اوسٹیوجینیسس ایمپرفیکٹا سے متاثرہ لڑکی: ’میری ہڈیاں 100 بار ٹوٹ چکی ہیں، لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ شیشے کی بنی ہیں‘


بچپن سے ہی بیٹرز فرنینڈس ڈی سیلوا کو اس بارے میں بہت احتیاط برتنا پڑتی تھی کہ وہ کہیں گر کر خود کو زخمی نہ کر لیں۔

جب وہ اپنی والدہ کے پیٹ میں تھیں تو ڈاکٹروں نے الٹراساؤنڈ میں کچھ مختلف نوٹ کیا اور اس بارے میں خبردار کیا کہ یہ بچی اوسٹیوپینیا یعنی ہڈیوں کی قدرے کم کثافت والی بیماری یا پھر بونے پن کے ساتھ پیدا ہو سکتی ہے۔

پیدائش کے صرف ایک ماہ بعد بیٹرز کی والدہ ان کے کپڑے تبدیل کر رہی تھیں جب ہلکی سی حرکت سے ان کی بازو ٹوٹ گئی۔ اس لمحے ان کے والدین فوری ہسپتال بھاگے، جہاں ان سے پوچھا گیا کہ بچی کے ساتھ مار پیٹ تو نہیں کی گئی۔

بیٹرز کی والدہ شرلی فرنینڈس یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا اور میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر ڈاکٹروں نے دیکھا کہ میری بیٹی کی آنکھ کا سفید والا حصہ نیلا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب بیٹرز میں بیماری کی تشخیص ہوئی۔‘

ڈاکٹروں نے ان میں ’اوسٹیوجینسس ایمپرفیکٹا‘ (osteogenesis imperfecta) کی تشخیص کی جسے عام زبان میں ’ٹوٹنے والی ہڈی‘ کی بیماری کہا جاتا ہے۔

یہ جینیاتی بیماری ہے جس کی وجہ سے انسان کی ہڈیاں انتہائی کمزور ہوتی ہیں اور ہلکی سی چوٹ سے بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔

اس بیماری کی وجہ سے اب 20 برس کی بیٹرز کا قد صرف 1.22 میٹر (تقریباً چار فٹ) ہے۔

ایک نارمل لڑکی ہونے کی کوشش

ان تمام مسائل کے باوجود بیٹرز نے ایک عام لڑکی کی طرح زندگی گزارنے کی کوشش کی۔ وہ یاد کرتی ہیں کہ ’میں بہت شرارتی تھی۔ میں سکیٹ بورڈنگ کرتی تھی اور میں ایک پاگل لڑکی تھی۔‘

ان کی والدہ کہتی ہیں کہ وہ احتیاط برتتی تھی لیکن کبھی بہت زیادہ سختی نہیں کی۔ ’میں نے کبھی اسے (اپنی بیٹی کو) کسی چیز سے محروم نہیں کیا۔ میں اسے سکیٹ بورڈنگ بھی کرنے دیتی اور وہ اس میں بہت اچھی تھی۔‘

لیکن اپنے روزمرہ کے بہت سے کاموں کے دوران بیٹرز کو مختلف درد اور فریکچرز کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر ایک بار ایک چیونٹی کو مارتے ہوئے ان کی انگلی ٹوٹ گئی۔

ایک اور موقع پر وہ اپنی کمر کے بل گریں اور ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی لیکن ان کا سب سے بدترین تجربہ سکول میں اس وقت ہوا جب وہ 12 برس کی تھیں۔ ایک لڑکے نے مذاق میں ان کا پاؤں چومنے کی کوشش کی اور ان کی بائیں ٹانگ میں مارا۔ اس سے نہ صرف ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی بلکہ ان کی دائیں طرف بھی فریکچر ہو گیا۔

وہ یاد کرتی ہیں کہ اس وقت ان کی ٹانگ میں تین راڈ تھے، جن میں سے ایک مڑ گیا اور ڈاکٹروں کو اسے ہٹانا پڑا۔ اب ان کی ٹانگ میں دو راڈ ہیں۔ اس واقعے کے فوراً بعد بیٹرز کو ایمرجسنی سرجری کے لیے ہسپتال جانا پڑا۔

اس واقعے کے بعد بیٹرز شدید صدے کا شکار ہو گئیں اور انھوں نے پڑھائی چھوڑ دی۔

’مجھے سکول جاتے ہوئے بے چینی ہوتی اور اس وجہ سے میں چار برس سکول نہیں جا سکی۔ میں بار بار روتی تھی۔‘

