خمیازہ


سیاسی حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ کیوں نکالا سے لے کر اس لئے نکالا تک کا سفر کچھ زیادہ ہی مہنگا پڑ رہا ہے۔ سب سے بڑے صوبے میں آئینی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کی سمری دو دفعہ صدر مملکت سے مسترد کردی، جس کے نتیجے میں وزیراعظم نے ازخود عمر سرفراز چیمہ کو گورنر پنجاب کے عہدے سے برطرف کر کے اپنی پارٹی کے سابق وفاقی وزیر انجینئر بلیغ الرحمٰن کو گورنر پنجاب مقرر کر دیا ہے۔ دوسری طرف عمر سرفراز چیمہ عہدہ چھوڑنے کو قطعی تیار نہیں ہے، صدر مملکت کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ آئینی عہدوں پر ہٹ دھرمی کی سیاست مزید اندھیروں کی طرف لے جا رہی ہے۔

دوسری طرف آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کی جا رہی ہیں۔ بجلی کے نرخ ویسے ہی ہر مہینے بڑھ رہے ہیں۔ پیٹرول کی قیمت 150 روپے سے اب 200 تک پہنچنے کی قوی امید ہے۔ خیر سے اگلے ماہ بجٹ بھی پیش ہونے والا ہے، اب تو اللہ ہی حافظ ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے فوج کے خلاف ڈائریکٹ، ان ڈائریکٹ بیانات سامنے آرہے ہیں۔ جس پر فوج کی اعلیٰ اور سابقہ قیادت میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان میں حکمرانی کا زینہ اسٹیبلشمنٹ ہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کر کے حکومت حاصل کرنا دیوانے کا خواب ہے۔ میاں صاحب بھی جب جب حکومت میں آئے اسی کے کندھے پر چڑھ کر آئے، اور جب انہوں نے فوج کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی تو اقتدار سے باہر کر دیے گئے۔ زرداری صاحب کا اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان ہو یا بانی متحدہ کا فوج مخالف بیان دونوں ہی کو کئی عرصے تک اپنے بیانات کی وجہ سے مقتدرہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا اور پھر بالآخر معافی تلافی کر کے جان چھوٹی۔

مریم نواز شریف تو ڈائریکٹ فوج پر ہرزہ سرائی کرتی رہی ہیں، مگر نا اہل ہونے کی وجہ سے سیاسی عہدہ کبھی نہیں رکھ سکتیں شاید اس لئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کسی ناراضگی کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا اور اسی لئے وہ اپنے حالیہ آخری جلسے میں بھی سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر ڈائریکٹ حملے کرتی رہیں۔

پہلے سیاست مقدس سمجھی جاتی تھی اب گندی سمجھی جاتی ہے۔ کسی کو نہیں پتہ کس کی کب کہاں ویڈیو ریلیز کردی جائے۔ سائنس نے اتنی تو ترقی کر ہی لی ہے کہ ویڈیوز کے اصلی یا نقلی ہونے کا پتہ لگایا جاسکتا ہے، مگر اس وقت تک کردارکشی کی تمام حدیں عبور ہو چکی ہوتی ہیں۔ عزت ایک بار چلی جائے تو پھر کبھی نہیں آتی۔ (یہ مثل صرف شرفاء کے لیے ہے سیاستدانوں کے لیے قطعی نہیں)۔ سیاسی جماعتوں نے جو سوشل میڈیا ونگ قائم کیے ہیں اس میں موجود لوگوں کی اخلاقی تربیت اور نفسیاتی کونسلنگ کی اشد ضرورت ہے۔

شرفاء سے یاد آیا ہمارے یہاں متمول طبقے کو شرفا ہی کہا جاتا ہے، کیسی نا انصافی ہے کہ جو حرام کھائے، بجلی اور ٹیکس چوری کرے، غبن کرے، فراڈ کرے وہ شرفا کہلاتے ہیں اور جو بھوک سے مجبور ہو کر روٹی چرا  لے وہ چور کہلاتا ہے اور قانون کی نظر میں دنیا کا سب سے بڑا گنہگار وہی ہوتا ہے۔ جہاں پر دو طرح کے قانون اور نظام ہوں وہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کفر کی حکومت تک قائم رہ سکتی ہے ظلم کی نہیں۔ مگر یہ ظلم ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے مٹنے کا نام نہیں لے رہا۔

عمران خان نے حکومت کے دنوں میں ایک بات کہی تھی اگر مجھے اقتدار سے محروم کیا گیا تو میں ان کے لئے اور زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ ”کھیلوں گا نہیں تو کھیلنے بھی نہیں دوں گا“ مگر اندرون خانہ این آر او کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مسلسل نظر اندازی کا سامنا ہے۔ امت مسلمہ کا کیس لڑنے والا اگر کرپشن کے الزام کی حامل فرح گوگی کا کیس لڑنے لگ جائے تو پھر سمجھ جانا چاہیے کہ دال میں کچھ کالا ہے یا پوری دال ہی کالی ہے۔

فرح گوگی سے یاد آیا، کسی زمانے میں ایک کردار تھی ماڈل ایان خان۔ اس کے کیس کا فیصلہ بھی آج تک نہیں ہوسکا۔ لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ آہستہ آہستہ تمام کیسز سے بری ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم حسین کیس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ آغا سراج درانی کو دو سال تک جیل میں رکھنے کے باوجود اور شرجیل انعام میمن کیس کا فیصلہ نہ ہونا ہمارے عدالتی و قانونی نظام پر زوردار طمانچہ ہے۔ اگر جب کوئی کیس بن ہی نہیں پا رہا تو چیف جسٹس صاحب کو چاہیے کہ ان افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے، جنہوں نے انہیں گرفتار کیا اور جھوٹے دعوے کیے ۔ مگر کیا کریں یہاں تو ایک حمام میں سب ننگے ہیں۔ کس کے خلاف کون کارروائی کرے؟ یہ کبھی نہ حل ہونے والا سوال ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف بھی بڑے ہی شاطر سیاستدان ہیں وہ جانتے ہیں کہ عوام کو کس طرح اپنی مٹھی میں کرنا ہے۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے ہوں یا آٹا سستا کرنے کے لیے اپنے کپڑے بیچنے کا ۔ بھولے اتنے ہیں کہ کپڑے بیچنے کا تو خیال ہے، مگر اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا کچھ علم نہیں۔ اور ہمارے عوام بھی بڑے ہی بھولے ہیں، وہ ایسی چکنی چپڑی باتوں میں آ جاتے ہیں اور اقتدار سونپ دیتے ہیں۔ سبز باغ دکھا کر 75 سال سے اس ملک کو لوٹا ہی جا رہا ہے، ہم واحد قوم ہوں گی جو ترقی کرنے کے بجائے مسلسل تنزلی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسی تنزلی اور پستی جس کی گہرائی کا کوئی اندازہ نہیں۔ جو نسل اس جہالت کی بنا پر تیار کی گئی ہے وہ ہائیڈروجن بم ہے، جس سے تابکاری شعائیں نکل کر ماحول کو خراب کرچکی ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ یہ بم نہ پھٹے، ورنہ اس کے نتیجے میں جو تباہی ہوگی اس کا خمیازہ صدیوں تک اس قوم کو بھگتنا پڑے گا۔

Latest posts by ذیشان یاسین تاجی (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments