لندن لیکس کے بعد غیر جانبداری


دو ہفتے پہلے ہی کی تو بات ہے ملک میں ”غیر جانب داری“ کا خوب چرچا تھا۔ یوٹیوبرز قصیدے پڑھ رہے تھے اور نصف سے زائد نیوز چینلز یہی باور کروانے میں لگے تھے کہ اب ملکی سیاست میں غیر جانب داری کا چلن رہے گا اور راوی جمہوریت ہی جمہوریت لکھے گا۔ پھر یوں ہوا کہ بلاول بھٹو زرداری لندن پہنچ گئے تاکہ نواز شریف سے ملاقات کرسکیں اور جمہوری صورت حال کا فائدہ اٹھا کر چارٹر آف ڈیموکریسی کے تشنہ تکمیل نکات کو مکمل کرنے کا لائحہ عمل طے کر سکیں۔ یوں غالباً 18 ویں آئینی ترمیم جیسی ایک اور ترمیم لانے پر اتفاق کیا گیا۔

ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ 18 ویں آئینی ترمیم چونکہ غیر جانبداری پر مجبور رہنے کی جانب ایک قدم آگے بڑھانے کا ذریعہ ثابت ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے غیر جانب دار صاحبان اس حرکت سے سخت نالاں ہوئے تھے اور ابھی تک ہیں۔ ظاہر ہے ایک بار پھر سے اس قسم کی آئینی حرکت کی اجازت نہیں دینا انتہائی مشکل امر ہے۔ معلوم نہیں کہ بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف مل کر شہباز حکومت کے خلاف کوئی سازش رچانا چاہتے تھے یا یہ رہنما اتنے معصوم ہیں کہ انہیں اپنی پیش کردہ آئینی تجاویز کے نتیجے میں نوزائیدہ شہباز حکومت کے لئے کھڑی ہونے والی مشکلات کا ادراک نہیں تھا۔ انہوں نے مبینہ طور پر نہ صرف مذکورہ معاملے پر مشاورت کی بلکہ نیوز چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایجنڈے پر اتفاق ہونے کی درج ذیل ”لیکس“ بھی سر عام چھوڑ دیں۔

پہلی تجویز یہ تھی کہ آئینی عدالت تشکیل دی جائے اور اس کی ساخت ایسی ہو جس پر باہر سے اثر انداز ہونا مشکل سے مشکل تر ہو سکے۔ تمام آئینی تنازعات کو سپریم کورٹ کی بجائے اسی آئینی عدالت کے ذریعے طے کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے۔ دوسری تجویز یہ کہ نیب کی سیاسی دھار کو کند کرنے کے لئے نیب قوانین میں ایسی ترامیم کی جائیں کہ یہ سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال نہ ہو سکے۔ تیسری تجویز یہ طے ہوئی کہ الیکٹرک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کروانے پر روک لگائی جائے، اوور سیز پاکستانیوں کو اسمبلی میں نمائندگی کا حق ایسے انداز میں دیا جائے کہ وہ تمام نتائج پر اثر انداز نہ ہو سکیں اور الیکشن میں سلیکشن کی ملاوٹ کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ایک اہم تجویز یہ بھی تھی کہ آرمی چیف کی تقرری کے لئے سنیارٹی کا اصول لاگو کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے۔

اوپر بیان کیے گئے آئینی پیکج کے نکات ایسے ہیں جو غیر جانب داری کے دعویداروں کے لئے غیر جانب داری برقرار رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن غیر جانب داری کا اظہار کرنے کے باوجود کسی بھی شخص یا ادارے کے لئے یہ آسان نہیں کہ وہ اپنے صدی بھر سے زائد پرانے اختیارات کو یوں آسانی سے سرنڈر کرسکے۔ ان کے لئے اس پیکج کو ہضم کرنا بہت مشکل امر ہے چاہے ہاضمولا کی شیشیاں کی شیشیاں ہی کیوں نہ پیش کردی جائیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود آخر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایسی بھاری بھرکم تجاویز کو سرعام لیک کرنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ جبکہ قومی اسمبلی میں ان کے پاس محض چند ووٹوں کی اکثریت ہے اور وہ بھی ایسے ارکان کے بل بوتے پر جو اشارہ ابرو کے منتظر بیٹھے ہیں۔ دوسری جانب ابھی ان کے قدم پنجاب میں بھی بری طرح ڈول رہے ہیں۔

یہ تو نہیں ہو سکتا کہ نواز شریف جیسا سرد و گرم چشیدہ اور بلاول بھٹو جیسا زیرک سیاست دان مذکورہ لیکس کے نتائج سے باخبر نہ ہوں۔ شاید انہیں یہ گمان ہے کہ ملک جس معاشی گرداب میں پھنس چکا ہے اسے کنارے لگانے کی صلاحیت موجودہ حکومتی سیٹ اپ کے علاوہ کسی دوسرے یا تیسرے کے پاس نہیں ہے۔ اس لئے وہ کھل کر اور اپنی شرائط کے مطابق کھیلنا چاہتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب انہیں ایسے رویوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کہ جہاں میچ ہارنے کی بجائے پچ اکھاڑنے کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پچ اکھاڑی جاتی ہے یا تھوڑا بہت فاؤل پلے کر کے میچ کو ایسی حالت میں مکمل کرنے کی اجازت مل جاتی ہے جس میں خوش گمان فریق کو جیت کا دعویٰ کرنے کا موقع مل سکے۔ جی ہاں محض دعویٰ کرنے کا موقع۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حسن رشید رئیس کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments