پاکستان۔ عالمی طاقتوں کا اگلا اکھاڑہ


عمران حکومت کا خاتمہ، عوامی ردعمل، نئی متنازعہ حکومت، فوج اور عدلیہ پر تنقید، مسجد نبوی کا واقعہ، اس پر توہین مذہب کا مقدمہ، عوام کا اس پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج، عمران خان کی فرح خان کی حمایت میں غیر ضروری پریس کانفرنس، شیخ رشید کے بھتیجے کی گرفتاری، رانا ثناءاللہ کی متوقع گرفتاریوں کی دھمکیاں اور آئے روز کے عوامی جھگڑے ایک بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ پاکستان ان قوتوں کا اکھاڑہ بنتا جا رہا ہے جنہوں نے اس سے پہلے عراق، شام، لیبیا اور دنیا کے کچھ اور حصوں میں اپنے مفادات کے لئے گندا کھیل کھیلا۔

اس سارے کھیل میں سب سے خوفناک تین بنیادی چیزیں ہیں۔ فوج بالخصوص آرمی چیف پر عوامی تنقید، عدلیہ پر سوالات اور مذہب کارڈ۔ مذہب کارڈ میں توہین مذہب مقدمہ اچھے نتائج نہیں دے گا۔ اس وقت پاکستان کے عسکری اداروں کو عسکری حکمت عملی اور فہم فراست، عدلیہ کو حالات کی نزاکت، حکومت کو غیر ضروری مقدمات سے دور رہنے اور عمران خان کو اپنے چارجڈ کراؤڈ کو کنٹرول میں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس چارجڈ کراؤڈ کو دو پہلو کسی حد تک کنٹرول کر سکتے ہیں۔

ایک عمران خود، دوسرا حکومت کے غیر ضروری مقدمات۔ بظاہر دونوں نہیں کریں گے۔ عمران اس چارجڈ ماحول میں الیکشن کروا کر اپنی جیت کے لئے پر امید ہیں اور حکومت ایسے اقدامات کرے گی کہ عمران کو سیاست سے ہی باہر کیا جائے، جس کا ایجنڈا بظاہر انہیں دیا گیا ہے۔ پاکستان اس وقت خارجی محاذ پر دو محاذوں میں سینڈوچ بنا ہوا ہے۔ ایک امریکہ اور دوسرا چین۔ بدقسمتی سے پولیٹیکل لیڈرشپ اور اسٹیبلشمنٹ اس سلسلے میں ایک پیج پر دکھائی نہیں دیتے۔

بظاہر یہ لگتا ہے پاکستان دونوں محاذوں پر ایک ساتھ چلنا چاہتا ہے جو ممکن نہیں۔ کنفیوزڈ خارجہ پالیسی کامیابی نہیں دے گی۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بالخصوص گوادر نے پاکستان کو جہاں متوقع معاشی کی امید دی ہے وہیں اس کی دشمنی میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس دشمنی سے پہلو بچا کر یا کسی حد تک اس سے متاثر ہو کر آگے کیسے بڑھنا ہے، یہ اصل امتحان ہے۔ پرچہ سوالات ہمارے سامنے ہے۔ اس کا حل ہماری لیڈرشپ کا اصل امتحان ہے۔

دشمن طاقتوں نے اپنی گیم چلنی ہے جو ہر طاقت ور چلتا ہے۔ اس گیم کو اس وقت اپوزیشن اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے اور اسی گیم کا حصہ بنتے ہوئے اب عمران پر ہر قسم کی پابندیوں کا عندیہ دیا جا رہا ہے جو ہمیں خانہ جنگی کی طرف لے جائے گا، یہی ان طاقتوں کی کامیابی ہے۔ آنے والے وقت میں روس، یوکرائن جنگ کے نتائج گندم کی کمی، تیل کی کمی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ معاشی طور پر کمزور و ناتواں پاکستان مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا ، مگر سب داخلی طاقتیں بھی حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ سیاسی لیڈرشپ کا ایک بہت بڑا خلا ہے۔ ان حالات میں ہم سب کا امتحان ہے۔ سب سے بڑا امتحان ان کا ہے جو سب کو چلاتے ہیں۔ پاکستان دشمن طاقتوں کا اکھاڑہ بنتا جا رہا ہے، اس اکھاڑے میں ہم فتح یاب ہوں گے اگر تمام ادارے حالات کی نزاکت کو سمجھ لیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments