گورونانک خالصہ کالج گوجرانوالہ سے اسلامیہ کالج کا سفر (پہلا حصہ)


جو لوگ تاریخ اور اس کی اہمیت سے نابلد ہوتے ہیں وہ بڑی سطحی باتیں بھی کر جاتے ہیں۔ جو قومیں تاریخ کو اہمیت نہیں دیتیں تاریخ بھی ان کو کوئی اہمیت نہیں دیتی ہے۔ تاریخ قوموں کا حافظہ ہوتی ہے اگر یہ حافظہ ہی کمزور ہو جائے تو اس قوم کی کیا حالت ہو گی۔ وہ قوم ہمیشہ کے لئے صحرا نوردی کرتی رہے گی۔ اس کا نہ کوئی ماضی سے تعلق ہو گا اور نہ ہی اس کا حال اور مستقبل ہو گا۔ تاریخ کی کہانی ہمارے سامنے کتابوں، عمارتوں، سکوں اور پرانے نوادرات کی شکل میں سامنے آتی ہے۔

یہ سب نوادرات اور پرانی عمارتیں تاریخ لکھنے اور سمجھنے میں بڑی مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ مگر ہمارے جیسی ناہنجار قومیں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے قیمتی ورثے کو تباہ کر دیتی ہیں۔ اس تباہی کے پیچھے ہمارا شعور اور لاشعور دونوں کار فرما ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس کا ادراک ہی نہیں ہو پاتا ہے کہ ہم کون سا جرم کر رہے ہیں۔ ہم جانتے ہوئے بھی یہ جرم کر گزرتے ہیں کہ یہ ایک جرم ہے۔ لیکن ہمارا لاشعور ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کر رہا ہوتا ہے کیونکہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ اگر ایسا کر بھی دیا جائے تو کیا ہو جائے گا۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنے تاریخی ورثے کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں بلکہ اپنی تاریخ کو بھی ختم کر رہے ہوتے ہیں۔ جو قومیں ایسے جرائم کو بڑی خوشی سے انجام دیتی ہیں تاریخ ان کو کبھی بھی معاف نہیں کرتی ہے۔

برصغیر میں کئی قومیں آباد تھیں۔ انہوں نے یہاں پر اپنی بے شمار یادگاریں چھوڑیں۔ ان کی چھوڑی ہوئی یادگاریں آج بھی محفوظ ہیں۔ ان کو محفوظ کیوں کیا گیا ہے؟ کیوں کہ وہ ہمارے ماضی کا ورثہ تھیں؟ ماضی کے ورثے کو محفوظ کرنا ہماری ذمہ داری بن جاتی ہے۔ ورنہ ماضی کی ان یادگاروں کا کیسے پتا چلے گا کہ یہ کس نے بنائیں تھیں اور کیوں بنائیں تھیں۔ مقصد یہ ہی ہوتا ہے کہ آنے والی نسلوں کو یہ پتا چل سکے کہ ہمارا ماضی کیا تھا؟ ہمارے اسلاف کیا تھے؟ انہوں نے کیا کچھ کیا؟ اگر اس محفوظ کیے ہوئے ماضی کو ہی ہم تباہ کرنا شروع کر دیں تو پھر نا ماضی کا وجود رہے گا اور نہ ہی ہمارا۔

جب میں ایک بچہ تھا تو کتابوں میں یہ پڑھا کرتے تھے کہ فلاں ملک میں فلاں فلاں مصور، شاعر، ادیب اور ناول نگار کی یادگار کو بہترین شکل میں محفوظ کر لیا گیا تھا۔ وہ یادگاریں آج بھی ایسے ہیں جیسے آج بنائی گئی ہوں۔ یقین نہیں آتا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ پھر جب تھوڑے بڑے ہوئے تو ایسی ہی عمارتیں یا یادگاریں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا تو یقین آیا کہ ہاں دنیا میں ایسا ہو سکتا ہے۔ لوگ اپنے اسلاف کی ماضی کی یادگاروں کو محفوظ کر سکتے ہیں۔

کئی ملکوں نے اپنے شاعروں اور ادیبوں کے گھروں کو بھی محفوظ کر دیا اور وہاں پر ان کی پڑی ہوئی ہر چیز کو بھی محفوظ کر دیا تاکہ ان کی آنے والے نسلیں اپنے ان ادیبوں کے شب و روز سے واقف ہو سکیں کہ وہ کیسے رہتے تھے؟ ہمیں ان چیزوں سے کوئی لگاؤ نہیں۔ ہاں ہم ایسی جگہوں کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال کر نا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ تقسیم کے بعد لوگوں نے ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں پر قبضہ کر لیا۔ مندروں کویا تو رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا یا پھر وہاں پر لوگوں نے اپنے کاروبار شروع کر لئے۔ گوجرانوالہ میں بہت سے مندر اور گوردوارے موجود ہیں جن کے ساتھ یہ ہی سلوک کیا گیا۔

تاریخ پڑھنے کا شوق چرایا تو تاریخی یادگاروں کو دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ برصغیر پر کئی ایک حکمران رہے کچھ مقامی اور کچھ باہر سے آئے۔ باہر سے آنے والوں کو مغلوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس دور میں برصغیر میں ثقافتی، سیاسی، معاشی، تعمیراتی اور معاشرتی ترقی بھی ہوئی۔ عالی شان عمارتیں بنائیں گئیں جن کو دنیا کے عجائبات میں شامل کیا گیا۔ تاج محل بھی اس دور کی یاد دلاتا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح اس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ ہندوستان کیوں کہ ایک کثیر القومی خطہ تھا تو یہاں پر اور قومیں بھی آباد تھیں جیسے ہندو اور سکھ۔ انہوں نے بھی اپنی اپنی یادگاریں چھوڑیں اور وہ بھی آج کسی نہ کسی شکل میں محفوظ ہیں۔ ہندوؤں کی عبادت گاہیں مندروں کی شکل میں اور سکھوں کی عبادت گاہیں گردواروں کی شکل میں کہیں کہیں نظر آجاتی ہیں۔

پھر یہاں ڈچ، پرتگیزی، فرانسیسی اور انگریز آئے۔ ان سب قوموں میں سے موخرالذکر قوم نے برصغیر میں باقی سب قوموں کو پچھاڑ کر اپنے مستقل قدم یہاں جما لیے۔ ان کے مستقل قدم جمانے سے تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ یہ باب 1699 سے شروع ہو کر 1947 پر ختم ہوا۔ یہ ایک نئی دنیا اور نئے دو رکا آغاز تھا۔ اس دور کو نو آبادیاتی دور کہا جاتا ہے۔ انگریزوں نے یہاں پر اپنی طرز کے نئے نئے ادارے متعارف کروانا شروع کر دیے۔ ان اداروں میں تعلیمی ادارے بھی شامل تھے۔ اس طرح جدید طرز کی تعلیم کا آغاز ہو گیا۔

جدید تعلیم کے آغاز نے مقامی آبادی کے لوگوں کو بھی اس بات پر اکسایا کہ کیوں نا ہم بھی اس کار خیر میں حصہ ڈالیں اور اپنی اپنی کمیونٹی کے لیے تعلیم کا بندو بست کریں؟ یہاں پر بسنے والے سب لوگوں نے اپنے اپنے لوگوں کے لیے فلاحی اور رفاہی ادارے اور انجمنیں بنا نا شروع کر دیں۔ مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تعلیمی ادارے بنائے گئے۔ ان تعلیمی اداروں میں تعلیم دینے کا عمل شروع ہو گیا۔ لوگوں نے پڑھنا لکھنا شروع کیا۔ تاریخ سے دلچسپی پیدا ہوئی اور ہندوستان کی تاریخ نئے سر سے لکھی جانے لگی۔

انگریز کس قدر بے وقوف لوگ تھے۔ ان کو تاریخ سے اتنا شغف کیوں تھا کہ انہوں نے ہندوستان کے مختلف سروے کروانے شروع کر دیے؟ ان کو یہ سروے کروانے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ یہ سب کیوں کر رہے تھے؟ وہ یہ سب کچھ نہ بھی کرتے تو ان کا کام تو چل ہی رہا تھا۔ وہ یہاں پر حکمرانی کرنا چاہتے تھے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ وہ یہاں کی ہر ایک چیز بارے جاننا چاہتے تھے۔ اسی مقصد کے لئے وہ یہاں پر سب کچھ کروا رہے تھے۔ نئے نئے سیاسی اور انتظامی ادارے قائم کر رہے تھے۔

انہوں نے ہندوستان کا ایک آرکیالوجیکل سروے کروایا تاکہ ہندوستان کی ہزاروں سال پرانی تاریخ کا کھوج لگا سکیں۔ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ہوئے۔ برطانوی حکومت نے 1861 ء میں ہندوستان میں محکمہ آثار قدیمہ قائم کیا۔ اس کے ابتدائی ماہرین میں جان مارشل، الیگزرنڈرکنگھم اور مورتمروھیلر تھے۔ ان ہی لوگوں کی بدولت ہمیں ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کے بارے میں علم ہوا۔ یہ کیسے ہوا یہ بھی ایک الگ کہانی ہے؟

یہ سب کچھ سر جان مارشل کی محنت کی بدولت ہی ہو پایا۔ جان مارشل ایک انگریز آرکیالوجسٹ تھا۔ یہ کام انہوں نے 1922 ء میں انجام دیا۔ اس طرح ان کھنڈرات کی کھدائی سے دنیا کے سامنے ہندستان کی ایک نئی تاریخ سامنے آئی۔ اس پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں۔ آج بھی اس تہذیب پر نئی نئی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستان کے ایک مشہور و معروف استاد اور مؤرخ احمد حسن دانی نے بھی پاکستان کی قدیم تاریخ اور تہذیب پر کئی ایک کتب تحریر کیں۔

ایک ہم ہیں کہ سو سو سال پرانی عمارتوں کو غسل خانوں اور چائے خانوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ان عمارتوں کے بنانے والوں پر کیا گزرتی ہو گی ان کی روحیں تو تڑپ کر رہ جاتی ہوں گی۔ ہم اپنے گھروں سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ کہیں کوئی بھی غلط کام نہیں ہونے دیتے۔ لیکن جب ہم کسی سرکاری ادارے میں کام کر رہے ہوتے ہیں تو وہاں پر ہمارا رویہ بالکل اجنبیوں جیسا ہوتا ہے۔ ہم اس ادارے کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کرتے ہیں۔ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں کیوں کہ ہمارا وہاں پر مفاد صرف اور صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہم کو وہاں سے ہمارا رزق ملتا ہے اور بس اس کے سوا کچھ نہیں۔

وہاں کا چاہیے سربراہ ادارہ ہویا پھر وہاں پر کام کرنے والا ایک عام سرکاری ملازم ہو۔ ہر کسی کا رویہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ کچھ بھی ہو جائے کوئی بھی اس کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔ جو ایسا کرتا ہے اس کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے تاکہ ایسا کوئی شخص اٹھے ہی نہ جو کسی ادارے کی انتظامیہ کے خلاف آواز اٹھائے۔ ایسا ہی کچھ اس کالج کی قسمت کے ساتھ بھی ہوا۔ پہلے تو پرنسپل کالج ہذا نے شعبہ اسلامیات کو کیمسٹری والے بلاک کے سامنے شفٹ کیا۔

اس میں کوئی بری بات نہیں۔ ظلم اس وقت ہوا جب پرنسپل نے کالج گراؤنڈ کے اندر شعبہ اسلامیات کے ہیڈ کے ساتھ مل کر وہاں پر پودے لگائے اور بچوں کے اس گراؤنڈ کو چھوٹا کر دیا۔ اگر کسی نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو اس کو ڈرایا اور دھمکایا گیا کہ اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھنی چاہیے۔ خیر آواز اٹھانے والوں نے آواز اٹھائی اور تماشائیوں نے تماشا دیکھا۔ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک ظلم اس کالج کی ایک سو چار سالہ پرانی عمارت کی دیواروں کو گرا کر شعبہ کمپیوٹر کے لئے ایک عدد کچن اور بیت الخلاء کا انتظام کیا گیا۔

یہ سب کچھ پرنسپل کالج ہذا اور صدر شعبہ کمپیوٹر سائنس کی ایما ء پر ہوا۔ اس کے خلاف بھی بھر پور مذمت ہوئی لیکن نگار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا اور یہاں پر پڑھانے والے اساتذہ چپ چاپ یہ کہتے ہوئے تماشا دیکھتے رہے کہ یہ کون سی ہماری گھر کی عمارت ہے۔ اگر کچھ ہوتا ہے تو ہونے دیں۔ یہ سوچ جہاں پر پروان چڑھ رہی ہو وہاں پر کیا کوئی ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔ جان ڈیوی جو کہ امریکہ کے مشہور فلسفی اور ماہر تعلیم تھے ان کے بقول سکول یا کالج کے متعلق یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہاں پر کتنے طلبا پڑھتے ہیں یا اس سکول یا کالج میں کیا پڑھایا جا رہا ہے۔

ڈیوی کہتا ہے اس سب کے علاوہ صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سکول یا کالج کے کھیل کے میدان کتنے بڑے ہیں۔ یہ ہے ترقی کرنے والی قوموں کی روش۔ جو قومیں ترقی کرتی ہیں ان کا شیوہ یہ ہی ہوتا ہے کہ وہ تعلیم پر خوب توجہ دیتی ہیں۔ وہ تعلیمی اداروں کی ترقی کے لئے خوب محنت کرتے ہیں۔ ایک ہم ہیں جو بالکل اس کے الٹ سوچتے ہیں۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS

One thought on “گورونانک خالصہ کالج گوجرانوالہ سے اسلامیہ کالج کا سفر (پہلا حصہ)

  • 22/05/2022 at 12:46 شام
    Permalink

    بلاشبہ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ کا ایک مایہ ناز ادارہ ہے اور مجھے اس میں تعلیم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ تاریخ سے شغف رکھنے والوں کیلئے سیک انمول خزانہ جسکی حفاظت کیلئے افسوس کے ابھی تک کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا لیکن پھر بھی یہ ایک ماں کی طرح اپنے ہاں علم حاصل کرنے والوں کو اطمینان بخش اور قدرتی ماحول مہیا کرتا ہے۔ اندرون شہر گوجرانوالہ میں اسلامیہ کالج ہی سب سے بڑا کالج ہے اس کے باوجود کہ لوگوں نے اس کالج کی زمین پر بہت سے تجاوزات قائم کیے اور اسکی حدود پہلے کی بہ نسبت سکڑ گئ ہے۔ پڑھا لکھا اور جانفشانی سے لوگوں کو پڑھانے والا اساتذہ کرام کا سٹاف ، بڑی گراؤنڈ اور کم فیس اس ادارہ کو آج بھی غریب طلباء کیلئے پر کشش بناتی ہے۔ امید ہے کہ ہم اس تاریخی ورثہ کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے اگر اللّه سے ہمت و توفیق دی۔

Comments are closed.