ڈالر تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ (دوسرا حصہ)۔


ڈالر کی پرواز ہے جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ ہر دن پتنگ کی طرح ہوا میں جھومتا ہی جاتا ہے۔ بے پرواہ اور بے فکری کی چادر اوڑھے، جیسے اسے کوئی پوچھنے والا ہی نہ ہو۔ کہ بھائی اتنی اکڑ کاہے کی، کیوں تجھے اس بے بس قوم پہ رحم نہیں آتا ہے۔ تجھے ذرا برابر بھی کسی غریب کی آہ سے ڈر نہیں لگتا ہے۔ کیوں اتنا ابالے کھا رہا ہے۔ پہلے ہی اتنی گرمی کا موسم ہے۔ تھوڑا ہتھ ہولا رکھ ڈالرا:

ڈالر کی اس پرواز پہ وزیراعظم کا اشیائے تعیشات کی درآمدات پہ پابندی بڑی خوش آئند بات ہے۔ اس سے کچھ نہ کچھ تو ڈالر کی دوڑ سست ہو گی۔ یہ بہت جزوی سا قدم ہے۔ لیکن ایسا قدم یقیناً فائدہ مند ہی رہتا ہے۔ کیوں کہ طلب کم ہوگی تو روپے کی قدر بڑھے گی۔

اصل بات جو زیادہ توجہ طلب ہے؟

تھوڑی سی تعداد میں موجود اشرافیہ کی وجہ سے کروڑوں ڈالرز کی درآمدات کا بوجھ اکثریت کے کندھوں پہ پڑ جاتا ہے۔ جیسا کہ کینیا کی چائے اور کافی، پام کوکنگ آئل، زیتون آئل، بڑی لگژری گاڑیاں، فرانس کے پرفیوم، امریکہ، برطانیہ کی کاسمیٹکس، دوبئی کے کھلونے، سعودیہ اور خلیج ممالک سے ٹافیاں اور چاکلیٹس، دیگر ممالک سے جوتے، کپڑے، موبائل فونز، ٹی۔ وی، چائنہ کی باتھ روم میں لگائی جانے والی ٹائلز، چشمے، گھڑیاں، پینٹس، شرٹس، لیڈیز بیگ، مردانہ انڈر گارمنٹس تک درآمد کی جاتی ہیں۔ جن پہ لاکھوں ڈالر زرمبادلہ خرچ ہو جاتا ہے۔ پھر بھی اس پہ کوئی سخت ایکشن نہیں لیا جاتا۔ ایسی درجنوں اور آئٹمز ہیں۔ جن کا بوجھ عرصہ دراز سے غریب پاکستانی برداشت کر تا چلا آ رہا ہے۔

اس ساری معاشی صورت حال کا جائزہ لیا جائے۔ تو بے تحاشا زرمبادلہ ملک سے بآسانی فرار ہو جاتا ہے۔ ایسی اشیاء پہ کم ازکم دس سال تک پابندی لگا دینی چاہیے۔ اگر یہ درآمد شدہ اشیاء اشرافیہ استعمال نہیں کر پائے گی، تو کوئی ایسی قیامت برپا نہیں ہوگی۔ جس سے خدانخواستہ اشرافیہ کی موت واقع ہو جائے۔ ہاں اس کا متبادل پیدا کر دیا جائے۔ جو بآسانی پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اگر ملکی سطح پہ درآمدات کا نعم البدل تیار کیا جاتا ہے۔ تو آنے والا کل معاشی خود انحصاری کاکل ہو گا۔ جس کے ذریعے معاشی غلامی سے جان چھوٹ سکتی ہے۔ اور یہ وقت کی اشد ضرورت بھی ہے۔ اور ایسے عمل ہی قوموں کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے کرنے والا کام؟

مندرجہ بالا اشیاء اور دیگر اشیاء میں سے کون سی ایسی چیزیں ہیں جن کا نعم البدل ملکی سطح پہ پیدا نہیں ہو سکتا ہے۔ سبھی کچھ یہاں پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر پیدا نہیں بھی ہو رہا ہے تو کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ گزارہ ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلا کام درآمدات کا نعم البدل پیدا کرنے والوں کو ٹیکس چھوٹ دینا۔ اس کے ساتھ لمبے عرصہ تک اس بیرونی ذائقہ اور کوالٹی کو قربان کر دینا چاہیے۔ جو لاکھوں ڈالرز میں اقلیت کی وجہ سے اکثریت عوام کو پڑتا ہے۔ بہادر اور خود انحصاری کی طرف سفر کرنے والی قوموں کے لئے مشکل قدم اور مشکل فیصلے، پھر ان پہ ڈٹ جانا ہی سر فخر سے بلند کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS