سفاک رویے


حقیقی غلاموں کا یہ المیہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی انھیں (اپنی سمجھ کے مطابق) حقیقی آزادی کا پیغام دے تو وہ غصے میں آ جاتے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ستر سال سے وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے وہ اب خود کو آزاد ہیں۔ جن کی کوئی بات اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بغیر نہیں ہوتی تھی اب وہ اسٹیبلشمنٹ کی مالا جپتے نظر آتے ہیں۔ جنہیں پاکستان کی تاریخ میں ہونے والے ہر سانحے میں امریکی سازش دکھائی دیتی تھی اب وہ کسی بھی امریکی سازش کا سرے سے انکار کرتے ہیں۔ جو ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگاتے تھے وہ پونے دو کروڑ ووٹوں کو پاؤں تلے روند کر خوش ہو رہے ہیں۔

ملحدوں کو مسجد کا تقدس یاد آ گیا ہے۔ سیکولرز کو توہین مذہب دکھائی دینے لگی ہے۔ لبرلز دوسروں کے کردار کو جانچنے لگے ہیں۔ مذہب پسندوں کو جمہوریت کا غم ستا رہا ہے۔ جو توہین مذہب کے قوانین کے استعمال کے شدید ترین ناقد تھے وہ اب مقامات مقدسہ کی توہین کی ایف آئی آر کے سب سے بڑے حامی بن چکے ہیں۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے ووٹر صدق دل سے سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، ان کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے اور جن لوگوں کے خلاف انھوں نے ووٹ ڈالے انہی کو ان پر مسلط کر دیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے ووٹر صدمے میں ہیں، دکھ اور تکلیف میں ہیں۔ اس تکلیف کا اظہار وہ سڑکوں پر، جلسہ گاہوں پر اور سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں۔

عمران خان کی ہر کال پر لوگوں نے گھروں سے نکل کر یہ سمجھا دیا ہے کہ عوامی حمایت عمران خان کے ساتھ ہے۔

دوسری طرف جن لوگوں کے عمران خان کی مخالفت جماعتوں (جو اب سب متحد ہو چکی ہیں ) کو ووٹ ڈالے وہ اس وقت تحریک انصاف کے حامیوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے اور ٹھٹھا اڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جس شخصیت کا نام ساڑھے تین پونے چار سال میں کسی نے نہیں سنا اس کا نام تحریک انصاف کی حکومت کے ختم ہوتے ہی سامنے لانا اور پھر ہر بات میں اسی کو ٹارگٹ کرنا شروع کر چکے ہیں۔

ایسے میں عید الفطر آتی ہے۔ عمران خان پیغام دیتے ہیں کہ تحریک انصاف کے ووٹر اور حامی ان کا یہ پیغام سب کو دیں کہ حقیقی آزادی کی جنگ جاری رہے گی۔

میں حالانکہ تحریک انصاف کا ووٹر نہیں ہوں اور نہ ہی میں نے زندگی میں کبھی کسی سیاسی جماعت کو ووٹ ڈالا ہے اور شاید آئندہ زندگی میں بھی کبھی ووٹ نہ ڈالوں، لیکن میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے ووٹروں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے چنانچہ میں نے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کی حمایت شروع کر دی۔ نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ اپنے گھر کی خواتین کے اصرار پر اسلام آباد میں ہونے والے ہر اس احتجاج میں جانا شروع کیا جس کی کال عمران خان نے دی۔

آج میں نے سوشل میڈیا پر عید مبارک کا پیغام اس پیغام کے ساتھ دیا کہ حقیقی آزادی کی جنگ جاری رہے گی۔

کچھ لوگوں نے پنس کر ٹال دیا کچھ لوگوں نے مزاحیہ جواب دے دیا لیکن ایک خاتون کی جانب سے بہت حیران کن ریسپانس آیا۔ فرمایا کہ پلیز مجھ سے یہ بکواس مت کریں۔ اور پھر بلاک بھی کر دیا

جیسے جیسے سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ویسے ویسے موسم کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔ جب درجہ حرارت حد سے بڑھ جائے تو پھر آگ لگ جاتی ہے۔

جنگل کی آگ کا تو سنا ہی ہو گا کہ وہ تیزی سے پھیلتی ہے اور بجھائے نہیں بجھتی۔

جس ملک میں جنگل کا قانون رائج ہو جائے وہاں کی آگ کون بجھائے گا؟ کیا وہی بجھائیں گے جنہیں ہر آفت میں مدد کے لیے طلب کر لیا جاتا ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad