جمہوریت سے غلامی تک


مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستانی سیاست کا محور چند خاندانوں تک محدود ہو گیا۔ سقوط ڈھاکہ کے قبل خاندانی سیاست کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ قائداعظم سے لے کر نورالامین تک جتنے سیاست دان سیاسی افق پر چمکے ان کی اپنی اپنی داستان جدوجہد تھیں۔ کوئی بھی اپنے باپ دادا کے نام سے مقبول نہیں ہوا۔ نوابزادہ لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، سردار عبدالرب نشتر، ملک فیروز خان نون، میاں ممتاز دولتانہ، ممتاز حسین ممدوٹ، حسین شہید سہروردی، غلام حسین ہدایت اللہ، آئی آئی چندریگر اور کئی نامور سیاستدان جنہوں نے تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد سیاسی جدوجہد کی، ملک کے قیام اور ترقی میں اپنا کردار ادا کیا، مگر کسی بھی سیاستدان کی اولاد نے ان کے نام کو عوام میں استعمال کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ ان لوگوں کا خاندان آج تک گمنام ہی ہے۔ شاید وہ اپنے باپ داداؤں کے ناموں کو استعمال کر کے مقبولیت حاصل کرنے کا ہنر جانتے نہیں تھے۔

صدر ایوب خان اور ان کے منہ بولے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو شہید کے خاندان نے سیاست میں اس ریت کو جاری کیا جس کا خمیازہ آج پورا پاکستان بھگت رہا ہے اور چار پانچ خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے۔ شریف خاندان، بھٹو، زرداری اور باچا خان کی تیسری نسل بھی سیاست پر قابض ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ بجا ہو گا کہ اب بادشاہت اور رعایا کا دور واپس آ گیا ہے۔ باپ کے بعد بیٹا جانشین بن کر رعایا پر حکومت کرتے ہیں۔

پاکستان میں ویسے بھی الیکشن نہیں ہوتے، صرف سلیکشن ہوتی ہے، وہ بھی اندرون خانہ۔ ذوالفقار علی بھٹو سیاسی شہید ہوئے جس کا فائدہ بی بی کو ہوا، بی بی کی شہادت ہوئی، جس کا مزہ گزشتہ 14 سال سے بھٹو زرداری خاندان حکمرانی کر کے لے رہا ہے۔

میاں نواز شریف تین دفعہ وزیراعظم بنے مگر تینوں دفعہ سیاسی شہید بن کر اقتدار سے بے دخل ہوئے، اس کا بھی فائدہ آج تک حاصل کیا جا رہا ہے۔ چوہدری خاندان اور مفتی محمود کی اب تیسری نسل حکمرانی کر رہی ہے۔ باچاخان کی چوتھی نسل سیاست میں جلوہ گر ہے۔

سیاست کا حق سب کو ہے۔ پوری دنیا میں خاندانوں کے خاندان سیاست کرتے ہیں، مگر کوئی بھی اپنے باپ دادا کے نام کو کیش کروا کر اقتدار کی سیڑھیاں نہیں چڑھتا۔ اسے عوام کی فلاح و بہبود کے کام کرنے ہوتے ہیں۔ یورپ، برطانیہ اور امریکہ میں آج بھی کوئی مرکزی لیڈر نہیں بن سکتا جب تک وہ ایک کونسلر بن کر اپنی تربیت کا آغاز نہ کرے۔ مگر یہاں تو کونسلر تو بہت دور کی بات، پیدا ہوتے ہی مرکزی لیڈر بنا دیا جاتا ہے۔ شعور کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہی وہ مقبول ترین لیڈر بن جاتے ہیں، جیسے ان کے بغیر سیاست ہوہی نہیں سکتی۔

پتہ نہیں اس مٹی میں کون سی ایسی گیدڑ سنگھی ہے جو صرف چند لوگوں کے علاوہ سب کے سب غلام ثابت ہو رہے ہیں۔ سیاست کے میدانوں میں اپنے بال سفید کرنے والے اور خود کو سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی سمجھنے والے بھی اپنے قائد کے بچوں کے سامنے ہاتھ باندھے با ادب کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسا منظر ہم نے صرف تاریخ کی کتابوں میں شہزادوں اور شہزادیوں کے متعلق پڑھا تھا، مگر اب حقیقت میں دیکھنے کو بھی ملتا ہے۔

”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ ، اس سے بہترین کیا ہو گا کہ جن کو قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا انہیں گارڈ آف آنر دیا، دوسرے کو ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ تخلیق کر کے مسند پر بٹھا دیا گیا۔ انتقام اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس کی ماں کی پوری زندگی کردار کشی کی گئی ہو، بہتان تراشیاں کی گئی ہوں، ننگی تصویریں شائع کی گئی ہوں، ان کے در پر اقتدار کی بھیک مانگنے جایا جائے۔

سیاست بہت ہی کٹھن راہ گزر ہے، اس پر وہی چل کر کامیاب ہوتا ہے، جو اصولوں کی سیاست کرتے ہیں، حق اور انصاف کے ساتھ اپنے ضمیر کا فیصلہ سنتے ہیں۔ وہ لوگ نہیں جو مطلب پرست دنیا کے ساتھ مطلبی ہوجائیں دنیا انہیں کبھی بھی لیڈر تسلیم نہیں کرتی۔ ایک لیڈر کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ اس کے فیصلوں سے کوئی ناراض ہوتا ہے یا نہیں، وہ عوام کی امنگوں کا ترجمان بن کر راستے کے ہر پتھر کو ٹھوکر مار دیتا ہے۔

جمہوریت میں اب جمہور والی کوئی بات باقی نہیں، یہ خاندانی یا موروثی جمہوریت میں تبدیل ہو گئی ہے۔ یا عام لفظوں میں ملوکیت اور بادشاہت ہو گئی ہے۔ جہاں پر صرف باپ کے بعد بیٹے یا بیٹی کو ہی حکمران بننے کا حق حاصل ہے، جیسے خلیجی ممالک میں ہوتا ہے اور جس کی تازہ بربادی کی مثال سری لنکا ہے۔ جہاں پر ایک خاندان کی اجارہ داری نے اس ملک کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ پاکستان کی حالت بھی سری لنکا سے کچھ بہتر نہیں ہے۔ معیشت نے گزشتہ کچھ ماہ سے جو کروٹ لی ہے اس نے ریاست کو دیوالیہ ہونے کے قریب کر دیا ہے۔

ملکی معیشت زبوں حالی کی طرف گامزن ہے۔ اسٹاک ایکسچینج مندی کا شکار ہے۔ ڈالر مسلسل اڑان بھر رہا ہے۔ ایکسپورٹ بالکل نہیں ہے۔ ایسے وقت میں کئی جماعتوں کی مخلوط حکومت کسی بڑے اور کٹھن فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ وزیراعظم کے لئے اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ فوری طور پر الیکشن کروائے جائیں اور نئی حکومت جو فیصلے کرنے ہوں وہ کرے اور معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر ڈالے ورنہ۔ !


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments