غداری کا نقصان دہ کھیل

آپ کسی بھی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرتے ہیں۔ میں آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور دیکھتا رہوں گا۔ کیونکہ پاکستان میں اس بڑھتے ہوئے سیاسی شعور کو دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے۔ لیکن اس سیاسی شعور میں بہت سی قباحتیں بھی جنم لے رہی ہیں۔ جیسے کہ اب ہر جماعت والا دوسری جماعت والے کے لیے غدار اور ملک دشمن بن چکا ہے۔ کیونکہ اب اس سیاسی پاکستان میں ذرا سی مختلف رائے رکھنے والے کو غدار قرار دیتے اور پھر اس کو دہراتے ہوئے لمحہ موجود کو بالکل بھی ضائع نہیں کیا جاتا۔ اور اب تو روزانہ کی بنیاد پر چہار جانب سے ہر سیاسی جماعت کے برج اور میناروں پر سے غداری کے سرٹیفیکیٹ کے اعلانات ہوتے ہیں۔
ایسے گھٹن زدہ ماحول میں کھٹکا سا رہتا ہے کہیں ہمارے یمین والا ہاتھ یسار والے بازو کو غدار نہ قرار دے دے۔ بقول فیض صاحب
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا
بشکریہ ہماری ریاست کی فیصلہ کن طاقتیں وطن عزیز میں تو غداری کے سرٹیفیکٹ سے خوف تو بہت پہلے ہی ختم ہو چکا تھا۔ لوگ اس کو تمغہ قرار دے کر چھاتی پر سجانا بہتر سمجھتے تھے۔
لیکن تب ایسا تھا کہ بلڈی سویلین غداری کا سرٹیفیکیٹ کسی کو نہیں تھما سکتے تھے۔ یہ سہولت چنیدہ لوگوں کو ہی دستیاب تھی۔ اب تو شہر کا شہر اس کھیل میں باؤلا ہو رہا ہے۔ راقم کو مسلسل یہ خوف کھائے جاتا ہے کہ کہیں مملکت خدا داد کا قومی کھیل ہاکی سے بدل کر غداری نہ کر دیا جائے۔ کیونکہ ہاکی تو اب ہم صرف مخالف رائے رکھنے والے کی ٹانگیں توڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن غداری کا کھیل نہایت جوش و خروش سے سر انجام دیتے ہیں۔ کیونکہ اب بلڈی سویلین بھی ”سر جی“ کی برابری کر رہے ہیں۔
تو اے اچھے لوگو! آپ سے ہاتھ جوڑ کر مودبانہ التماس ہے گر مانو تو سیاسی شعور بہت اچھی بات ہے۔ سیاسی شعور نوجوانوں میں ہونا بھی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ایسا شعور ملک کے لیے زہر قاتل ہے جس میں آپ اپنے لیڈر کے گوبر کو بھی کیک ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہوں اور دوسرے کے کیک کو بھی گوبر بنا رہے ہوں۔
ایک دوسرے کے ساتھ دوستی بالکل نہ خراب کیجئے۔ بلکہ اکٹھے بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے مکالمہ کیجئے۔ دلیل کے جواب میں دلیل دیجئے اپنی بات سمجھانے کے لیے نہ کہ دلیل کا مقصد سامنے والے کو ذلیل کرنا ہو۔ ایسا سازگار ماحول بنائیے کہ مخالف سیاسی نظریات رکھنے والے بھی آپ کے ساتھ بیٹھ کر خود کو محفوظ محسوس کرتے ہوئے اپنی بات رکھ سکیں۔ اور ان کی بات آپ کو اچھی لگے یا بری ان کا تمسخر اور ٹھٹھا مت اڑائیے۔ کیونکہ یہ جمہوریت کا حسن ہے ناں کہ ”اختلاف رائے پر اتفاق کر لیا جائے۔
آخر پر اتنا ہی کہنا چاہوں گا۔ سیاسی شعور اور سیاست میں دلچسپی اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی پرانی غلطیاں کو ماننا اور اس پر شرمندہ ہونا بھی بڑی بات ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں ریاستی طور پر ”بنگلہ دیش“ سے بحیثیت مجموعی گھٹنوں پر بیٹھ کر معافی مانگنی ہو گی۔ کہ ہم لوگوں نے آپ کے ساتھ ظلم کیا۔ دوسرا ہمیں بلوچستان کے مسائل حل کرنے پر نہایت سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔ ہمیں بلوچستان تو چاہیے لیکن وہاں کیا مسائل ہیں ہمیں علم ہی نہیں ہو پاتا یا ہم جان بوجھ کر لاعلم رہنا پسند کرتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں بلوچستان والے ہمارے بھائی ہیں۔ ہمیں آج تک یہ نہیں معلوم ہو سکا انہیں جب ہم ”بلوچی“ کہتے ہیں تو ان کی کتنی دل آزاری ہوتی ہے۔ وہ ”بلوچی“ نہیں بلکہ ”بلوچ“ کہلوانا پسند کرتے ہیں۔
جاتے جاتے ریاست کے غداروں کی فہرست لگا رہا ہوں۔ آپ کچھ جمع تفریق کرنا چاہیں تو فہرست میں کمی بیشی ضرور کیجئے گا۔ پیش خدمت ہے غدار قوم و ملت کی فہرست اگر کوئی نام رہ گیا ہو تو برائے مہربانی شامل کروا دیں۔
شیخ مجیب الرحمن
محترمہ فاطمہ جناح
محترمہ بینظیر بھٹو
اکبر بگٹی
محمود اچکزئی
باچا خان
ولی خان
غوث بخش بزنجو
محترمہ عاصمہ جہانگیر
حامد میر
منظور پشتین
نواز شریف
نجم سیٹھی
علی وزیر
نواب خیر بخش مری
سردار عطا اللہ مینگل

