ماں کو خوش رکھنا بہو کی ذمے داری؟


ماں کے پاؤں تلے جنت ہے اور ماں کے بغیر گھر ایسا ہے، جیسا قبرستان، لیکن ایسا کیوں، ایسا اس لیے کیونکہ، ایک ماں ہی درد برداشت کر کے بچہ پیدا کرتی ہے، اور خدا کے بعد ماں ہی بچے کا واحد سہارا ہوتا ہے۔ اور وہ ماں جس کے قدموں تلے جنت ہے لیکن یاد رہے وہ جنت بھی صرف اولاد کے لیے، ایسا نہیں کہ وہ جنت بھو یا داماد کے لیے ہو۔

ہمارے مذہب میں بھی ماں کے حق میں قرآن پاک میں آیات ہیں، ان آیات میں، بیٹے اور بیٹیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ؛

ترجمہ: ” اور آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ بہتر سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کے سامنے اف تک نہ بولو۔

یہ حکم بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ماں ساس کی صورت میں بہو بیٹے میں اختلاف ڈالے تو ماں کے لیے جائز ہے۔ اور نہ ہی اس آیت میں یہ حکم ہے کہ بیوی کو دوسرے درجہ یا ماں کی وجہ سے حقارت سے پیش آیا جائے۔

پیشہ کے لحاظ سے میں ایک وکیل ہوں، میرے پاس لڑکیوں کی تذلیل کے کیسز ہیں، جو کہ سسرال میں ان سے کی جاتی ہیں۔ ساس بعد میں شوہر کے رویے جو کہ بعد میں طلاق کی وجہ بنتے ہیں۔

ایسی ہی ایک کہانی میرے پاس ہے، ایک پڑھی لکھی لڑکی، جس کی ذہانت و قابلیت اپنے کام والے لوگوں میں مشہور تھی۔ اس کی شادی ایک ایسے گھرانے میں ہی جہاں ناقدروں کا راج تھا، شوہر نے بولا میری ماں کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا، چلو یہ بھی مان لیں، کہ بڑھاپے میں ماں کو خوش رکھنا کوئی بری بات تو نہیں اور اگر بہو بھی ساس کو اپنے رویے سے خوش رکھے، تو یہ تو ایک مثبت مثال ہوتی ہے۔

لیکن یہ بھی تعین ہونا چاہیے کہ اگلے بندے کی خوشی کیا ہے، ایسے تو فرعون کی خوشی یہ تھی کہ اس کو خدا مانا جائے، اور ابو لہب کی خوشی یہ تھی کہ غیر اللہ کو پوجا جائے، تو صاحب ہمارے معاشرے میں، گھر کے بڑوں کو سمجھنا ہو گا کہ آپ کا کردار جو آپ کی خوشی ہے وہ دوسروں کا دکھ ہے اور اذیت تو نھیں۔

تو ہم بات کر رہے تھے اس ہونہار لڑکی کی، وہ لڑکی شادی سے پہلے ہی ساس کے لیے چھوٹے موٹے تحائف لایا کرتی تھی، خیر شادی ہو گئی۔ اور اپنے گھر آ گئی۔

، اس لڑکی کی دو نندیں غیر شادی شدہ تھی۔

شادی سے پہلے سسرال والوں کو بتایا گیا تھا کہ لڑکی اچھی جاب کرتی ہے اور جھاڑو و کپڑے والے کام نہیں کرتی لیکن شادی کے بعد ساس نے بولا کہ کپڑے تونے خود دھونے ہیں، بہو نے کہا اپنے پیسوں سے کام والی رکھوں گی، لیکن ساس نے حکم دیا کہ میری بیٹیاں خود دھوتی تھی تو تم بھی کپڑے دھوو گی اور پوری گھر کے۔

اس کے بعد روٹی، برتن ساری کام بہو کے سپرد کر دیتی ہیں لیکن بہو صاف انکار کر دیتی ہیں کہ یہ کام مین نے اکیلے نہیں کرنے، جس پر ساس بہو کو تھپڑ مارتی ہے وہ بھی شوہر کے سامنے، بہو سخت غصے میں آ کر میکے چلی آتی ہے۔

کچھ دن گزرنے کہ بعد شوہر بیوی کو لینے آتا ہے اور بولتا ہے، یار تم کو پتا تو ہے، میری ماں دل کی مریض ہے اور بی پی بھی ہائی رہتا ہے اب اس کا کیا دل میں دکھ رہی ہو۔

اس یقین دھانی پر کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا، شوہر بیوی کو گھر لے کر آتا ہے، وہ ماں بیٹے کو بہو کی ہر رپورٹ شام کو دیتی ہے، بہو نے فون پر بات کی، کتنا کام کیا وغیرہ۔ شوہر کی ایک ہے رٹ کہ میرے مان کو خوش رکھو۔

وقت گزرتا جاتا ہے اور بہو کو بیٹی پیدا ہوتی ہے، جس کے ساتویں دن بعد ساس بہو سے گھر کے کپڑے دھونے روٹی پکانے اور دیگر کام کا بولتی گے، اور دو بیٹیوں کے ہوتے ہوئے بھی، اور بہو کے ڈلیوری وہ بھی آپریشن، کو اتنے کام دینے کا مطلب، بہو کے سکون اور طبیعت بگاڑنے کی سازش ہے۔

اگر بہو نہ کرے تو اس کو مارا جائے تشدد کیا جائے۔ تو ماں کی یہ خوشی ہے۔

ادھر لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن پاک کا ہر حکم ماننا ہم مسلمانوں پر فرض ہے، دیکھا جائے کہ بہو پر گھر کے کام کا قرآن پاک میں کوئی حکم نھیں۔ ساس سسر گھر کے بڑے سائبان ہیں ان کے کام بھو خوشی سے کرے تو یہ حسن اخلاق ہے، لیکن بیٹیوں کے ہوتے بہوؤں پر سارے سارے کام کی ذمے داریاں ڈالنا انصاف کے منافی ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے کفر سے ریاست چل سکتی ہی لیکن نا انصافی سے نھیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments