اخیر عمر کا پچھڑا ہوا سیاسی گھوڑا، چوہدری پرویز الٰہی


تاریخ شاہد ہے کہ ایک شاعر خواجہ حیدر علی آتش گزرے ہیں جن کی شاعری کا ڈنکا تو ہندوستان کے طول و عرض میں بجا ہی ہے ان سے وابستہ کچھ اقوال بھی مورخین نے خوب اہتمام سے قلمبند کیے ہیں۔ آب حیات میں مولانا محمد حسین آزاد لکھتے ہیں کہ خواجہ کے ایک شاگرد استاد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اجازت چاہی کہ وہ بسلسلہ روزگار شہر سے کوچ کا قصد کیے بیٹھے ہیں اور خواجہ صاحب سے الوداعی ملاقات کی غرض سے ملنے آئے ہیں۔ خواجہ حیدر علی آتش نے جب احوال سنا تو گویا ہوئے کہ میاں وہاں کے خدا سے میرا سلام کہنا، حاضر شخص حیران ہوئے اور عرض گزاری کہ حضور یہاں اور وہاں کے خدا میں کون سی تفریق ہے؟ جو وہاں کے خدا سے آپ کا سلام کہنا ہے۔ یہ سنتے ہی خواجہ حیدر علی آتش نے گویا ہوئے تو میاں جس خدا نے وہاں رزق کا وسیلہ کرنا ہے اس سے یہیں مانگو کہ جو پل صحبت کے ہاں مل جل کر گزاریں۔ کیسی عمدہ بات کی ہے کہ صاحب فہم ہی عمدہ بات کر سکتے ہیں ہمارے یہی نابغۂ روزگار حیدر علی آتش ایک غزل میں شعر باندھتے ہیں :۔

آغاز کو کون پوچھتا ہے
انجام اچھا ہو آدمی کا

جس دن سے چوہدری پرویز الٰہی کو بازو پر پٹیاں باندھے ہاتھ اٹھا اٹھا کر (بلکہ ٹوٹا بازو لہرا لہرا کر) میاں برادران اور آصف علی زرداری کو بد دعائیں اور کوسنے دیتے دیکھا ہے (سنا ہے قصدا نہیں لکھا یہ واقعہ سننے سے زیادہ دیکھنے کے لائق ہے ) خواجہ صاحب کا یہ شعر ہزار بار دہرا چکا ہوں اور عبرت حاصل کرتا ہوں۔

واللہ کیا زمانہ ہے بیسویں صدی کے آخری تین عشرے گزرنے کو گویا آگے بڑھتے جا رہے ہیں اور دنیا کے نقشے پر تین عشرے ادھر وقوع پذیر ہونے والے ملک میں اقتدار کی غلام گردشوں کی کھینچا تانی جاری ہے۔ کل عالم کی نگاہیں ان پانچ صوبوں پر مشتمل پہلی اسلامی ریاست پر مرکوز ہیں جو عنقریب اپنا ہی گلا کاٹنے پر بضد ہے۔ اشراکیت کا سرخ جھنڈا جہاں دیگر دنیا میں عام آدمی کے شعور کو نئی جہات سے روشناس کرا رہا ہے وہیں نوزائیدہ ملک میں بھی دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کے درمیان خاص فطری پیکار جاری ہے، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی دو متفرق بلکہ متصادم افکار کی حامل سیاسی جماعتیں ملک کے سیاسی منظرنامے میں فعال ہیں اور پھر اچانک ایک روز گردش روزگار نے دیکھا کہ پنجاب کے کسی ”اہم ضلع“ میں ایک ”پرچہ“ کٹا، جس میں دو سیاست دان ایک بھینس چوری کیے دوڑ رہے ہیں کہ صاحب سنت نے بھینس کے سینگ پر غلبہ پایا ہوا ہے تو صاحب دستار نے اس کی دم مروڑ رکھی ہے۔

پنجاب کے ایک تھانے میں ”پرچہ“ کیا کٹا کہ گویا لیفٹ اور رائٹ، دائیں اور بائیں کی سیاست اور نظریات کی بجائے گجرات کے چوہدری ظہور الٰہی کی صورت میں ریاست کو نیا سیاسی گھرانا مل گیا اور یوں گزشتہ چھ دہائیوں پر پھیلا ایسا سیاسی متن ہے جس کی سماجی تاریخ میں کوئی ایسا زمانہ نہیں جب طاقت کے سرخاب کا کوئی نہ کوئی سرخ پر اس گھرانے کی دستار میں نہ جڑا ہو۔ کون سا ایسا عہد ہے جب یہ خاندان طاقت کی غلام گردشوں کے داخلی دروازے پر پڑے قفل کی چابیوں سے دست بردار ہوا ہو؟

ایوان اقتدار کی رمز شناسی کا یہ جوہر گجرات کے چوہدریوں نے اپنے جد امجد چوہدری ظہور الٰہی سے سیکھا کہ زمانہ گواہ ہے کہ پولیس کانسٹیبلی سے قومی سطح پر جوڑ توڑ اور مفاد پرستی کی سیاست کا بے تاج بادشاہ بننے کی صلاحیت چوہدری ظہور الٰہی کے علاوہ کسی مرد حر میں نہ تھی۔ جس کی قیمت اس نے کبھی کوہلو میں قید و بند کی صعوبت برداشت کر کے چکائی تو کبھی جیسے اوپری سطور میں گزارش کی کہ بھینس چوری کے مقدمے میں نام لکھوایا مگر اپنے ہمنواؤں کی داد رسی اور مخلوق کے ساتھ حب کے خاص رشتے سے ایسی ناموری کمائی کہ جب 1981 کی ایک صبح گولیوں اور دستی بم کا نشانہ بنے تو پورے ملک کی فضاء سوگوار تھی کہ کوئی فرد ایسا نہ تھا جو یہ کہے کہ چوہدری ظہور الٰہی نے اسے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا نہ ہی کوئی ایسا گواہ ہوا جس نے کہا ہوا کہ چوہدری ظہور الٰہی فلاں خفیہ سازش میں ملوث پایا گیا ہے بلکہ چوہدری ظہور الٰہی سن چند سیاست دانوں میں سے ایک تھا جس نے ضیاء کے مارشل لاء میں سیاست سے دست برداری کی بجائے اپنا مقدمہ خود لڑا اور سیاسی الزامات سے بری ہوئے، گویا انہیں اپنے اوپر لگے الزامات سے بریت کے لیے کسی وکیل، کفیل نما شے کی ضرورت پیش نہ آئی اور یوں اس سے اپنے فعل سے ثابت کیا کہ آغاز کو سب بھول جاتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ”انجام اچھا ہو آدمی کا“ ۔

جوڑ توڑ اور دھڑے بندی کی سیاست ورثے میں پانے والے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی نے عمر بھر لاہور اور اسلام آباد میں اپنی سیاسی بصیرت اور فہم و فراست کے علم لہرائے مگر اس وضع داری کو پہلا جھٹکا 2008 سے 2013 تک برسر اقتدار رہنے والی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے جوڑ توڑ کے بدلے ڈپٹی وزیر اعظم کی کرسی پانے پر لگا کہ آسمان نے دیکھا کہ 1981 کے ایک روشن دن میں جب چوہدری ظہور الٰہی کے وجود کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا تو اس کی ذمہ داری الذوالفقار نے قبول کی، وہی الذوالفقار جس کا بار بار تذکرہ چند برس ادھر آپ سندھ کے ایک وزیر داخلہ کے منہ سے بار بار سنتے رہے ہیں۔

جس تنظیم کی بنیاد گزاری کا الزام میر مرتضیٰ بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سر ہے اور جس تنظیم کے روح رواں میر مرتضیٰ بھٹو نے ہمسایہ ملک کی راج دھانی دہلی میں یہ اقرار کیا کہ چوہدری ظہور الٰہی کے قتل کی منصوبہ بندی الذوالفقار نے کی مگر چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب کی وزارت اعلی سے لطف لینے کے باوجود مرکز میں طاقت کا نشہ پانے کے لیے ایک طرف اپنی سیاسی جماعت کو تتر بتر کیا تو دوسری طرف خود پر ”اقتدار کی ہوس“ کا ٹھپا لگوایا جس کی تصدیق فی زمانہ خان کے ساتھ ان کے محبت نفرت Love Hate کے رشتے سے مزید ہوتی چلی گئی حتی کہ انجام میں انہوں نے گھر کے سربراہ پر ”ولی عہد“ کی ضد اور اپنی ”زبان اور قول کی قیمت“ پر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حصول کی کوشش کو برتر مان کر ہر نظریے، رشتے، تعلق، عمر، لحاظ پر وقتی منفعت اور انفرادی لالچ کے اصول کو راسخ کیا۔

اسی روایت کے تتبع میں جب وہ ڈپٹی وزیر اعظم کی کرسی پر متمکن ہوئے تو کہنے والوں نے کہا کہ یہ کرسی اسی الذوالفقار کی طرف سے ہے جو عمومی خیال کے مطابق چوہدری ظہور الٰہی کی قاتل ہے اور اسی سیاسی جماعت کے کرتا دھرتاؤں کے ساتھ گجرات کے چوہدریوں نے پیار کی پینگیں بڑھائیں جس کے سر ان کے جد امجد کے خون کی لکیر ہے۔ وہی گجرات کے چوہدری جن میں سے ایک باصلاحیت نوجوان چوہدری ظہور الٰہی نے تقسیم ہند سے قبل ہی پولیس کانسٹیبلی سے فراغت حاصل کی، اپنے بھائی چوہدری منظور الٰہی کے ساتھ مل کر کاروبار کا آغاز کیا۔

تقسیم ہند کے بعد میلا رام مل کی الاٹمنٹ اپنے نام کرائی اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا کہ ان کا اگلا پڑاؤ نوابزادہ خاندان اور احسن علیگ کے باہمی مقابلے میں موجود گجرات کی سربراہی حاصل کرنا تھی اور وہی ہوا کہ چشم فلک نے دیکھا نہ نوابزادہ کی چلی، گجر برادری کا سکہ بھی کھوٹا ہوتا گیا، احسن علیگ اس جوڑ توڑ کے سامنے پسپا ہو گئے اور آخرکار گجرات چوہدریوں کا ہوا جہاں کے وہ بیسویں صدی کے آخری دو عشروں سے بلا شرکت غیرے مالک و مختار ہیں۔ پھر چاہے ضیا الحق کا عہد آمرانہ ہو یا میاں نواز نواز شریف کی جمہوریت، مشرف کا مکا ہو یا پیپلز پارٹی کی مفاہمت، ہر زمانہ اور ہر نظریہ چوہدری خاندان کے سامنے سر جھکائے ان کی ہاں میں ہاں ملاتا چلا گیا (یا چوہدری وقت کی تال کے ساتھ سر ملاتے چلے گئے ) ۔

مگر کہتے ہیں ناں کہ سدا وقت ایک سا نہیں رہتا، ہوا ایک رخ پر نہیں چلتی، پانی ایک کگار پر نہیں بہتا کہ پنجاب کے بے بدل صوفی میاں محمد بخش نے کہا تھا تاکہ سننے والے سن رکھیں اور پڑھنے والے یاد کر لیں کہ یہی اول اصول ہے اور یہی تاقیامت جاری و ساری رہنا ہے مگر سمجھتا وہی ہے جسے توفیق خداوندی ہو، گرہ وہی لگاتا ہے جس کی توقیر کی حفاظت خدا کر رہا ہو ورنہ انسان تو سوائے ہوا کے بے قیمت غبارے اور گوشت کے بے وقعت لوتھڑے کے سوا کچھ نہیں مگر سب یہ کہاں جانتے ہیں ہاں مگر وہ جو صاحب عقل ہیں، صاحب فہم ہیں اور جو سمجھتے ہیں اور گرہ لگاتے ہیں کہ ”سدا نہ باغ بلبل بولے سدا نہ باغ بہاراں، سدا نہ ماں پے حسن جوانی سدا نہ صحبت یاراں، سدا نہ لاٹ چراغاں والی سدا نہ سوز پتنگاں، سدا نہیں ہتھ مہندی رتے سدا نہ چھنکن ونگاں“

مگر انسان لاپروا ہے اپنی ہٹ پر اڑا رہتا ہے وقت کی راگنی سننے کی بجائے اپنی کہانی آپ جپتا رہتا ہے اور پھر فطرت کے بنائے اصولوں کی زد میں آ جاتا ہے جیسے 80 برس کے ہندسے کو عنقریب چھونے والے چوہدری پرویز الٰہی وقت کی منہ زوری سے بیگانہ ہو گئے انہوں نے سوچا کہ ”آغاز کی بہار سدا قائم رہتی ہے“ حالانکہ اگر وہ تھوڑا توقف کرتے اور اپنے چچا پر جان نثار کرنے والے ”ڈرائیور نسیم“ کے کشمیر کی فضاؤں میں رس گھولتے ”میاں محمد بخش“ کے الفاظ کو یاد رکھتے تو انہیں ہندوستان کی روایتی خواتین کی طرح یوں ”کر کر لمبے ہاتھ“ دہائیاں نہ دینا پڑتیں، اگر وہ جوڑ توڑ کی سیاست پر تکیہ کرنے کی بجائے عوام کی بے کسی کی طرف نگاہ کرتے تو سمجھ سکتے تھے کہ ”سدا نہ لاٹ چراغاں والی سدا نہ سوز پتنگاں“ ، مگر آسمان گواہ ہے، مورخ لکھتے ہیں، صاحبان علم و عقل بتاتے ہیں کہ بعض لوگ ”عمر بھر کی کمائی پیری میں لٹا دیتے ہیں“ اور بے توقیر ہو جاتے ہیں۔

نہیں معلوم چوہدری پرویز الٰہی کو اس حقیقت کا ادراک ہے بھی کہ نہیں جو ان پر بیتی ہے۔ خدا جانے ان کا جانشین سپوت انہیں میاں محمد بخش کی آواز پر کان دھرنے دیتا ہے یا نہیں کہ اس خوش بخت نے تو اپنے والد کے کان اپنے خاندانی سربراہ اور میدان سیاست کے ہراول دستے کے رہنما سپاہی چوہدری شجاعت حسین کی آواز نہیں پڑنے دی۔ کوئی تو ہو جو چوہدری پرویز الٰہی کو جا کر یہ شعر سنائے اور ساتھ ایک نئی بات بھی ان کے کان میں پھونکے کہ گجرات کے چوہدری کان میں ”بات پھونکنے“ کے گزشتہ چھ دہائیوں سے تنہا ماہر ہیں ”جب قومیں نظریات کی بجائے جوڑ توڑ اور مفاد پر سیاست کی بنیاد رکھتی ہیں تو پھر ان کے بزرگوں کو اخیر عمر ٹوٹی ہڈیوں کے ساتھ دہائی دینا پڑتی ہے“ ۔

ہے کوئی بندہ خدا جو چوہدری پرویز الٰہی کو کہے کہ اقتدار کا تاج پھر سر پر سج جائے گا مگر پنجاب اسمبلی میں فسادیوں کو ہلہ شیری دینے والی وڈیو ”شرارتی“ ٹی وی اینکرز کی جیبوں میں دیر تک محفوظ رہے گی اور ناہنجار صحافی بددعائیں دیتے چوہدری پرویز الٰہی کی ریل بہت سالوں تک وقفے وقفے سے چلاتے رہیں گے کہ وطن عزیز میں ”وقت پر شے کے استعمال کا گر لوگوں نے آپ سے ہی سیکھا ہے“

آغاز کو کون پوچھتا ہے، انجام اچھا ہو آدمی کا

Facebook Comments HS