سیریئل کلرز پر تحقیق: وہ عوامل جن سے انسان پرتشدد رویہ اپنانے اور جرم کرنے پر راغب ہوتا ہے


ڈاکٹر گوین ایڈزہیڈ کے مریضوں کو معاشرہ اکثر ’فریکس‘ یا عجیب الخلقت سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر ایڈز ہیڈ ایک فرانزک سائیکیاٹرسٹ ہیں جو کئی دہائیوں سے ایسے لوگوں کی معالج ہیں جو گھناؤنے تشدد میں ملوث رہے ہیں۔

ان کو زیادہ تر تجربہ انگلینڈ کے اعلیٰ سکیورٹی والے براڈمور نفسیاتی ہسپتال میں کام کرنے سے حاصل ہوا ہے۔

مصنف اور ڈرامہ نگار ایلین ہورن کے ساتھ، ڈاکٹر ایڈز ہیڈ ’دی ڈیول یو نو: سٹوریز آف ہیومن کرویلٹی اینڈ کمپیشن‘ کی شریک مصنف ہیں۔

کتاب میں ایڈز ہیڈ نے اپنے گیارہ مریضوں کی کہانیاں سنائی ہیں۔

ان کے مریضوں میں سے ایک ٹونی ہیں، جو ایک سیریل کلر ہیں اور جنھوں نے اپنے پہلے شکار کا سر قلم کر دیا تھا۔ ایک اور مریضہ زہرہ ہیں، جو دوسروں کو جلا کر راکھ کرنے سے لطف اندوز ہوتی تھی۔ اور ایک اور ایئن ہیں، جنھوں نے اپنے دو بیٹوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔

بی بی سی منڈو کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایڈز ہیڈ نے ان لوگوں کی پیچیدہ شخصیت کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ کون سی چیز ان سے اس طرح کا ظلم کرواتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ان لوگوں کے رویے کو بہتر طور پر سمجھنے، نہ کہ ان کے بارے میں پہلے ہی سے کوئی رائے قائم کرنے سے انھیں مزید پرتشدد کارروائیوں سے روکا جا سکتا ہے۔

ان کی کتاب کے ٹائٹل کا مطلب کیا ہے؟

ایک کہاوت ہے کہ شاید اپنے شیاطین کو جاننا نہ جاننے سے بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نہیں جانتے کہ آپ کے ساتھ مسائل کیا ہیں، تو آپ ان سے حیران یا مغلوب ہو سکتے ہیں۔

ایڈز ہیڈ کہتی ہیں کہ جب کتاب کی شریک مصنف ایلین ہورن نے اس کا عنوان تجویز کیا تو اس نے میری توجہ مبذول کرائی کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ بطور معالج اس قسم کا کام بہت زیادہ کرتی ہوں: ایک طرح سے، لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ دراصل ان کے اپنے اندرونی شیطانوں کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔

اگر ہم فرض کریں کہ شاید ہم سب میں بڑی برائی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے، حالانکہ شکر ہے کہ ہم میں سے اکثر ایسا کبھی نہیں کریں گے، لیکن ہم میں سے زیادہ تر کے اندر ایسے شیاطین ہیں جن کی کھوج لگانے کی ضرورت ہے۔

میں بطور ایک تھراپسٹ جو کام بہت زیادہ کرتی ہوں وہ ایک ایسی جگہ بنانا ہے جہاں لوگ اپنی شخصیت کے ان پہلوؤں کے بارے میں بات کر سکیں جو ڈرا دینے والے ہیں اور بڑا ظلم کرنے کے قابل ہیں۔

کیا کوئی اس طرح کی حرکتیں کر سکتا ہے؟

’یہ سچ ہے۔۔۔ اور میں ہمیشہ سوچتی رہی ہوں کہ کیا یہ ان وجوہات میں سے ایک ہے جس کے باعث ہم ان لوگوں کو میڈیا میں ہمیشہ دکھاتے ہیں۔ درحقیقت، ’مونسٹر‘ کا لفظ اپنے معنی اور ساخت کی وجہ سے لفظ ’شو‘ (دکھانا) سے جڑا ہوا ہے۔

اس بات میں کچھ ہے جس طرح سے ہم لوگوں کو پبلک میڈیا، سوشل نیٹ ورکس، اخبارات اور ٹیلی ویژن پر دکھاتے ہیں۔

ہم ان ’مونٹسرز‘ (شیاطین) کو بے نقاب کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ’اوہ، یہ بہت اچھا ہے کہ وہ وہاں ہیں،‘ میں سمجھتی ہوں کہ شاید اس سے ہمیں یہ محسوس کرنے میں مدد ملتی ہے کہ ہم ان جیسے نہیں ہیں۔

لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ ’کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ بعض حالات میں ہم میں سے ہر ایک کے پاس کوئی بہت خوفناک کام کرنے کی صلاحیت ہو؟‘

اگر بہت سے خطرے والے عوامل اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہم انتہائی ظلم کرنے کے قابل ہو جائیں گے؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے۔

ہم کس وقت جرم کر سکتے

ہم کن حالات میں گھناؤنا جرم کرتے ہیں

کیا ہم سب میں ’مونٹسر‘ بننے کی صلاحیت ہوتی ہے؟

ہاں، مجھے لگتا ہے کہ ہم سب میں یہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر خطرے کے صحیح عوامل پیدا ہو جائیں، تو ہم بہت زیادہ ظلم کر سکتے ہیں۔

آپ ’ظلم کو سمجھنے‘ کا تصور استعمال کرتی ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ جب ہم انسانی برائی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو یہ اکثر یہ دوسرے لوگوں پر ظلم کرنا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں جن چیزوں کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ وہ سب سے زیادہ بدتمیز اور بدتہذیب ہیں، ان میں جان بوجھ کر ان لوگوں پر ظلم ڈھانا شامل ہے جو انتہائی کمزور ہیں۔

اس لیے میں اپنے کام میں، خاص طور پر لوگوں کی اس بارے میں مدد کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہوں کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ اتنا ظلم کیسے کر سکتے تھے۔

میں کوشش کرتی ہوں کہ وہ ان احساسات کو دریافت کریں، بتائیں اور اسے بیان کریں، وہ جذبات جو ظلم کی بڑی کارروائیوں کی تہہ میں ہوتے ہیں۔

مریضوں کے ساتھ ’ریڈیکل ہمدردی‘ کرنے کی کوشش کا کیا مطلب ہے؟

ہمدردی کا عمومی خیال یہ ہے کہ آپ خود کو کسی دوسرے کی جگہ رکھ کر دیکھیں۔

جب ہم کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جو گھبراہٹ کا شکار ہے یا پریشان ہے، تو ہم یہ تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیا محسوس کرتا ہو گا، اور ہم شاید اس شخص کے لیے کچھ جذباتی ردعمل بھی محسوس کریں۔

یقیناً آپ نے دیکھا ہوگا کہ اگر ہم کسی ایسے شخص کے پاس بیٹھے ہیں جو غمگین ہے، تو ہم اکثر اداسی محسوس کرتے ہیں، یہ ہمدردانہ ردعمل ہے۔

لیکن جب آپ ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جو ظالم ہیں اور غیر منظم ذہنی حالت میں ہیں، تو ایک فاصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے، آپ کو قریب بھی رہنا ہے لیکن اگر آپ چیزوں کی جڑ تک جانا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک فاصلہ بھی برقرار رکھنا ہے۔

مجھے ’ریڈیکل ہمدردی‘ کا خیال اس سے آیا تھا، کیونکہ یہ ایک ہمدردی ہے جو چیزوں کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اس میں ایک خاص فاصلہ بھی موجود ہے، نہ صرف اس شخص کے لیے اور اس نے جو کیا ہے اس کے لیے، بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی جن کو اس نے نقصان پہنچایا ہے، لہذا آپ متاثرین کو بھی فراموش نہیں کرتے۔

جرم کا ارتکاب

کیا آپ کو لگتا ہے کہ ’ریڈیکل ہمدردی‘ کو پیشہ ورانہ میدان سے ہٹ کر روزمرہ کی زندگیوں میں لاگو کیا جا سکتا ہے؟

میرے کام میں ریڈیکل ہمدردی ایک ضرورت بن گئی ہے، ایک طریقہ کار کے طور پر ایک کھلا ذہن رکھنے اور ان مردوں اور عورتوں کو اپنے ظلم کو تسلیم کرنے میں مدد فراہم کرنے والی جگہیں پیدا کرنے کے لیے، لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر میں یہ کر سکتی ہوں تو کوئی بھی یہ کر سکتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ کوئی خاص قابلیت ہے۔

اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ بہت اہم ہے، خاص طور پر اس دور میں جہاں لگتا ہے کہ ہماری ذہنی حالت بہت پولرائزڈ ہو چکی ہے، اور جو ہم سے مختلف ہیں ان کی جگہ نہیں رہی۔

شاید ہم میں اور ان لوگوں میں مشترکہ چیزیں ہماری سوچ سے زیادہ ہیں، چاہے ان کے سیاسی خیالات مختلف ہوں، یا ویکسین کے بارے میں رائے بھی جو آپ شیئر نہیں کرتے۔

’ریڈیکل ہمدردی‘ رکھنے اور ظلم کا جواز پیش کرنے کے درمیان کیا لائن ہے؟

کتاب میں میری دلچسپی یہ واضح کرنے میں تھی کہ ہم میں سے جو لوگ دوسروں کو مارنے والوں کے معالج کے طور پر کام کرتے ہیں، وہ کبھی بھی جو کچھ ہوا اس کے لیے کوئی عذر پیش نہیں کرتے۔

یہ بہانے تلاش کرنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ سمجھنے اور سمجھانے کے بارے میں ہے کہ کوئی یہ حرکتیں کیسے کرتا ہے۔

اس کام کے دوران میں نے جو تشدد دیکھا ہے وہ انتہائی غیر معمولی ہے، زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کا اظہار برے طریقے سے نہیں کرتے، اس لیے ہم جتنی زیادہ معلومات اکٹھا کر سکتے ہیں کہ کوئی اس مقام تک کیسے پہنچا، اتنا ہی ہمیں ان کو سمجھنے کے لیے بہتر ہے۔ اس سے مستقبل کا خطرہ سنبھالا جا سکتا ہے۔

لہٰذا اس تشدد کو سمجھنا سب کے مفاد میں ہے، لیکن کوئی بھی یہ تجویز نہیں کر رہا کہ یہ وضاحت ایک بہانہ ہے۔

دوسری طرف عدالتیں موجود ہیں جو ان ظالم لوگوں کے بارے میں ہماری سماجی مذمت کا اظہار کرتی ہیں، اور مجھے یہ بالکل معقول بات لگتی ہے کہ ہم ان اعمال کی مذمت کرتے ہیں، ہم یقینی طور پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے اور کسی بھی شخص نے جو کچھ کیا اسے اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔

میرا تجربہ زیادہ تر ان لوگوں کے ساتھ ہے جنھوں نے ایسے وقت میں قتل کیا جب وہ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں تھے۔ میرے خیال میں یہ ان لوگوں کے لیے سمجھنا فائدہ مند ہے کہ انھوں نے ایسا کیسے کیا، اور اس طرح وہ زیادہ مجرمانہ اور اخلاقی ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں جس طرح کی معاشرہ ان سے چاہتا ہے۔

تو یہ ایک جیت ہے۔

جرم کا ارتکاب

اس طرح کے کاموں کا ارتکاب کرنے والے لوگوں کے بارے میں بنیادی مفروضے یا فرضی قصے کیا ہیں؟

پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ میں جنگی مجرموں کے ساتھ کام نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر میری پاس ایسا کوئی اختیار یا مہارت نہیں ہے کہ میں کہہ سکوں کہ ہولوکاسٹ جیسے واقعات کو بھڑکانے والے لوگوں کے ذہنوں میں کیا چل رہا تھا۔

اگرچہ مجھے یہ دلچسپ لگتا ہے کہ ان لوگوں کو ذہنی طور پر بیمار نہیں سمجھا جاتا تھا۔

میں صرف ان لوگوں کا علاج کرتی ہوں جن کا تشدد کسی قسم کی ذہنی بیماری سے متعلق لگتا ہے اور اس مخصوص گروپ میں، میں نے کچھ چیزیں دیکھی ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے کافی پریشان کن ماحول سے آتے ہیں، ان کے بچپن میں ان کے ساتھ مختلف قسم کے حادثات ہوئے ہوتے ہیں۔

خاص طور پر، بچپن میں ان کے ساتھ دائمی بنیادوں پر جسمانی تشدد ہوا ہوتا ہے اور وہ نظر انداز کیے گئے ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس قسم کے والدین کے ساتھ رہتے تھے جو ایک دوسرے کے خلاف تشدد کرتے تھے، جو منشیات استعمال کرتے تھے۔

یہ عوامل جوانی میں پرتشدد ہونے کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

قاتل عورتیں: کیا عورتیں بھی مردوں کی طرح ہی کی قاتل ہوتی ہیں؟

طبی کارکن کا 12 برس میں 100 لاشوں کا ریپ کرنے کا اعتراف

سیریئل کلر جس کے ’خفیہ پیغام‘ کی گتھی 51 سال بعد سلجھا لی گئی

مجرم نے خاتون کا پیچھا کیا اور قتل کے بعد لاش کے حصے مختلف جگہوں پر پھیلا دیے

دوسری چیز جو میں نے نوٹ کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دوسرے لوگوں سے تعلق رکھنے کی صلاحیت کھو دی ہے، یا ان میں یہ صلاحیت کبھی تھی ہی نہیں۔

سماجی تعلقات میں خوشی کی یہ صلاحیت ایسی چیز ہے جسے ہم اپنا حق سمجھتے ہیں۔

آپ یا میرے جیسے لوگ باہر جا کر کافی کا لطف اٹھا سکتے ہیں یا کسی کے ساتھ چہل قدمی کر سکتے ہیں۔ یہ صلاحیت اکثر ان لوگوں میں موجود نہیں تھی جن کے ساتھ میں نے کام کیا۔

جرم کا ارتکاب

آپ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگرچہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کم پرتشدد ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے

جی ہاں۔۔۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مردوں کے مقابلے خواتین بہت کم تشدد کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

اعداد و شمار ناقابلِ تردید ہیں، لیکن پھر یہ نوبل انعام جیتنے والا سوال کیوں ہے؟

جواب یہ ہے کہ بہت سے مختلف عوامل ہیں، لیکن دو پہلو ہیں جن میں میری خاص طور پر دلچسپی ہے۔

پہلا پہلو یہ ہے کہ کیا لڑکوں اور نوجوانوں میں مردانگی کی کچھ اقسام ہیں جو تشدد کے خطرے کو بڑھاتی ہیں؟

اور اس کے برعکس، کیا نسوانیت میں کوئی ایسی چیز ہے جو عورتوں کے لیے محافظ ثابت ہوتی ہے؟

میں نے خواتین کے ساتھ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ ان میں ظلم و ستم کرنے کی صلاحیت بھی مردوں سے بہت ملتی جلتی ہے۔

لہٰذا ظلم کرنے کی حد میں کوئی فرق نہیں ہے، فرق اس تعداد میں ہے جو بالآخر یہ عمل کرتی ہے۔

لہٰذا دلچسپ چیز یہ ہے کہ آپ ایک ذہنی حالت سے عمل کرنے کی حالت تک کیسے پہنچتے ہیں۔

جرم

کیا یہ کہنا درست ہے کہ لوگ جینیاتی طور پر بھی پرتشدد ہوتے ہیں؟

نہیں، یہ درست نہیں ہے۔ اس پر بہت ساری تحقیق ہوئی ہے اور اس بات کا قطعی کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ تشدد کے لیے بھی جینز موجود ہیں۔

نیورو ٹرانسمیٹر کے لیے کچھ جینز ہیں جو شاید کسی حد تک کسی شخص کو الجھن میں ڈالنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

موڈ کی خرابی کی کچھ جینیاتی نوعیت ہو سکتی ہے جو رسک میں تھوڑا اضافہ کر سکتی ہے، لیکن یہ تشدد کے خطرے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے.

ایک اور بات جو واضح ہو چکی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری جینز ہمارے تجربے سے بدلتی ہیں۔

ایک دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا بچپن میں بار بار صدمہ ملنے سے کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جس کا تعلق بعض نیورو ٹرانسمیٹرز کی جینز کے بننے سے ہے؟

یہ ایک تجرباتی سوال ہے، لیکن اگر آپ اسے ثابت بھی کر سکیں، تو یہ ایک پرتشدد فعل کے، جو کہ واقعی میں اہم نہیں ہے، کرنے سے بہت دور کی بات ہے۔

اگر ہم دنیا میں تشدد کو کم کرنا چاہتے ہیں تو ہم یہ لوگوں کی جینز کو دیکھ کر نہیں کریں گے، ہم یہ دیکھ کر کریں گے کہ لوگ کس طرح غصے میں آتے ہیں، کس طرح جھگڑتے ہیں، کس طرح ایک دوسرے کے ذہنوں کو سمجھنا شروع کرتے ہیں۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا کام متاثرین کے لواحقین کے کسی کام آ سکتا ہے؟

میں نے بہت سے لوگوں کے ساتھ کام کیا ہے جنھوں نے اپنے رشتہ داروں کو قتل کیا ہے۔ ان کے اکثر رشتہ دار ان سے ملنے ہسپتال آتے ہیں۔

جب کوئی شخص اپنے کسی دوسرے رشتہ دار کو مارتا ہے تو یہ پورے خاندان کے لیے تباہی ہے۔

میرا تجربہ یہ ہے کہ ان حالات میں بہت سے متاثرین ایک خاص اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کے رکن کو کوئی مدد مل رہی ہے۔

میں نے ٹراؤما کلینکس میں کام کیا ہے اور میں بہت ہی خطرناک تشدد کے شکار لوگوں کو جانتی ہوں جو امید کرتے ہیں کہ ان پر حملہ کرنے والے شخص کو بھی کوئی مدد ملے۔

لوگ اس بارے میں کافی فیاض واقع ہو سکتے ہیں، لیکن میں ایسے متاثرین سے بھی ملی ہوں جو بہت غصے میں بدلے کی آگ سے بھرے ہوئے تھے۔

اور میں یہ بھی سمجھتی ہوں، یہ میری بیوقوفی ہو گی اگر میں اس طرح کے رد عمل کو نا سمجھوں۔

جرم کا ارتکاب

اپنے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے آپ کیسا محسوس کرتی ہیں؟

افسوس، حد سے زیادہ افسوس۔

بطور معالج میرے تجربے نے لفظ المیہ کے معنی کو ایک نئی شکل دی ہے۔

المیہ ایک ایسی چیز ہے جو قدیم یونانیوں سے تعلق رکھتی ہے جس میں کوئی فرد ناقابل واپسی نتائج کے ساتھ ایک عمل کا ارتکاب کرتا ہے۔

اس طرح، آپ کبھی بھی وہاں واپس نہیں جا سکتے جہاں آپ پہلے تھے۔ زندگی میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جنھیں ہم بدل سکتے ہیں اور بہتری کی طرف جا سکتے ہیں، لیکن جب آپ کسی کو جان سے مارتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ نے پوری دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔

میرے خیال میں جب ایسا ہوتا ہے تو وہ ایک المیہ ہوتا ہے۔ یہ مرنے والے کے لیے اور اس کے قریبی افراد کے لیے ہے، لیکن یہ اس مجرم کے لیے بھی ہے کیونکہ وہ اب پہلے والی زندگی میں واپس نہیں آ سکتا۔

اس لیے سب سے زیادہ غالب احساس ہمیشہ دکھ اور گہرے سانحے کا احساس ہے۔

جرم

مریضوں کے ساتھ کام کرنے کے تجربے سے آپ نے کیا سیکھا؟

اچھی خبر یہ ہے کہ بہت سنگین تشدد، خاص طور پر دماغی بیماری والے لوگوں کی طرف سے، بہت کم ہوتا ہے۔

لیکن، اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے غیر معمولی ہونے کی وجہ سے ہم اسے بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

ہمیں ان مسائل تک پہنچنے میں وقت، کوشش اور پیسہ لگانا چاہیے جن کی وجہ سے لوگ پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں، کیونکہ جتنا ہم اسے بہتر سمجھیں گے، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ ہم مستقبل میں اسے روکنے کے لیے خود کو منظم کرنے کی کوشش کریں گے۔

ذاتی سطح پر، میرے مریضوں نے مجھے لوگوں کو بہتری کے لیے تبدیل ہونے کے بے پناہ امکانات سکھائے ہیں۔

جن لوگوں نے بہت خطرناک جرم کیے ہیں وہ بھی بہتری کے لیے بدل سکتے ہیں، لیکن یہ قیمت ادا کیے بغیر، اذیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

میں نے یہ سیکھا ہے کہ حقیقت میں بہت کم ہی لوگ ہیں جو اپنے ذہن کو بدلنے کی کوشش کرنے کے بعد بھی بدل نہیں سکتے۔

میں کچھ لوگوں کی اس ہمت سے بہت متاثر ہوئی ہوں جو اپنے تاریک ترین اور سب سے زیادہ خراب حالات کو دیکھنے کے لیے تیار ہیں، وہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں، اور میں سمجھتی ہوں کہ اس سے ہم سب کے لیے امید پیدا ہوتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24045 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments