احساس کب بولے گا؟


خودمختار و آزاد ریاستیں قانون و آئین اس لئے بناتی ہیں کہ اپنی جغرافیائی حدود میں اپنے بنائے ہوئے آئین کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ اسی لئے آپ نے سربراہان ریاست یا وزیر خارجہ کا اکثر یہ بیان سنا ہو گا کہ ہم آزاد خارجہ پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کی جب ہم تعریف کرتے ہیں تو اس سے مراد اکثر یہ لیا جاتا ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت و مدد درکار ہوتی ہے اس لئے دیگر ممالک سے تعلقات کو پروان چڑھانے کا نام خارجی پالیسی ہے۔

لیکن میری نظر میں خارجہ پالیسی کہ یہ تعریف نامکمل اس لئے ہے کہ اکثر ممالک اپنی خارجہ پالیسی وضع کرتے ہوئے اس بات کو شامل نہیں کرتے کہ ہم دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کس نوعیت کے رکھیں گے۔ کیا دیگر ممالک میں امیر ملک کسی غریب ریاست کی خارجہ پالیسی میں مداخلت کرنے کا حق رکھے گا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس ملک کے خلاف اقوام متحدہ اپنا کیا کردار ادا کرے گی۔ کیونکہ بہت سے ممالک ایسے ہیں جن کا آئین چند صفحات پر مشتمل یا سرے سے موجود ہی نہیں، جیسے کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ۔

یعنی تحریری آئین سرے سے موجود ہی نہیں ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر یہ ممالک کیسے پرورش پا رہے ہیں۔ کیوں ان ممالک میں قانون کی حکمرانی ہے۔ اور ملک پاکستان 1973 کے آئین کی 280 آرٹیکلز، 12 سیکشن ہونے کے باوجود عملداری میں ناکام ہے۔ جبکہ انگلینڈ میگنا کارٹا 1215 کو ہی اپنا آئین تصور کرتا ہے جس میں کہ سابقہ کئی برسوں کے روایات و رواجات شامل ہیں، اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں لیکن وہ قوم اسے اتنا مقدس سمجھتی ہے کہ وہ ان روایات و رواجات کو خلاف جانا ہی آئین و قانون سے غداری خیال کرتی ہے۔ جبکہ ہماری تاریخ ایسے بیانات اور مقدس آئین کے بے حرمتی سے بھری پڑی ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے پاس ماسوا اس کے کوئی آئین نہیں کہ

”تورات ہمارا آئین ہے“

میں ایک بار چین کے بارے میں کوئی مضمون لکھنے کے لئے تحقیق کر رہا تھا تو میری نظر سے ایک عجب واقعہ گزرا کہ سنکیانگ یونیورسٹی میں ایک بار طلبا تحریک میں بات اس حد تک بڑھ گئی کہ طلبا کو یونیورسٹی سے باہر نکل کر شاہراہوں پر آنا پڑا۔ اس پر چینی حکومت نے طلبا کو وارننگ دی کہ اگر آپ اپنی حد سے متجاوز ہوں گے تو نتائج کے ذمہ دار بھی آپ ہی ہوں گے۔ نتیجہ کیا نکلا کہ پر جوش طلبا نے ریاست کے اس حکم کی خلاف ورزی کی جس کے بعد حکومت نے بلٹ کا استعمال کیا۔

نتیجہ میں کچھ طلبا کو اپنی زندگی کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا۔ اب اس واقعہ کے خلاف دنیا بھر کی تنظیمیں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے لئے میدان میں کود پڑیں، جبکہ چینی حکومت نے ایک ہی جواب میں سب کو ٹھنڈا کر دیا کہ چین ایک آزاد ملک ہے اور وہ بہتر جانتا ہے کہ اپنے ملک کو کیسے اپنے قانون کے مطابق چلانا ہے۔

ایک طرف مذکورہ مثالیں ہیں تو دوسری جانب ہمارے ملک کی حالیہ سیاسی و معاشی صورت حال ہے جو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ملک ہمارا ہے فیصلے ملک سے باہر ہونے ہیں۔ کابینہ ہماری ہے، لیکن کابینہ کو کیسے چلانا ہے اس کا فیصلہ لندن میں ہونا قرار پانا ہے۔ وزیر اعظم آئینی و خود مختار ہے لیکن فیصلے ایک ایسے شخص سے لے رہا ہے جو نہ ملک میں ہے نہ ملکی پارلیمان کا حصہ ہے۔ چلئے تھوڑی دیر کو اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ اگرچہ فیصلے کرنے اور مشاورت کا حصہ بننے والا شخص پارلیمنٹ کا حصہ نہیں لیکن تین بار وزیر اعظم رہا، سیاسی جماعت کا کرتا دھرتا ہے، اسے ملک سے پیار ہے اس لئے اسے مشاورت میں شامل کی جا رہا ہے۔

لیکن کیا دنیا کی معاشی صورت کو کنٹرول کرنے والی کمپنیاں بھی اسی ملک کا حصہ ہیں۔ وہ جو آئے روز اپنی من مانیاں اور قدغن لگانے پر ہمیں مجبور کر رہے ہیں اور ہم مانے جا رہے ہیں کیا تاریخ میں ہمیں واقعی مانگت خیال کر لیا جائے گا۔ میری طرح آپ بھی ہمیشہ سے سنتے آرہے ہوں گے کہ آئی ایم ایف نے کڑی شرائط پر قرضے دینے کی حامی بھر لی ہے۔ اب ان شرائط میں شامل کیا ہے۔ بجلی، پٹرول، روزمرہ کی اشیائے ضروریہ، مزید ٹیکسز کا اطلاق وغیرہ۔

آئی ایم ایف بھی کتنی سیانی ہے کہ ہمیشہ غربا پر بوجھ بننے کو ترجیح دی ہے ناکہ سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور اشرافیہ کی تعیشات کو کم کرنے کی کوئی شرط لاگو کریں۔ اور ہمارے سیاستدان و بیوروکریٹس بھی اسی لئے سر خم کیے ہاتھ باندھے کڑی سے کڑی شرط ماننے کو تیار اس لئے ہو جاتے ہیں کہ ہمیں کیا لینا دینا، ہماری عیاشیاں تو ویسے ہی رہیں گے۔ جب تک قدغن کا آغاز ان اشرافیہ سے نہیں ہوتا انہیں غریب کو کوئی فکر اور پرواہ نہیں ہوگی۔

اور یہ سب تب ہو گا جب عوام کے اندر یہ احساس جاگ جائے گا کہ ہم قربانی کے لئے پیدا نہیں ہوئے۔ یاد رکھئے جب تک عوامی شعور اس قابل نہیں ہو جاتا یہ سیاسی کاہن ہم ایسے غربا کی قربانی کو مقدس خیال کرتے ہوئے معاشی تنظیموں سے ذبح کرواتے رہیں گے۔ اور ہمیں بچانے کے لئے کسی مسیحا کی نہیں احساس بیداری کی ضرورت ہے۔ وگرنہ غلام نسلیں پیدا ہوتی رہیں گی۔

Facebook Comments HS