انڈیا: آسام کی وہ سب انسپیکٹر جنھوں نے اپنے ہی منگیتر کو جیل بھیج دیا

دلیپ کمار شرما - گوہاٹی سے بی بی سی ہندی کے لیے


انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کے پولیس محکمے میں کام کرنے والی ایک خاتون سب انسپکٹر نے اپنے ہی منگیتر کو دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا ہے۔

نوگاؤں پولیس سٹیشن میں تعینات سب انسپکٹر جُنمونی رابھا نے اپنے منگیتر رانا پوگاگ کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ رانا پوگاگ نے سرکاری کمپنی او این جی سی میں تعلقات عامہ کا افسر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ فی الحال نوگاؤں پولیس رانا کو دو دن کی پولیس تحویل میں لے کر پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

کچھ مہینے پہلے بھی اس خاتون سب انسپکٹر نے ریاست اور مرکز میں حکمراں جماعت بی جے پی کے ایک ایم ایل اے کو فون پر مناسب جواب دیا تھا، جس کا میڈیا میں کافی چرچا ہوا تھا۔

جُنمونی اور رانا نے گذشتہ سال اکتوبر میں منگنی کی تھی اور وہ دونوں رواں سال نومبر میں شادی کرنے والے تھے۔ نوگاؤں پولس سٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، پولیس سب انسپکٹر جُنمونی کو منگنی کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جس شخص کو اپنا شریک حیات بنانے جا رہی ہیں وہ دراصل ایک مبینہ دھوکہ باز ہے۔

شکایت کیا ہے؟

شکایت کے مطابق ملزم پوگاگ نے خود کو اپنی پہلی ملاقات کے دوران جُنمونی کو او این جی سی کے تعلقات عامہ کے افسر کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ لیکن منگنی کے بعد جُنمونی کو ایسے کئی شواہد ملے، جس کی وجہ سے وہ اپنی منگیتر پر شک کرنے لگیں۔

جب انھوں نے اس بارے میں مزید تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ وہ فراڈ کے کئی کیسوں میں ملوث ہے۔ ان پر کئی لوگوں کو نوکریاں دینے کے جھوٹے وعدے کے عوض کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کا بھی الزام ہے۔

دونوں کی ملاقات کیسے ہوئی؟

دونوں کی پہلی ملاقات گذشتہ سال جنوری میں ہوئی تھی جب جُنمونی ماجولی میں تعینات تھیں۔ جبکہ رانا پوگاگ ماجولی کے رہائشی ہیں۔ کئی ملاقاتوں کے بعد دونوں میں محبت ہو گئی اور چند ماہ بعد دونوں نے اپنے گھر والوں کی آشیرباد سے منگنی کر لی۔

اپنی منگنی اور دھوکہ دہی سے متعلق معاملے پر جُنمونی کہتی ہیں: ’میں ماجولی میں تعینات تھی اور اسی دوران جنوری 2021 میں ان سے ملاقات ہوئی۔ میرے ایک سٹیشن انچارج نے جان پہچان کرائی تھی۔ پولیس افسران کے ساتھ اس کی اچھی جان پہنچان تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ دھوکہ دہی میں ملوث تھا۔ اس لیے اس نے محسوس کیا ہو گا کہ پولیس کے ساتھ جان پہچان رکھنے سے اسے مستقبل میں مدد ملے گی۔ اس کی ایسی ذہنیت ضرور رہی ہو گی۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’اس طرح جان پہچان ہونے کے بعد اس نے مجھے شادی کے لیے پروپوز کیا، میں نے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن گھر والوں سے اس بارے میں بات کرنی پڑے گی۔ پھر ہم دونوں کے گھر والے ملے اور رشتہ طے ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد ہماری منگنی ہو گئی۔ اسی دوران میرا تبادلہ نوگاؤں ہو گیا، لیکن یہاں آکر مجھے اس کے کام سے متعلق کچھ باتوں پر شک ہوا، میں نے تھوڑی سی چھان بین کی تو کچھ ایسی باتیں معلوم ہوئيں کہ میری آنکھیں کھل گئیں۔‘

فریب کیسے سامنے آیا؟

کسی کا نام لیے بغیر جُنمونی نے تین لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس پورے معاملے میں ان کی مدد کی اور ان کے منگیتر رانا پوگاگ کی تمام معلومات ثبوتوں کے ساتھ ان تک پہنچائیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘رانا نے خود کو او این جی سی کے تعلقات عامہ کے افسر کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ کارپوریٹ کی سماجی ذمہ داری کے تحت دیہی ترقی کے کاموں کو دیکھ رہے ہیں۔ میں نے یہاں کے معروف کاٹن کالج سے ماس کمیونیکیشن اور جرنلزم کی تعلیم بھی حاصل کی ہے، اسی لیے میں ایک پبلک ریلیشن آفیسر کی تصویر سے بہت متاثر ہوئی تھی، اس لیے میں نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ وہ شخص دھوکہ باز بھی ہو سکتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’دونوں لڑکیوں سے محبت کرتا تھا اور کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا تھا‘

’انھوں نے پوچھا کہ کیا ہم نے نیچے کپڑے پہن رکھے ہیں؟‘

وہ رات جو کئی خواتین کی زندگیاں تباہ کر دیتی ہے

ملزم رانا کے فراڈ کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے جُنمونی نے بتایا کہ ’اس نے جس شخص سے 25 لاکھ روپے ٹھگے تھے وہ خود آیا اور رانا کی تمام کارستانیاں بتائیں، میں نے رانا سے اس حوالے سے مسلسل پوچھ گچھ کی تو ساری حقیقت سامنے آگئی۔ چونکہ اس نے میرے ساتھ اتنا بڑا فریب کیا ہے، اس لیے اسے سزا تو مل کر ہی رہے گی۔ میں محبت میں پاگل ہو کر ماتم کرنے والی لڑکی نہیں ہوں۔ میں نے فوراً ایف آر آئی درج کرائی۔‘

نوگاؤں پولس کا دعویٰ ہے کہ ملزم رانا کے پاس سے کئی دستاویزات اور او این جی سی کی مہریں برآمد ہوئی ہیں۔ رانا نے ہمیشہ ایک پرسنل سکیورٹی آفیسر اور ایک ڈرائیور اپنے ساتھ رکھا تاکہ دوسروں پر ان کا رعب اور رتبہ برقرار رہے۔

ایم ایل اے کو دیا گیا منھ توڑ جواب

رواں سال جنوری میں جب جُنمونی کو ماجولی میں تعینات کیا گیا تھا تو ان کی بیہ پوریا علاقے کے بی جے پی ایم ایل اے امیہ کمار بھویاں کے ساتھ ان کی ٹیلی فونک گفتگو سوشل میڈیا پر لیک ہو گئی تھی، جس پر شور برپا ہو گیا تھا۔

دراصل پولس نے ایک کشتی کو ضبط کر لیا تھا اور ایم ایل اے نے جُنمونی سے کہا تھا کہ وہ قبائلیوں کے پیچھے ناں پڑیں۔ لیکن جُنمونی نے خود ایم ایل اے کو ذمہ داری سکھاتے ہوئے پوچھا کہ وہ (ایم ایل اے) ایک منتخب نمائندہ ہونے کے باوجود پولس کو ‘قواعد و ضوابط توڑنے’ کے لیے کیسے کہہ سکتے ہیں؟

دراصل دریائے برہم پتر میں کشتی حادثے کے بعد سنگل انجن مشینی کشتیوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی تھی اور اسی کے تحت پولس نے کارروائی کی تھی۔

اس وقت سوشل میڈیا پر ایک بار پھر لوگ جُنمونی کے اس جرات مندانہ قدم کی تعریف کر رہے ہیں اور انھیں مبارکباد کے پیغامات بھیج رہے ہیں۔

کیا اس واقعے سے انھیں تکلیف ہوئی ہے؟ یہ پوچھنے پر وہ کہتی ہیں کہ ’میں کئی گھنٹے بیٹھی یہ سوچتی رہی کہ میں نے صحیح کیا یا غلط۔ لیکن غلط کرنے والے کو سزا ملنی ہی چاہیے، چاہے وہ اس کے خاندان کا ہی فرد کیوں نہ ہو۔ اس لیے میں بالکل مایوس نہیں ہوں، مجھے اپنے اعلیٰ پولیس افسران کا بہت تعاون ملا ہے اور میں نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری پوری دیانتداری کے ساتھ نبھائی ہے، اس لیے میں مجرم کو مناسب سزا دلانے کے لیے کام کرتی رہوں گی۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24055 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments