نصیبوں والیاں… اسد محمد خان کے قلم سے


ایک بالو ہی کیا سب جھنجھلانے لگے تھے۔ چمپا نے ناشتے کے بعد تیار ہونا شروع کر دیا تھا۔ اس نے سب کے ساتھ مسکہ بن کھایا تھا، چائے پی تھی۔ کسی کو شک بھی نہیں تھا کہ اب یہ باہر جائے گی۔ کپڑے بدل کے اس نے جمیلہ سے آرینج کے کسی شیڈ کی لپ اسٹک مانگی، کیوں کہ یہ جوڑا اس کا آرینج کے شیڈ میں تھا۔ روزی بولی، ”یہ تو ددی جی کو وزٹ کرنے میوے شا جا رہی ہو گی جو آرینج لپ اسٹک مانگتی ہے کتیا؟“ اس پر گالیاں بکتی چمپا پنجے کھول کے جھپٹ پڑی۔ بالو نے کولی ڈال کے بڑی مشکل سے اسے الگ کیا۔ اونچی آواز میں گالیاں نکالتی چمپا فلیٹ کی سیڑھیاں اتر گئی۔

لڑکے نے سوچا، ”لو جی۔ فلیٹ اب صئی سے چل پڑا۔“

باورچی خانے کی پیڑھی پر بیٹھ کے سبزی کاٹتے ہوئے لڑکی بالو اس کڑوے پن کا حساب کرنے لگی جو ددی کی موت کے چوتھے دن دھیرے دھیرے فلیٹ میں ریلیز ہو رہا تھا۔

دن ڈوبنے سے پہلے ایک بڑے بھاری ٹرانسپورٹر کا بیٹا ٹمی، جو ہر دوسرے تیسرے دن آیا کرتا تھا، ددی جی کی موت کے احترام میں وسکی لگائے بغیر خاموشی سے فلیٹ میں آیا اور سر جھکا کے بیٹھ گیا۔ وہ ددی جی کی یاد کو ایک طرح کا خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ٹی شرٹ جینز کی بجائے آج کڑھے ہوئے گلے کا کرتا اور چوڑی دار پاجامہ پہن کے آیا تھا۔ کرتا سچی بوسکی کا اور پاجامہ پانچ پھلی مارکہ لٹھے کا تھا۔ بھاری ٹرانسپورٹر کے بیٹے ٹمی نے آج اپنی چابی والے سونے کی زنجیر بھی نہیں گھمائی تھی، جیسی کہ اس کی عادت تھی، بلکہ وہ مصنوعی، احمقانہ اداسی میں پہلے دس پانچ منٹ خاموش بیٹھا، پھر اپنے چھوٹے چھوٹے جاہلانہ فقروں میں دھیرے دھیرے سمجھانے لگا کہ زندگی کا یہی ہے۔ پھر اس نے اس بات پر زور دیا کہ لڑکی روزی کو اور سب کو اپنا دل بہلانے کی ضرورت ہے۔ آخر میں وہ روزی کو اس پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ وہ کھلی ہوا میں ذرا نکلے، ایسی بند گھٹی ہوئی جگہ میں مستقل بیٹھی رہی تو خدا نہ کرے بیمار پڑ جائے گی۔ روزی نے بالوں میں جھپاجھپ کنگھا پھرایا، پھر وہ گرے کلر کی ریشمی شال لپیٹ کے ہوا میں آہستہ سے بولی، ”جمیلہ! میں ابھی آتی ہوں، پریشان نہ ہونا“ ، اور بھاری ٹرانسپورٹر کے بیٹے ٹمی کے ساتھ فلیٹ کی سیڑھیاں اتر گئی۔

بالو نے اندر ہی اندر دانت پیستے ہوئے ٹمی کو کھلی مردانہ گالیوں سے یاد کیا مگر پھر اس نے سوچا کہ وہ سب سے اس طرح کیوں بھڑے جا رہی ہے۔ اس نے کون سا ددی کی یاد کا اور غمی ماتمی کا یا فلیٹ کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ تایا بشیر آ جائے، ددی نے اس کا جتنا جو تجوری میں سنبھال کے رکھا ہے، لے گی اور نکل جائے گی۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ، ملک خدا تنگ تو نہیں ہے۔

بالو اٹھی، لڑکے سے کہہ کے باہر چلی گئی کہ وہ ناجو کی بیٹھک سے ابھی ہو کے آتی ہے۔ لڑکے نے بالو کو جواب میں سر ہلا کے ”ہاں“ کہا اور لاؤنج میں بچھی چوکی کے پاس آ کھڑا ہوا۔ چوکی پر بے بی نگی نا جیسے سناٹے میں بیٹھی تھی۔ آنسوؤں نے بہہ بہہ کے اس کے گالوں پہ لکیریں سی بنا دی تھیں۔

ددی جی کے گزرنے کے بعد وہ اب نگی نا بے بی کو روتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ لڑکا خاموشی سے چوکی پر بیٹھ گیا۔ پھر اس نے اپنا کالا اور محنت کے کام سے کٹا پھٹا بدصورت ہاتھ نگی نا بے بی کے شانے پہ رکھ دیا۔

”رونا نہیں چیے!“ اس نے کہا اور خود بھی رونا شروع کر دیا۔

اگلے دن ابھی سب سو ہی رہے تھے کہ دو ٹیکسیوں میں بشیر دروغا کا سامان، وہ خود، اس کی شاگردیں اور نوکر پہنچ گئے۔

لڑکیوں نے بشیر دروغے کو تایا کہنا سیکھا تھا۔ کیا کرتیں۔ ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنے، خوب گھٹ کے ٹنڈ کرائے ہوئے سوا چھ فٹ کے اس چمکتے ہوئے کالے آدمی کو، جو کسی کا چچا تایا کچھ بھی نہیں لگتا تھا، لڑکیاں اس وقت بھی تایا کہتی ہوئی آگے بڑھ گئیں۔

دروغا اونچی آواز میں بات کرنے کا عادی تھا، ٹیکسی والوں سے جھگڑتے اسے مخما دولا کے تنور تک سنا جا سکتا تھا۔ جب تک ایک ایک صندوق اور ڈبا، ایک ایک شاگرد اوپر نہ پہنچا دی گئی دروغا اپنا ریشمی تہبند کولھوں تک سمیٹے، نوکروں کو اور ساتھ آئی لڑکیوں کو اونچی آواز میں ہدایتیں اور دھمکیاں دیتا رہا کہ اوئے گرانا نہیں، توڑنا نہیں! میں مار کے سٹ دیاں گا۔

دروغے کے شور شرابے کے دوران سڑک کے بائیں رخ کی پرانی بلڈنگ کے پہلے مالے پہ ایک کھڑکی کھلی، کھڑکی سے مہندی لگا ایک سر برآمد ہوا۔ سر والے نے آواز لگائی، ”ہاں دروغا! آ گیا بئی؟“ بشیر دروغے نے اپنا شور شرابا روک کے مہندی سر والے کو دیکھا، ٹھٹھا مار کے جواب دیا، ”ہاں بئی مینا دروغا! آ گئے۔“ یہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں بڑی مسرت تھی۔

مینا نے جواب میں کہا، ”بسم اللہ او بسم اللہ!“ اور سر اندر کر لیا۔
بشیر نے رخ بدل کے اسی پہلے والے زور شور سے نوکروں اور شاگردوں کو ڈانٹنا شروع کر دیا۔

بعد میں فلیٹ میں ایک ہی قدم جو رکھا تو بشیر پر جیسے غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس کا قد چھ فٹ کا رہ گیا اور آواز کو جیسے سیندور لگ گیا۔ فلیٹ کے دروازے پر اسے جمیلہ کھڑی مل گئی تو اس نے اس کے سر پہ اپنا بھاری سیاہ پنجا رکھا اور کم زور آواز میں بین کرنا شروع کر دیا کہ ”آپاں جی کیوں چلی گئی۔ اب اس مصوم کا کیا ہو گا؟“

بالو دروازے کی اوٹ میں آ کھڑی ہوئی تھی۔ اس نے رانی کی طرف دیکھ کے آہستہ سے فقرہ لگایا، ”ہو گا کیا! تایا بھینسا آ گیا ہے، پھر نتھ اتروائی کرائے گا دھوم سے۔“

دروغے سے رانی ملا کے رکھنا چاہتی تھی۔ اس نے بالو کو گھور کے دیکھا اور ڈوپٹہ سر پہ لے کر غم میں ڈوبے ہوئے دروغے کو آداب کیا، ہاتھ تھام کے اسے چوکی تک پہنچایا۔

دروغے نے شفقت ظاہر کرتے ہوئے بالو کے سر پر بھی ہاتھ رکھا، بولا، ”جیتی رہ بچی جیتی رہ۔ او تم سب نکی نکی چڑیوں نے کیسے جھیلا ہو گا یہ غم کا پہاڑ؟ ہائے؟“

سب چوکی کے سامنے آ گئی تھیں۔ لڑکی روزی کو آتے دیر ہو گئی۔ تائے نے دیکھا کہ ایک رہ گئی تھی وہ اب آ رہی ہے۔ اس نے کندھے پر پڑا تولیہ منھ پہ ڈال لیا۔ تولیے میں سے بولا، ”روزیے! او پتر! اوئے کیا کریں؟ کدر جائیں؟ کیا کریں نی؟“

بالو نے رانی کے کان میں کہا، ”موج بہاراں!“ اور بالکنی کی طرف نکل گئی۔
بشیرے نے اب کام والے لڑکے کو دیکھا، ”توں کون ہے بئی؟“
رانی نے بتایا کہ یہ کام والا لڑکا رفیق ہے۔ ددی جی اس سے بڑا لاڈ کرتی تھیں۔

بھینسے نے لڑکے کو چمکارا، اپنے پاس بلایا۔ وہ نئی جگہ پہنچ کر اپنے ہم نوا بنانے کی اہمیت سمجھتا تھا۔ کہنے لگا، ”جو آپاں جی کا لاڈلا وہ اپنا لاڈلا۔ کیا نام بتایا تھا پتر؟“

”رفیق۔“
”اچھا تو رفیک پتر! بزار سے سودا سلف توں لاتا ہے؟“
”ہاں صاب۔“

”ہووں۔“ دروغے نے پر خیال انداز میں اپنے کرتے کے نیچے پہنے شلوکے کی جیبیں ٹٹولنی شروع کیں۔ سو کا ایک نوٹ نکالا، لڑکے کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا، ”لے پتر! یہ سنبھال۔ یہ نوٹ ہے سوں کا۔ گھر میں اس وکت بندے ہیں چھ تے چھ باراں اور ایک توں۔ بئی جا، تیراں بن لے کے آ۔ فٹافٹ۔ کاغذ کی تھیلی میں ملتے ہیں وہ موٹے والے بن۔ اور بئی ایک۔ ناں ڈیڑھ سیر لے کے آ دئیں۔ جا ہاں، لے آ۔ پھر جھپٹ کے ناشتہ کر لیاں گے۔“

لڑکا ”اچھا صاب!“ کہہ کے برتن لانے کچن کی طرف جاتا تھا کہ دروغا نے پوچھا، ”او کیوں بئی کاکے! کنی ایک دکاناں ہون گی ادھر ددھ دئیں کی؟“

لڑکا بولا، ”پتا نہیں تین چار دیخی ہیں میں نے۔“

اس جواب سے دروغے کی تشفی نہیں ہوئی تو وہ بڑبڑانے لگا کہ بھئی شہر کے دودھ دہی پہ اعتبار کوئی نہیں کیا جا سکتا۔ بھاویں شہر کوئی بھی ہو۔ پھر بولا کہ چل پتر، میں دیکھوں کیسا دودھ دہی دیتے ہیں کیا کرتے ہیں ادھر کے دکان دار!

لڑکا دہی کے لیے برتن اور بنوں کے لیے تھیلی لے کے چلا تو دروغا بھی جوتیاں پہن کے ساتھ ہو لیا۔

باہر آیا تو وہ بڑی سڑک پر لڑکے کے پیچھے کچھ دور چلا۔ لڑکے نے اسے اشارے سے دودھ دہی کی دکانیں دکھا دیں۔ دروغے نے پسندیدگی میں سر ہلایا۔ پھر اچانک یاد آ گیا کہ اسے نہانے کا صابن لینا ہے۔ وہ بولا، ”لے بئی پتر دکانیں تو ٹھیک ہی ہیں۔ تو دئیں لے، بن لے۔ میں ادھر سے صابن پکڑ لوں۔ چنگا؟“

لڑکا دہی لینے چلا اور دروغا تیزی سے قدم بڑھا کے سڑک پار کر گیا۔ پہلے اس نے ادھر ادھر، پھر ددی کی بالکنی پر نظر ڈالی۔ بالکنی خالی تھی۔ اس طرف لڑکا بھی کہیں نہیں تھا۔ دروغا تیزی سے اس پرانی بلڈنگ میں داخل ہو گیا جس کے پہلے مالے کی کھڑکی سے مینے نے اپنا لال سر نکال کے اسے بسم اللہ کہی تھی۔ بشیر دروغا مینا کی بیٹھک پر زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ رکا ہو گا۔ پرانی بلڈنگ سے نکلتے ہوئے اس نے پھر دائیں بائیں دیکھا اور سڑک پر آ گیا۔ سڑک پار کرتے ہوئے اس نے دودھ دہی کی دکانوں کی طرف تاکا۔ لڑکا اب بھی سامنے نہیں تھا۔ دروغا فلیٹ کی طرف چلنے لگا تو اسے لڑکا دکھائی دیا۔ وہ انتظار کرنے لگا۔ یہ صحیح ہے! دروغا بشیر نے اطمینان میں سر ہلایا۔ وہ دونوں ساتھ نکلے تھے، ساتھ لوٹ رہے ہیں۔

ناشتے سے پہلے دروغے نے تولیہ اٹھا غسل خانے کی راہ لی۔ اسے یاد تھا کہ اس نے لڑکے سے صابن خریدنے کی بات کہی تھی تو اب اس نے اسے اور سب کو سنا کے کہا کہ بھئی یہ بازار بھی خوب ہے۔ ادھر کام کی چیز بھاویں ناں نہ ہو، فیشن کی چیزاں بہت نظر آتی ہیں۔ ”او پتر بالو! جے کوئی لال صابن، کوئی سنلیٹ پڑا ہووے تو دے دئیں۔ شاباش!“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4