ڈاکٹر عامر لیاقت سے بھگوڑا بننے تک کا سفر


یہ ان دنوں کی بات ہے جب عالم آن لائن جیو ٹی وی پر نیا نیا شروع ہوا تھا۔ شام کے اوقات میں محض آدھے گھنٹے کے لئے یہ پروگرام آتا اور فارمیٹ بھی روایتی ہی تھا جس میں مختلف دینی مسائل پر علمائے کرام سے رائے طلب کی جاتی لیکن اس پروگرام کے میزبان کا ہلکا پھلکا انداز پروگرام کی ریٹنگ کہاں سے کہاں لے گیا۔ مذہبی پروگرام لوگ کہاں اتنے شوق سے دیکھتے تھے لیکن اس نوجوان میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت کے شگفتہ انداز بیان کی وجہ سے اب گھر گھر یہ پروگرام دیکھا جانے لگا۔

مجھے یاد پڑتا ہے ان دنوں مجھے شہر سے باہر ایک کام کے سلسلے میں جانا ہوا تو ایک خاتون نے میزبان کا ذکر اتنی عقیدت سے کیا جیسے وہ کوئی صاحب بصیرت بزرگ ہوں۔ خیر ہمارے گھر میں بھی شام کے اوقات میں ڈاکٹر عامر کے پروگرام کا باقاعدہ انتظار کیا جانے لگا اور میں تو ان کی باقاعدہ فین ہو گئی۔ ان دنوں کسی نے یوٹیوب پر ان کی کوئی گالیاں بکتے ویڈیو شیئر کر دی جس کے متعلق بعد میں کہا گیا کہ یہ ایک فیک ویڈیو تھی تب میں نے بھی اس ویڈیو کو مسترد کر دیا تھا کہ بھلا اتنی محبت سے اللہ اور رسول ﷺ کی باتیں کرنے والا شخص گالیاں کیسے دے سکتا ہے۔

عالم آن لائن کے بعد رمضان ٹرانسمیشن ان کا دوسرا پڑاؤ تھا۔ رمضان ٹرانسمیشن میں ڈاکٹر عامر کے اندر چھپے اداکار کو مزید باہر آنے کا موقع ملا۔ اب پتا چلا کہ ڈاکٹر صاحب میزبان ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے کک بھی ہیں۔ ڈانس بھی بہت اچھا کر لیتے ہیں۔ ٹھرک پن میں بھی ایکسپرٹ ہیں۔ ان دنوں رمضان کی طاق راتوں میں موصوف دعا کروانے لگے۔ طاق راتوں میں رقت آمیز دعا جسے جو بھی سنتا بے اختیار آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے۔

تب لگتا تھا کہ ان سے بڑھ کر محبتوں کا پیامبر اور کون ہو سکتا ہے۔ وقت گزرتا رہا اور ڈاکٹر صاحب کی مقبولیت بھی بڑھتی چلی گئی۔ جیو کے بعد آپ بول پر آئے اور اب آپ کی پہچان صرف ایک میزبان نہیں بلکہ ایک اداکار کی بھی تھی جو رونے اور ہنسنے کی بہترین اداکاری کر سکتا ہے۔ آپ سیاست میں آئے اور وہاں بھی کامیاب رہے۔ دوسری شادی کے بعد موصوف کی شخصیت کچھ کچھ متنازعہ ہونے لگی رہی سہی کسر ٹک ٹاکر نے پوری کر دی۔ دانیہ شاہ سے شادی اور علیحدگی تک ٹک ٹاک کی ویڈیوز کے ذریعے جو کہانی سنائی گئی اس نے ڈاکٹر عامر لیاقت کی بچھی کچھی عزت کو بھی سڑک کے بیچ نیلام کر دیا۔

موصوف جب رمضان ٹرانسمیشن کے دوران بندروں کی طرح اچھل اچھل کر نیلام گھر کھیلتے تھے بلکہ ایسا ہی نیلام گھر ان کے ساتھ کھیلا گیا تھا اور دانیہ شاہ نے انہیں کوڑیوں کے بھاؤ نیلام کر دیا تھا۔ وہ عزت جو انہیں اللہ اور رسول ﷺ کا ذکر کر کے ملتی تھی۔ وہ اپنی اس عزت کو سنبھال نہیں پائے اور ذلیل و رسوا ہو گئے۔ اب جب روتے ہوئے وہ پاکستان چھوڑنے کی بات کرتے ہیں تو بہت ہنسی آتی ہے کہ ملک سے باہر سیٹل ہونا تو ہمارے معاشرے کے ہر دو نمبر آدمی کا آخری حربہ ہوتا ہے۔

وہ اپنی بچھی کچھی دولت کو وہیں ٹھکانے لگاتے ہیں سو ڈاکٹر صاحب آپ بھی اگر بھگوڑے بن کر بیرون ملک پناہ لینے لگے ہیں تو ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ آپ کو اس ملک نے عزت بھی بہت دی ہے، آپ نے اپنی حرکتوں کے باعث خود کو ذلیل کروایا ہے۔ آپ کے لئے تو یہی سزا کافی ہے کہ آپ کا برہنہ جسم پوری دنیا نے دیکھا۔ آپ نے جتنا مال بنایا ہے اس سے پہلے کہ کوئی اس پر سوال اٹھائے آپ نے بھگوڑا بننا بہتر سمجھا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے بھگوڑے بننے تک کا سفر مبارک ہو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments