اندور کے نوجوان نے ’لڑکی کو سبق سکھانے کے لیے‘ عمارت کو آگ لگا دی، سات افراد ہلاک


اندور
انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں سوارن باغ کالونی کی عمارت کو آگ لگانے والے ملزم نے گرفتاری کے بعد سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے۔

ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے یہ قدم ایک لڑکی کی وجہ سے اٹھایا جو اسے محبت میں بے وقوف بنا رہی تھی۔

اس واقعے میں سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے تھے۔

اندور پولس نے سنیچر کی رات ملزم شبھم کو گرفتار کیا۔ ملزم کو جب اس کے سامنے لایا گیا تو وہ زخمی تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم خود کو گرفتاری سے بچانے کی کوشش میں زخمی ہوگیا۔ مبینہ طور پر ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

پولیس حراست کے دوران ایک لڑکی نے ملزم کو تھپڑ مارا اور اس سے پوچھتی رہی کہ اس نے یہ قدم کیوں اٹھایا اور ’اس سے کیا ملا؟‘ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس ملزم کو تھانے سے لے جا رہی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ لڑکی اس خاتون کی بہن ہے جس سے ملزم محبت کرتا تھا۔

’حادثے سے شہر ہل گیا ہے‘

اس واقعے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا کیونکہ اس سے ان لوگوں کی جانیں گئیں جن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پولیس نے ملزم شبھم ڈکشٹ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پولس کمشنر ہری نارائن چاری نے کہا کہ ’پہلے پولس اسے شارٹ سرکٹ سمجھ رہی تھی لیکن جب سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی تو ایک شخص کو اس میں آگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ جس کے بعد تحقیقات کا رخ بدل گیا۔‘

اس کے بعد یہ سارا معاملہ سامنے آیا جس میں پتا چلا کہ مذکورہ شخص اس عمارت میں رہنے والی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا اور اس کی شادی کہیں اور ہو رہی تھی، پھر اس نے یہ قدم اٹھایا۔

اندور

یہ واقعہ جمعے کی رات دیر گئے انصاف پٹیل کی عمارت میں پیش آیا۔

پولیس حکام نے یہ بھی بتایا کہ ان دونوں کے درمیان کچھ عرصہ قبل جھگڑا ہوا تھا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے نہیں سوچا تھا کہ یہ آگ اتنی بڑھے گی اور بہت سے لوگ لقمہ اجل بن جائیں گے۔ وہ صرف لڑکی کی گاڑی کو جلانا چاہتا تھا۔

’لڑکی کو سبق سکھانے کے لیے عمارت میں آگ‘

شبھم جھانسی کا رہنے والا ہے اور پچھلے ایک سال سے اندور میں رہ رہا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ پرائیویٹ نوکری کرتا تھا۔ انھوں نے پچھلے ایک سال میں کئی جگہوں پر کام کیا ہے۔ وہ چھ ماہ تک اسی عمارت میں رہا اور اس کے بعد لڑکی سے جھگڑا ہوا اور پھر وہ وہ عمارت چھوڑ کر چلی گئی۔

جھانسی میں اس کے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی دستیاب نہیں ہوا۔ میڈیا نے جب شبھم سے سوال کیا تو اس نے صرف اتنا کہا کہ اس نے ایک لڑکی کو سبق سکھانے کے لیے ایسا کام کیا ہے۔

وہیں سٹیشن انچارج تہذیب قاضی نے کہا کہ ’معاملہ سامنے آنے کے بعد پولیس اس کی تلاش میں تھی، اس کا موبائل بھی کام کر رہا تھا، اس دوران وہ لوگوں سے بات کر رہا تھا، اس کے مقام پر پہنچنے پر وہ پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔‘

پولیس کے مطابق واردات کو انجام دینے کے بعد بھی وہ تمام معلومات لے رہا تھا کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔ پولیس کی معلومات کے مطابق، سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ رات تقریباً تین بجے اس عمارت کی پارکنگ میں موجود تھا اور اس نے اسی سکوٹی سے پیٹرول نکالا، پھر اسے آگ لگا دی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: اجتماعی ریپ کی شکایت درج کروانے والی لڑکی سے تھانیدار کا مبینہ ریپ

ہندو مسلم شادی: حیدرآباد میں لڑکی کے بھائی نے ’دلت نوجوان کو قتل کر دیا‘

انڈیا: آسام کی وہ سب انسپکٹر جنھوں نے اپنے ہی منگیتر کو جیل بھیج دیا

انڈیا کا ڈھوکو رواج: برسوں تک لِو اِن تعلق کے بعد سرپنچوں کی اجازت سے شادیاں

اندور

وزیر اعظم مودی نے بھی غم کا اظہار کیا

وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرنے والوں کو چار چار لاکھ روپے کے معاوضے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی دیا۔ پولیس اس معاملے میں عمارت کے مالک کے خلاف کارروائی کرنے والی تھی کیونکہ ان کے پاس آگ کو روکنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ لیکن بعد میں سارا معاملہ دوسری طرف چلا گیا۔

شہر کی وجے نگر پولیس نے شبھم ڈکشٹ کے خلاف قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کیا اور رات دیر گئے ایک بڑے ہسپتال میں اس کا میڈیکل کرایا۔

اس واقعے میں مرنے والوں میں ایشور سنگھ سسودیا، ان کی بیوی نیتو سسودیا، آشیش، گورو، آکانکشا، دیویندر اور سمیر شامل ہیں۔ زخمیوں کا پرائیویٹ اسپتال میں علاج جاری ہے۔ آگ اتنی شدید تھی کہ وہاں رہنے والے لوگوں کو بچ نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ وہاں جو سڑک تھی وہ مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں تھی۔

زخمیوں نے بتایا کہ رات کو آگ کی تپش سے ان کی نیندیں اُڑ گئیں۔ آگ کے شعلے اتنے زوردار تھے کہ اس کی سانسیں رک گئیں۔ کسی طرح اس نے خود کو بچا لیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24055 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments