سندھ دیس کی دھرتی پر


محمد بن قاسم اور ذوالفقار علی بھٹو کی تصویریں ساتھ ساتھ لگائی ہوئی تھیں اس نے۔ دونوں تصویروں کے نیچے دو خوبصورت لڑکیوں کی تصویریں تھیں، ماتھے پر بندیا، ہونٹوں پر لالی، کانوں میں بالی، آنکھوں میں کاجل، گالوں پر گلال، ناک میں نتھ، جھکی جھکی نظریں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں تھی کہ یہ ہندو لڑکیوں کی تصویریں ہیں۔ ویسی ہی لڑکیاں جو آج کل کی ہندوستانی فلموں میں ہوتی ہیں۔ لگتا تھا کسی نے ان لڑکیوں کو ماڈل بنا کر تصویریں بنا ڈالی ہیں۔

میں نے قریب جا کر دیکھا تو اردو میں پتلا پتلا لکھا ہوا تھا شہید سندھ۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔ یہ ایک عجیب قسم کا تکون تھا۔ محمد بن قاسم اور بھٹو، دونوں کا تعلق سندھ سے تو تھا مگر ہر لحاظ سے مختلف تھے وہ لوگ، اور پھر ان کے ساتھ یہ دو ہندو لڑکیوں کی تصویریں؟ میں سوچ ہی رہا تھا کہ وہ اندر سے آ گیا۔ ہاتھ میں ٹرے تھی اور ٹرے میں اسکاچ کی بوتل، دو خوبصورت گلاس اور تازہ تازہ برف کے ٹکڑے شیشے کی طرح چمکتے ہوئے۔ ساتھ میں بادام، پستہ اور چنے کے بھرے ہوئے پیالے۔ بے اختیار مسکراہٹ میرے ہونٹوں پر آ گئی جسے دیکھ کر وہ بھی ہنس پڑا۔

”خوب جمے گی آج۔ بس اب جانے کی نہ کرنا پیارے۔“ وہ چہکتے ہوئے بولا۔ وہ مجھ کو گرینج ولیج میں ملا تھا، ایک آئرش پب میں۔ اوکانر نام تھا اس پب کا اور میں وہیں کام کر رہا تھا اس وقت۔ بعض لوگوں کا ایک عجیب قسم کا رکھ رکھاؤ ہوتا ہے۔ وہ نہ کچھ کہتے ہیں نہ کرتے ہیں مگر چھا جاتے ہیں۔ اس کی شخصیت بھی ایسی تھی۔ بھری بھری، مکمل۔ کچھ نہ کرتے ہوئے بھی اس کی موجودگی کا احساس ہو گیا تھا۔ جب میں نے بڈوائزر کا چوتھا گلاس بنا کر اسے دیا تھا تو اس کے بھرے بھرے ہونٹوں نے سوال کیا تھا، ”پاکستان سے آئے ہو کیا؟“ میں نے اردو میں ہی جواب دیا تھا، ”جی ہاں! کراچی سے آیا ہوں۔“

”پڑھتے ہو یا کمائی میں لگے ہو؟“
”جی پڑھتا ہوں۔“ میں نے جواب دیا تھا۔ ”یہ کام تو خرچا چلانے کے لیے کر رہا ہوں۔“

”اچھا کرتے ہو یار، اچھا کرتے ہو۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔ جاتے وقت دس ڈالر کی ٹپ اور ساتھ میں اپنا کارڈ بھی چھوڑ کر گیا تھا، ”کبھی کوئی کام ہو تو ضرور بتانا۔“ دس ڈالر کی ٹپ ہر کوئی نہیں دیتا ہے، میں نے وہ کارڈ حفاظت سے رکھ لیا تھا۔

پھر ایک دفعہ ملاقات پب میں ہی ہوئی۔ وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں آیا تھا۔ دو مرد اور دو عورتیں، چاروں کے چاروں گورے امریکن، وہ بڑی گرم جوشی کے ساتھ باتوں میں مصروف تھے۔ وہ ہر ایک سے بڑے اچھے انداز سے بات کر رہا تھا۔ چھایا ہوا تھا ان پر۔ میں نے بھاگ بھاگ کر ان لوگوں کی خدمت کی۔ بار بار آ کر پوچھا، وہ لوگ بہت خوش ہو کر گئے تھے۔ اس نے دس دس ڈالر کے دو نوٹ میری جیب میں ڈال دیے تھے۔

سمیسٹر ختم ہوا اور چھٹیاں ہوئیں تو میں نے پاکستان جانے کا پروگرام بنالیا تھا۔ تقریباً ساری تیاریاں مکمل ہو گئی تھیں اور جانے میں صرف ایک دن ہی باقی تھا کہ مجھے اس کا خیال آیا۔ دراز میں سے کارڈ نکال کر میں نے افضل صاحب کو فون کیا۔ وہ گھر پر ہی مل گئے اور فوراً پہچان بھی گئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ میں دو مہینے کے لیے پاکستان جا رہا ہوں اگر ان کو کسی کو کوئی چیز بھیجنی ہو تو میں ضرور لے جاؤں گا۔

وہ تھوڑی دیر سوچتے رہے تھے پھر آواز آئی تھی، ”نہیں یار! اب کون ہے ہمارا اس جہاں میں۔ سب لٹ گیا وہاں پر اور ہم ہیں اس دیار میں۔“ یہ کہہ کر وہ بڑے زور سے ہنسے تھے۔ ”ارے بھائی! مزے کرنا۔ برنس روڈ کے کھانے کھانا، کلفٹن کے چکر لگانا، پی آئی ڈی سی کے پان چبانا اور واپس آنا تو فون کرنا ہمیں۔ ملاقات کریں گے آپ سے۔“ یہ کہہ کروہ پھر زور سے ہنسے اور فون بند ہو گیا۔

پاکستان میں نواز شریف کی حکومت دوسری دفعہ آ گئی تھی، بے نظیر اور آصف زرداری پر مقدمہ چل رہا تھا۔ کراچی کا وہی حال بے حال تھا۔ میں بہت جلد ہی کراچی میں اکتا گیا۔ نیویارک کی بات ہی کچھ اور تھی۔ پیسے والوں کے لیے بھی سب کچھ تھا اور ہم جیسے غریبوں کے لیے بھی بہت کچھ۔ میں نیویارک میں تھا تو سوچتا تھا کہ کراچی بھی تو نیویارک ہو سکتا ہے۔ یہاں بھی تو سب کو نوکری مل سکتی ہے، یہاں بھی تو ہر بچہ اسکول جاسکتا ہے، یہاں بھی تو ہر ایک کی عزت ہو سکتی ہے، یہاں بھی تو قانون ہر ایک کے لیے ہو سکتا ہے۔

مگر یہ محض میری سوچ تھی۔ کراچی آ کر اب میں نے سمجھ لیا تھا کہ کراچی بیروت بن سکتا ہے، کراچی کابل بن سکتا ہے، کراچی نیویارک نہیں بن سکتا ہے، کبھی بھی نہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی دل میں کراچی والوں کے لیے نفرت سی پیدا ہو گئی تھی اور ایک دکھ تھا اس کے پیچھے۔ کون کرتا ہے اپنے شہر سے نفرت، اسی شہر سے جہاں اس نے آنکھیں کھولی ہوں، جہاں بچپن گزارا ہو، جہاں پہلی محبت کے پھول کھلے ہوں، دل ٹوٹا ہو، آنکھیں روئی ہوں۔ لیکن جب اسی شہر میں آگ لگ گئی ہو۔ کلاشنکوف سے سروں میں سوراخ ہو رہے ہوں اور بوریوں میں لاشیں مل رہی ہوں تو پھر نفرت ہی ہو سکتی ہے، صرف نفرت۔

نیویارک واپس آ کر میں پھر انہیں مصروفیات میں الجھ گیا تھا۔ بزنس ایڈمنسٹریشن کا آخری سال تھا میرا اور بہت پڑھنا پڑ رہا تھا مجھے۔ ایک اسائنمنٹ ختم ہوتی نہیں تھی کہ دوسری اسائنمنٹ مل جاتی۔ گھڑی کی ہر ٹک ٹک کا حساب کر لیا گیا تھا۔ امتحان ہوئے تھے اور گریجویشن کے بعد نوکری کے بازار میں کود پڑا تھا میں۔

ایک دو دفعہ خیال بھی آیا تھا کہ افضل صاحب کو فون کروں مگر پھر بھول گیا تھا۔ مجھے اچھی نوکری مل گئی تھی، ایک ٹیلی فون کمپنی میں۔ کام اچھا تھا اور تنخواہ بھی مناسب۔

ایک جمعے کی شام کو میں اپنے ایک کلاس فیلو کے ساتھ گرینچ ولیج کے اسی پب میں گپ شپ مار رہا تھا کہ افضل صاحب نظر آئے تھے اسی میز پر اور بڈوائزر کے گلاس کے ساتھ۔

میں اٹھ کر ان سے ملنے گیا تھا اور کہا تھا کہ آج ایک گلاس میری طرف سے ہو جائے کہ اب میں نوکری بھی کر رہا ہوں اور آپ کو بھولا بھی نہیں ہوں۔

انہوں نے بھی مجھے پہچان لیا۔ زور سے ہنسے پھر کہا، ”پہلے تو یہ آپ تاپ کا چکر نہ چلاؤ۔ یہ نیویارک ہے پیارے، سب لوگ ہم اور تم کرتے ہیں۔ ضرور پی لیں گے ایک گلاس تمہاری طرف سے۔“ یہ کہہ کر وہ پھر زور سے ہنس دیے۔ ”مگر یار! تم ملے نہیں مجھ سے پاکستان آنے کے بعد ۔ کب واپس آئے، فون بھی نہیں کیا۔“

”جی بہت مصروف ہو گیا تھا میں۔ امتحان میں لگ گیا تھا پھر نوکری کی تلاش، نیویارک کا تو پتا ہی ہے آپ کو۔“

انہوں نے پھر اپنا کارڈ نکال کر دیا تھا، ”ضرور ملنا مجھ سے اگر فرصت ہو تو۔“
ایک دن میں نے انہیں فون کیا تھا۔ وہ گھر پر نہیں تھے ٹیلی فون مشین میں میں نے پیغام چھوڑ دیا تھا۔

دو دن کے بعد جب شام گئے میں کام سے واپس آیا تو ان کا پیغام میری مشین میں موجود تھا۔ وہ لاس اینجلس گئے ہوئے تھے اور اب واپس نیویارک پہنچے تھے۔

میں نے پھر فون کیا تو اس دفعہ ان سے بات ہو گئی تھی۔ بڑے اخلاق اور خوشی سے بات کی تھی انہوں نے۔ پھر ہفتے کی شام کو گرینچ ولیج کے اسی پب میں ملنا طے ہوا تھا۔

شام پانچ بجے سے آٹھ بجے تک وہ بڈوائزر اور میں ہینی کن پیتے ہی رہے۔ دونوں ہی بیئر تھے مگر دونوں کا اپنا الگ الگ مزہ تھا۔ میں زیادہ ترہینی کن ہی پیتا تھا۔ بیئر کا مسئلہ بھی سگریٹ کی طرح ہے جس کو جو منہ لگ جائے وہ چھٹتی نہیں ہے۔ رات کا کھانا بھی ہم نے ساتھ ہی ایک ویت نامی ریسٹورنٹ میں کھایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ چل کر نہاری، تکا یا کڑائی کھائی جائے مگر قریب میں جو پاکستانی ریسٹورنٹ تھا، ان کے پاس شراب پینے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک ہندوستانی ریسٹورنٹ تھا جہاں شراب ملتی تھی مگر ہم دونوں کی پاکستانیت آڑے آ گئی تھی۔ یہی طے ہوا تھا کہ ویت نامی کھانے کے ساتھ جام چھلکائے جائیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Latest posts by ڈاکٹر شیر شاہ سید (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر شیر شاہ سید کی دیگر تحریریں

صفحات: 1 2 3

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments