ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شُد
وطن عزیز میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نئی حکومت قائم ہوئی تو ساتھ ہی نوکر شاہی میں اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو گئی۔ مختلف محکموں میں بڑے پیمانے پر تقرریاں اور تبادلے کیے گئے۔ اسلام آباد کے ہمہ وقت متحرک اور سرگرم عمل ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقات کا بھی تبادلہ ہو گیا جو شہر اقتدار کے باسیوں کے لیے ایک دل گرفتہ خبر ہے۔ برصغیر میں برطانوی استعمار کے بعد افسر شاہی کا جو نظام قائم ہوا، اس میں ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
آج بھی پاکستان اور انڈیا میں یہ منصب تھوڑے بہت تفاوت کے ساتھ اسی استعماری روش پر استوار ہے۔ سرکاری بابو ایک خاص طرز ادا کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے کلیدی عہدوں تک پہنچنے والے افسران عوام کی پہنچ سے دور رہتے ہیں۔ وہ عوامی خدمت کے بجائے عوام پر حکمرانی کا مزاج رکھتے ہیں۔ ہوس زر انھیں مصلحت کیش بنا دیتی ہے۔ نفس پروری، حیلہ گری اور خود سری اکثریت کے مزاج کا جزو لاینفک ہوجاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سائلین در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور رہتے ہیں اور سرکاری افسروں کے رعب کے ملبے تلے اپنی عزت نفس تار تار ہوتی دیکھتے ہیں۔ سرکاری عہدہ محض جاہ طلبی اور قربت اقتدار کا ذریعہ بن جائے تو رعایا بے دست و پا ہو جاتی ہے۔ دریں حالات خدمت خلق کو حیات آفریں جذبہ بنا لینے والے ہی وطن کی آبرو ہوتے ہیں۔ ایسے ہی مردان کار میں ایک اہم نام اسلام آباد کے سابق ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا ہے جنھوں نے مروجہ روش ترک کر کے گلشن میں نئی طرز فغاں ایجاد کی اور اس دور فسوں کار میں ڈی سی کے عہدے کونیا رنگ و آہنگ دے کر اسے عوامی خدمت کا استعارہ بنا دیا۔
جس طرح پھول کی ترو تازگی، طراوت اور شادابی کے لیے نمی کا ہونا ضروری ہے ویسے ہی اچھے افسر کے لیے جذبہ بے اختیار شوق ناگزیر ہے۔ ہمارے ممدوح کی یہ اولین خوبی ہے کہ وہ ہمہ وقت مائل بہ عمل نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر انھوں نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو خاص پہچان عطا کی۔ شہر اقتدار کا کوئی بھی فرد کہیں کوئی بد انتظامی دیکھتا تو اسے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر کے سوشل میڈیا کی زینت بنا دیتا، حسب عادت عوام طرح طرح کے تبصرے کرنے لگتے، انھی تبصروں کے بیچوں بیچ حمزہ شفقات نمودار ہوتے اور فوری اس مسئلے کے حل کے لیے احکامات جاری کرتے۔
جیسے ہی معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچتا، عوام کو آگاہ کر دیا جاتا۔ ہماری روایتی افسر شاہی نہ صرف اس رجحان سے ناآشنا ہے بلکہ عوام سے یوں دوستانہ اور بے تکلفانہ برتاؤ کو کسر شان سمجھتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں حمزہ شفقات نے افسری کو انا پرستی نہیں بلکہ انا شکنی کا ذریعہ سمجھا ہے۔ وہ شوق تنہائی نہیں، لذت محفل کے خوگر ہیں۔ وطن عزیز میں بلاشبہ ہزاروں افسران ہیں اور ان میں اچھی شہرت رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ لیکن جو شہرت اور عزت حمزہ شفقات کے حصے میں آئی ہے، وہ خال خال سرکاری افسروں کا نصیب ہوتی ہے۔
غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے کمپیوٹر سائنس میں ڈگری کے بعد انھوں نے سی ایس ایس کا امتحان دیا۔ مختار مسعود کے اسلوب میں یہی وہ مقام تھا جہاں خواہش قلبی اور فروغ منصبی یکجا ہوئے تو خوش بختی مقدر ٹھہری۔ حمزہ شفقات صاحب نے انتظامی امور میں اپنے تعلیمی پس منظر سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیکنالوجی کے ذریعے روایتی دفتری پیچیدگیوں کا خاتمہ کیا اور شہریوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
ضلعی انتظامیہ کے متعدد شعبوں کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرتے ہوئے ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ، بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس، اسلحہ لائسنس اور نکاح نامہ کی آن لائن دستیابی کو یقینی بنایا۔ شہر اقتدار کی ایک خوب صورت تکنیکی ایپ بنائی جس کے ذریعے پچاس ہزار سے زائد شکایات کا فوری ازالہ ہوا۔ عوام کو محکمہ مال کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے وراثتی جائیداد کا کمپیوٹرائزڈ تصدیقی ادارہ قائم کیا۔ سو سے زائد مضافاتی اور دیہاتی علاقوں کے مال گزاری نقشے وضع کیے۔
عصر حاضر میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خاتمے کے لیے لازم ہے کہ عوام کا دار و مدار سرکاری اہل کاروں کے بجائے ٹیکنالوجی پر ہو۔ اسی حکمت عملی کے تحت حمزہ شفقات نے عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل میڈیا سنٹر قائم کیا۔ یہ کارہائے نمایاں ایک طرف توان کی جدت طبع اور تخلیقی صلاحیتوں کے آئینہ دار ہیں تو دوسری طرف عوام کے لیے بلاشبہ انقلابی اقدامات ہیں جن کا احساس سرکاری دفاتر کا طواف کرنے والوں کو بخوبی ہوتا ہے۔
شہر اقتدار ہونے کی بنا پر انتظامی حوالے سے اسلام آباد مشکل ترین شہر ہے۔ یہاں کبھی اہل مذہب رن جماتے ہیں تو کبھی اہل سیاست اس شہر کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ کبھی سرکاری ملازمین یہاں چڑھائی کرتے ہیں تو کبھی تاجر نوحہ کناں نظر آتے ہیں۔ دھرنے، جلسے، ریلیاں، اور جلاؤ گھیراؤ کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ یہاں کی ہر خبر شہ سرخی کا درجہ رکھتی ہے۔ لہٰذا اسلام آباد کے انتظامی امور چلانا اور معمول کے مطابق حالات کا پہیہ رواں رکھنا خاصا کٹھن ہے۔ یہ حمزہ شفقات کا ذوق خدمت، سچی تڑپ، وارفتگی، والہانہ پن، گداختگی اور شیفتگی تھی جس نے ان سے یہ کام لیا اور خوب لیا۔
کرونا وائرس انسانیت کے لیے حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرا۔ یہ بلا جب نازل ہوئی تو ہر کوئی گوشہ عافیت میں مقید ہو گیا۔ وطن عزیز میں اسلام آباد کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے ایک مثالی شہر تھا۔ بین الاقوامی شہر ہونے کی بنا پر دنیا سے بھر سے ہر طرح کے لوگوں کا یہاں آنا ہوتا ہے۔ قرب و جوار کے دیہاتوں سے علاج معالجے کی غرض سے بھی لوگ اسلام آباد کا رخ کرتے ہیں۔ وسائل کی قلت اور آبادی کے دباؤ کے باوجود اسلام آباد میں کرونا وائرس قابو میں رہا۔
واقفان حال آگاہ ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کو اس موذی وائرس کی روک تھام کے لیے کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کے تحت وائرس کو محدود سے محدود تر رکھنے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے گئے جن کی بدولت صورتحال قابو میں رہی۔ اس پورے عرصے میں حمزہ شفقات نے ایک ہیرو کی طرح نہایت جاں فشانی اور مستعدی سے اپنا کردار ادا کیا اور روزانہ کی بنیاد پر گلی، محلوں اور عوامی مقامات پر جاکر عملی اقدامات کا خود جائزہ لیا اور ساتھ ساتھ شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اس پورے دورانیے میں کام کے شدید بوجھ کے باوجود ایک دلآویز مسکراہٹ ہمیشہ ان کی شخصیت کا حصہ رہی۔ وہ خود بھی تین دفعہ اس مہلک وائرس کی لپیٹ میں آئے لیکن ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا اور ناسازی طبع کے باوجود اپنی خدمات جاری رکھیں۔ سعود عثمانی کا شعر ان پر صادق آتا ہے :
ہنستی بستی زمین جانتی ہے
سرخ لاوادرون گل رکھنا
کسی بھی ضلعی انتظامیہ کے لیے تجاوزات کا خاتمہ ایک کلیدی مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر انتظامیہ نرمی کا مظاہرہ کرے تو قبضہ مافیا اور اٹھائی گیروں کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کا عہدہ سنبھالتے ہی حمزہ شفقات نے ترجیحا قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کر کے اسلام آباد کی تطہیر کی اور سرکاری اراضی کو ان رسہ گیروں کے آہنی تصرف سے واگزار کرا کے سرکار کی جھولی میں ڈالا۔ منشیات فروشوں کے منظم گروہ تعلیمی اداروں میں زہر کی طرح سرایت کرچکے تھے۔ ان کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کیا۔ یہ سب بظاہر آسان لگتا ہے لیکن اس فرض کی انجام دہی میں قدم بہ قدم مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ممدوح کو بھی ہر طرح کے دباؤ، لالچ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یار لوگوں نے جھوٹی خبریں لگائیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ دل جلے اپنے من کا بوجھ ہلکا کرتے رہے۔ سوشل میڈیا کا کلچر ہے کہ جیسے ہی کوئی مصرع طرح کہے فوری اس پہ گرہ لگتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے غزل مکمل ہوجاتی ہے۔
کبھی کبھار تو نوبت دو غزلہ اور سہ غزلہ تک جا پہنچتی ہے۔ لیکن حمزہ شفقات ’آں عزم بلند ہمت، آں سوز جگر آور‘ کے مصداق پوری دلجمعی سے اپنا کام کرتے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے انھیں دھمکی آمیز خط ملا تو وہ مسکرا دیے۔ عشق کی وادی خارزار میں آبلہ پائی کا لطف اہل دل ہی جانتے ہیں۔
دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا


