غلامی نامنظور کا نعرہ، عمران خان اور ذوالفقار علی بھٹو
یہ بات واضح ہے کہ عمران خان نئے الیکشن کے محاذ میں عوام کے پاس اپنی چار سالہ کارکردگی کے بجائے ً غلامی نا منظور ”کے بیانیے کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔
عمران خان کے ”غلامی نا منظور“ کے نعرے کی حقیقت جاننے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ”غلامی“ آخر کیا ہوتی ہے اور اس کا عمران خان کے بیانیہ سے کیا تعلق ہے۔
غلامی ”درحقیقت انسانی تاریخ کے اس سماجی و معاشی“ نظام کی یادگار ہے جب معاشرے صرف دو طبقات ”آقا اور غلام“ میں بٹے ہوئے تھے۔ غلاموں کا اپنی محنت، اپنی ہی تخلیق کی گئی پیداوار، اپنے رشتوں اور اپنی زندگی پر کوئی حق نہ تھا۔ علم و فن، تفریح اور طبی سہولیات ان کے لیے ممنوع تھیں۔ ذہن اور زبان پر پابندی تھی۔ حتٰی کے غلاموں کی زندگی کو چھین لینے کا حق بھی آقاؤں کے پاس تھا۔ غلام محض ایک ذاتی ملکیت تھا۔ جدلیات کے اصول کے تحت اکثر انسانی معاشرے انقلابات سے گزر کر آج اس مقام پر ہیں جہاں غلامی اپنی قدیم روایتی کلاسیکل شکل میں تو موجود نہیں مگر کسی نہ کسی صورت بہرحال موجود ہے۔
پاکستانی معاشرہ اور معاشی نظام جاگیرداری، قبائلی اور بدترین سرمایہ داری نظام کا ملغوبہ ہے جہاں عام عوام، کسان، مزدور، فیکٹری مزدور، ڈیلی ویجر مزدور، دفاتر میں نسبتاً بہتر نظر آنے والے ذہنی و قلمی مزدور، سب کے سب اپنی تخلیق کردہ پیداوار اور منافع کے ثمر سے محروم ہیں۔ اپنی اولادوں کو اعلٰی تعلیم تربیت فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ پینے کا صاف پانی صحت مند غذا اور طبی سہولیات ان کے لیے کسی عیاشی کی مانند ہیں اور دور حاضر میں اگر کوئی قوم اس صورت حال سے دوچار ہو تو اسے ”غلامی“ ہی سمجھنا چاہیے۔
اس صورت حال میں اب اگر خان صاحب نے اس قوم کو غلامی سے آزاد کرنے کا بیڑا اٹھا ہی لیا ہے تو ہم خان صاحب کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ”قوم“ تحریک انصاف میں شامل اشرافیہ کا نام نہیں۔ اگر آپ اور اپ کے وفادار موجودہ بیان کی گئی غلامی کا شکار نہیں ہیں تو خدا آپ پر مزید کرم کرے مگر قوم واقعی استحصالی طبقات کی ”غلام“ ہے۔ بہت ہی اچھا ہو کہ لگے ہاتھوں خان صاحب قوم کو آزاد کرانے کے لیے اپنے پروگرام میں جاگیرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کر کے لاکھوں کسانوں کو جاگیرداروں سے آزادی کی نوید سنائیں، لیبر لاز کے نفاذ کا اعلان کر کے کروڑوں محنت کشوں کو مٹھی بھر سرمایہ داروں سے حقیقی آزادی کا عندیہ دیں۔
انسانی اسمگلنگ، چائلڈ لیبر پر کوئی بھی سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کریں، علم و فن کو کاروباری شکنجے سے آزاد کرانے کا اعلان کریں۔ طبی سہولیات کو بنیادی حق قرار دیں۔ اعلان کریں کہ اب خان کے آزاد پاکستان میں اختلاف رائے پر ”پلٹ کر جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا“ والا رویہ ً غلامی کی نشانی سمجھا جائے گا۔ خان صاحب تحریک انصاف کے جلسوں میں ٹانگیں ٹیڑھی کر کے سیلفیز لیتی خواتین کو یہ بتائیں کہ خواتین کو معاشرے میں تعلیم و روزگار اور گھر سے لے کر پارلیمان میں مساوی حقوق کے ساتھ فیصلہ سازی کے اختیار نہ ملنے تک ہم غلام قوم ہی رہیں گے۔
قوم کو بتائیے کہ نئے پاکستان میں نظام انصاف، علیمہ خان اور فرح گوگی کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا جو ایان علی اور فریال تالپور کے ساتھ کیا گیا۔ قوم کو بتائیے کہ پی ٹی وی پر حملہ کرنے والے ہوں یا سپریم کورٹ پر کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔ نئے آزاد پاکستان میں کسی رانا ثنا اللہ کی جیب سے اب پندرہ کلو ہیروئن نہیں نکلے گی اور کوئی اسد عمر اور خسرو بختیار، یوریا اور چینی مہنگی کر کے بچ نہیں پائے گا۔
بتائیں قوم کو کہ اس بار آزاد پاکستان میں امپورٹ کیے گئے ”درباری مسخرے“ وزیر و مشیر ”بن کر اس قوم پر مسلط نہیں ہوں گے۔ بتائیں کہ نئے پاکستان میں قوم کو اپنے نمائندوں کو چننے کا اختیار ہو گا اور الیکشن کے دن آر ٹی ایس اچانک ناکارہ نہیں ہو گا۔ اعلان کریں کہ کسی صحافی، کسی سماجی کارکن کو شمالی علاقہ جات“ سیر ”کے لیے نہیں بھیجا جائے گا۔ بتائیں کے جیتے جاگتے انسانوں کو غائب کردینے والوں کا نئے آزاد پاکستان میں محاسبہ ہو گا۔
کیونکہ یہی آزاد قوموں کا معیار ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کچھ ممکن ہے؟ کیا خان صاحب کا قومی آزادی والا فلسفہ بھی یہی ہے جو تمام مہذب دنیا کا ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ خان صاحب کا“ غلامی نا منظور ”والا بیانیہ صرف اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایک گمراہ کن ہتھیار ہے۔ درحقیقت پی ٹی آئی قیادت بشمول عمران خان میں نہ اتنی جرات ہے نہ فراست، نہ کردار نہ افکار، نہ علمیت نہ عملیت کے یہ حقیقی غلامی کو چیلنج کرسکیں۔
یہ اصحاب یہی کر سکتے تھے جو انہوں نے کیا۔ یعنی عوام کی توجہ اپنی بدترین کرپشن سے بوجھل کارکردگی، نا اہلی اور اپنے غیر جمہوری طرز سیاست سے ہٹا کر“ غلامی ”کے چورن کی طرف لے جا سکتے تھے سو انہوں نے وہی کیا۔ اب حال یہ ہے کہ عمران خان کا“ غلامی نامنظور ”کا کھوکھلا بیانیہ اس نئی نسل میں کامیابی کے ساتھ بک ریا ہے جسے گزشتہ پندرہ سال میں بڑی“ کاریگری ”کے ساتھ دولے شاہ کا چوہا بنایا گیا۔ اس نسل کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ایک مخصوص“ عمرانی نظریہ ”کے شکنجے میں جکڑ کر ناکارہ کر دیا گیا ہے۔
اب اس نسل کو نہ سچ کی جستجو ہے نہ دلیل سے کوئی سروکار۔ اسے نہ علم کی ضرورت ہے نہ مکلالمہ کی۔ اور درحقیقت پی ٹی آئی قیادت کو اقتدار کی جنگ میں ایسی ذہنی غلام نسل کی ضرورت ہے جو حقیقی دنیا اسے کٹی ہوئی نفسیاتی مریضوں کا ایک ہجوم ہو۔ جن کے سامنے عمران خان جب چاہیں ٹیپو سلطان بن جائیں اور جب چاہیں ذوالفقار علی بھٹو۔ بھٹو کے ذکر پر خیال آیا کہ خان صاحب! خدا جانے کہ آپ ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کیا جانتے ہیں مگر بھٹو وہ“ مرد حر ”تھا جس نے اس قوم کو غلامی سے آزاد کرانے کی جرات بھی کی اور قیمت بھی ادا کی۔
جس نے عوام کی زندگیوں کے فیصلے عوام کے ہاتھوں میں دیے، جو سیاسی طاقت کو ڈرائنگ رومز کی“ غلام گردشوں ”سے نکال کر عوام کے درمیان لے آیا۔ جس نے سرمایہ داروں کو نکیل ڈالی، زرعی اصلاحات کے ذریعے کسانوں کو نئی سانسیں دیں۔ قوم کے مستقبل کے لے بین الاقوامی سامراج کے گریبان پر ہاتھ ڈالا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ“ جو راہ ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے ”۔
خان صاحب! آپ نے بالکل درست فرمایا کہ گدھا لکیریں پینٹ کروا کر“ زیبرا ”نہیں بن سکتا سو سچ یہ بھی ہے کہ کوئی بھی“ غلامی نامنظور ”کا فریب بیچ کر ذوالفقار علی بھٹو نہیں بن سکتا۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کی عدالت“ نیوٹرل ”ہوتی ہے۔ انصاف کرتی ہے، سب کا حساب بے باک کر دیتی ہے اور کردار بھی چاک کر دیتی ہے۔


