نصیبوں والیاں… اسد محمد خان کے قلم سے


نہانے کے بعد بشیر دروغا کالے بدن پر لمبا تولیہ لپیٹے غسل خانے سے نکلا اور اپنے کسی نوکر جیوے کو زور زور سے پکارتا ددی کے کمرے میں گھس گیا۔ اندر پہنچ کے بھی وہ برابر آوازیں دیتا رہا، ”او لا اوئے جیوے! میرے کپڑے لکال دے۔“

جیوا تیز تیز چلتا ہوا آیا۔ کچھ دیر دروغے کے اندر پڑے ٹرنکوں، سوٹ کیسوں میں کھڑبڑ کرتا رہا، کمرے سے باہر آ گیا، کہ بشیر دروغا کی آواز سنائی دی، ”بوہا بند کر کے جائیں اوئے۔ میں کپڑے پانا آں!“ جیوا دروازہ بند کر گیا۔

ددی کی لڑکیاں اور تایا بشیر کی شاگردیں پلاسٹک بچھا کے پلیٹوں میں چمچے بھر بھر کے دہی ڈالنے اور کاغذ کی تھیلیاں پھاڑ پھاڑ کے فروٹ بن نکالنے لگیں۔

دروغا کسی بھی طرف سے موسیقی کا رسیا نہیں لگتا تھا مگر اس وقت وہ ددی کے کمرے میں رکھا بڑا ریڈیو خوب زور شور سے بجا رہا تھا۔

دیر ہو گئی، بشیر دروغا کپڑے بدل کے نہیں آیا تو لڑکے نے ددی والے کمرے کا دروازہ بجایا۔ ”استاد چاء بناؤں؟ کہ بعد میں چاء پیو گے؟“

اندر سے دروغے کی جھنجھلائی ہوئی سی آواز آئی، ”نئیں اوئے چا شا کوئی نہیں۔ بس دئیں لکال لے۔ میں آیا۔“

اور کوئی پانچ سات منٹ بعد کتھئی رنگ کے کڑھے ہوئے کرتے اور بوسکی کلر کے تہبند میں عطر میں بھبھکتا ہوا بشیر تایا کمرہ کھول کے، ”آؤ بئی آ جاؤ بسم اللھ“ کہتا ہوا نکلا اور پلاسٹک کے دسترخوان پر اس نے اپنی جگہ سنبھالی۔

ناشتے پہ لڑکیاں بالکل خاموش رہیں۔ ہاں دروغا فروٹ بنوں کی تعریف کرتا اور میل محبت اور آپس کے بھائی چارے کے فضائل بیان کرتا رہا اور چپ چپ کر کے منھ چلاتا رہا۔ دہی کے بارے میں اس کی رائے محفوظ تھی۔ دکانیں تو بڑی شو شا والی تھیں پر کہنے لگا کہ ایسی دکانوں پر دہی کیسی ہونی چاہیے، یہ سمجھنے میں کچھ ٹائم تو لگے گا ہی۔

ناشتے کے بعد دروغا خلال کرتا، ڈکار لیتا بالکنی تک ہی پہنچا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ چھوٹا موٹا ایک جلوس فلیٹ میں داخل ہونے کو زینے پر کھڑا تھا۔ مینا دروغا، ناجو بائی، نیلم لدھیانے والی اور دوسری بائیاں، ممند ریاض اور اس جیسی دو تین شکلیں، کشمیری ہوٹل والا اور فینسی حمام اینڈ ہیئر کٹنگ سیلون کا مالک نواز دین اندر آ گئے۔

اتنے بہت سے لوگ، یہ سارے پڑوسی اور برادری کے سربرآوردہ افراد، ددی کی موت پر اس کے غم زدہ بھائی بشیر کو پرسا دینے آئے تھے۔

دروغے نے لڑکیوں کو اشارہ کیا۔ مجرے کا کمرہ۔ روزی روزگار کی جگہ۔ ایسے سوگوار اجتماع کے لیے مناسب تو نہ تھی، مگر کیا ہو سکتا تھا۔ مجرے والا ہال کھول دیا گیا۔ وہاں لڑکیوں نے ہال کے آئینوں پر میلی ملگجی چادریں، کمبل ٹانگ دیے تھے اور بروکیڈ کے غلاف کھینچ کے ننگے سوگوار تکیے بے ترتیبی سے ادھر ادھر ڈال دیے تھے۔ دروغا نے پسندیدگی میں سر ہلایا۔ اجلی چاندنی پر سب آنے والے بیٹھ گئے۔ انھوں نے دونوں دروغوں، بشیر اور مہندی سر والے مینا کو اصرار کر کے صدر میں بڑے گاؤ تکیے کے ساتھ بٹھایا تھا۔ حالاں کہ بشیرا اور مینے دونوں انکسار سے کام لیتے ہوئے ہاتھ جوڑتے اور اصرار کرنے والوں کے پیروں کی طرف ہاتھ بڑھا کر اپنی عاجزی ظاہر کرتے تھے۔ پھر بھی وہ اس ایک ہی تکیے سے ٹیک لگا کے ایک دوسرے سے بھڑ کے بیٹھ گئے اور آپس میں اس آخری ملاقات کو یاد کرنے لگے جب ”آپاں، اللہ بخشے زندی تھی۔“

مینا دروغا بولا، ”یار بشیر بھائی! آپ دبل گئے، اب ڈیڑھ برس پیچھے دیکھتا ہوں آپ کو تو بہت ہی کچھ فرق لگتا ہے۔“

بشیر بولا کہ ”ٹیم سبھی کو خراب کرتا ہے دروغا۔ میں جو ابھی فٹ پئیری پہ کھڑا سامان سمیٹتا تھا اور آپ نے اپنی کھڑکی سے جھانک کے سلام دعا کی تھی تو سچی بات ہے فوری میں تو می نا بھائی! میں آپ کو پچھان نہیں پایا۔“

مینا کہنے لگا، ”کیسے بھلا؟“

بشیر مینے کی طرف گھوما، یعنی اپنی گینڈا گردن کے ساتھ جتنا بھی گھوم سکتا تھا، اور بولا، ”بئی یہ لال سر تو کبھی نہیں دیکھا تھا آپ کا۔“

مینا مروت میں ہاہا کر کے تھوڑا ہنسا۔ ”کیا کریں بھائی بشیر! ہم تو اب بوڑھی گھوڑیوں میں گنے جانے لگے۔ تو بس، لگام کو تو پھر لال رنگنا ہی رنگنا تھا۔ ہاہاہا!“

حمام والا نواز دین اپنی دکان پہ گاہک چھوڑ کے آیا تھا، اس نے دروغوں کی وقت گزاری بات چیت بیچ سے اچک لی۔ بولا، ”بڑا افسوس ہوا جی ددی بائی کے فوت ہونے کا سن کے۔ اللہ مغفرت کرے۔ میں اس روز دکان پہ نہیں آیا تھا ورنہ جاتا مٹی دینے۔“

نواز دین نے پہل کی تو سب آنے والوں نے فرداً فرداً بشیر دروغے کو ددی کا پرسا دیا۔ سڑک کی عورتوں نے جو سر ڈھکتے ہوئے اپنے ڈوپٹوں کو کانوں کے پیچھے اتنا اڑس کے آئی تھیں کہ پیشانیوں کا بھی کچھ حصہ ڈھک گیا تھا، ہلکی آواز میں تھوڑا رو کر دکھایا، پھر چپ ہو گئیں۔ پرسا دیتے ہوئے پڑوسی اور سب برادری والے بڑے فکرمند اور نیک دکھائی دینے لگے اور پرسا لیتے ہوئے دروغا بشیر ایسا مظلوم اور ستایا ہوا بن گیا جیسے موت اسی کو ستانے کے لیے ایجاد کی گئی ہے۔ اس کا قد اور بھی تین انچ گھٹ گیا اور آواز میں پھر سیندور بیٹھ گیا۔

پرسے کا سلسلہ ختم ہوا تو مینا دروغے نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور ددی والی لڑکیوں کے عمومی جتھے کی طرف دیکھ کر کہا، ”بھئی برادری کے لوگوں اور پڑوسیوں پنچوں نے میرے پہ ذمہ واری ڈالی تھی تجوری کی چابی کی، تو میں نے یہ بول دیا تھا کہ اصل تو دروغا بشیر نے ہی سب دیکھنا بھالنا ہے۔ تو جی میں نے ادھر تار دلوایا دیا تھا بشیر بھائی کو اور وختی طور پر۔ سمجھو جب ہی تک اصل وارث نہیں آوے۔ یہ چابی اپنے پاس رکھ چھوڑی تھی۔ اگر نہیں رکھتا تو دس طرحے کے جھگڑے ٹنٹے ہوتے۔ ادھر ددی جی کے پاس امانتیں بھی رکھی ہیں۔ اور بھی سب کچھ ہے۔ اس لیے بھیا! چابی سمبال کے میں جو ادھر سے گیا تھا تو فلیٹ کی طرف اب آیا ہوں۔ میں نے اپنے کو بولا تھا کہ مینے باشا، بہتری تیری اسی میں ہے کہ ابھی جب تک ددی کا اصل وارث نہیں آ جاوے تو فلیٹ کی سیڑھی مت چڑھنا، کس لیے کہ تیرے پاس تجوری کی چابی ہے۔ کدھر سے کوئی الزام بہتان نہیں بن جاوے۔ تو اب سب برادری والوں، پڑوسیوں کی ساکشی میں۔ بھیا! یہ لو۔ میں نے ذمہ واری اپنی پوری کر دی۔ لو بھئی سمبالو ددی جی کی چابی۔“

مینا نے بشیرے کی طرف چابی بڑھائی۔ اس نے چابی کو ہاتھ نہ لگایا۔ وہ آنکھیں پٹپٹانے لگا، مانو اب رونے ہی والا ہے۔ مینا دروغے نے شانے پہ اس کے ہاتھ رکھ دیا۔ بولا، ”یہ سمج لے بشیر چودھری کہ دنیا کا دستور یہی ہے۔ اب یہ پگ تیرے سر پہ آئی ہے۔“

فلیٹ والیوں کے ہجوم میں کھڑی جمیلہ نے سب کی طرف دیکھا، جھک کے روزی کے کان میں کہا، ”ددی جی پگ تو نہیں باندھتی تھی!“

روزی نے اسے سرگوشی میں جھڑکا، ”بکواس نہیں کر۔“

اس وقت تک بشیر دروغا سب کے بے حد اصرار پر ددی جی کی چابی سنبھال چکا تھا۔ تقریر کی باری اب اس کی تھی۔ مگر وہ دیکھ رہا تھا کہ حمام کا پروپرائٹر نواز دین بے چین ہے، جانا چاہتا ہے۔ اس نے سوچا نواز دین کو فارغ کر دوں۔ بولا، ”بھائی نواز دین! آپ نے بڑی شفکت، بڑی بھائی بندی وخائی جو آپ آ گئے۔“

”بھائی بندی“ کے لفظ پر نواز دین کا منھ بن گیا۔ وہ خدا سے چاہتا تھا کہ کسی اور بازار میں ٹھیک سی جگہ مل جائے تو وہ اس کنجر پاڑے سے دکان سمیٹ کے بس چلا جائے۔ مگر خیر، کیوں کہ بھائی کہتے ہوئے دروغے کی نیت نیک تھی اس لیے اس نے خود کو تسلی دی اور نیم قد اٹھ کے ہاتھ بڑھا دیے۔ ”اب اجازت دو دروغا! دکان پر گاہک چھوڑ کے آیا ہوں۔“

کشمیری ہوٹل والے نے بھی ہاتھ بڑھا دیے۔ ”میں بھی چلوں گا دروغے جی!“

”بسم اللہ۔ خیر ہووے۔“ کشمیری ہوٹل والا اور نواز دین چلے گئے تو لڑکے نے ان کے پیچھے فلیٹ کا دروازہ بند کر دیا۔ اب صرف برادری کے عورت مرد رہ گئے تھے، سو بشیر نے آواز کو حلق میں ہی گھونٹ کے اس میں آنسوؤں کی ملاوٹ کی اور روتے ہوئے سروں میں کہا کہ رب جانتا ہے آپاں جی کی چابیاں سنبھالنے کا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ ”میں تو سمجھتا تھا کہ میری چابیاں۔ مطلب میری خبر سنیں گی آپاں جی کہ لؤ بئی بشیر گجر گیا۔ خیر، تار بھیجا تھا بھائی مینا دروغے نے، میں چل پڑا۔ برادری کا حکم تھا، کیسے نہیں آتا۔ رب جانتا ہے مجھے نہیں پتا ادھر کرایہ بجلی پانی گیس۔ اس میں مجھے پورا بھی پڑے گا یا ان مصوموں کے ساتھ، جنھانوں ریل چڑھا کے لایا ہوں، بھک مرنا پئے گا۔ تو جو برادری کا حکم۔ پر ایک بات ابھی صاف کر دوں میں۔ سارے ای بھائی بند بیٹھے ہیں۔ بشیر بھوکوں مر جائے گا پر جو کچھ آپاں جی نے ادھر میل جول، گھر گرہستی، پیسا کوڑی بنایا ہے اس میں ایک ٹیڈی پیسے کا حق نہیں مانگے گا بشیر۔ یہ پکی بات ہے۔“

جمیلہ نے کسی کو مخاطب کیے بغیر آہستہ سے خود سے کہا، ”کیا بات ہے! یہ دروغا نہیں درویش ہے، او ہو ہو ہو۔“

دروغے کی تقریر جاری تھی۔ وہ کہہ رہا تھا،

”تھوڑا بہت جمع پونجی جو بھی ہے وہ ساتھ لے آیا ہوں۔ کس لیے کہ واپس نہیں جانا۔ اب تو اسی ٹھکانے پہ بچیوں کے لیے کام تلاش کرنا ہے۔ اور بچیاں ددی جی کی یہ نہیں نہ سمجھیں کہ ہم ان کی روزی روٹی میں رب نہ کرے کوئی کھنڈت ڈالیں گے۔ ناں ناں بئی ناں۔ بشیر دروغے نے اپنی شگردوں کو سکھلایا ہے کہ پتر دوجے لوک کے روٹی رزک پہ نجر نہیں ڈالنی۔ سب کو اپنی پشانی کا لکھا کمانے کھانے دو۔ جو جس کا اسی کو مبارک۔ جنا کچھ کام، جو کلا بشیر نے اپنی بچیوں کو سکھلائی ہے ان کے لیے وہ ہی بس ہے۔ مالک کے کرم سے۔“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4