افراتفری اور کمزوری لوٹ کے گھر کو آتی ہے


پاکستان کو ہم نے بیٹیوں کی طرح پالا ہے۔ اسے پیار تو بہت کیا لیکن طاقت پکڑنے دی، نہ ترقی کرنے دی۔ پاکستان کمزور کیوں ہے؟ پاکستان غریب، غیر ترقی یافتہ اور کمزور ملک ہے کیونکہ اس کی سیاسی حکومت کو شدید کمزوری لاحق ہے۔ پاکستان کی سیاسی حکومتوں کو کمزور رکھنے کے لیے بہت کوشش اور محنت کی جاتی ہے۔ ہر اس ادارے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو کسی بھی طریقے سے سیاسی حکومت کی طاقت کا ذریعہ بن سکتا ہو۔

سیاسی حکومت کی طاقت کا ایک ذریعہ پارلیمنٹ ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کو کمزور رکھنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے الیکٹ ایبلز یعنی سیاسی بہروپیے رکھے ہوئے ہیں جو اپنی پارٹی یا عوام کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے وفادار ہوتے ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر حکومت کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ اس طرح حکومت اسٹیبلشمنٹ کی فرمانبرداری پر مجبور ہوتی ہے۔

پارلیمنٹ کو کمزور رکھنے کا دوسرا طریقہ الیکشن میں دھاندلی ہے۔ الیکشن میں دھاندلی سے الیکٹ ایبلز کو جتوانے کے ساتھ ساتھ کسی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں لینے دی جاتی۔ جب کسی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملتی تو پھر الیکٹ ایبلز کا رول اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ کسی حکومت کو بنانا یا گرانا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔

الیکشن میں دھاندلی کے لیے الیکشن کمیشن کو کمزور رکھا جاتا ہے۔ الیکشن اپنی نگرانی میں کرائے جاتے ہیں۔ اپنی مرضی کا الیکشن کمشنر مقرر کرایا جاتا ہے۔ عمران خان نے اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد یہ اعتراف کیا ہے کہ موجودہ الیکشن کمشنر انہوں نے فوج کے کہنے پر لگایا تھا۔

ایسا نظام بنا لیا گیا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کے بغیر الیکشن جیتنا اور حکومت بنانا ناممکن ہے۔ اس لیے پارلیمنٹ ممبران اور سیاسی جماعتیں ووٹر کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی جانب دیکھتی ہیں اور اسی کا خیال بھی رکھتی ہیں۔

ایک دھاندلی زدہ الیکشن کے نتیجے میں جو کمزور پارلیمنٹ وجود میں آتی ہے اس کے بطن سے ایک کمزور حکومت جنم لیتی ہے۔ پھر بھی جونہی حکومت اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کو خوف آنے لگتا ہے اور وہ پہلے سے کمزور حکومت کو مزید کمزور کرنے کے لیے عملی قدم اٹھاتی ہے۔

نواز شریف حکومت نے گڈ طالبان کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ افغانستان اور انڈیا پر اپنی پالیسی بنانے کی کوشش کی تھی تو اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عمران خان اور طاہرالقادری سے دھرنے شروع کروا دیے تاکہ حکومت پر دباؤ رکھا جائے۔ جب دھرنوں والے دباؤ سے کام نہ بنا تو ثاقب نثار کو استعمال کیا اور نواز شریف کو نااہل قرار دلا دیا۔ اس کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کی حکومت بالکل لاغر ہو کر رہ گئی۔ حکومت کے آخری سال میں جب ٹی ایل پی نے دھرنا دیا تو حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی۔ ایک چھوٹے سے گروپ نے ملک کو اپاہج کر دیا۔

اسی طرح ڈر تھا کہ 1988 کے الیکشن کے نتیجے میں کہیں پیپلز پارٹی کی ایک مضبوط حکومت نہ بن جائے اس لیے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف نے اسلامی جمہوری اتحاد میں باقی تمام پارٹیوں کو اکٹھا کیا۔ تاکہ بے نظیر واضح اکثریت نہ لے سکے اور ایک کمزور سی حکومت ہی بنا سکے۔ مطلب پچھلے پچھتر سال سارا زور اس بات پر رہا کہ سیاسی حکومتیں کمزور رہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں بہت کامیاب رہی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی حکومتیں انتہائی کمزور ہوتی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو یہ نہیں معلوم تھا کہ سیاسی حکومت کے کمزور ہونے سے ملک کمزور ہو جائے گا۔ اور اگر پاکستان کمزور ہو گا تو پھر اسٹیبلشمنٹ بھی کمزور ہی ہو گی۔

اس ساری منفی سیاسی گیم نے پاکستان کے تمام اداروں کو کمزور کیا ہے اور اس میں اسٹیبلشمنٹ بھی شامل ہے۔ آج پاکستان معاشی اور سیاسی طور پر زبوں حالی اور افراتفری کا شکار ہے اور کوئی سیاسی حکومت اس کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔ پی ٹی آئی ناکام ہو کر چلی گئی اور نئی کولیشن گورنمنٹ سے بھی کچھ بن نہیں پا رہا۔ صورت حال اتنی خراب ہے کہ مارشل لا بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ بھی اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔

پاکستان میں راج کرنے والی بدنظمی، بدانتظامی اور کمزوری نے آج اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی گھر کر لیا ہے۔ مقتدرہ عمران خان کا راستہ روک نہیں پا رہی اور شدید دباؤ میں ہے۔ عمران خان کا جو جی چاہے کہتا پھرتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ بے بس ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے اندر بھی ایک پیج پر نہیں لگتی۔ سیاسی حکومتوں کو کمزور کرنے والے سارے ہتھکنڈے اب لوٹ کر گھر کو آتے ہیں۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 324 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments