ریحام خان بمقابلہ فرح گوگی اور ڈٹ کے کھڑا ہے مولانا طارق جمیل

کہتے ہیں کہ بندے کی شناخت اس کی صحبت سے ظاہر ہو جاتی ہے کہ کس قسم کے بندوں کے درمیان اس کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔ دوسری آپ کی زبان یا سلیقہ گفتگو آپ کی شخصیت کا شجرہ نسب بالکل واضح کر دیتا ہے کہ آپ کا ذہنی معیار کیا ہے؟ کسی بھی پارٹی کے فوکل پرسن یا فوکل بریگیڈ اپنی پارٹی کے سربراہ کی ترجمانی یا ذہنی عکاسی کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں، اور ایسی پارٹی کو زمین بوس کرنے کے لئے کسی بیرونی سازش کی ضرورت ہی نہیں پڑتی جس پارٹی کی ترجمانی کا فریضہ صاحبزادہ جہانگیر عرف چیکو، شہباز گل، مراد سعید، شیخ رشید، عثمان ڈار یا فواد چوہدری جیسے مہان لوگ سرانجام دے رہے ہوں۔ اور ”میں میں کے دائرے میں محصور“ لیڈر کو گرانے کے لیے امریکہ یا اپوزیشن کو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایسی پارٹی کا خود پسند لیڈر ہی خود کی شخصیت کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔
تحریک انصاف کی سابقہ سوشل میڈیا ٹیم ممبر ڈاکٹر عائشہ نوید کی تہلکہ خیز گفتگو سن رہا تھا، جو عمران خان کے اقتدار میں آنے کے فوری بعد تائب ہو گئی تھی بلکہ یوں کہہ لیں کہ تحریک انصاف کے بنیادی اور ویژنری قسم کی شخصیات خان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی پارٹی کو خیرآباد کہہ گئے تھے کیونکہ خان کی تضاد بیانیاں اور دریدہ دہنیوں کا عقدہ ان پر پہلے ہی آشکار ہو چکا تھا اور ذلت و رسوائی سے بچنے کے لیے وہ اس گناہ میں شریک ہونے سے باز رہے۔
ڈاکٹر عائشہ نوید ان نوجوانوں میں سے ہیں جنہوں نے ملک پاکستان کے استحکام کی کوششوں میں دوسرے پڑھے لکھے لاتعداد نوجوانوں کی طرح تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بن کر اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال اس پارٹی پر قربان کر دیے۔ مگر نتیجہ فریب نظر اور ذلت آمیز قسم کی بدزبانی کے سوا کچھ نہیں نکلا۔ پارٹی بیانیہ کو ”ہیش ٹیگ“ کے پر لگانے والے یہ نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو اپنے کیریئر کو محفوظ بنانے کی تگ و دو کرنے میں لگا سکتے تھے مگر انہوں نے یہ قیمتی عرصہ ایک ایسے گندے کلچر پر قربان کر ڈالا جو محض ایک بندے کی انا کا محور تھا۔
ڈاکٹر عائشہ نوید کا کہنا تھا کہ بنی گالا کی بیسمنٹ سے کام کرنے والی سوشل میڈیا ٹیم نے تحریک انصاف مخالف لوگوں کی کردار کشی کرنے کے لئے ہر ممکنہ حد تک جانے کی کوشش کی۔ گھریلو خواتین اور بیٹیوں تک کی تذلیل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔ اور خان صاحب اس بے ہودہ کلچر سے بخوبی آگاہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی، فوزیہ قصوری اور عاصمہ شیرازی کے خلاف جس قسم کے غلیظ ترین ٹرینڈ چلائے گئے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ الیکٹیبلز کے ذریعے سے زبردستی مسلط کیا جانے والا یہ عارضی بندوبست جب انہی الیکٹیبلز کے ذریعے سے گرا دیا گیا تو اس کے بعد سے جو طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے کیا وہ رجیم چینج کرنے والی بین الاقوامی قوتوں کے خلاف ہے یا اپنی کمزوریوں پر امریکہ مخالف جذبات کا غلاف اوڑھا کر عوام کو بے وقوف بنا کر پھر سے اقتدار میں آنے کا بندوبست کیا جا رہا ہے؟
کیا تحریک انصاف کے دوسری مخالف پارٹیوں کے خلاف کردارکشی کے ہیش ٹیگ احتیاطی تدابیر کے طور پر اس آنے والی سونامی کا بندوبست کرنے کے لیے چلائے جا رہے ہیں جو ابھی پائپ لائن میں ہیں؟ کیا تحریک انصاف کے ڈرانے دھمکانے کے ہتھکنڈے ابھی بھی اتنے کارگر ہوں گے جتنے ماضی میں ہوتے رہے ہیں؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریحام خان کی کتاب کے بعد کچھ اور باقی بچا ہے؟ خان صاحب جس کردار کشی کی باتیں کر رہے ہیں وہ تو ریحام خان پہلے ہی اپنی کتاب میں کر چکی ہیں، اب تو موسیقی چل رہی ہے مگر حیرت ہے کہ اس کتاب کو رد کر کے بکواسیات کا درجہ دلوانے کے لیے اب تک کوئی سنجیدہ کوشش تحریک انصاف یا خان صاحب کی طرف سے سے کیوں نہیں کی گئی؟ دوسری طرف ریاست مدینہ کے ترجمان امیرالمومنین فرح گوگی کی ترجمانی کے لیے میدان میں اتر آئے۔ نہ جھکنے والا خان آخر اتنا مجبور کیسے ہو گیا؟ دال میں کچھ تو کالا ہے یا ساری دال ہی کالی ہے؟
شاید ان سارے معاملات پر پڑنے والی بد نگاہوں اور کالی بلاؤں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ستائیسویں کی شب بنی گالہ میں ایم ٹی جے برانڈ کے سربراہ مولانا طارق جمیل کی خدمات حاصل کی گئیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مولانا طارق جمیل اتنے سادہ ہیں یا اتنے پہنچے ہوئے ہیں کہ انہیں حقائق کی دنیا میں ابھرنے والی رائے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا؟ یا ان کا کردار صرف ہر حکمران کی گڈ بک میں رہنا ہوتا ہے؟ کیا مولانا صاحب کی فالونگ خان صاحب کو دوبارہ اقتدار کی مچان تک لانے میں کوئی اہم کردار ادا کر سکتی ہے؟ یا ہر دور کی کلیسائی کلاس کا یہی کردار ہوتا ہے تاکہ ہمیشہ طاقت کے ایوانوں سے جڑے رہیں تاکہ بغیر اقتدار کے اقتدار والی موجیں لگی رہیں۔ اب کوئی کچھ کہے کہ مولانا صاحب تو بذات خود بہت بڑے جاگیردار ہیں انہیں کسی کا ساتھ دینے کے عوض کسی بھی مفاد کی کیا خواہش ہو سکتی ہے؟ مگر اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے ”دیر از نو فری لنچ“

