مملکت کے خد و خال: ایک دعوت فکر

ذرا چشم تصور سے سوچیں کہ ایک بالکل نئی مملکت وجود میں آئی ہے اور اس کو اپنے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ اس کے مستقبل کی سمت اور راستہ کا تعین کرنا ہے۔ اس لمحے آپ کو بہت سے سنجیدہ سوالات کا سامنا کرنا ہو گا۔ آپ کو بہت ذمہ داری، اخلاص اور قومی جذبے سے سرشار ہو کر گہرا سوچ بچار کرنا ہو گا۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ میں ایسا وقت جب آیا تو تین افراد جیمز میڈیسن، الیگزینڈر ہیملٹن، اور جان جے سامنے آئے اور انہوں نے 1780 ء میں کچھ سیاسی مضامین لکھے۔ ان مضامین کی تاریخی اور علمی اہمیت کو ہمیشہ تسلیم کیا گیا ہے۔ ان مضامین کے مجموعے کو فیڈرلسٹ پیپرز سے موسوم کیا جاتا ہے۔
بات جو عرض کرنا مقصود ہے کہ ان مضامین میں جو بہت اعلیٰ درجے کا بحث مباحثہ ہے کہ امریکہ کا ریاستی و آئینی ڈھانچہ کس نوعیت کا ہو، کیسے اور کیوں ہو، وہ لائق مطالعہ ہے۔ آج بھی پبلک پالیسی کے اداروں میں ان کا مطالعہ شامل نصاب ہے۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ یہ ادق قسم کے سیاسی مضامین اس وقت کے اخبارات میں شائع ہوئے اور قومی اور عوامی سطح پہ ایک مکالمہ کا محرک بنے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا آزادی کے 75 سال بعد بھی ہم اس علمی معیار کی سنجیدہ بحث اپنے پیچیدہ قومی معاملات میں قومی سطح پر کروا پائے ہیں؟ یا آج بھی کیا ہم اس معیار کی علمی بحث قومی سطح پر کروانے کے اہل ہیں جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں 1780 میں، آج سے اڑھائی سو سال قبل ان کے تین سیاسی مفکرین کے تحرک پر ہوئی۔ اور کیا ہم قومی معاملات میں اس معیار کے اعلیٰ تفکر اور سوچ بچار کے بغیر اپنے مستقبل کی سمت اور راستے کا درست تعین کر سکتے ہیں؟
ایک عاجزانہ درخواست ہے کہ انٹرنیٹ کی مدد سے یا کسی لائبریری سے ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں۔ اور ملاحظہ فرمائیں کہ اہم قومی معاملات میں قومیں کس درجہ اعلی، عمیق اور سنجیدہ تفکر اور مکالمہ۔ قومی سطح پہ کرتی رہی ہیں۔

