روداد سفر حصہ 21


ایوو شہر میں اس وقت تک سڑکوں پر گاڑیوں کا ایک ہجوم ہوتا تھا۔ اور حالت یہ ہوتی تھی کہ بندہ سوچتا کہ گاڑی کی بجائے پیدل ہی جلدی پہنچ جاؤں گا۔ اس کا بہترین حل موٹر سائیکل ہے جسے کسی کونے کھدرے سے نکال کر لے جائیں۔ لائسنس حاصل کرنے کے بعد میں نے ایک ون ٹو فائیو موٹر سائیکل خرید لیا۔ اور اس پر سفر کرنے کے بعد ایوو کا شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جو مجھے زبانی یاد نہ ہو۔ کہ اس روڈ پر رش ہے تو اس گلی سے نکل کر دوسرے روڈ پر چڑھ جائیں گے۔

یوں میری بھی وہ بات ہو گئی کہ ”او کہڑی گلی جتھے بھاگو نہ کھلی“ ( وہ کون سی گلی ہے جہاں بھاگو نہیں گئی ) ۔ میرے دوست مجھے فون کر کے پوچھتے کہ اس مقام پر کھڑا ہوں اب یہاں سے مطلوبہ مقام پر کیسے جاؤں۔ میرے ایک عزیز عدیل شیخ صاحب ایوو آئے اور ایک ماہ میرے ساتھ رہے۔ پھر صبح سویرے ہم دونوں موٹر سائیکل میں تیس یوآن کا چار لیٹر پیٹرول ڈلوا کر نکل جاتے اور صبح سے لے کر شام تک ایک کونے سے دوسرے کونے تک گھوم جاتے۔

ہم نے ایوو شہر تو کیا اردگرد کا گاؤں بھی کوئی نہ چھوڑا۔ ایک دن ہم ایک پرفیوم گلاس بوتل پر پرنٹنگ کی فیکٹری ڈھونڈنے نکلے تو ایسے روڈ پر آ گئے کہ دور دور تک کوئی بندہ نہ بندے دی ذات۔ عدیل بھائی کہنے لگے یہاں ہمیں کوئی بیچ دے تو کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا پھر خود ہی کہتے ہیں ویسے ہمیں خرید کر کسی نے کرنا کیا ہے۔ میں نے کہا جگر، گردے، دل کو بیچ کر منافع کما لے گا۔ بہ بھی تو چائنا میں بہت بڑا کاروبار ہے۔ خیر اس موٹر سائیکل نے ہمارا بہت ساتھ دیا اور ہمیں ایوو شناسا بنا دیا اور کیفیت یہ ہوتی کہ جیسے یہ میرا اپنا شہر ہے اس کی گلی گلی میری اپنی ہے۔ چائینز سے بھی صرف میں فون پر ایڈریس پوچھ کر پہنچ جاتا۔

اسی موٹر سائیکل پر میں، بیوی اور حنا بیٹی کے ساتھ جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے جاتے تھے۔ میں صبح کام پر نکلنے سے پہلے بیوی سے پوچھ لیتا تھا کہ جمعہ کی نماز کے لیے جانے کا پروگرام ہے، پھر گھنٹہ پہلے آ کر اسے ساتھ لے جاتا۔ بیٹی میرے ساتھ مردوں والے پورشن میں آ جاتی اور بیوی پیچھے عورتوں والے حصے میں۔ وہاں مسجد میں بچے ایک طرف سے دوسری طرف بھاگ رہے ہوتے اور کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ جیسے ہمارے ہاں تو سب کے چہرے ہی اتر جاتے ہیں کہ بچے مسجد میں شور کر رہے ہیں۔ بلکہ میرے ایک دوست سپیشل کال کرتے کہ تم حنا بیٹی کو مسجد لے کر آؤ گے کہ میری بیٹی کہہ رہی ہے کہ وہ حنا کے ساتھ مسجد میں کھیلے گی۔

ایک دن جمعہ کی نماز کے بعد باہر نکلے تو میری بیوی کا موڈ کچھ خراب تھا۔ گھر پہنچ کر پوچھا کیا ہوا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں بھی کسی کام سے نکل گیا۔ شام واپس آیا تو بھی وہی حالت۔ پھر میں نے پوچھا بتاؤ تو سہی ہوا کیا۔ سخت غصے کی حالت میں بتایا کہ کیسی نا انصافی ہے کہ ہم عورتیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں اور جگہ اتنی تنگ کہ کبھی کبھار تو سانس لینا بھی مشکل ہو جاتی ہے اور عورتوں کے ساتھ بچے بھی ہوتے ہیں وہ بھی اتنی تنگ جگہ پر گھبراہٹ سے رونے لگتے ہیں۔

اور تم مردوں کے لیے اتنا بڑا ہال ہے اور اس میں کافی جگہ خالی بھی موجود ہوتی ہے۔ اوپر سے کچھ بوڑھیاں جگہ گھیر کر بیٹھی ہوتی ہیں اور انہیں دوسروں کا خیال بھی نہیں ہوتا۔ اور ساتھ ساتھ ہم نو مسلموں پر نکتہ چینیاں بھی کرتی رہتی ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہمیں پیار اور تدبر سے کوئی غلطی سمجھیں یہ بس اپنی قابلیت جھاڑتی رہتی ہیں۔ جیسے یہ کوئی خدا کی نمائندہ ہیں اور ہم کمی کمیں۔ میری بیوی ماریا نے کہا میں نے اب مسجد نہیں جانا مجھے انہیں دیکھ کر ہی کوفت ہوتی ہے۔

ان کا رویہ تو بالکل وہ انڈین ڈراموں والا ہوتا ہے ہر وقت حکم چلانا۔ پہلے تو مجھے بھی سمجھ نہیں آئی کہ کیا وضاحت کروں۔ خیر میں نے کہا تم آرام سے بیٹھو میں چائے بناتا ہوں پھر دونوں بیٹھ کر اسے ڈسکس کرتے ہیں۔ ویسے عام طور پر چائے میری بیوی ہی بناتی اور بہت اعلی اور زبردست چائے۔ اس نے کہا میں بناتی ہوں میں نے کہا نہیں میں بناؤں گا اور کچن چائے بنانے چلا گیا۔

مسئلہ چائے بنانے کا نہیں تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ میں کچھ وقت چاہتا تھا کہ سارے معاملے پر غور کر کے کوئی بہتر الفاظ تلاش کروں جس سے اس کی تسلی ہو جائے۔ یہ معاملات اکثر جگہ دیکھنے میں آتے ہیں کہ پرانے مسلمان اسی علاقے کے نئے مسلمان ہونے والوں پر اپنی برتری کا رعب جھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے یہ دین ہماری ملکیت ہے اور یہ ہماری عنایت ہے کہ ہم تمہیں اس میں شامل کر رہے ہیں لیکن جونئیر بن کر رہو اور تمہیں ہمارے کہے پر چلنا ہو گا۔

دوسرا ایک علاقے والے کیونکہ عرصے دراز سے ایک دوسرے کو جاننے ہوتے ہیں اس لیے شاید پرانے والوں کو اپنی پارسائی کے کھل جانے کا ڈر بھی ہوتا ہو۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نسلی تعصبات ہوں جو صدیوں سے موجود ہوتے ہیں جس میں دوسرے کو اپنے ساتھ برابر کا تسلیم کرنا بہت ہی برداشت والا کام ہوتا ہے۔ اور جن علاقوں میں کسی دور میں مذہب کی بنیاد پر جنگیں بھی رہی ہو وہاں اور بھی مشکل بلکہ بعض دفعہ ناممکن۔

چائنا میں حکومت مذہب کی بجائے نسل کی بنیاد پر مردم شماری کرتی ہے تو مسلمانوں کی پہچان نسل کے حوالے سے بھی ہے کہ ہوئی نسل والا مسلمان ہو گا اور ہان نسل والا غیر مسلم۔ پھر ہوئی ( Hui ) نسل والے مسلمان ہان نسل کے شخص کو تبدیلی مذہب کے بعد بھی مشکل ہی سے قبول کرتے ہیں۔ خاص کر کمیونسٹ انقلاب سے پہلے جن علاقوں میں ان کی آپس میں لڑائیاں ہوتی رہی تھیں وہاں تو اس بات کو عجیب بھی سمجھا جاتا ہے۔

خیر باہر نکلا اور ساتھ اسے بٹھایا اور بتایا کہ درحقیقت یہ ان کی عمر کا تقاضا ہے کہ انسان ایسے ردعمل کا اظہار کرتا ہے اور ہمیں ان کی باتوں پر ایسے توجہ نہیں دینی چاہیے۔ پھر ہم مسجد کیوں نہ جائیں، کیا یہ مسجد ان کی جاگیر ہے۔ جتنا خدا ان کا ہے اتنا ہی ہمارا ہے۔ آئندہ اگر کسی نے کچھ ایسی بات کی تو اسے کہنا کہ میں اپنا حساب خدا کو خود دوں گی۔ تمہاری مدد کی ضروری نہیں پڑے گی۔ جو مسئلہ ہوا میں اپنے شوہر سے پوچھ لوں گی۔

انہیں نسلی مسلمان ہونے کی حیثیت سے کوئی برتری حاصل نہیں بلکہ اگر کوئی برتری بنتی ہوتی تو تمہاری بنتی ہے۔ تمہاری نسبت رسول اللہ ﷺ کے اصحاب اکرام سے بنتی ہے جو سب سے پہلے پرانا مذہب تبدیل کر کے ہی اسلام میں داخل ہوئے یعنی وہ بھی تمہاری طرح شروع میں نو مسلم ہی تھے جنہوں نے اس مذہب کو قبول کیا اس دین کو سمجھا اور اس کا دفاع کیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ بھی نارمل ہو گئی لیکن یہ ایک بات ذہن میں رہ جاتی ہے اور انسان کو یاد آتی رہتی ہے۔

شاید ان پرانے مسلمانوں کو ایک بیماری لاحق ہے کہ ان کے پاس بس ایک حاکمانہ ذہن ہے کہ کوئی بات تدبر سے سمجھانے کی بجائے حکم چلاتے ہیں اور اسلام اور خدا کو اپنی ملکیت تصور کرتے ہیں اور نو مسلموں کے ساتھ ان کا رویہ حاکمانہ ہی ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ نو مسلم اسی دن سے ہی اسلام قبول کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے علاقائی کلچر کو بھی قبول کرے اور یہ نسلی مسلمان کلچر کو بھی مذہب کی طرح لازم سمجھتے ہیں۔ سر جیفری لانگ اسی رویے کا ذکر کرتے ہیں جس کی وجہ سے کئی نو مسلم تو کیا خود مسلمانوں کی نئی نسل ہی اس دین سے متنفر ہو کر بھاگ رہی ہے۔

یہاں تک کہ جو امریکہ کی مسلمان آبادی کا پچھتر فیصد پیدائشی مسلمان ہیں وہ مسلمانوں کے اجتماعات یعنی مسجد سے غیر متعلق ہو گئے ہیں۔ اور ایسا بھی ہوا کہ چار غیر مسلم طالبعلم لڑکیوں نے اکٹھے اسلام قبول کیا اور چاروں فجر اور عشاء کی نماز کے لیے مسجد جاتی تھیں تاکہ اس وقت خاموشی کے ماحول میں قرات قرآن امام سے سن سکیں۔ پھر کچھ پرانے مسلمانوں نے ان کے مسجد آنے پر اعتراض کیا تو یہ متنفر ہو گئیں اور ان میں سے تین واپس ماضی میں لوٹ گئیں۔

ہم نسلی مسلمانوں کی حالت فقہ نے یہ کر دی ہے کہ ہم صرف حکم حکم اور حکم جانتے ہیں۔ حالانکہ اگر اللہ کی کتاب کو دیکھا جائے تو صرف تقریبا تین فیصد وہ آیات ہیں جن میں احکامات ہیں ستانوے فیصد یہ خدا کی وحدانیت، اس کے ہونے کے دلائل، آفاق و انفس پر غور و تدبر، ایک دوسرے سے اچھے سلوک، گزشتہ اقوام کے احوال پر مبنی ہے اور ہم نے اسے صرف احکامات کی کتاب بنا لیا۔ اوپر سے ہر جمعہ کو امام مسجد کا خطبہ بھی صرف حکم حکم اور حکم پر ہوتا ہے۔

یہ تمام باتیں ہمیں پاکستان کی مساجد بھی بھی نظر آتی ہیں جہاں چھوٹے بچے جو مسجد میں شوق سے آتے ہیں بڑے بوڑھے ان کی حوصلہ افزائی کی بجائے انہیں پچھلی صفوں میں دھکیل دیتے ہیں اور پھر وہ دل برداشتہ ہو کر مسجد کے دروازے سے باہر ہی نکل جاتے ہیں۔

یہ سب کچھ ہونے کی ابتدا میری نو مسلم بیوی کے ساتھ بھی شروع ہو گئی تھی۔ وہ تمام باتیں جو کلچر سے تعلق رکھتی تھی جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں تھا پرانی مسلمان خواتین اس کے اوپر لادنے کی کوشش کرتی اور اس شکل کے ساتھ کہ یہی خدا کو اصل مقصود ہے کہ وہ مسلمان عورت کو ایسا دیکھنا چاہتا ہے۔ یعنی ایک بات کو دین کی حیثیت سے اپنے اوپر لادنا جسے اللہ نے لازم نہیں کیا۔ اور لادنا بھی اس نیت سے کہ دیکھنے والے انہیں ظاہر میں متقی اور مقرب خیال کریں۔

کاش اسلام کے ساتھ ساتھ خدا ہمیں عقل و تدبر بھی دے دیتا۔ کہ ہم ان پرخلوص نو مسلموں کے ساتھ ساتھ اپنی نوجوان نسل کو بھی بچا سکیں۔ اور انہیں اتنا حوصلہ دیں کہ وہ اپنے دین کے بارے میں باہر سے ایک تصور قائم کرنے کی بجائے یا شکوک و شبہات کو اپنے تک محدود رکھنے کی بجائے ہم سے ڈسکس کریں اور انہیں کسی فتوے کا ڈر نہ ہو۔ جہاں فتوے، دھمکی کا ڈر ہوتا ہے اور حاکمانہ رویے کا خدشہ ہوتا ہے وہاں یہ نسل شکوک و شبہات کو خود تک محدود رکھ کر اپنے خول میں بند ہو جاتی ہے اور لاتعلقی اختیار کر لیتی ہے۔

پھر اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ آپ اسے مسلم کہیں یا غیر مسلم۔ خدا اور دین اس کے لیے غیر اہم ہو جاتا ہے اور وہ اپنے لیے اور سہارے ڈھونڈنے نکل جاتے ہیں اور یا فرسٹریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی رد عمل کا اظہار مختلف صورتوں میں سامنے آتا رہتا ہے جیسے کہیں سے خبر آتی ہے کہ ایک عورت نے نماز کی امامت کروائی، جسے ہم لوگ اسلام کے خلاف سازش کہہ کر خود کو تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ عورتیں جو معاشرے کا پچاس فیصد ہیں مساجد میں ان کی حاضری نہ ہونے کے برابر جیسے وہ خدا کی پسندیدہ نہیں۔ اور دوسرا جہاں عورتوں کے لیے مسجد میں جگہ موجود بھی ہے وہ بھی اتنی تنگ کہ جسے آپ مجبوری ہی کہہ سکتے ہیں۔ یہ اسی کا ردعمل ہے۔

جیسے جیسے ایسے واقعات بڑھتے جا رہے تھے ویسے ویسے میری بیوی کا مذہب کے متعلق رویہ اور لہجہ تبدیل ہوتا جا رہا تھا۔ یہ ہر ایک نو مسلم کے پاس تصور ہوتا ہے کہ مسجد میں سارے فرشتے بیٹھے ہوتے ہیں اور جیسے ہی وہ وہاں جائیں گے وہ بڑی اپنائیت اور لگاؤ کے ساتھ ان سے سلوک کریں گے اور اپنی سوسائٹی میں داخل ہونے پر خوش آمدید کہیں گے۔ لیکن ہو اس کے الٹ رہا تھا اور یہ بات میرے لیے تشویش کا باعث بننا شروع ہو گئی۔

Latest posts by شاکر ظہیر (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments