آسٹریلیا کی ایک نوسرباز لڑکی اور مابعد سچائی کا دور


بیل گبسن (Belle Gibson) ایک آسٹریلوی خاتون ہیں۔ 2009 میں 20 سال کی عمر میں بیل کے دماغ میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ اس کے پاس زندہ رہنے کو صرف چار مہینے بچے ہیں۔ دو ماہ تک کینسر کا علاج کروانے کے بعد بیل کو اچانک خیال آیا کہ یہ طریقہ تکلیف دہ بھی ہے اور اس سے بہتری کے کوئی آثار پیدا نہیں ہو رہے لہذا اس نے قدرتی غذاؤں سے علاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے قدرتی پھلوں سے اپنا علاج کیا اور اور چند ہی ماہ میں وہ بالکل تندرست ہو گئی۔ اس نے تندرست ہوتے ہی لوگوں تک اپنی کہانی پہنچانے کا سوچا۔

2013 تک انسٹاگرام پہ بیل گبسن کے تقریباً تین لاکھ فالورز تھے جو یقیناً اس وقت کے حساب سے بہت بڑی تعداد تھی۔ اسی سال بیل نے موبائل فون بنانے والی معروف کمپنی ایپل کے ایپ سٹور پہ اپنی ایپلیکیشن بنائی جس کو تقریباً دو لاکھ لوگوں نے ڈاؤن لوڈ کیا اسی ایپ کی بنیاد پہ بیل نے ایک کتاب لکھی۔ 2014 میں وہ کتاب معروف اشاعتی ادارے سے چھپی۔ اسی سال ایپل کے ساتھ ایک معاہدے کی وجہ سے 2015 میں ایپل واچ میں بیل کی ایپلیکیشن کو بائی ڈیفالٹ رکھا گیا۔ 2015 میں ایک اندازے کے مطابق بیل نے ایپلیکیشن اور کتاب سے تقریباً دس لاکھ ڈالر کمائے۔ بیل نے اعلان کیا کہ وہ اپنی آمدن کا ایک مخصوص حصہ فلاحی اداروں کو دے گی۔ اس دوران بیل کے کئی انٹرویوز ہوتے ہیں۔ کئی مجلوں کے سر ورق پہ اس کی تصویر چھپتی ہے۔

یہ ایک کہانی ہے بلکہ یہ کہانی کا محض ایک رخ ہے۔ یقیناً اوپر کی سطریں پڑھتے ہوئے آپ میں سے بہت سے لوگ بھی بیل کی زندگی سے متاثر ہو چکے ہوں گے۔ کتابوں سے شغف رکھنے والے فوراً اس کی کتاب یا ایپلیکیشن کو ڈھونڈیں گے۔ سوشل میڈیا کے دلدادہ اس کی انسٹاگرام پروفائل کو تلاش کریں گے، مذہب پسند انسان کے ذہن میں علاج معالجے کے سارے دینی حوالے گھوم جائیں گے۔ غذا کے ماہرین اس کو اپنی کامیابی سمجھیں گے۔ رقیق القلب لوگ اس کو معجزہ، شقی القلب اس کو ڈرامہ بازی سمجھیں گے۔ لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

2015 میں دو صحافی یہ کھوج لگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ بیل گبسن نے اپنی آمدن کا کوئی حصہ کسی فلاحی تنظیم کو نہیں دیا۔ کسی سوشل ورک میں بیل کا ایک ڈالر نہیں لگا۔ یہ خبر نکلنے کی دیر تھی کہ بیل کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اور پھر مارچ 2015 سے بیل گبسن کا برا وقت شروع ہوا۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ بیل گبسن کی تو کوئی میڈیکل ہسٹری ہی نہیں ہے۔ کسی ڈاکٹر نے اس کو کبھی کینسر تشخیص ہی نہیں کیا۔ اس کے علاوہ ایسے دیگر ہوشربا حقائق سامنے آئے کہ بیل کے چاہنے والے انگشت بدنداں ہو گئے۔

ایک انٹرویو میں بیل نے اعتراف کیا کہ اس کو کینسر کے مرض کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ اس نے کینسر سے بچنے والی ایک ویکیسن لگوائی تھی۔ جس کے بعد اس کے جسم چند ایسی علامات ظاہر ہوئیں جو کہ کینسر کی ہو سکتی تھیں۔ البتہ کسی ڈاکٹر نے اس کینسر کی تشخیص نہیں کی بلکہ بیل نے خود سے ان علامات کو برین کینسر سے منسلک کیا۔ مزید بیل گبسن نے کبھی بھی وعدے کے مطابق کسی فلاحی تنظیم کو چندا نہیں دیا۔ بلکہ دماغ کے کینسر میں مبتلا ایک بچے کے نام پہ چندا اکٹھا کیا جو اس تک نہیں پہنچا۔ یہ خبر نکلنے کی دیر تھی کہ اشاعتی ادارے نے بیل کی کتاب بیچنا بند کی، اس کی موبائل ایپ کو ایپل سٹور سے ہٹا دیا گیا۔ ستمبر 2017 میں عدالت نے بیل گبسن پر چار لکھ دس ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔

اک لمحے کو رکیے اور سوچیے کہ وہ کون سی بات تھی جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں نے بیل گبسن کی کہانی پہ اعتبار کیا۔ عاطف توقیر ٹویٹر پہ لکھتے ہیں ”دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ سچ ہے اور دنیا کا سب سے بڑا سچ جھوٹ ہے“ ۔ چونکہ جھوٹ اس دنیا کا سب سے برا سچ ہے تو شاید یہ وجہ تھی کہ لاکھوں لوگ اعتبار کرتے چلے گئے۔ حالانکہ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں سائنس اس قدر ترقی یافتہ ہو چکی تھی کہ وہ کسی قسم کے لغو دعوؤں کو چیلنج کر سکے۔

لیکن المیہ وہی ہے جو برسوں سے سنتے آ رہے ہیں، سچ جب تک اپنے جوتے تلاش کر رہا ہوتا ہے جھوٹ شہر بھر کا چکر لگا چکا ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پہ اب جھوٹ اور پروپیگنڈا کا راج ہے۔ جب تک فیکٹ چیک جیسے اکاؤنٹس یا پیجز کسی خبر کی تردید کرتے ہیں وہ خبر ثابت شدہ سچ کے طور پہ پھیل چکی ہوتی ہے۔ بلکہ خبر کی تردید تک کو لوگ نظر انداز کر دیتے تاکہ لذت وہ جھوٹ سے کشید کر چکے ہیں وہ کرکری نہ ہو۔ یہ دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔

اور یہی کچھ اس ملک پاکستان میں بھی پوری شد و مد ہو رہا ہے جس کے نناوے فیصد لوگ اس مذہب کو ماننے والے ہیں جس مذہب میں سچ بولنا اور سچی گواہی دینا بنیادی دینی فریضہ ہے۔ ٹویٹر پہ راتوں رات فیک اکاؤنٹس بنا کر جھوٹی ٹویٹس وائرل کی جاتی ہے۔ بوٹ اکاؤنٹس سے نازیبا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کروائے جاتے ہیں۔ فیس بک پہ جھوٹی خبروں اور فوٹو شاپ تصاویر کی بھرمار ہے۔ ہر کوئی ملکی سالمیت، آئین، قانون اور اخلاقیات کی بھد اڑ رہا ہے اور خوش ہے۔

جمیل جالبی کی ایک بات پڑھنے کو ملی ”حقیقت اور سچائی کی تلاش تحقیق کا کام ہے۔ جب کسی معاشرے میں تحقیق کا عمل ناکارہ سمجھا جانے لگتا ہے تو وہاں اتنے سارے جھوٹ، سچائیاں بن کر ، خود معاشرے کو گھن کی طرح کھانے لگتے ہیں کہ بے تحقیق معاشرہ ہر سطح پہ ناکارہ و بے جان ہو جاتا ہے اور تھکا دینے والا غبار اسے اور اندھا کر دیتا ہے“ ۔ جن معاشروں میں جھوٹ اور سچ کا فرق مٹ جائے وہ معاشرے یقیناً کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔

ہم جھوٹ پہ کیوں اعتبار کرتے ہیں؟ ہم سچ کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں؟ انسان ایک شخصیت، ایک مزاج کا نام ہے۔ اکثر باتیں وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے مزاج ہماری تربیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ محبت میں انسان محبوب کی بات کو سچ مانتا ہے اور جس سے نفرت ہو اس انسان کا سچ بھی جھوت سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ فکری رجحان، ہمارے مذہبی اور سیاسی نظریے بھی ہماری سچ اور جھوٹ کی حدود کو ملا دیتا ہے۔ ہم بعض باتوں کو لاشعوری طور پہ سچ سمجھتے ہیں۔

لہذا ان لاشعوری باتوں کی حق میں جیسے ہی کوئی کسی بھی قسم کی سطحی دلیل بھی آتی ہے ہم اس کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ جبکہ بعض باتوں کو ہمارے شعور میں موجودہ سچائیوں سے متعلق ثابت کر کے سچ بنا دیا جاتا ہے ۔ لہذا ہم ان کو بلا تردد مان لیتے ہیں۔ ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس کو post truth era کہا جاتا ہے۔ ایسا دور جہاں سچ سے پہلے لوگوں تک وہ جھوٹ پہنچا دیا جاتا ہے جس کو انہوں نے سچ ماننا ہے۔

میں سچ سے گریزاں ہوں اور جھوٹ پہ نادم ہوں
وہ سچ پہ پشیماں ہے اور جھوٹ پر آمادہ
(مصطفی شہاب)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments