لندن پلان کون کامیاب؟ نون لیگ پی پی پی کے آگے بے بس؟


ہم نے لندن پلان یعنی پی پی پی اور نون کے گٹھ جوڑ پر روشنی ڈالنی ہے۔ آپ سب متفق ہوں گے کہ برطانیہ جمہوریت کا چیمپئن کہلاتا ہے۔ اور ہمارے سیاست دان اس ملک کو خفیہ پلاننگ کی جگہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں میں بے شمار سابق اور موجودہ عہدوں پر فائز پارلیمنٹرین نے لندن سفر کیے بلکہ برطانیہ میں اپنے اپنے کارکنان سے بھی ملاقاتیں کی لیکن شاید ہی کسی نے کبھی یہ بتایا ہو کہ ہم لندن سڑکوں کا سٹرکچر، میڈیکل سسٹم، اداروں کا سسٹم اور سیاستدانوں سے مل کر کوئی سبق سیکھیں۔

حالیہ ملاقات دو سیاسی پارٹیوں کے بڑوں کی ملاقات پر سچ لکھنے کی کوشش کروں گا، اور ہاں میں اگر کچھ غلط لکھوں تو مجھے درستی کے لیے کہا جا سکتا ہے اور میں درستی سمیت سیکھنے کا طالب علم ہوں۔ لیکن میں یہ کہ سکتا ہوں کہ میں جو دیکھتا ہوں وہی لکھتا ہوں۔ بات شروع کرتے ہیں بلاول بھٹو کی اور نواز شریف کی ملاقاتوں کی۔ بلاول بھٹو کی ملاقات نون لیگ نے نہیں رکھی سابق فنانس منسٹر اسحاق ڈار کے مطابق پی پی پی کی خواہش پر رکھی گئی، یعنی پی پی پی کی خواہش پر رکھی گئی۔ مطلب بلاول بھٹو اپنے رہنماؤں کو ایڈجسٹ کرنے آ رہے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں دوسری سائیڈ کی قمر زمان کائرہ نے لندن ائرپورٹ پر اترتے ہی سوال کے جواب میں دبنگ اعلان کیا کہ چیئرمین سینٹ پی پی پی کا حق ہے۔ اگر آپ تھوڑی دیر کے لیے سوچیں تو آپ کو منظر سمجھ آ جائے گا۔ اگر ہم اسحاق ڈار کی بات کو سمجھیں تو ایسا ہو گا پی پی پی پارٹی نے سوچا کہ نون لیگ ہمارے بغیر کچھ نہیں کر سکتی ہم جو کہیں گے مانیں گے اسی لیے وہ ڈنکے کی چوٹ پر بیانات داغتے رہے، بلکہ ملاقات سے پہلے بڑے سوچ سمجھ کر بیانات دینے لگے کہ کہیں پلان سے پہلے ہی معاملات بگڑ نہ جائیں۔

بلاول بھٹو لندن پہنچ گئے بلکہ قصہ مختصر کہ نواز شریف کے صاحبزادے کے دفتر پہنچے جہاں ان کا ان کے بیٹے نے استقبال کیا۔ لیکن نواز شریف صاحب نہ آئے۔ اب میرے رائے یہ ہے کہ نواز شریف ایک سینئر لیڈر ہیں وہ بلاول کو کیوں رسیو کریں گے اور ہاں اگر زرداری صاحب ہوتے تو نواز شریف باہر آتے۔ تین گھنٹوں تک ملاقات جاری رہی لیکن کچھ باتیں طے ہو گئیں اور کچھ بلاول بھٹو کے والد محترم زرداری صاحب سے بات چیت کرنے کے بعد اگلے دن پر ڈال دیا گیا۔ پریس کانفرنس ہوئی اور سوال نہ کرنے کی شرط پر دونوں رہنماؤں نے ایک بات بھی قوم کی بہتری کے لیے نہیں کر سکے۔ لیکن پہلی میٹنگ میں ذرائع نے دعوی کیا اور ہمیں بتایا کہ نون لیگ نے پی پی پی کی تمام آفر قبول کر لی اور رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ صرف صدارت پر مشروط طریقے سے رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔

پی پی پی کی آئندہ الیکشن میں سیٹوں کی ایڈجسٹ منٹ پر بھی اتفاق ہو گیا ہے، بعض نون لیگ کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر یہ سیٹیں ہم آپ کو دیتے ہیں تو ہمارے پاس کیا بچے گا۔ جس پر بعض رہنما متفق نہیں ہیں۔ لیکن پی پی پی کو ساتھ رکھنا لازم ہے اس لیے وقت کے مطابق پلان متفق طور پر مان لیا گیا۔ پی پی پی اپنے پلان میں کامیاب ہو گئی ہے۔ کیونکہ بظاہر نون لیگ اور تمام بڑی سیٹوں کے مزے پی پی پی انجوائے کرے گی۔ اور آئندہ آپ مرحلہ وار مزید دیکھیں گے۔

دونوں پارٹیوں کا الیکشن دیر سے کروانے پر اتفاق اور اس معاملے کو مزید طول دینا ہو گا۔ ہمیں چاہے اور لمبا کرنا پڑے گا۔ تمام راستوں کو پکا کیا جائے گا۔ اگر بارش بھی ہو جائے تو سفر سلپری نہ ہو، منزل تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ بنے۔

دوسرا بڑا ایشو اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کو عزت نہ دینے کا پلان پر بھی اتفاق۔ ریفارمز کر کے الیکشن کروانے پر اتفاق کیا گیا۔ اوورسیز کیمونٹی کے ووٹ کی کوئی عزت نہیں رہ گئی؟ لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے جب پی ٹی آئی نون لیگ کے خلاف گھروں کا گھیراؤ کرے گی تو ووٹ کو کون عزت دے گا۔

دوسرے دن بلاول کی میٹنگ نواز شریف کے گھر افطار پر ہوئی، لمبی ملاقات کے بعد جب بلاول باہر آئے تو تب بھی نواز شریف کے بیٹے ان کے ساتھ باہر آئے میاں صاحب اندر ہی رہے، دل پسند سوالوں پر تبصرہ کرتے رہے کوئی اور سوال پوچھو تو خاموشی کیونکہ شاید اس پر جواب دیتے تو معاملہ کہیں اور چلے جانا تھا۔ بلاول تھوڑا پریشان دکھائی دیے شاید کھانا مزیدار ہونے کی وجہ سے زیادہ کھا لیا تھا اس لیے کھانے والے ٹاپک سے دوسرا سوال کا جواب نہیں دے سکے۔

جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ بلاول بھٹو کی درخواست پر لندن ملاقات کے لیے آئے تھے کھانا تو کھانے نہیں آئے تھے؟ کھانے کی تعریفوں کے پل باندھ دیے، اب میں صاحب نے کیا کھلایا اندر؟ یہ تو کھانے والے ہی بتا سکتے ہیں۔ اتنا مزیدار کھا کر سیاست ہی بھول گئے۔ میڈیا کے سوالات ایک گیٹ کے اندر کھڑے ہو کر جوابات دیتے رہے۔ ایسے لگ رہا رہا تھا کہ کسی جیل کا گیٹ ہے۔ سیاست دان خاص طور پر لیڈر میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ کھڑا ہو کر کم از کم ایسے پلان پر دو تین سوالات تو  لے لیتے۔

صحافی کا سوال کھانا کیسا تھا؟ بہت مزے دار؟ نواز شریف خوش تھے؟ یہ سوالات صحافی کے ایک لیڈر سے ہوں گے تو جواب کچھ مختلف تو نہیں ہوں گے ۔ خیر پلان یہی تھا کہ صحافیوں کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے اصل ٹاپک ڈسکس کرنے کی ضرورت نہ ہے، تو بلاول نے بھی برطانیہ میں آ کر عمران خان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ خوب سیاسی تیر چلائے۔ لیکن میں نے غور سے مشاہدہ کیا کہ سیاسی طور پر دوڑیں لگی ہوئی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ پی پی پی زرداری صاحب نون لیگ کے خلاف خود سخت نعرے لگا چکے ہیں اور اس میٹنگ میں بلاول بھی اپنے فادر کے ساتھ موجود تھے۔

پی پی پی نے نون لیگ کی مجبوری سے سیاسی فائدہ اٹھا لیا ہے، وزیروں سمیت مشیر بھی لگوا لیے اور آئندہ کے آرمی چیف پر بھی دونوں پارٹی فیصلہ کریں گی۔ برطانیہ اور پاکستان کے مابین بڑے تھنک ٹینک کے عہدے دار نے بیک ڈور رابطہ پر خاطرخواہ گفتگو کی کہ دونوں پارٹی مل جل کر فیصلے کریں گے۔ تھنک ٹینک کے مطابق پی پی پی نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نون لیگ کو مزید کمزور کیا ہے۔ نون لیگ اگر ان کو ساتھ نہ ملاتے تو حکومت نہیں بننی تھی۔ اور جب کسی مقام پر دونوں علیحدہ ہوں گے تو ان کے پاس ایک ہی نعرہ رہ جائے گا۔ کہ حکومت نون لیگ کی تھی ہماری نہیں۔ یعنی نقصان نون کا ہی ہو گا۔ اگر وزیراعظم شہباز شریف ڈلیور کرنے میں کامیاب ہو گئے تو عوام کے دل جیت سکتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS