نوجوان نسل پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات


لوگوں بالخصوص نئی نسل کی بڑی تعداد اس مثبت ایجادات کو نہایت ہی منفی مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے، جس کا نقصان خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کو پہنچ رہا ہے، اور اس بری طرح پہنچ رہا ہے کہ زندگیاں برباد ہوئی جا رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی میں لڑکیوں کے گھر سے فرار ہونے کے پہ در پہ تین واقعات اور پھر بعد کے سامنے آنے والے معاملات نے سب ہی کو حیران و ملول کر دیا۔

ہوا کچھ یوں کے صرف ایک ہفتے میں کراچی کے مختلف علاقوں سے تین لڑکیاں اپنے اپنے گھروں سے غائب ہو گئیں، والدین پریشان ہو گئے، ہر ممکن کوشش کی گئی کھوج لگانے کی مگر ہر سعی ناکام و لاحاصل رہی۔ پولیس اور دیگر ادارے بھی حرکت میں آ گئے، ٹی وی پر مسلسل کوریج آنے لگی ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی ٹرینڈز اور ہیش ٹیگ چلنے لگے، جن کی وجہ سے ان واقعات کو خوب شہرت بھی ملی اور اداروں پر بھی دباؤ بڑھا، لیکن جس طرح ایک ہفتے میں یہ غائب ہوئی تھیں، اسی طرح پولیس نے ان تینوں کو ایک ہی ہفتے کے اندر بازیاب بھی کرا لیا۔

جب تک یہ لڑکیاں بازیاب نہ ہوئیں تھیں مختلف قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں اور بحث و مباحثہ چل رہا تھا، والدین میڈیا پر الزام لگا رہے تھے کہ یہ غلط معلومات لوگوں کو پہنچا رہے ہیں۔ مگر کہانی میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب بازیاب شدہ لڑکیوں نے عدالت میں یا تھانوں میں اپنے بیانات قلمبند کروانے شروع کیے ، گو کہ یہ لڑکیاں کراچی کے مختلف علاقوں سے غائب ہوئی تھیں اور ان میں کوئی آپسی تعلق نہ تھا مگر تینوں نہ صرف پنجاب کے مختلف شہروں سے بازیاب ہوئیں بلکہ ان کے بیانات میں بھی زبردست مماثلت پائی گئی، جیسے :

1۔ مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا، 2۔ میں نے اپنی مرضی سے گھر چھوڑا ہے، 3۔ میں نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے 4۔ میں بالغ اور خود مختار ہوں۔ 5۔ میں اپنے گھر سے کوئی قیمتی چیز لے کر نہیں آئی ہوں۔ 6۔ میرے والدین مجھ پر تشدد کرتے تھے اور میری شادی ایک بڑی عمر کے شخص سے یا جسے میں پسند نہیں کرتی تھی اس سے کرانا چاہتے تھے۔

اول تو لڑکی کا گھر سے اس طرح جانا ہی والدین کے لئے بڑا اذیت ناک، شرمندگی و رسوائی کا سبب تھا کہ لڑکیوں کی جانب سے یہ بھی کہا جانا کہ ان پر والدین کی جانب سے تشدد کیا جاتا تھا، مارا پیٹا جاتا تھا، مرضی کے خلاف شادی کرائی جا رہی تھی، ایک الگ بدنامی اور دکھ کا سبب ہے۔ بہت تفصیل میں اگر نہ بھی جائیں تو بھی با آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ معاملات کس ڈگر پر جا رہے ہیں۔ یہ تینوں لڑکیاں پڑھے لکھے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے مندرجہ بالا الزامات صریحاً تسلیم شاید نہ کیے جاسکیں کہ معاملات کے تانے بانے کسی اور سمت میں واضح اشارہ کرتے نظر آتے ہیں۔

جیسے تینوں کا نکاح کر لینا، جو کوئی معمولی کام نہیں، بالخصوص لڑکیوں کے لئے، یعنی یہ سب کچھ اچانک اور غیر ارادی طور پر نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے چلنے والے وہ معاشقے اور دوستیاں ہیں جو سوشل میڈیا، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعہ پھلتے پھولتے رہے، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ والدین پوری طرح آگاہ تھے یا نہیں۔ مگر ایک بات پکی ہے کہ یہ سب کچھ ہوا موبائل فون و انٹرنیٹ کے بے دریغ اور غیر ضروری استعمال کی وجہ سے ہے۔

والدین کو پتہ ہی نہ چلا اور کھیل کھیل میں نوبت یہاں تک آن پہنچی جس نے ایک عام گھریلو لڑکی کو پورا خاندان چھوڑ کر ہزاروں میل دوسرے شہر میں بظاہر ایک انجان شخص تک پہنچا دیا۔ آخر کیا عوامل تھے کہ ایک عام گھریلو لڑکی اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور ہوئی، یقیناً بلیک میلنگ ہوئی ہوگی۔ مگر اس سے پہلے کچھ غلطیاں تو ان لڑکیوں سے بھی ہوئی ہوں گی، یہاں تک سنا جا رہا ہے کہ ان کی نازیبا ویڈیوز بلیک ویب تک پر ڈال دی گئی ہیں، کچھ والدین پہلے ہی یہ کہہ رہے تھے کہ ان کی بیٹی کو بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ مگر کیوں اور کیسے؟ لڑکی نے بلیک میل ہونے کا موقع فراہم کیا ہو گا تو بات یہاں تک پہنچی ہوگی،

ورنہ ایک دوسرے شہر میں بیٹھا شخص بھلا کیسے بلیک میل کر سکتا ہے، کوئی ساتھ کام کرتا ہو، ساتھ پڑھتا ہو، یا قریب رہتا ہو تو کچھ امکانات اس بات کے بن سکتے ہیں مگر اتنی دور بیٹھے انجان شخص کو والدین پر فوقیت دیا جانا بہت واضح اشارہ دے رہا ہے کہ اس تباہی کا سبب کیا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ لڑکیاں انجان لوگوں میں گھری زبردست خطرے کا شکار ہیں جس میں جنسی زیادتی، جسمانی تشدد، نفسیاتی و سماجی استحصال، کم عمری میں زچگی وغیرہ شامل ہیں، کیونکہ وہ پچھلے سارے سماجی و گھریلو تعلقات کو توڑ کر ایک انجان شخص کی دسترس میں آ گئی ہیں۔

جو بذات خود ایک نہایت ہی پرخطر فیصلہ ہے۔ ایسے میں اگر وہ شخص اخلاقی طور پر کمزور ہو تو سمجھ لیں کے لڑکی نے اپنی زندگی تباہ کرلی ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سارے خطرات زندگی بھر ان لڑکیوں کو نا آسودہ و پریشان رکھنے کا سبب ہوسکتے ہیں۔ یعنی کل ملا کے یہ ایک نہایت ہی گھاٹے کا سودا ہے جو نوجوان لڑکیاں کر رہی ہیں، جس کے مضمرات شاید فوری نہ نکلیں مگر قوی امکان یہی ہے کہ آئندہ زندگی میں ضرور ان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہمارا معاشرہ دیگر معاشروں سے ذرا مختلف ہے گو کہ اب ہم بھی ہنس کی چال چلنے کے در پہ ہیں اور اپنی چال بھولتے جا رہے مگر اب بھی ہمارے ہاں کہیں کہیں سماجی اقدار کا پاس کیا جاتا ہے، مگر ایک ساتھ تین تین لڑکیوں کا اس طرح حد سے گزر جانا نوشتۂ دیوار ہے جسے اب ہمیں پڑھ لینا چاہیے۔

بلاشبہ لڑکیوں کو شادی میں اپنی پسند کے اظہار کا حق ہونا چاہیے، اور دیگر سماجی و معاشی معاملات میں بھی ان کے تمام جائز حقوق تسلیم کیے جانے چاہئیں مگر والدین کی عزت کو خاک میں ملا کر تو کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے ساتھ بہترین دوستانہ تعلق قائم کریں، تاکہ کسی بھی مرحلے پر بچے والدین کو بلا جھجک اپنے مسائل سے آگاہ کر سکیں۔ اور کسی بھی بد ترین حادثہ سے بچنے کی بروقت تدبیر کی جا سکے۔ ساتھ ساتھ بچوں کو شخصی آزادی ضرور دیں مگر یہ جانتے ہوئے کہ وہ ناتجربہ کار ہیں ان پر نگاہ رکھیں اور اگر مشکوک حالات ہوں تو ان سے معاملے پر بات چیت کر کے اصل حقائق جاننے کی کوشش کریں۔ ورنہ موجودہ صورتحال سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مصائب و پریشانی کے دروازے ہماری آنے والی نسل کے منتظر ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments