خوبصورتی کے لیے کی قدیم طریقوں اور رسموں کا احیا

بل جیکبز - بی بی سی فیچر


آج کل حوبصورت بننے کے لیے ہزاروں برس پرانے طریقوں اور رسموں کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بیل جیکبز پچھلی نسلوں کے ان رسموں پر تحقیقات کرتی ہیں جو اپنے بارے میں اور آج کے اس کرہِ ارض میں متوازن طریقے سے رہنے کے بارے میں زیادہ حسّاس تھے۔

سنہ1963 کی فلم ‘کلیوپیٹرا’ (قلوپطرہ) میں برطانوی اداکارہ الزبتھ ٹیلر کا مصری ملکہ کا کردار ادا کرتے ہوئے رومن شہنشاہ مارک اینٹونی کے ایلچی کی دعوت کو اس وقت مسترد کر دیتی ہے جب وہ دودھ سے بھرے ہوئے حوض میں پھولوں سے گھری ہوئی حالت میں ننگی بیٹھی سنہری کشتی میں جھومتے ہوئے مزے لے رہی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ اُس کا انکار اس کے ذاتی مسائل کی وجہ سے ہو کیونکہ مشہور یہ ہے کہ اس فلم کے دوران اس کے مسائل تھے – اس وقت یہ مشہور تھا کہ الزبتھ ٹیلر اور مارکس اینٹونی کا کردار ادا کرنے والے اداکار اور اس کے عاشق، رچرڈ برٹن، کے درمیان جھگڑا چل رہا تھا – لیکن اس منظر کی علامتی حیثیت ہمارے لیے اجنبی نہیں ہے: قدیم مصر میں ملکہ اور دیویاں اپنی جنسی طاقت اور جنسی کشش کے لیے مشہور تھیں، قدرتی علاج اور طریقوں سے ان کی گہری وابستگی کی وجہ ان کی زرخیزی، زچگی اور شفایابی کی ضرورت تھی۔ الزبتھ ٹیلر کی ‘کلیوپیٹرا’ کو اکثر نہاتے ہوئے اور مزے لیتے ہوئے دکھایا جاتا ہے، جیسا کہ وہ ایک حقیقی زندگی ہو: امیر قدیم مصریوں میں اپنے آپ کو خوبصورت رکھنے کے طریقے اور نسخے وقت طلب اور کافی محنت طلب ہوتے تھے، جن کی شروعات زعفران کے تیل سے دودھ میں کافی دیر کے تک غسل کرنے سے ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

زعفران: رنگ و نور کا جادو

دنیا کی ’سب سے قدیم روٹی‘ کے نسخے کی تلاش

مصر کی اس اشرافیہ کی خواتین کی خوبصورتی کی تیاریوں کا کوئی بھی عنصر حادثاتی نہیں تھا۔ دودھ میں موجود لیکٹک ایسڈ (lactic acid) جلد کو صاف اور حسیِن بناتا تھا، جبکہ زعفران ہزاروں سالوں سے مختلف حالات کے علاج کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ زعفران کے مسالے کو جامنی رنگ کےزعفران کے پودے ‘کروکس سیٹیوس’ (Crocus sativus) کے پھول کے نارنجی رنگ کے مرکزی حصے سے احتیاط سے کاٹا جاتا ہے۔ ان پودوں کو زمین کی گرم خشک پٹی میں اگایا جاتا ہے، یہ پودے مغرب میں اسپین سے لے کر مشرق میں کشمیر تک لگائے جاتے ہیں، اس مصالحے کو اس کی پیداوار کی اہمیت اور قیمت کی وجہ سے ‘سرخ سونا’ کہا جاتا ہے۔ اِن پھولوں کو فجر کے وقت ہاتھ سے چننا چاہیے، اور ان کے مرکز میں زعفران والے ان پتلے دھاگوں کو نازک طریقے سے پھول سے علحیدہ کرنا چاہیے۔ صرف ایک اونس زعفران کے دھاگوں کی پیداوار میں تقریباً 5000 پھول لگتے ہیں۔ قیمتیں پہلے سے ہی زیادہ ہیں اور یہ اور بھی زیادہ ہو جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنوعات میں جن کی مستقبل میں بہت زیادہ طلب بڑھے گی، اُس سے زعفران کی قیمت کا حقیقی طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کون پرواہ کرتا ہے کہ ایسی اشیاء کہاں سے آتی ہیں، کیونکہ ایک بوتل سے تازہ ترین میگا کریم کے ایک چمچ کے برابر اس کا حصہ ہمیں 80 برطانوی پاؤنڈ کا پڑتا ہے؟ کاروباری مشاورت کے ادارے ‘این پی ڈی’ (NPD) کی سنہ 2021 کی ایک تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے اس کے کل صارفین میں سے 68 فیصد جلد کی دیکھ بھال ان مصنوعات سے کرنا چاہتے ہیں جو ‘صاف’ اجزاء کے ساتھ تیار کی جائے (جن میں کیمیائی مصنوعات شامل نے ہوں جیسا کہ بغیر PFAs، parabens اور phthalates)۔ خوبصورتی کی دیکھ بھال کی صنعت میں صاف ستھرے ذرائع سے تیار کی جانے والی مصنوعات کے مقبول ہوتے ہوئے مطالبے کے کا جواب دیتے ہوئے بیوٹی میگا برانڈز کے ایک گروپ نے ‘ماحول دوست خوبصورتی کا کنسورشیم’ (EcoBeautyScore Consortium) کا آغاز کیا ہے جو عالمی شفافیت کے ماحولیاتی اثرات کے اسکورنگ سسٹم کو قائم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اسی طرح نئے بی بیوٹی کولیشن (اتحاد) کا مقصد صنعت کے خاطر خواہ اثرات سے نمٹنے کے لیے انفرادی سطح پر صارفین کی ان کی مصنوعات کی تائید و تصدیق اکٹھا کرنا ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات بھی دیکھی جا رہی ہے کہ صارفین کی قدرتی اور نامیاتی اجزاء میں دلچسپی بڑھ رہی ہے – برطانیہ میں قائم ریسرچ فرم ‘ایکوویا انٹیلیجینس’ (Ecovia Intelligence) کے مطابق، اس دلچسپی کو اس طرح دیکھا جا سکتا ہے کہ سنہ 2020 میں 11.9 ارب ڈالر تک اس صنعت کے کاروبار کا حجم تھا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 2.9 فیصد زیادہ ہے۔ اور اس نئی بہادر دنیا میں، فطری اور سماجی مساوات پر اپنی توجہ کے ساتھ، ‘کلیوپیٹرا’ کے لائق روایتی اجزاء اور رسومات آج کے صارفین کو بے انتہا متاثر کر رہی ہیں۔ قدرتی خوبصورتی کی مشاورت کی ایک ماہر، امیلڈا برک، نے اپنی سنہ 2016 کی کتاب ‘دی نیچر آف بیوٹی’ میں لکھا ہے کہ ‘ہمیں روایت کو مسترد کرنا اور ‘لیبارٹری سے باہر کے ذرائع’ کی تلاش کرنا سکھایا گیا ہے۔ جبکہ نئی نئی دریافتیں اہم ہیں وہاں ہم اپنے آباؤ اجداد سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔’

مثال کے طور پر گلاب کے تیل کو لیں جس کے استعمال کی مشرق وسطیٰ میں ایک طویل تاریخ ہے۔ اس کو تیار کرنے والے اب بھی دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک، ترکی کا عرقِ گلاب ہے جس کے استعمال کی تاریخ 2,000 سال پرانی ہے۔ اس عرق کو اب دیگر ذرائع سے بھی کشید کیا جا سکتا ہے جو اسے بہت زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے: یہ وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرے ہوئے ہیں جو جلد کو نمی بخشتے ہیں، فطرت کا سب سے خوبصورت پھول ایک جلد کی سوزش کا موثر علاج کرتا ہے، اور اسے خشک جلد کو تازہ اور خوشگوار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس میں سے ویسی ہی مہک آتی ہے جیسی کے ‘نیشنل ٹرسٹ’ کے باغ سے آتی ہے۔

اور جب کہ مغربی دنیا نے حالیہ برسوں میں ہلدی کے استعمال کو بڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس کا استعمال لیٹوں جیسے مشروبات میں ہی نہیں بڑھا ہے، بلکہ یہ چمکدار پیلی جڑی بوٹی ساڑھ چار ہزار سالوں سے زیادہ عرصے سے آیورویدک کی دوا کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ وکٹوریہ ہیلتھ کی اپنی فارماسسٹ، شبیر دیا’ نے مقبولِ عام میگزین، ‘ووگ’ کو بتایا کہ ‘ہلدی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے ایک بہت موثر جڑی بوٹی ہے، جو وٹامن سی اور ای کے مقابلے میں پانچ سے آٹھ گنا زیادہ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کو ظاہر کرتی ہے۔’ انڈیا میں دولہا اور دلہن شادی سے پہلے پاکیزگی کی علامت اور ایک نعمت کے طور پر اپنے ہاتھوں اور چہروں پر ہلدی لگاتے ہیں۔ ہلدی کا فعال جزو کرکومین ہے، تاہم اس کے مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

