وہاں سے واپسی کے لیے بھی درکار تھا۔ واپسی ہر کچاؤ میں اہل علاقہ سے ملاقات بھی طے تھا۔ہمارے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ہم برجی نمبر 186 تک پہنچ سکتے۔ سو ہماری دیرینہ خواہش، حسرتِ ناتمام ہی رہی کہ چند جادوئی قدموں میں ہم افغانستان سے پاکستان، پاکستان سے ایران، تین ملکوں کا طواف کر لیتے۔
قلعے کو واپسی کیلیے ایک متبادل راہ لی۔ راستے میں ایک پتھر پر کچھ تحریریں کندہ نظر آئیں۔ اردو اور فارسی رسم الخط میں کچھ نام مگر میری دلچسپی کا ساماں ایک تاریخی حوالہ بھی یہاں کندہ نظر آیا۔ تین حروف 186 اور ساتھ میں ایک عیسوی تاریخ ( 15-04-22 )۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب اگست 1914 میں پہلی جنگ عظیم چِھڑ چکی تھی۔ اور دوسری کوئٹہ بریگیڈ "Second Quetta Brigade” کا ایک مختصر دستہ اس خطے میں گشت کیا کرتا تھا۔ ابھی مشرقی سرحدی سپاہ کی تشکیل نہیں ہوئی تھی اور اس بریگیڈ میں شامل یونٹس میں سے ایک 106 پائینیر”106 Pioneer” تھی۔ جس کا تعلق انجینرنگ بٹالین سے تھا۔ گمان ہے کہ قلعے کی تعمیر اسی یونٹ کو تفویض ہوئی تھی۔ شاید اسی یونٹ کا کوئی خوش خیال جوان، سات سمندر پار کا رہائشی اور ٹھنڈے موسموں کا پروردہ، اس ویرانے میں کام کرتے کرتے دم بھر کو سستانے کے لیے بیٹھا ہوگا۔ اور اُسی نے اس پتھر کو کرید کر ایک تاریخی حوالہ محفوظ کرنے کی سُوجھی ہو گی۔ کاش وہ اپنا نام بھی لکھ چھوڑتا جیسے اس کے کئی ہموطنوں نے اٹک قلعے کی دیواروں پر اپنے نام کندہ کر چھوڑے تھے
میرے قدم چند لمحوں میں تین ملکوں کی مٹی چوم لیتے، میری یہ حسرت تشنہ کام ہی رہی۔ خیر میں پاکستان کی مغربی حدوں کو چھو کر تو آ گیا۔ اور حسرتِ ناتمام مجھے بلوچستان کے طرف بار بار بلاتی رہے گی۔


