جنگل کی آگ
اول اول چمپینزی کا یہ کزن افریقہ کے جنگلوں میں درختوں پر رہتا تھا اور انہی کے پھل اور جنگلی بوٹیاں کھا کر گزر بسر کر لیتا تھا۔ پانی کی پیاس لگتی تو دریاؤں، آبشاروں، چشموں اور جھیلوں سے استفادہ کرتا۔
پھر رفتہ رفتہ یہ درختوں سے نیچے اتر آیا اور غاروں میں رہنے لگا اور باقی ممالیہ جانوروں کی طرح دیگر جانوروں کا شکار کرنے لگا۔ مزید شعور آیا تو سردی گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے بدن پر پتے اور اور جانوروں کی کھال باندھنے لگا۔ اس دوران اس نے پتھر کے اولین انتہائی سادہ اوزار بنا لئے تھے۔ کسی دن شکار کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اس نے پوری قوت سے جو پتھر کھینچ کے مارا وہ جانور کو لگنے کی بجائے سیدھا سامنے پڑی چٹان سے ٹکرا گیا۔
چنگاریاں نکلیں اور ساتھ پھیلی ہوئی خشک گھاس کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ شکار کو بھول کر حیرت سے جلتے ہوئے درخت کے تنے کو دیکھنے لگا۔ تنا جلتا رہا اور اس میں سے شعلے اور دھواں نکلتا رہا۔ آخر کار جل کر ختم ہوا اور ساتھ ہی بہتی ندی میں گرا تو آگ دفعتاً بجھ گئی۔ آگ کی یہ دریافت اس کی موجودہ معلوم چودہ ہزار سالہ تاریخ کا پہلا حقیقی انقلاب تھا۔ اس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ اس نئی کرشماتی طاقت سے اس پورے سیارے پر اس کے علاوہ کوئی ذی روح واقف نہ تھا۔
اس نے اس آگ کو اپنی طاقت بنا لیا اور گوشت کو بھون کر کھانے لگا۔ اسی آگ کی بدولت اس کے گروہ جنگل میں جہاں جہاں سے گزرتے تباہی پھیلاتے جاتے۔ آگ پر اسے جزوی کنٹرول حاصل تھا۔ اکثر بجھانے میں کامیاب ہوجاتا ورنہ ایسے ہی دہکتے انگارے چھوڑ کر آگے نکل جاتا پیچھے پورے پورے جنگل خاکستر ہو جاتے۔ فطرتی نظام کے تحت آگ بارش سے یا کسی اور وجہ سے خود ہی بجھ جاتی۔ رفتہ رفتہ اس نے آگ پر مکمل قابو پا لیا اور یہاں تاریخ کے اس مقام پر اس نے ایک دو دن کی بجائے ایک ہفتہ یا دو ہفتے جنگل میں ایک جگہ رہنا شروع کیا۔
کچھ اور شعور آیا تو یہ عرصہ تین ماہ تک پہنچا۔ یہیں سے زرعی انقلاب کی ابتدا ہوئی۔ اب اس نے گروہوں اور قبائل کی صورت زمین کے مختلف حصوں میں مستقل بنیادوں پر آباد ہو کر کھیتی باڑی شروع کی۔ زرعی انقلاب کا زمانہ سولہویں صدی عیسوی تک چلا اور اسی دوران مغربی یورپ میں صنعتی انقلاب شروع ہوا جس کے ایک یا دو صدی بعد ہی سائنسی انقلاب بھی شروع ہو گیا۔
یہ دور آج اور ابھی تک چل رہا ہے۔ مگر اس سارے سفر میں اس نے اس سیارے پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کے دوران جی بھر کر تباہی پھیلائی۔ اس نے چودہ ہزار برس قبل جو جنگلات کو آگ لگانا شروع کیا تھا وہ آج تک جاری و ساری ہے۔
یہ اس وقت بھی جنگلات کو آگ لگا کر تباہ کر دیتا تھا اور آج چودہ ہزار سال بعد بھی یہ بعینہ وہی کر رہا ہے۔ لہذا شعوری طور پر آپ اس کی معراج کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس کی حرکتوں اور دہشت گردی کے باعث لاتعداد جانوروں اور پودوں کی سپیشیز اس سیارے سے ہمیشہ کے لئے مٹ گئیں اور مسلسل مٹتی جاتی ہیں۔ کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ سیارے کے ماحول کے بچاؤ کے لئے اونچے اونچے پر تعیش کمروں میں منرل واٹر کی بوتلوں کے سامنے انواع و اقسام کے کھانے کھا کر لمبی لمبی میٹنگیں کی جاتی ہیں مگر نشستم، گفتم برخاستم ہوجاتی ہیں۔ یہ فراڈیا ہے۔ جھوٹ بولتا ہے۔ یہ وہیں کھڑا ہے جہاں چودہ ہزار سال پہلے کھڑا تھا۔
آج اتوار کا دن تھا۔ گرمی بے تحاشا تھی۔ گھر سے نکلنے کو جی نہ چاہتا تھا۔ سوچا کل سے پھر گدھا مزدوری شروع ہو جائے گی۔ چلو تھوڑا گھوم آتے ہیں۔ مارگلہ روڈ اسلام آباد سے ہوتے ہوئے پیر سوہاوہ کی طرف گاڑی ڈال دی۔ مارگلہ کی پہاڑیوں پر جو دیکھتا ہوں تو ہر آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر آگ لگی ہوئی ہے۔ وہ جنگل جو نہ جانے کتنے سو یا ہزار سالوں کا فاصلہ طے کر کے ان پہاڑیوں پر اگے ہوں گے اب ہر سال جل رہے ہیں اور مسلسل جل رہے ہیں۔ ساتھ میں ہزاروں کی تعداد میں جنگلی حیات بھی بھسم ہو رہی ہے۔ پہلے صرف ایک مونال ریسٹورنٹ ہوتا تھا۔ جس نے جنگل کاٹ کر وہاں چوٹی پر منگل کیا تھا۔ اب بیسیوں ریسٹورنٹ کھمبیوں کی طرح اگ رہے ہیں۔ جنگل بے دردی سے کاٹا جا رہا ہے۔
سڑک کے کنارے گنجے ہوتے جا رہے ہیں۔
تین چار سال قبل ایک بہت بڑا پروجیکٹ ڈائنو ویلی کے نام سے زیر تعمیر تھا۔ آج جو جاکر دیکھا تو ایک سو چھ کنال کے علاقے سے جنگل کو صفا چٹ کر کے بچوں کے پارک کے نام پر ڈائنو ساروں کی بے ہودہ ممیاں لگا کر ایک اور ریسٹورنٹ کھول دیا ہے۔ پوچھا یہ کس کا ہے؟
بتایا گیا مونال والوں کا ہے۔ انہی مونال والوں کا جن کا پیر سوہاوہ والا مونال کچھ عرصہ پہلے مارگلہ کا جنگل کاٹنے کے باعث صرف عوام کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر سیل کر دیا گیا تھا۔ ادھر پبلک ٹھنڈی ہوئی ادھر جنگل کی بربادی کا بازار دوبارہ گرم ہو گیا۔ مونال پھر سے چالو ہو گیا۔ اور ساتھ میں ایک سو چھ کنال پر ڈائنو ویلی بھی بنا ڈالی۔
کہاوت ہے کہ چور سے زیادہ چور کی ماں کا قصور ہوتا ہے جو اسے چوری کی تربیت اور ہلہ شیری دیتی ہے۔
کوئی پوچھے تو اگلے جواب دیتے ہیں ہم نے حکومت سے جگہ خریدی ہے۔ ہماری مرضی ہم جو مرضی کریں۔
ایوبیہ تا ڈونگا گلی پائپ لائن ٹریک والے جنگل میں بھی بے تحاشا کنسٹرکشن ہو رہی ہے۔
عوام کو ادھر لگایا ہوا ہے کہ آج جلسے میں فلاں نے فلاں کو کیا کہا۔ آج کون گرفتار ہوا۔ کون رہا ہوا۔
کچھ دن پہلے بلوچستان کا ضلع شیرانی کا چھبیس ہزار ایکڑ پر پھیلا چلغوزے کا جنگل جل گیا۔ کسی کو فرق نہیں پڑا۔ یہاں مارگلہ پر کیونکہ آگ عین حکومت کی ناک کے نیچے دارالحکومت کے قریب لگی ہوئی ہے لہذا یہاں آگ بجھانے کے واسطے حکومت کے تین انتہائی اہم ترین اقدامات نظر آئے۔
1) سینٹ کی قائمہ کمیٹی کا منرل واٹر کی بوتلوں کے ہمراہ چند منٹوں کا مارگلہ ہلز کا دورہ اور فوٹو سیشن۔
2) جنگل کی لکڑی کاٹ کر اسی کا تختہ بنا کر چار جگہ بورڈ لگا دیے کہ مارگلہ جنگل کی حفاظت کریں۔ آگ نہ لگائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ العارض۔ فدوی حکومت پاکستان۔
3) جنگل میں سڑک کے کنارے تین ہوادار جگہوں پر خیمے لگا کر ان میں دو دو بندے بٹھا دیے اور انہیں فائر پکٹ کا نام دے دیا۔
ہم نے دیکھا وہ بے چارے گرمی کے ستائے روٹی کھا اور لسی پی کر ٹانگیں پھیلائے اپنے خیموں میں پڑے سوتے تھے اور جنگل جل رہا تھا۔