اُدھر مراکش میں بربر قبیلے کی خواتین اب بھی اس کے ارغالی درختوں کی کانٹے دار شاخوں سے آرگن آئل کشید کرتی ہیں۔ جلد کو خوبصورت بنانے والے اومیگاس تھری اور سیکس سے بھرپور آرگن آئل کا بحیرہ روم میں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہزاروں سالوں سے بیوٹی ایجنٹ کے طور پر کاروبار ہوتا چلا آ رہا ہے۔ بحرالکاہل کے پولینیشیا کہلانے والے خطے کے سمندروں کے اس پار، مونوئی آئل، جو ‘تاہیتی گارڈنیوں’ کی پنکھڑیوں کو ناریل کے تیل میں بھگو کر بنایا جاتا ہے، 2,000 سال پرانا مقامی ماوہی لوگوں کے زیرِ استعمال تیل ہے، جسے جلد اور بالوں کو نرم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور وہ اس تیل کی تعظیم بھی کرتے تھے۔ کوسٹا ریکا میں، ‘بریبری’ اور ‘کابی کار’ نسل کے لوگ سبز چائے کو اپنی رنگت کو بہتر بنانے، داغ دھبوں کو ٹھیک کرنے اور جلدی سوزش کو کم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ان تمام اجزاء نے اب پھر سے مغربی سکن کیئر کی صنعت میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ لیکن اب یہ کہانی مغربی برانڈز کے بارے میں نہیں ہے کہ وہ اپنی سابقہ نوآبادیات کی کچھ خوفناک کہانیوں کی بازگشت میں اگلی ‘بڑی چیز’ کے طور پر غیر ملکی جڑی بوٹیوں اور مسالوں کا انتخاب کرتے ہوئے اُن کا استحصال کرتے ہیں۔ خوبصورتی میں سیاہ فام اور دیسی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بھی دیکھا جا رہا ہے کہ وہ اپنی آبائی رسومات اور اجزاء کے احیاء کے ذریعے اپنے ورثے کو اپنا رہی ہیں، جن پر وہ فخر کرتی ہیں، نہ کہ یہ ان پر تھونپے جا رہے ہیں – اور یہ روایتی جڑی بوٹیاں ان کی جدید دور کی ضروریات کو پورا بھی کرتی ہیں۔ ‘لابیل’ کی طرح انیشی نابے-کینیڈین، جینیفر ہارپر اور پراڈوس بیوٹی کی ‘چیک بون بیوٹی’، جو زیکانا-ایریزونین سیسی میڈو کے ذریعے تخلیق کی گئی ہیں، جیسے ‘سیج’ اور ‘لیوینڈر’ ہیں، یہ ادارے اپنی مصنوعات کو قدرتی جڑی بوٹیوں سے کشید کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، جنہیں ان کی صارفین کی کمیونٹیز کئی دہائیوں سے استعمال کر رہی ہیں۔ ایسی مصنوعات بنانے والے بہت سے اداروں نے، فطرت میں اجزاء جمع کرنے سے لے کر کسانوں کے بازاروں اور اسٹور فرنٹ پر مصنوعات فروخت کرنے تک، اپنی کمیونٹیز میں اپنے برانڈز کا استعمال کے فروغ دے کر نئی ملازمتیں بھی پیدا کی ہیں۔

اس صنعت سے وابستہ معاشرے کے مختلف گروہوں کے درمیان اس فکری ہم آہنگی دیگر تبدیلیوں کی کا بھی ایک اشارہ ہے۔ ایکوویا انٹیلیجنس کے صدر اور بانی، ارمرجیت سہوتا نے دسمبر سنہ 2021 میں کازمیٹکس ڈیزائن یورپ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘بات چیت قدرتی اور نامیاتی سے اب کی پائیداری تک بدل رہی ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ پائیدار اجزاء کی جانب بڑھنے کا رجحان دیکھ رہے ہیں، اس لیے قدرتی اور نامیاتی خوبصورتی کے بہت سے علمبردار ایسی مصنوعات تیار کرنا چاہتے ہیں جو انسانی صحت اور ماحول کے لیے بہتر ہوں۔ ابتدائی طور پر ایسی مصنوعات کی فارمولیشنز پودوں پر مبنی تھیں تاکہ انسانی صحت پر اس کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ لیکن چونکہ پائیداری خوبصورتی کی اس صنعت کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے، یہ علمبردار واقعی پائیداری کے اقدامات کے حوالے سے ذمہ داری کی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ اب صرف قدرتی اور نامیاتی مصنوعات کے فروغ کی تحریک نہیں رہی ہے، بلکہ یہ وسیع تر ماحولیاتی حفاظت کے مسائل کے بارے میں ایک تحریک ہے۔’

ماحولیات کے بارے میں یہ تحریک کسی علحیدہ صورت حال میں پیدا نہیں ہوئی ہیں۔ اسٹریٹجک فارسائٹ کنسلٹنسی، دی فیوچر لیبارٹری سے وابستہ کیتھرین بشپ کہتی ہیں کہ ‘کویڈ-19 اور دنیا بھر میں سیلاب، خشک سالی، فصلوں کی ناکامی اور لوگوں کے بے گھر ہونے کا باعث بننے والے موسمیاتی بحران کی روشنی میں، ہم اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ قدرتی ماحول میں تبدیلیاں آرہی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ انسان یہ تسلیم کریں کہ ہمیں اس کے ساتھ اور اس کے حوالے سے قدرتی ماحول کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہے۔’

قدرتی ماحول سے ہم آہنگ اور اس سے جُڑے خوبصورتی کے طریقوں اور نسخوں کو آخر کار ترجیح مل رہی ہے۔ صارفین ایسی مصنوعات کی تلاش میں ہیں جو ان کی اِن ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں اور ان کا جواب دیتی ہیں: دوسرے لوگوں کے لیے خوبصورتی کے لیے اور کرہِ ارض اور اس کی ساری زندگی کے لیے، اور وہ ایسے طریقوں کی تلاش میں ہیں جو انھیں ذہنی طور پر مطمئن کریں – اور انھیں ایک وسیع دنیا کے ماحولیاتی نظام سے مربوط کریں۔

توازن بحال کرنا

قدیم رسوم و رواج جو فطرت اور قدرتی اجزاء سے متاثر ہوتے ہیں، اور انھیں توازن کو بحال کرنے اور دنیا کی اہم چیزوں کے ساتھ دوبارہ وابستہ ہونے کے ذریعے کے طور پر دریافت کیا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا کے فلاح و بہبود کے برانڈ ‘سٹل انیرجیز’ (Subtle Energies) اروما تھراپی کے فوائد کے ساتھ آیوروید کے انڈین طریقوں کی روایتی تکنیکوں کو ملا کر استعمال کر رہا ہے۔ اس کی جلد کی دیکھ بھال میں ‘پاماروسا’، ‘موگرا’ اور ‘فرینکِنسین’ کے تیل میں جوجوبا اور اشواگندھا کے اجزاء بھی شامل ہیں۔

برانڈ کی بانی، فریدہ ایرانی کہتی ہیں کہ ‘ضروری تیل دھرتی ماں کی طرف سے ہمیں عطا کیے گئے شاندار اوزار ہیں۔ یہ حیات بخش ہیں اور انہیں اپنے اوپر استعمال کرکے ہم اپنی زندگی کی قوت کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ جدید دور میں قدیم حکمت کا استعمال ہے جو لوگوں کو اپنے لیے اور کرۂ ارض کے لیے زیادہ شعوری طور پر جینے میں مدد دیتا ہے۔’

کیتھرین بشپ بی بی سی کلچر کو بتاتی ہیں کہ ‘جسم، دماغ، جلد اور بالوں کی دیکھ بھال کے لیے قدیم طریقے زمین اور فطرت سے اخذ کیے گئے ہیں۔ وہ اکثر خاص موسموں اور موسمی واقعات کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، زمین اور نباتات اور حیوانات کی تکریم کرتے ہیں جو وہ ماحول کو بہتر بنا کر کرتے ہیں، احترام کے ساتھ انہیں سجاوٹ یا صفائی یا کھانے پینے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ زمین پر انسانی سرگرمیوں کے منفی اثرات فطرت کے ماحول کو قدرتی طور پر متوازن رکھنے کے اثرات سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ لیکن زمین پر توانائی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بننے والے منفی اثرات کے ساتھ، خواہ وہ ان کے کاربن فوٹ پرنٹ ہوں یا وسائل کا استعمال، ایسے شعوری اور کرہ ارض کے اچھے ماحول سے موافقت رکھنے والے خوبصورتی کے طریقوں اور اجزاء سے واقف لوگ، روزانہ کے اپنے حسن کی قدرتی طریقوں سے دیکھ بھال یا حفظان صحت کے معمولات، انسانوں کی منفی سرگرمیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔’

حُسن کو برقرار رکھنے کے سادہ معمولات ‘گوا شا’، جو اپنے جسم پر خود سے مساج کرنے کی ایک روایتی چینی تکنیک ہے جس میں ہاتھ کے سائز کا ایک ہموار کناروں والا پتھر – جو عام طور پر جیڈ، چمکدار گلاب کوارٹج یا کالے اوبسیڈین سے بنتا ہے – اپنے جسم پر خون کی گردش کو بہتر بنانے کے لیے چہرے پر رکھ کر پھیرا جاتا ہے۔ ‘گوا شا’ کو صدیوں سے پٹھوں کے درد اور تناؤ سمیت متعدد بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور مغرب کی خوبصورتی کی صنعت نے اسے اب قبول کر لیا ہے۔ آپ کے ماتھے اور گالوں پر اس ٹھنڈے پتھر کو پندرہ منٹ تک ملنے سے کئی دنوں تک اعصابی تناؤ کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

چینی مصنفہ، ہنا روز یی نے سٹائلسٹ میگزین میں اپنی دادی کی ‘گوا شا’ کی رسم کو بیان کیا ‘آج تک وہ اپنی گواشا لیتی ہے اور ہر شام کو ہموار، خوبصورت طریقوں میں اسے اپنے چہرے پر ملتی ہیں۔ مجھے بچپن میں اس کا جنون تھا۔ میں اُن کے بستر کے قریب بیٹھ کر انھیں یہ طریقہ کرتے دیکھتی تھی جب وہ آئینے کے عکس میں مجھے دیکھ کر مسکراتی تھی۔ اس نے ایک بار مجھے گواشا پکڑنے کے لیے دیا، اور مجھے یاد ہے کہ یہ میرے ہاتھوں میں کتنا ٹھنڈا اور بھاری محسوس ہوتا تھا۔ میں اب بڑی ہو گئی ہوں، اس نے مجھے خود یہ کام کرنے کا طریقہ سکھایا۔ آج میں ہفتے میں ایک بار گلاب کوارٹز رولر کے ساتھ گوا شا کرتی ہوں۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن میری دادی اپنا جیڈ گوا شا پتھر مجھے دے دیں گی۔’

لیکن شاید کچھ چیزیں صارفین کو گرمی کے استعمال کے مقابلے میں سست روی اور ان طریقوں کے استمعال پر نظرِ ثانی کی ترغیب دیتی ہیں، جس کا ازٹیکس سمیت استعمال کئی ثقافتوں میں کیا جاتا رہا ہے۔ قدیم میسوامریکہ میں ہسپانوی نوآبادیات کے آنے سے کم از کم 700 سال پہلے تک، ٹیمازکل آتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والی بھاپ کی جگہیں تھیں اور اس بھاپ میں، نہ کہ اس کے پانی میں، ایزٹیکس باشندے اپنی تھکان دور کرنے کے لیے بیٹھتے تھے۔ لفظ ٹیمازکل لفظ ‘ٹیمازکلی’ سے نکلا ہے جس کا مطلب گرم گھر ہے۔ اور زیادہ تر ٹیمازکل گنبد والے ڈھانچے سے مشابہت رکھتے ہیں، جو آتش فشاں چٹان سے بنتے ہیں، اور یہ دھرتی ماں کے رحم کی علامت ہیں، جو دوبارہ جنم کے نظریات کا اشارہ دیتے ہیں۔

جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ ازٹیکس درست تھے۔ بھاپ بند سانس کے نظام کو صاف کرنے اور کچھ دیگر بیماریوں کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ قدیم مایا تہذیب میں اکثر جنگ سے واپس آنے والے جنگجوؤں کے لیے تیمازکل کی تقاریب منعقد کرتے تھے جس میں میسوامریکن منتر، مراقبہ اور گرم چٹانوں کو جڑی بوٹیوں کے پانی سے ملا کر خوشبودار بھاپ بنائی جاتی تھی۔ آج کے دور میں ‘سونا’ کے انداز کے بھاپ والے کمرے میں بیٹھ کر غُسل کرنے سے اُسی طرح کے فوائد حصل کیے جاتے ہیں۔

فریدہ ایرانی کو قدیم رسومات کی واپسی کی بہت امیدیں ہیں۔ ‘جن عناصر سے ہم بنے ہوئے ہیں ان میں خلل ڈالنا بہت سے مسائل کا سبب بنا ہے جو ہم آج دنیا میں دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر ہم کرہِ ارض میں اپنی سرگرمیوں میں توازن پیدا کریں – سب سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنے ارد گرد کے ماحول میں – تو جس طرح سے ہم رہتے ہیں ہم اس میں ایک مثبت تبدیلی دیکھیں گے۔’


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24072 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments