عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر
پسینے میں شرابور، اشک بار آنکھوں کو بند کیے مصلحے پر ماتھا رگڑتی رہی ظاہری تو جسم پر کوئی چوٹ نہیں لگی تھی مگر پورا وجود دل پر لگی چوٹ کا ماتم منا رہا تھا۔ اندھیرے کمرے میں جس طرح میرا وجود نظر نہیں آ رہا تھا ٹھیک اسی طرح میں نظر نہیں آنا چاہتی تھی منظر سے غائب ہوجانا چاہتی تھی۔ بے شک اللہ ہاتھ پاؤں اور جسم سے پاک ہے مگر جائے نماز پر خدا کو سجدہ کرنے والا ہمیشہ خدا کے وجود کو اپنے آس پاس محسوس کرتا ہے اور اپنی خلوت میں اس کو سامنے پا کر فریاد کرتا ہے اس کی ذات سے ہر وہ چیز کی آس رکھتا ہے جو دنیا کے لیے کتنا بھی ناممکن ہو مگر دینے والی ذات کو دیکھ کر انسان بلا جھجک مانگتا ہے اس یقین کے ساتھ کے اللہ کی ذات اپنے بندے کو 07 ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتی ہے مگر وہ آزماتا ضرور ہے کبھی صحت سے، کبھی زر سے تو کبھی انسان کی محبت سے۔ انسان کی محبت وہ محبت ہے جو بندے کو اس کے رب سے ملاتی ہے۔ محبت دلوں میں پیدا کرنے والی ذات صرف خدا کی ہوتی ہے اس لیے بندے کی محبت خدا کی محبت پر کبھی حاوی نہیں ہو سکتی کیوں کے رب جب چاہے دل بدل سکتا ہے۔ اور جب محبت ڈالنے والا خدا ہے تو بندے کو محبت کر نے کی سزا کیسے دی جا سکتی ہے۔
معاشرے کی بنائی ہوئی محبت نفع اور نقصان دیکھ کر کی جاتی ہے جب کے خدا کی پیدا کردہ محبت بے لوث ہوتی ہے جس میں نفع یا نقصان نہیں ہوتا بس محبت ہوتی ہے ڈر ہوتا ہے محبت کے کھو جانے کا اور یہ ڈر رب کے حضور رجوع کرواتی ہے پہلے انسان کے دل میں بندے کی محبت خدا ڈالتا ہے اور بندہ اسی محبت کو پانے کے لیے رب کے آگے سر خم کرتا ہے۔ دنیا شاید محبت کی جیت کو تب تسلیم کرتی ہے جب عاشق کو اس کا محبوب مل جائے مگر جن کو محبوب نہیں ملتا ان کو رب مل جاتا ہے اور یوں عشق مجازی عشق حقیقی تک پہنچا دیتا ہے اور بے شک عشق حقیقی افضل ہے ہر عشق سے۔
بس اس کی یاد میں خود کو سنوار لیتا ہوں
اور فریاد میں حلیہ بگاڑ لیتا ہوں
اسکی زلفیں، اس کی آنکھوں کا وہ بکھرا ہوا کاجل
اف! میں سوچوں میں ہی نظریں اتار لیتا ہوں
کوئی سمجھے ملنگ مجھ کو، تو سمجھنے دو
یوں اس کی یاد میں رب کو پکار لیتا ہوں


