کہانی، ذمہ داری اور سماج


کہانیاں تاریخ کے مختلف ادوار کی حقیقتوں پر مبنی، مگر اک الگ انداز میں بیان کردہ واقعات کی ایسی تفصیلات ہوتی ہیں جو کسی صورتحال میں شخصیات، حالات، کردار اور ترجیحات کے بارے میں بغیر ہر اک پہلو کی ہو بہو تصویر کھینچے اس کے اخلاقی، سماجی، معاشرتی اثر کو ایک دلچسپ اور اثر انگیز اسلوب میں بیان کرتی ہیں۔

اک ادیب اور لکھاری کہانی کی کسی بھی شکل کے ذریعے تاریخ رقم کرتا ہے اب چاہے ناول ہو یا افسانہ، ڈرامہ ہو یا فلم کا اسکرپٹ، داستان ہو یا کہانی۔

ہزاروں سال سے تاریخ کے مختلف گوشوں اور طوالت پر مبنی واقعات کے سلسلوں کو کہانی کے ذریعے ایک خاص انداز اور اختصار سے کچھ یوں بیان کیا جا رہا ہے کہ اس کا عرق اور نتیجہ کہانی کی کسی بھی شکل میں اک سبق اور نتیجہ خیز انداز میں محفوظ ہو جائے۔

بادشاہوں، حکمرانوں، طالع آزماؤں، حملہ آوروں اور آزادی کے متوالوں کی تاریخ تو لکھی جاتی رہی ہے۔ مگر زمانہ قدیم سے تاحال مورخین کی جانب داری، تعلق، نسل، مکتب فکر، مسلک اور انداز فکر ظاہر ہے کہ متحارب فریقین میں سے کسی ایک یا زیادہ تر فاتح یا ممدوح کی بابت یا معاشرے کے مختلف طبقات میں سے کچھ ایک یا کسی ایک کی بابت لکھتی اور کہتی نظر آتی ہے۔

ہاں کہانی کا میدان، اسلوب اور انداز سخن تفصیلات اور ترجیحات میں بہت زیادہ محو ہوئے بنا تاریخ کو اک الگ انداز میں اس طرح محفوظ کر رہا ہے کہ کہیں کتاب اور کہیں عوام کی یادداشت کا اک جاری سلسلہ صدیوں تک اس کی تحویل اور ترویج کا ذمہ لے لیتا ہے۔

ادب اپنی اٹھان، فطرت میں تاریخ کو کبھی نام، کبھی انداز، کبھی کردار، کبھی کام اور کبھی پیغام کی صورت محفوظ کرتا چلا جاتا ہے اور اپنی اس اپچ اور اداز کی بنا پر وہ طاقتور اور حکمران طبقوں کی براہ راست دخل اندازی اور مداخلت کے خطرے کا مقابلہ بھی کر لیتا ہے۔

اب اس مضمون کا قطعی یہ مقصد نہیں کہ ہم تاریخ اور کہانی کا آپس میں کوئی براہ راست موازنہ کریں یا کسی اک صنف کو دوسرے سے معتبر قرار دیں۔

ہر اک رخ ادب اور تخلیق کا اپنا اک مقام ہوا کرتا ہے اور جس وقت، جہاں کچھ ہو رہا ہوتا ہے تو اب مورخ ہو یا ادیب، وہ اپنی صلاحیت کار، استعداد، وسائل کے ساتھ بقا کے مختلف مسائل سے بھی دوچار ہوتا ہے اور پھر اپنے اپنے انداز میں واقعات اور معاملات کو آگے آنے والے لوگوں کی یادداشت، سیکھ، سبق اور سمجھ کے لیے ایک سوال یا حوالے کے طور پر لفظوں کی صورت اپنے تئیں محفوظ کرنے کی کاوش انجام دیتا رہتا ہے۔

لکھی گئی کہانیوں کا بیشتر حصہ ہمیں حکمرانوں، حکمرانی، اقتدار اور اختیار کے لیے کی جانے والی کاوشوں، حربوں پہ مشتمل واقعات کی خبر دیتا ہے۔

کہیں کچھ نام یا کچھ کردار، کہیں کارنامے یا گناہ کہانیوں میں محفوظ ہو کر صدیوں تک یادداشتوں اور تذکرے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

آج کے جدید ہوتے دور میں جب فلم کا دور دورہ ہے تو کہانی اس نئی اور طاقتور تکنیک کے ذریعے اب کروڑوں ذہنوں تک براہ راست رسائی حاصل کرتی ہے اور اپنی حیثیت اور وجود کو اک نئے اور طاقتور انداز میں منوا رہی ہے۔

ایک ادیب یا لکھاری اب ایک ایسے زمانے میں ہے کہ اس کے لفظ اگر دلچسپ اور با اثر ہیں تو تصویر اور تحریر کا سنگم انہیں اک نئی جہت اور شکل سے روبرو کر رہا ہے اور یہ کہانی کے ڈیجیٹل تبدل کا جاری مرحلہ ہے۔

کہانی چاہے سچے واقعات پر مشتمل ہو یا ان سے براہ راست متاثر یا مختلف واقعات کے سلسلے اور ترتیب کا ادیب یا لکھاری کی سوچ اور سمجھ کے تحت ایک عکس۔

اس میں کبھی براہ راست، کبھی بالواسطہ تاریخ کا اک ٹکڑا محفوظ ہوجاتا ہے۔

کہانی کی کوئی بھی شکل یا انداز ہو۔ اس کا ادب میں اہم مقام ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی کردار پر کہانی کے اثر سے انکار ممکن نہیں۔

وہ معاشرے جہاں کہانی سے بذریعہ کتاب استفادہ کم کیا جاتا ہے، وہاں بھی مختلف دیگر ذرائع سے کہانی ذریعہ اظہار ڈھونڈ لیتی ہے اور اب تو ڈیجیٹل ذرائع اسکرین کے ذریعے کہانی کے فروغ اور پھیلاؤ کا ذمہ سنبھال رہے ہیں۔

کسی بھی معاشرے یا ثقافت میں کہانی کا کردار بہت ہی اہم ہے اور یہ اس معاشرے کی کردار سازی اور ثقافتی استحکام کے لئے ایک لازم سا عنصر ہے۔

کہانی کا لکھا جانا کسی بھی معاشرے میں ایک متبادل تاریخ اور اظہار کے انوکھے انداز کو قائم رکھ کر معاشرے کو اک زندہ معاشرے کے طور پر قائم رہنے میں مدد دیتا ہے۔

جن معاشروں یا سماج میں کہانی کے شعبے کو نظرانداز کیا جانے لگتا ہے وہاں رفتہ رفتہ کردار سازی کا عمل متاثر ہونے لگتا ہے اور رویوں اور اطوار میں اک ان دیکھی سی تبدیلی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو براہ راست اور بالواسطہ متاثر کرنے لگتی ہے۔

ہم اپنے معاشروں میں کئی دہائیوں سے انتہا پسندی، لاتعلقی، مادیت پرستی، سمجھ اور برداشت کی کم ہوتی سطح اور انتشار کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور اب اس صورت حال نے ہر اک شعبہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے۔

آج کی موجودہ سیاسی اور سماجی صورت حال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب سے اس ملک میں اظہار کو پابند کرنے کے دور کا آغاز ہوا تب سے کہانی اور ادب کو محدود کرنے کی کاوشیں بھی جاری ہیں۔

ادیبوں اور لکھاریوں کے لیے یہ کڑا وقت ہے اور اک بڑی ذمہ داری بھی۔
کہ کہانی کا سلسلہ جاری و ساری رہے تاکہ معاشرہ سانس لیتا رہے

Facebook Comments HS