اس وقفے کے دوران انھوں نے گھر میں پڑھائی کا ایک شیڈول تو بنا لیا لیکن ’مجھے گھر پر پڑھائی کرنا پسند نہیں تھا کیونکہ اس سے مجھے سکول میں پیش آنے والا وہ واقعہ یاد آتا۔ 14 برس کی عمر میں بھی مجھے لکھنا نہیں آتا تھا۔‘

جب بیٹرز نے دوبارہ پڑھائی شروع کی تو انھیں پرائمری سکول جانا پڑا۔ آج وہ سیکنڈری سکول کے دوسرے برس میں ہیں۔

سکین، ہڈی

مشکل اور تھکا دینے والا علاج

بچپن سے ہی صحت عامہ کے پیشہ ور افراد بیٹرز کے ساتھ تھے اور ان کا علاج سوڈیم پیمڈرونیٹ نامی دوا سے کیا گیا، جو جسم میں کیلشیم کی مقدار کو منظم رکھتی ہے۔ انھیں ہر تین ماہ بعد ہسپتال جانا پڑتا اور ہفتے میں پانچ دن دوا کھانا پڑتی۔

اس علاج کے دوران انھیں کئی بار خون لگانا پڑتا اور بیٹرز کے مطابق یہ سب بہت تکلیف دہ اور مشکل تھا۔ یہ سب اتنا مشکل تھا کہ آٹھ برس پہلے بیٹرز اور ان کی والدہ نے مزید علاج نہ کرانے کا فیصلہ کیا۔

بیٹرز بتاتی ہیں کہ ’میری والدہ خوفزدہ تھیں اور انھوں نے علاج روکنے کا فیصلہ کیا لیکن آج میں نارمل محسوس کرتی ہوں۔ جب مجھے کوئی بڑا فریکچر آتا ہے تو میں تب ہی ہسپتال جاتی ہوں۔‘

بیٹرز بتاتی ہیں کہ ’مجموعی طور پر میری دس سرجری ہوئی ہیں اور میری والدہ کہتی ہیں کہ میرے اب تک تقریباً 100 فریکچر ہو چکے ہیں۔‘

بیٹرز کی والدہ بتاتی ہیں کہ 14 برس کی عمر میں ان کی بیٹی کی ہڈیاں ٹوٹنا کم ہو گئیں اور ان کی زندگی کچھ بہتر ہونے لگی۔ اب وہ روز مرّہ کے معمولات زندگی میں کم ہی احتیاط برتتی ہیں جیسے کہ گیلے فرش پر نہ چلنا کہ کہیں پاؤں پھسلنے سے گر جانے سے کوئی ہڈی نہ ٹوٹ جائے۔

اگرچہ بیٹرز کا قد چھوٹا ہے لیکن وہ گھر میں بہت سی چیزوں کی دیکھ بھال خود کرتی ہیں۔ البتہ زیادہ چلنے کے لیے وہ وہیل چیئر کا استعمال کرتی ہیں ورنہ وہ تھک جاتی ہیں اور ان کے پاؤں میں بہت درد ہوتا ہے۔

سکول جانے اور ادھر ادھر جانے کے لیے ان کی سب سے بڑی دشواری مناسب رسائی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اگر لفٹ ٹوٹی ہو تو ڈرائیور بس پر سوار ہونے میں میری مدد نہیں کرتے۔‘

بیٹرز کہتی ہیں کہ کچھ دوست اور لوگ آج بھی حیران ہوتے ہیں کہ وہ ایک نارمل خاتون ہیں۔

’بہت زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب خاص طور پر آپ پارٹی میں جاتے ہیں۔ میں خود میں بہتری کی ایک مثال ہوں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو مجھے شراب پینے پر مبارکباد دیتے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر متحرک

بیٹرز سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹک ٹاک پر ویڈیوز کے ذریعے اپنی بیماری پر بات بھی کرتی ہیں، جس پر انھیں انتہائی مثبت ردعمل ملتا ہے۔

ان کی بیماری کے بارے میں پوسٹس وائرل ہوئیں اور ان کی ایک ویڈیو کو دس لاکھ سے زیادہ افراد نے دیکھا جبکہ ان کے فالوورز کی تعداد ایک لاکھ 12 ہزار سے زیادہ ہے۔

بیٹرز کہتی ہیں کہ وہ اس قدر مثبت ردعمل اور سوالوں کی امید نہیں کر رہی تھیں۔

وہ ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میری گردن کیسے ٹوٹ گئی اور یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا میری ہڈیاں شیشے کی بنی ہوئی ہیں۔‘

بیٹرز نے آن لائن ایک سٹور بھی کھول رکھا ہے جہاں وہ سویٹر فروخت کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سپائنل فلوئڈ کیا ہے اور اسے کیوں نکالا جاتا ہے؟

لاہور کی سوشل میڈیا انفلوئنسر جن کی بیماری کا ڈاکٹروں نے بھی مذاق اُڑایا

سیکس سے ہونے والی چار نئی خطرناک بیماریاں کون سی ہیں؟

اوسٹیوجینیسس ایمپرفیکٹا (osteogenesis imperfecta) کیا ہے؟

اوسٹیوجینیسس ایمپرفیکٹا ایک ایسی بیماری ہے جو جینیات میں خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ پیدائشی طور پر اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں تاہم کچھ کیسز میں یہ بیماری وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔

برازیل میں ماہر ہڈی و جوڑ اور پروفیسر ڈینئیل فریرا فرنینڈس کہتے ہیں کہ پیدائش کے ایک برس کے دوران یا اس کے بعد ہونے والے فریکچرز کو دیکھ کر اس بیماری کی شدت کا اندازہ کا لگایا جا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس بیماری کو چار درجات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے قابل تشویش ٹائپ ٹو ہے، جس میں ماں کے پیٹ میں بھی بچہ زخمی ہو سکتا ہے۔‘

انسٹیٹیوٹ آف نیورولوجی اینڈ کارڈیالوجی كوريتيبا میں ماہر ہڈی و جوڑ ایڈنور اسرائیل وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’یہ ایک مہلک قسم ہے اور بچہ پیدائش کے فوری بعد یا چند ہفتوں میں مر جاتا ہے۔‘

ٹائپ تھری اور فور میں بونے پن کی خصوصیات ہوتی ہیں، جیسے تکونی چہرہ اور چھوٹا قد۔ ٹائپ تھری بھی خاصی تشویشناک ہوتی ہے کیونکہ یہ اعضا کو بہت زیادہ موڑنے کا سبب بنتی ہے اور یہ کسی شخص کی میکانکی مزاحمت کو کم کرتی ہے۔

برازیلین سوسائٹی آف پیڈیاٹرک آرتھوپیڈکس کے رکن اولیویرا کہتے ہیں کہ اس قسم کا شکار افراد کو عام طور پر پوری زندگی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

سکین، ہڈی

کیا ہڈیاں ٹوٹنے کا سلسلہ ساری زندگی جاری رہتا ہے؟

فریکچر کو عام طور معمولی چوٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے تھوڑی یا وقتی تکلیف ہوتی ہے تاہم ہڈیوں کی کمزوری سے دائمی درد ہو سکتا ہے۔

فریرا فرنینڈس کہتے ہیں کہ اوسٹیوجینسس ایمپرفیکٹا (osteogenesis imperfecta) کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں، جتنا زیادہ شدید فریکچر ہو گا بیماری اتنی ہی جلدی سامنے آتی ہے۔

بلوغت میں ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے فریکچر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے لیکن خواتین میں مینوپاز اور 60 سال کے بعد مردوں میں دوبارہ یہ بیماری ظاہر ہوتی ہے۔

علامات

سب سے عام علامت دائمی درد ہے، جو ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر سے ہوتا ہے۔ اس بیماری میں ہڈیوں کا کمزور ہونا، دانتوں کا ٹوٹنا، آنکھ کے سفیدی والے حصے کا نیلا ہونا شامل ہے۔

یہ بیماری ریڑھ کی ہڈی کی شکل میں تبدیلی، چھاتی کی ہڈی کے علاقے میں خرابی اور ہڈیوں کی توڑ پھوڑ کا باعث بنتی ہے۔

فریرا فرنینڈس کے مطابق اس بیماری کے شکار 50 فیصد افراد قوت سماعت سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔

اس بیماری کا علاج کیا ہے؟

اس بیماری کے علاج میں میڈیکل کے مختلف شعبہ جات شامل ہوتے ہیں۔ علاج کا بنیادی مقصد اعضا کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ فعالیت کو حاصل کرنا ہے تاکہ مریض کو بہتر زندگی اور روزمرہ کی سرگرمیوں میں خود مختاری دی جا سکے۔

علاج کے دوران مختلف ادویات بھی استعمال کی جاتی ہیں، جو ہڈیوں کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔

دیکھ بھال کے نتیجے میں فریکچر کی روک تھام، کھڑے ہونے اور چلنے پھرنے میں آسانی اور پٹھوں کو مضبوط کرنا بھی شامل ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24046 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments