نصیبوں والیاں… اسد محمد خان کے قلم سے


صحت کے سلسلے میں بہت سوں کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ کچھ کے نہیں بھی ہوتے۔ ممند ریاض کا یہ تھا کہ سویرے جلدی اٹھنے والا بندہ تھا۔ روز وہ میونسپل پارک میں شبنم سے بھیگی گھاس پہ ننگے پاؤں ٹہل ضرور لگاتا تھا۔ کہتا تھا اس سے آنکھوں کی ”روشنیائی“ بہتر ہوتی ہے۔ خبر نہیں اس بہتر روشنی کو وہ گاہکوں کو پہچاننے، ان پہ کڑی نظر رکھنے کے لیے استعمال کرتا تھا یا اس کا مقصد اتنا سادہ اور روزمرہ جیسا نہیں، کوئی باقاعدہ گہرا وجودی مقصد تھا ممند ریاض کا۔

جو بھی ہو۔

ممند ریاض شبنم پہ ٹہل لگا کے اپنے ٹھکانے پہ پہنچنے کے لیے ددی بائی کے چوبارے کی سایہ سایہ نکل رہا تھا کہ اس نے رونے کی آوازیں سنیں۔

رات میں کسی وقت سوتے میں مگھیانے والی ددی بائی گزر گئی تھی۔

ممند ریاض نے بات سنی، سمجھی، پھر بعد میں موقعے موقعے سے کہنے کو ذہن میں ایک اچھا سا فقرہ بنا کے اسے اپنے اندر فائل کر لیا۔ وہ برادری والوں میں بیٹھے گا تو ددی کو اچھے لفظوں سے یاد کرتے ہوئے یہ ضرور کہے گا کہ دیکھو جی، ارام سے گجر گئی ددی جی۔ ناں نزعے کا آلم ہوا نہ جان کندنی ہوئی، ارام سے سونتے سونتے گجر گئی۔ ہاہہ! نیک روحوں نے ایسے ہی چلے جانا ہوتا ہے۔ مالک سبھوں کی شرم رکھے۔ آال لے! اوول لے! یہ آخری آواز ممند ریاض کی ڈکاروں کی تھی۔

پیٹ خالی ہو یا بھرا، وہ اونچی آواز میں بولتا ہو یا کچھ سوچ رہا ہو، ممند ریاض ہر لمبے فقرے، ہر لمبی سوچ کے آخر میں آال لے! اوول لے! کر کے نقلی ڈکاریں ضرور لیتا تھا۔

خیر۔ وہ رونے کی آوازیں سن کے ٹھٹھکا۔ ددی بائی کا فلیٹ لڑکیوں کا گھر تھا۔ کوئی مرد ذات بڑا بوڑھا تھا نہیں۔ پڑوس کی نیلم بائی اور اس کے گماشتے، اسی ڈکاروں والے ممند ریاض، نے فوراً آ کے چارج سنبھال لیا۔ دروغوں، پہلوانوں کو خبر کر دی گئی۔ کسی نے جا کے تھانے میں بھی بتا دیا۔ ضابطے کی پابندی نہیں تھی، ایسے ہی پڑوس پچھواڑے کی مروت ہو گی کہ بھئی ہو سکتا ہے پیٹی اتار کے کروشیے کی ٹوپی سر پہ مڑھ کے فاتحہ کے دو لفظ پڑھنے ہیڈ کانسٹبل میاں گل بھی پہنچ جائے۔ ددی بائی کی اس کی برسوں کی آشنائی تھی۔

ان فلیٹوں چوباروں کا مالک حاجی قاسم نورو تھوڑی دور پہ اپنی دکان میں بیٹھا پرانے کپڑوں کی گانٹھوں کا حساب کر رہا تھا۔ جو وہ ہر وقت کرتا رہتا تھا۔

اس نے ایک دور دراز طمانیت کے احساس سے یہ خبر سنی اور اپنی چندیا کھجائی۔ ”اب جب کہ ددی بائی مر گئی ہے تو یہ فلیٹ اس کے چنگل سے سمجھو آجاد ہے۔ تو اب اس کا بھی کچھ کریں گے انشا اللہ۔“

مگر وہ دین دار اور عملی آدمی بھی تھا۔ اس فلیٹ میں ایک میت پڑی تھی اور فلیٹ خالی کرانے سے پہلے میت کو اس کے سفر پر روانہ کرانا ضروری تھا۔ اس نے خبر دینے والے سے کہا، ”دیکھو بھائی جان! ادھر جو کوئی بھی ہووے اس کو میرا بولو کہ کاسم نورو سیٹھ میت گاڑی کا انے گسل والی کا سبی انتی جام کر دیں گا۔ ابی پھون کرتاؤں۔ تم لوگ کسی کو ادھر میوے شا بھجا کے بس گورکند کو بول دیو۔ کیا؟“

گوجرے والی خدمتی میت گاڑی کے اٹنگے پیچامے اور گجگجائی ہوئی گھنی ڈاڑھی والے جوان والنٹیئر کو بتا دیا گیا کہ کس بلڈنگ سے کنجری کی میت اٹھانے کی ہے۔ اسی نے غسال بڑھیا کو رکشے میں بٹھا کے مکرانی پاڑے سے بلڈنگ تک لانا تھا۔ قاسم نورو نے رکشا کے پیسے دیے تھے۔ اور بھی پیسے دیتے ہوئے والنٹئیر سے کہا تھا، ”ابا ثواب کا کام ہوئیں گا۔ یہ روکھڑا سمبال، گسل والی کو کپڑا کاپھور دے دلا کے برابر سیٹ کر دے۔ فلیٹ دکھا دے۔ کیا؟ پیچھے چھوٹا میت گاڑی لے کے پونچ جانا۔ چھوڑ آنا ددی بچاری کو۔“

حاجی قاسم نورو نے چھوٹی میت گاڑی کا اس لیے کہا تھا کہ اسے معلوم تھا گنتی کے چھ آٹھ دروغے، پہلوان، کسبیوں کے بھائی بند ساتھ جائیں گے۔ باقی تو بلڈنگ میں عورتیں ہی عورتیں ہیں۔ انھیں قبرستان تو نہیں جانا ہو گا۔ چھوٹی گاڑی صحیح رہے گی۔ ”اس کا پھیئر بھی کمتی لگیں گا۔ کیا؟“

جب گاڑی بلڈنگ سے چلی تو کالے ڈوپٹے اوڑھے، گھر کے ملگجے کپڑوں میں ملبوس کوٹھے والیاں اور پچھواڑے کی کم حیثیت پاڑے والیاں رو رو کے بین کرنے لگیں کہ ہائے ری ددی بائی تو کیوں چلی گئی، اور کچھ دیر کو دن کے سوختے میں بھی بڑی سڑک اور ساتھ کی گلیاں اور گلیارے آدمیوں اور آوازوں سے ایسے بھر گئے جیسے چراغ جلے پہ بھر جاتے ہوں گے۔

میت گاڑی بھی ٹھنساٹھنس بھر گئی تھی۔ کچھ لوگ کھڑے تھے اور دو چار لٹک بھی رہے تھے۔ اندر سیٹ پہ خیالی ڈکاریں لینے والے ممند ریاض کے برابر بیٹھی ایک عورت یا لڑکی۔ بے بی نگی نا۔ روئے جاتی تھی۔ دوسری عورتوں کے برخلاف اس کا ڈوپٹہ زعفرانی رنگ کا تھا۔ تو کیا ہوا؟ آدمی کو واقعی دکھ ہو تو زعفرانی رنگ بھی ماتمی بن جاتا ہے۔ پر وہ جس کا نام بے بی نگی نا تھا، خبر نہیں کیوں رو رہی تھی؟ حالاں کہ کسی کی ایسی کوئی رشتے ناتے دار بھی نہیں تھی۔

میت گاڑی کے گھنی ڈاڑھی والے والنٹیئر نے گاڑی میں بیٹھی اس اکیلی بائی جی کو دیکھا تو دل میں کہا، ”لاحول ولا۔ ان لوگ کو یہ کھبر نہیں کہ عورت کا کبرستان میں جانا مکروہ۔ یا کیا ہے۔ لاحول ولا۔ کوئی دین دھرم تو ان کنجروں کا۔ خیر جی ہم کون۔ بھئی ہمیں کیا۔“

ایک مردہ اور ایک زندہ بائی جی کو لیے، بہت سے دلالوں، سازندوں، تماش بینوں اور ایک پولیس والے کے ساتھ، اس نے میوے شا کی سڑک پکڑ لی۔

ددی بائی مگھیانے والی کے بغیر فلیٹ ایسا ہو گیا جیسے کسی دیہاتی فلیگ اسٹیشن پر مسافروں کا چھپرا۔ لڑکیاں تین روز تک چھلکوں، ردی کاغذوں، ٹوٹے ہوئے کوزوں کی طرح رلتی، ٹھوکروں میں لڑھکتی چیزیں بنی رہیں۔ بہت لوگ آئے، بیٹھے، ددی بائی کو یاد کیا اور افسوس کی شکل بنائے چلے گئے۔

آنے والوں میں دندناتی ہوئی آنے والی ایک ہوا تھی۔ وہ اپنے ساتھ بے چینی اور خوف اور دھول مٹی لائی۔ اس دھول مٹی اور خوف نے چیزوں کو ڈھک لیا۔ لڑکیوں کو معلوم تھا کہ دھول مٹی سے ڈھک دیا جانا دفن ہونا ہے۔

وہ کسی کے ساتھ دفن ہونا نہیں چاہتی تھیں۔

ددی کے گزر جانے کے چوتھے دن کام والا لڑکا فلیٹ میں آیا تو اس کا منھ سوجا ہوا تھا۔ لڑکیوں میں ایک۔ جمیلہ۔ غسل خانے سے ہاتھ منھ دھو کر نکل رہی تھی۔ اس نے لڑکے کو دیکھا، حیران ہو کے بولی، ”ابے او! تیرے منھ کو کیا ہو گیا؟“

لڑکے کا جی چاہا جمیلہ کی بات کا کوئی جواب نہ دے۔ مگر وہ رکی کھڑی تھی، اس نے منھ بنا کے اوں ہوں جیسا کچھ کہہ دیا۔

وہ بولی، ”کیا قوں قوں کرتا ہے مرغی کے؟ ابے بتاتا نہیں کیا ہوا؟“
لڑکا جھنجھلا کے بولا، ”شید کی مخی نے کاٹ لیا نا۔“
جمیلہ نے دانت نکال دیے۔ ”اوئے سالے مٹھڑے دلدار! شہد کی مکھی بھی کاٹتی ہے تیرے کو؟“

ایک اور لڑکی نے اس نا وقت مسخرے پن پہ منھ بنایا۔ تیسری، جو باہر جانے کی تیاری کر رہی تھی، مسکرانے لگی۔ کوئی ایک، جو پردے کے پیچھے سب سن رہی تھی، کھی کھی کر کے ہنس دی۔

فلیٹ چل پڑا۔
جس کا جی چاہا کام کاج میں لڑکے کا ہاتھ بٹانے لگی۔

لڑکے نے ددی بائی کے طریق پر گھر چلانا شروع کر دیا۔ مگر گھر چلانے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور پیسا سب ددی بائی کے ہاتھ میں رہتا تھا۔ لڑکیوں کی رقمیں، گہنے پاتے بھی سب وہی سنبھال کے رکھتی تھی۔ تجوری میں۔

اور تجوری کا ایسا تھا کہ برادری کے کہے پہ کفن دفن سے پہلے ہی اس کی چابی مینا دروغے کے پاس امانت رکھا دی گئی تھی۔ مینا سمیت سب کا کہنا تھا کہ تار دے دیا ہے، ددی کے بھائی بشیر کو آ لینے دو۔ تب ہی سب مل کے کوئی فیصلہ کریں گے اور تجوری کھولیں گے۔

مگر اب یہ مسئلہ بھی تھا کہ جب تک تجوری نہیں کھلتی روز کے خرچ کے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ تین دن تک تو کھانے کا انتظام آپی آپ ہوتا رہا۔ کبھی نیلم بائی نے، ناجو نے اور سیبے پہلوان نے، کبھی مینا دروغے نے یا کشمیری ہوٹل والے سیٹھ نے فلیٹ پر کھانا پہنچوا دیا۔ ٹھیک بھی تھا۔ موت میت کے گھر میں چولھا کیسے جلتا؟

گلابو زنانہ، جو کبھی مہینے پندرہ دن میں تالی پھٹکارتا آ جایا کرتا تھا، ایک دن تو وہ بھی مسافرخانے والے ہوٹل سے آلو پڑی بریانی کی چھوٹی دیگ اٹھوا لایا۔ دو وقت وہ بریانی چل گئی۔ پر اب غمی کے کھانے آنا بند ہو گئے تھے۔ فلیٹ کو واپس اپنے روٹین پہ آنا تھا۔

ایک لڑکی بالو کے پاس سو سوا سو روپے پڑے تھے۔ پڑے کیا تھے، چھپا رکھے تھے اس نے۔ جب دوپہر کے کھانے کی بات چلی تو اس نے سو کا نوٹ ادھار کے نام سے لڑکے کو پکڑا دیا۔ وہ قیمہ، سبزی، تیل، پیاز سب لے آیا۔

پیسے دیتے ہوئے لڑکی بالو نے سوچا تھا کہ رانی، روزی، چمپا اور نگی نا کو بھی پیسے ڈھیلے کرنا چاہیے تھے۔ اور یہ جمیلہ اب تک بچی کیوں بنی ہوئی ہے؟ اس کے پاس خود اپنے پیسے بھی تو ہوں گے۔

دن بھر میں کچھ نہیں کچھ نہیں تو بیس روپے کی تو صرف روٹیاں آئیں گی۔

پھر اس نے رانی کے بارے میں سوچا جو کسی کو بتائے بغیر سویرے ہی نکل گئی تھی۔ بالو نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا نیچے سلیٹی رنگ کی اوپل رکارڈ میں بیٹھ رہی تھی رانی۔ ساتھ میں وہ تھا ڈکاروں والا بے غیرت ممند ریاض، چکن کا گلابی کرتا پہنے۔ شرم تو آتی نہیں ان بے پیروں کو۔ ددی جی کو گزرے ابھی چوتھا دن ہے کہ انھوں نے بڑھیا کے کوٹھے پر ہاتھ ڈال دیا۔ تھک ہے! ایک دو دن تو رک جاتے بے صبرے۔ پھر جیسی سب کی صلاح ہوتی۔ مگر ان بے غیرتوں کو کس بات کی شرم مروت۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3 4