اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا


عید کی نماز کی اختتام پر مولانا صاحب نے طویل و عریض مطالبات کی فہرست بطور دعا خدا کے حضور پیش کی۔ یا اللہ قرض داروں کے قرض ادا فرما، یا اللہ جو بیمار ہیں ان کو شفائے کاملہ عطا فرما۔ فوت شدگان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما۔ جو بے اولاد ہیں ان کو اولاد نرینہ عطا فرما۔ اولاد نرینہ۔

دعا تو اس کے بعد بھی کافی لمبی لسٹ کی شکل میں جاری رہی اور مولانا صاحب سال بھر کے جو مطالبات تھے وہ خدا کے حضور گوش گزار کرتے رہے لیکن میں اولاد نرینہ والے دعائیہ فقرے پر رکا ہوا تھا۔ خدا کو ہماری شرائط کے ساتھ ہماری دعائیں قبول کرنی ہوں گی۔ جو صاحب اولاد نہیں ہیں ان کو بیٹا ہی عطا کیا جائے۔ بیٹی نہیں۔ کیوں؟ یا تو اولاد نرینہ ہی عطا کی جائے یا پھر بے اولاد رہنا ہی بہتر ہے۔

مولانا صاحب دعا میں اولاد نرینہ ہی کیوں مانگتے ہیں؟ جو بے اولاد ہیں ان کی شرط اولاد نرینہ ہی کیوں ہے؟ مولانا صاحب چونکہ خدا اور معاشرے کے درمیان ایک لنک ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے مطالبات کیا ہیں اور وہ خدا سے کیا چاہتے ہیں۔ وہ معاشرے کی نبض سمجھتے ہیں۔ ایک اچھا امام مسجد معاشرے کی نفسیات سے بہت اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔ لہذا مطالبہ کی فہرست سے معاشرے کی دعائیں اور ان دعاؤں سے معاشرے کے روئیے سمجھنا مشکل نہیں ہوتا۔ قاری صاحب کی ہر دعا یا مطالبہ کے جواب میں سامعین کی طرف سے آمین آمین کی صدائیں بلند ہو رہی تھی لیکن میں شاید وہاں نہیں تھا۔ کیا میں عہد جاہلیت میں تھا؟ منظر کچھ دیکھا دیکھا سا تھا۔

”بیٹی کے لئے قبر کی جگہ منتخب کر کے میں ہاتھوں سے ریت اٹھانے لگا۔ میری بیٹی مجھے ریت ہٹاتے دیکھ کر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ریت ہٹانے میں میری مدد کرنے لگی۔ ہم دونوں باپ بیٹی ریت کھودتے رہے۔ میں نے اس دن صاف کپڑے پہن رکھے تھے۔ ریت کھودنے کے دوران میرے کپڑوں پر مٹی لگ گئی۔ میری بیٹی نے کپڑوں پر مٹی دیکھی تو اس نے اپنے ہاتھ جھاڑے، قمیض کے ساتھ صاف کیے اور میری قمیض سے ریت جھاڑنے لگی۔

قبر تیار ہوئی تو میں نے اسے قبر میں بٹھایا اور اس پر مٹی ڈالنا شروع کر دی۔ وہ بھی اپنے ننھے ہاتھوں سے اپنے اوپر مٹی ڈالنے لگی۔ وہ مٹی ڈالتی جاتی تھی اور قہقہہ لگاتی جاتی تھی اور مجھ سے فرمائشیں کرتی جاتی تھی۔ لیکن میں دل ہی دل میں اپنے خداؤں سے دعا کر رہا تھا کہ تم میری بیٹی کی قربانی قبول کر لو اور مجھے اگلے سال بیٹا دے دو۔ میں دعا کرتا رہا اور بیٹی ریت میں دفن ہوتی رہی۔

میں نے آخر میں جب اس کے سر پر مٹی ڈالنا شروع کی تو اس نے خوفزدہ نظروں سے میری طرف دیکھا۔ اور مجھ سے توتلی زبان میں پوچھا۔ ”ابا آپ پر میری جان قربان، آپ مجھے ریت میں کیوں دفن کر رہے ہیں؟ میں نے اپنے دل کو پتھر بنا لیا اور دونوں ہاتھوں سے تیزی سے قبر پر ریت پھینکنے لگا۔ میری بیٹی روتی رہی چیختی رہی، دہائیاں دیتی رہی۔ لیکن میں نے اسے ریت میں زندہ دفن کر دیا“ ۔

میں جب بھی یہ تاریخ عرب کا یہ واقعہ پڑھتا ہوں تو رب کائنات کا شکر ادا کر تا ہوں کہ ظہور اسلام نے نہ صرف زمانہ جاہلیت کے تصورات و اعتقادات اور عزت و غیرت کے معاشرتی پیمانوں کو رد کیا بلکہ وسیع تر انسانی مساوات، روشن خیالی اور اعلی انسانی اقدار کا ایک جامع و ارفع نظام بھی پیش کیا۔ نبی اخر الزماں سسکتی انسانیت کے لئے کتنی بڑی رحمت بن کر آئے۔ اس کا اندازہ لگانے کے لئے اوپر بیاں کیا گیا یہ ایک واقعہ ہی کافی ہے۔ عورت اور بیٹی کو فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دیا۔ بیٹی کو بطور انسان ارفع و اعلی مرتبہ عطا کیا اور وہ تمام حقوق یقینی بنائے جو بطور انسان اور بطور عورت خدا کے عطا کردہ ہیں۔

ہم جس معاشرے اور جس عہد میں زندہ ہیں یہ معاشرتی، شعوری اور سائنسی لحاظ سے بہت ترقی یافتہ دور ہے۔ لیکن اخلاقی لحاظ سے شاید ہم واپس عہد جاہلیت میں زندہ ہیں۔ آئے روز کچھ ایسا ہو جاتا جس سے یہ لگتا کہ بیٹی اور عورت شاید آج بھی اس معاشرے کے لئے اتنی ہے معتوب ہے جتنی زمانہ جاہلیت میں۔ عزت و غیرت کے وہ پیمانے جن کو اسلام نے بطور عالمگیر مذہب مسترد کیا تھا وہ بطور معاشرہ ہم نے زندہ کر دیے ہیں۔

ہم چونکہ معاشرتی طور پر ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں معاشرہ ہمیں زندہ سنگسار کرنے کی رسم اس طرح سے ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لہذا ہم نے بطور معاشرہ عورت اور بیٹی کو زندہ درگور کرنے کے کئی متبادل اور بہتر نظام متعارف کروا دیے۔ چاہے وہ صنفی امتیاز ہو یا معاشرتی کردار۔ معاشرتی رویوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ عورت کا وجود کل بھی ناقابل برداشت تھا اور آج بھی۔ مجبوری اپنی جگہ۔

بطور پاکستانی ہم اکثر ایسے واقعات دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں جن کو دیکھ اور سن کے یہ محسوس ہوتا کہ ہم شاید ابھی اسی زمانہ جاہلیت میں زندہ ہیں۔ یہ معاشرتی ترقی، انسانی و صنفی مساوات کا سفر رائیگاں گزرا۔ میانوالی میں سات دن کی بیٹی کو پانچ گولیاں مار کر مارنے والا باپ اسی جدید اور ترقی یافتہ معاشرے کا حصہ ہے جس کے لئے بیٹی کی پیدائش ایک کلنک ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ سات دن کی بیٹی کو قتل کر کے باقی زندگی جیل میں گزارنا اس سے بہتر ہے کہ وہ ایک بیٹی کا باپ بن کر اس معاشرے میں سر جھکا کر زندہ رہے۔

معصوم بیٹی کو پتہ بھی نہیں ہو گا کس جرم کی سزا میں اس کے سات دن کے ننھے وجود میں پانچ گولیاں اتار دی گئیں۔ اسی میانوالی ہی میں ایک سالہ عائشہ، تین سالہ علیشا اور پانچ سالہ عریفہ کو ان کے باپ نے بیٹا نہ ہونے کی پاداش میں قتل کر دیا تھا۔ تیزاب گردی بھی ہوگی تو عورت کے خلاف۔ غیرت کے نام پر قتل بھی ہمیشہ بیٹی اور بہن ہوگی۔ مرد کبھی بھی قصور وار نہیں ٹھہرایا گیا۔

ہم بطور معاشرہ اس ظلم کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنا وہ بد بخت باپ جو اپنی بیٹیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ بیٹی اور بیٹے میں تفریق ہم نے بطور معاشرہ قائم کی ہے۔ اور آج اگر معاشرے میں بیٹی کا وجود ناقابل برداشت ہے تو اس میں بطور معاشرہ ہم ہی ذمہ دار ہیں۔ ہم نے بیٹی کے وجود ہو گالی بنا دیا۔ جب یہ تفریق ہم نے ڈالی ہے تو پھر اس کے نتائج بھی ہم کو ہی بھگتنا ہوں گے۔ بیٹیاں مرتی رہیں گی کبھی عزت تو کبھی غیرت کے نام پر۔

استحصال ہوتا رہے گا۔ کاروکاری ہو، بیٹی زندہ درگور نہیں ہو گی ہان ہم اس کو ونی کریں گے، کاروکاری کے ذریعے قتل کریں گے ہو یا پھر سوارا کی بھینٹ چڑھائیں گے۔ یہ زمانہ جاہلیت سے مستعار لی گئی رسومات ہیں جن کا ایندھن ہمیشہ عورت ہی بنتی ہے اور شاید قیامت تک بنتی رہے گی۔ کیوں کہ اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔

 

Facebook Comments HS