مصنوعی قیادت بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی


بلوچستان ایک بار پھر ٹاک شوز اور اخباروں کے کالموں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ بیشتر ٹاک شوز اور کالموں میں بلوچستان کے بارے میں جو بولا اور لکھا جا رہا ہے وہ صاحب اقتدار و اختیار کے مزاج کے مطابق اور زمینی حقائق سے کوسوں دور ہے۔

زمینی حقائق کو مسخ کرنا، اپنے ظلم اور نا انصافیوں کے نتیجے میں جنم لینے والے بگڑتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری اپنے اطراف میں سے کسی ایک ہمسائے کی گردن پر ڈالنا اس ملک کے حکمرانوں کا پسندیدہ مشغلہ اور حب الوطنی کا اعلی ترین درجہ ہے۔ اس سے ہٹ کر اگر کسی نے مسائل کے اصل اسباب و محرکات کو بیان کیا تو نہ صرف ان کی حب الوطنی مشکوک ہوجاتی ہے بلکہ ملک کی سالمیت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جبکہ حب الوطنی کو بچاتے ہوئے نصف صدی پہلے وطن کا نصف حصہ ہی گنوا بیٹھے اور بچا کچھا حصہ آگ کی لپیٹ میں ہے مگر ملک کے پالیسی میکرز اپنی پالیسی بدلنے کی بجائے دروغ گوئی پر طاقت صرف کر رہے ہیں۔

مرض کی تشخیص کیے بغیر ہمیشہ کی طرح طاقت کے استعمال کو ہر مرض کی علاج سمجھتے ہیں۔ ویسے ہم بھی کیا سادہ ہیں جو ان پالیسی میکرز سے پالیسیز بدلنے کی بات کرتے ہیں جن سے سات دہائیوں سے بلوچستان کے حوالے سے کچھ مخصوص جملے ہی بدل نہیں ہو پا رہے ہیں۔ جیسا کہ بلوچستان کے صورتحال کا ذمہ دار وہاں کے سردار ہیں۔ یہ سردار تعلیم و ترقی کے خلاف ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

بلوچستان کے حالات اس قدر گمبھیر ہوچکے ہیں کہ یہاں کے نوجوان بنا کسی حور اور جنت کے لالچ میں اپنی زندگیوں کو فنا کر رہے ہیں۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ نوجوان اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ زندگی ان کو بے معنی لگنے لگی ہے۔ میرے وجوہات شاید اس راہ پر گامزن نوجوانوں کو مضحکہ خیز لگیں۔ لیکن یہاں کے صاحب اختیاروں نے ان بنیادی وجوہات کو بھی جاننے اور سمجھنے کی زحمت کبھی نہیں کی ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ یقین ہو چکا ہے کہ جب تک وہ اپنی سرزمین کے مالک و مختار خود نہیں بنیں گے تب تک سرزمین کے ساحل اور وسائل پر استعماری قوتوں کی لوٹ مار جاری رہے گی۔

مجھ سمیت بلوچستان کے لاکھوں نوجوان آج بھی اپنے حقوق کے حصول کے لیے پر امن سیاسی اور آئینی جدوجہد پر یقین کامل رکھتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ پرامن سیاسی ماحول قائم کرنے کے لئے یہاں کے مقتدرہ قوتیں راضی رہیں گے؟ سیاسی طور پر باشعور ایک پڑھے لکھے سماج اور معاشرے کے اوپر اپ نے باپ (بلوچستان عوامی پارٹی) کی شکل میں غیر سیاسی یا مصنوعی سیاسی قیادت مسلط کیا جن کا سیاست اور حلق سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ آپ نے کئی دہائیوں سے بلوچستان کی آواز کو دبا کر رکھا ہے۔ اعتراض احتجاج، تنقید اور سیاسی مزاحمت کے تمام قانونی، آئینی اور جمہوری راستے بند کیے ہیں۔ اب اس صورتحال میں ریاست نے بلوچوں کے لئے پرتشدد طریقے کے علاوہ باقی کون سا آپشن چھوڑ دیا ہے جہاں وہ اپنی آواز کو دوسرے لوگوں تک پہنچا سکیں۔

پرامن سیاسی جدوجہد تو دور کی بات ہے بلوچ نوجوانوں کو ایک عام پاکستانی کی طرح تعلیم حاصل کرنے یا عام سی زندگی جینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ذرا حساب لگا لیں کتنے بلوچ طلبا ملک کے مختلف تعلیمی اداروں سے اغوا ہوئے ہیں اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ جہاں تک سیاسی آزادی کی بات ہے تو بلوچستان کے حقیقی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ طلبا تنظیموں کے کارکنوں کی اکثریت لاپتہ ہوچکے ہیں۔ غیر سیاسی لوگوں کی مصنوعی قیادت بلوچستان پر مسلط کردی گئی ہے۔

اور یہ مصنوعی قیادت کو بلوچستان کے ساحل اور وسائل کی اہمیت و افادیت کا پتہ ہے اور نہ یہ بلوچستان کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کی منصوبہ بندی کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ عوامی پذیرائی اور مقبولیت اتنی ہے کہ وزیراعلیٰ سمیت تمام وزراء مل کر بمشکل پورے بلوچستان سے ہزار لوگ اکٹھے نہیں کر سکتے ہیں۔ بلوچ نوجوانو کو معلوم ہے کہ یہ مصنوعی اور غیر سیاسی قیادت نہ ان کو حقوق دلا سکیں گے اور نہ ہی پرامن سیاسی عمل سے اپنے قدرتی وسائل کے مالک و مختار بننے کی اجازت دیں گے۔ تب ہی وہ سیاسی حل سے مایوس ہو کر تشدد کی طرف مائل ہوئے ہیں۔

جب تک یہ مصنوعی قیادت کی اجارہ داری اور مقتدرہ قوتوں کی طرف سے پشت پناہی قائم رہے گی تب تک بلوچستان کے حالات مزید بگڑتے جائیں گے۔ خالص سیاسی قیادت اگرچہ مختصر وقت میں بلوچستان کے حالات کو مثالی نہیں بنا سکے گی مگر کم از کم حالات کو بد تری اور نوجوانوں کو مزید مایوسی کی طرف نہیں لے جائیں گے۔

بلوچستان کا مسئلہ قابل فہم اور قابل حل ہے۔ مسئلہ کا واحد حل سیاسی حل ہے اور غیر سیاسی قیادت سے سیاسی حل کی امید لگانا وقت کا ضیاع ہے۔ سیاسی مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کے لئے سیاسی پارٹیوں کو سیاسی آزادی دینی چاہیے۔ عوامی ووٹوں سے منتخب سیاسی حکومت ہی ترقی یافتہ اور پرامن بلوچستان کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ اس کی واضح مثال نیشنل پارٹی کا ڈھائی سالہ دور حکومت ہے۔ اس وقت کے وزیراعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان مسئلہ کے مستقل حل کے لئے گفت شنید کا آغاز کیا تھا۔

نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں مذاکرات کی باتیں ہو رہی تھی، تعلیمی ادارے بن رہے تھے نوجوانوں میں امید جاگ رہی تھی، جبکہ ابھی مصنوعی مسلط کردہ غیر سیاسی حکومت کے دور میں نوجوان مذاکرات کی امید سے مایوس ہو کر مزاحمت کر رہے ہیں۔ یہ شاید ممکن نہیں ہے کہ پرامن اور سیاسی ماحول کے قیام کے بعد مزاحمت کے راہ پر گامزن نوجوان مزاحمت کو ترک کر دیں اور سیاست کرنے لگیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں نوجوانوں کو پرامن سیاست کرنے کی آزادی دی گئی تو مزاحمتی تنظیموں میں ان کی بھرتی ہونے کی تعداد کم رہے گی۔ ریاست کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ بلوچستان کی قیادت یہاں کے سیاسی لوگوں کے ہاتھ میں دے کر امن قائم کرنا ہے یا موجودہ مصنوعی قیادت کو دوام بخش کر بلوچستان کے امن کو ہمیشہ کے لئے مزید تباہ کرنا ہے۔

Facebook Comments HS