صوابی


فانی یعنی فضل اللہ فانی کے باب میں ہماری ایک ہی غیر ارادی تقصیر ہے۔ کوئی پانچ چھ برس قبل علمائے کرام کی ایک کلاس سے ہم ہفتے وار گزرا کرتے تھے، فانی بھی اس کلاس کا حصہ تھے، اور صف اول کے کونے پر براجمان رہتے، اس وقت سے فانی صاحب نے ہمیں جبراً استاد رکھا ہوا ہے۔ اس بار اسلام آباد جانا ہوا تو ارادہ تھا کہ فانی میاں سے بھی ملا جائے۔ عرصہ ہوا تھا اس سے دو بہ دو ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اسلام آباد سے ہمارا پروگرام مینگورہ سوات کا تھا، ہم نے فانی میاں کو اطلاع کی تو وہ بھی وہاں تشریف لے آئے، اب ہمیں کھلے دل سے اعتراف ہے کہ ان سے اپنے اس سفر کا ذکر کرنا ہماری اجتہادی خطا تھی۔ ثواب تو جب ملے گا سو ملے گا، خطا کے سائڈ ایفیکٹ ہمیں فوراً ہی جھیلنا پڑے۔ جس لمحے ہم مینگورہ پہنچے ہم سے دو منٹ پہلے وہ بھی وہاں تشریف لا چکے تھے۔ وہاں پہنچتے ہی انہوں نے صوابی کے لیے اصرار شروع کر دیا۔ بالآخر یہ طے ہوا کہ اگلے روز ہم صوابی جائیں گے اور صوابی سے اسلام آباد واپسی ہوگی۔

چناں چہ مینگورہ میں ایک دن گزار کر اور اطراف گھوم پھر کر ہم نے اگلے روز صوابی کا قصد کیا، اور معلومات کے بعد علم ہوا کہ یہاں سے صوابی صرف سادہ بغیر اے سی ہائی ایس کی سہولت میسر ہے، سو اس کی اگلی دو نشستیں پکڑیں، بیگ گاڑی کے پچھلے حصے میں رکھا اور سوار ہو گئے۔ ٹھیک بارہ بجے دن کو گاڑی روانہ ہو گئی۔

آگے بڑھنے سے پہلے تھوڑا سا فانی اور صوابی کا تعارف ہو جائے۔

فضل اللہ فانی نوجوان عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ اردو، فارسی اور پشتو میں رواں دواں شاعری کرتے ہیں، فن موسیقی سے بھی علمی ربط ہے، سر، تال کو خوب سمجھتے ہیں عربی، فارسی، ہندی اور اردو عروض پر کمال دست رس حاصل ہے، اور سب سے بڑھ کر طبیعت فیضان رسا پائی ہے، مزاجاً استاد ہیں، یعنی فن منتقل کرنے کو اپنی ذمے داری تصور کرنے والا۔

اور صوابی اس وقت خیبر پختونخوا کا ایک ضلع ہے۔ جون 1988ء تک یہ ضلع مردان کا حصہ تھا۔ بعد میں یہ ضلع مردان سے علاحدہ ہو گیا۔ یہ ضلع تحصیل صوابی اور تحصیل لاہور پر مشتمل ہے۔ اس علاقے نے بڑے نام ور اور بڑے عالم و فاضل پیدا کیے ہیں۔ کارگل کے معرکے میں نشان حیدر سے سرفراز ہونے والے کرنل شیر خان شہید کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے، اور یہیں لب سڑک ان کا مزار ہے، مردان روڈ پر واقع اس گاؤں کا نام نواں کلی تھا، اب ان کے گاؤں کو کرنل شیر خان کا ہی نام دے دیا گیا ہے۔

یہ پورا علاقہ گنے، مکئی اور تمباکو کی فصل کے لیے زیادہ مشہور ہے۔ آزادی سے پہلے بھی یہاں چینی اور تمباکو کے کارخانے موجود تھے۔ اب بھی یہاں کا تمباکو برآمد کیا جا رہا ہے۔

صوابی اصل میں سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ صو سنسکرت میں روشنی کو کہتے ہیں، اور ابی پانی کو ۔ چوں کہ صوابی دریائے سندھ کے کنارے آباد ہے، اس لیے اس کے معنی ہوئے، چمک دار یا روشن پانی۔ لیکن ہمارے فانی میاں کا خیال یہ تھا کہ شاید یہ صابی ہی ہو، آتش پرست، پختون لہجے کے سبب واؤ کا اضافہ ہو گیا۔ کیوں کہ انگریزی میں یہ swabi ہی لکھا جاتا ہے، نیز یہاں ستارہ پرستوں کے کچھ آثار بھی دریافت ہوئے ہیں۔ صوابی میں خاص کر چھوٹا لاہور، اور ہنڈ نامی گاؤں بہت زیادہ تاریخی ہیں۔

اس علاقے میں یہاں سکندر اعظم کی آمد کے واضح آثار موجود ہیں۔ سکندر اعظم کے بعد یہاں کچھ عرصے ایرانیوں کی حکومت رہی، پھر ہندو راجہ چندر گپتا نے حملہ کر کے ایرانیوں کو مار بھگایا، اور یہاں ہندو شاہی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس خطے میں مختلف ادوار میں مختلف حکم ران رہے ہیں، ترکوں نے بھی کچھ عرصے حکومت کی ہے، عربوں کے مختلف لشکر بھی یہاں آتے رہے ہیں، لیکن بالآخر سبکتگین نے یہاں اپنا اقتدار قائم کرنے کی کوشش کی، اس وقت یہاں راجہ جے پال حکم ران تھا، سبلگتین اپنی اس کوشش میں وہ پوری طرح کام یاب نہیں ہوسکا لیکن بالآخر محمود غزنوی کے زمانے میں یہ پورا خطہ مسلمانوں کے زیر نگیں آ گیا۔

مینگورہ سے روانہ ہوتے ہوئے وقت کی پابندی دیکھ کر اطمینان ہوا کہ ہم جلد ہی اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے، اور اس قدر وقت ہمیں مل جائے گا کہ آج ہی کچھ مقامات دیکھے جاسکیں گے۔ باتوں باتوں میں فانی میاں نے کم از کم دو بار ہمیں یہ تلقین بھی فرما دی تھی کہ گھر پہنچ کر آرام کا موقع نہیں ملے گا، ہمیں فوراً نکلنا ہو گا۔ ہم تیار تھے، مگر سفر لمبا ہوتا چلا گیا۔ ہائی ایس وین اڈے سے جب روانہ ہوئی تو اس میں ہمارے علاوہ شاید ایک یا دو سواریاں ہی موجود تھیں، نتیجہ یہ کہ اس نے راستے میں قدم قدم پر رکنا شروع کیا، چکدرہ سے جب اسے موٹروے پر آنا تھا تو وہاں اس نے ایک چکر لگا کے دوبارہ انٹرچینج کے عین نیچے گاڑی روک دی اور سواریوں کی تلاش شروع کردی۔ خاصی گرمی، بغیر اے سی وین اور راستے میں یوں رک جانا بہت ہی کھلا۔ لیکن ہم کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ گپ شپ کرتے اور گرمی پھانکتے رہے۔

ڈرائیور ظالم نے پھر ایک غضب اور ڈھایا۔ وہ صوابی انٹرچینج سے خاصا پہلے کرنل شیر انٹرچینج پر اتر کر اندرونی سڑک پر ہو لیا۔ مگر ہمیں کیا خبر کہ کیا ہو رہا ہے۔ فانی میاں اس کی ساتھ والی نشست پر تھے انہوں نے اس سے کچھ پوچھا بھی تو پشتو میں۔ ادھر یہ حال کہ زبان یار من پشتو و من پشتو نمی دانم۔ فانی کی یہ مہربانی بہ ہر حال رہی کہ وہ جب ضرورت محسوس کرتے، اپنی گفت گو کا خلاصہ اردو میں فرما دیتے، متن وہ بھی دو روز تک پشتو میں ہی بولتے رہے۔ بہ ہر کیف یوں سوا دو گھنٹے کا سفر ساڑھے تین گھنٹے میں مکمل ہوا۔ ہم پہلے صوابی شہر میں اترے، پھر چنگ چی کر کے مانکی گاؤں کا قصد کیا، جہاں فانی میاں کی رہائش ہے، ان کے مہمان خانے میں بیگ رکھ کر وضو کیا، نماز ادا کی، بسکٹس کے ساتھ چائے نوش کی، اور آوارگی کے لیے مستعد ہو گئے۔

گھر سے نکل کر سڑک پر آئے تو فانی کہنے لگے کہ رکشے سے ہمارے کالج چلیں گے کہ موٹر سائکل وہاں پر ہے، باقی سفر پھر موٹر سائکل پر مناسب ہے، کیوں کہ جگہ تنگ ہے۔ ہم نے کہا کہ کالج تک پیدل چلتے ہیں، لیکن ان کے اصرار پر رکشے میں کالج پہنچے اور فوراً ہی موٹر سائکل پر بیٹھ کر اپنی اگلی منزل روانہ ہو گئے یہ منزل ہنڈ نامی گاؤں تھا۔ یہاں کئی اہم تاریخی مقامات موجود ہیں۔

ہنڈ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، فانی کی تو رائے یہ تھی کہ یہ ہند ہی کی بدلی ہوئی شکل ہو سکتی ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دریائے سندھ کو انڈس کا نام بھی سکندر اعظم نے ہی دیا ہے، اور عین ممکن ہے کہ یہ بھی ہند سے ہی بنا ہو، کیوں کہ یونانی ہر لفظ کے آخر میں ایس بڑھا دیتے ہیں۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ ہند سے انڈ ہوا اور پھر انڈس ہو گیا۔ بہ ہر کیف ہنڈ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، جو صوابی انٹرچینج سے جنوب کی طرف تقریباً تین کلو میٹر فاصلے پر دریائے سندھ کو جانے والے راستے پر واقع ہے، اور شہر سے کوئی دس کلومیٹر دور ہے۔

اس سے قبل انبار نامی ایک گاؤں واقع ہے۔ ہنڈ میں داخل ہوتے ہی ایک قلعے کی دیوار کا بیرونی حصہ سامنے نظر آیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مغل باد شاہ اکبر نے تعمیر کرایا تھا، اور ایک روایت کے مطابق یہاں سید احمد شہید رحمہ اللہ کا قیام بھی رہا ہے، لیکن یہ قلعہ ہماری بے حسی، ناقدری، بے رغبتی اور اپنے ورثے اور تاریخ سے بے پروائی کی زندہ داستان ہے۔ اس قلعے کی بیرونی دیوار کا کچھ حصہ ہی باقی بچا ہے، صرف دیوار کا ۔ اندر رہائشی مکانات ہیں، لوگ آباد ہیں، ان کے گھر ہیں، جہاں جہاں تک ہم شریفانہ طریقے سے جھانک کر دیکھ سکتے تھے، ہم نے جھانکا اور دیکھا تو دروازے، کھڑکیاں، نئی مگر بے ترتیب تعمیرات ہی نظر آئیں، اور بیرونی دیوار بھی کیا، اسے بھی کسی ظالم نے مرمت کر کے دو کوڑی کا کر دیا ہے، لیکن جس قدر ہے اسے اب بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

ہم نے گھوم پھر کر اس منظر کو افسردہ دل کے ساتھ آنکھوں میں بسانے اور ذہن میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ فانی نے ہماری اور ہم نے قلعے کی چند تصویریں لیں اور اس کے سامنے موجود ہنڈ میوزیم کے دروازے پر پہنچ گئے۔ یہ شام ساڑھے چار کے بعد کا وقت تھا۔ میوزیم بند ہو چکا تھا، ہم اندر نہیں جا سکے، اسے اندر سے دیکھنے کا خواب، خواب ہی رہا، سو ہم وہاں سے نکلے اور دریائے سندھ کے کنارے کی طرف بڑھ گئے۔ اچانک ایک بڑا میدان، پانی اور چند لوگوں کے ساتھ ہمارے سامنے تھا۔

پانی کے بیچوں بیچ تھوڑا سا قطعہ زمین اور درختوں کا جھنڈ دیپ یا ٹاپو کی صورت میں نظر آ رہا تھا۔ ہم نے پیچھے مڑ کر میوزیم کو دیکھا تو سکندر اعظم کی یادگار جو میوزیم کے درمیان میں ایک مینار کی صورت میں ہے، ہمیں دکھائی دی۔ اس میوزیم سے ہم اسی قدر استفادہ کر سکے، لیکن ہمیں بتایا گیا کہ وہاں ہنڈ شہر اور اس کی تہذیب کے حوالے سے بہت کچھ موجود ہے، اور جو کچھ موجود ہے وہ سلیقے سے رکھا گیا ہے، مثلاً برتن، زیورات، سکے اور استعمال کی عام اشیا۔ غنیمت ہے کہ ایسا میوزیم یہاں موجود ہے، کاش اسے مزید بہتر کیا جا سکے، کاش اس کی اور مذکورہ قلعے کی حفاظت کا انتظام ہو سکے۔

یہ ایک اور تاریخی مقام ہے، بلکہ شاید اس علاقے کا سب سے اہم مقام۔ یہ دریائے سندھ ہے، ہم خیبر پختون خوا میں ہیں، اور اس کے بالمقابل پنجاب۔ دریا کے دونوں جانب دو صوبے دریا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے سکندر اعظم سے لے کر بابر تک کتنے ہی فاتحین اور حکم رانوں نے دریائے سندھ عبور کیا، اور اپنے قدم پنجاب میں رکھے، یہاں سے پھر انہوں نے دہلی کا رخ کیا تھا۔ تاریخ میں اس مقام کی حیثیت مسلم ہے۔

ہم تاریخ کے اہم موڑ پر عین اسی جگہ موجود تھے۔ ہمیں یہ سہولت بھی حاصل تھی کہ وہاں موجود کشتیوں کے ذریعے دریا پار کر لیتے، اور محض 50 روپے میں ہمیں بھی ان بڑے فاتحین اور بادشاہوں کے ساتھ ایک گونا نسبت حاصل ہو جاتی، فانی میاں نے بہتیرا کہا کہ وہ پچاس روپے قربان کرنے کو تیار ہیں، لیکن ہم ٹھہرے سدا کے فقیر منش اور درویش مزاج۔ ہم نے تاریخ کے اس نازک لمحے میں بھی اپنی درویشی کا سودا نہیں کیا اور پچاس روپے نقد بچا لیے۔

واپسی پر جب ہم نے راستے میں ایک جگہ تازہ گنے کا رس نکلتے ملاحظہ کیا تو فانی میاں سے جھٹ فرمائش کردی کہ وہ پچاس روپے جو وہاں کشتی کے سفر پر خرچ کرنا چاہتے تھے ان کا ایک گلاس تازہ رس پلائیے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس روز بلا کی گرمی تھی، پانی کا ایک گلاس لمحہ واحد میں یوں وجود کا حصہ بن جاتا تھا کہ جسم اس میں سے ایک بوند بھی کسی صورت واپس کرنے کو تیار نہیں تھا۔

اس مقام پر دریا کی جانب رخ کر کے اگر بائیں جانب دیکھا جائے تو محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر تربیلا ڈیم ہے اور ٹوپی شہر آباد ہے۔ یہاں پانی گہرائی میں نہایت شفاف ہے، لیکن کنارے پر خاصا گدلا، پھر اہل ایمان کی وہاں مسلسل موجودگی کے سبب بھی وہاں دوسرے تفریحی مقامات کی طرح اور ہماری روایت کے عین مطابق جا بہ جا کچرا دکھائی دیتا ہے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں کچرا ٹھکانے لگانے کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا، کوئی کچرے کا ڈبا، ڈرم یا کوئی اور ایسی چیز رکھ دی جائے تب بھی کسی حد تک صفائی کا اہتمام ممکن ہے۔

دریا کا کنارہ ہونے کے سبب یہاں نہایت خوب صورت، دیدہ زیب اور طرح طرح کی شکلوں اور رنگت والے چھوٹے بڑے پتھر بکھرے ہوئے ہیں، سورج کی کرنیں پانی پر پڑ کر جب ان پتھروں پر اپنا عکس ڈالتی ہیں تو وہ منظر دیکھنے والا ہوتا ہے۔ ہم نے بھی ان میں سے چند رنگا رنگ پتھر چنے، ایک تھیلی میں انہیں سمیٹا اور پھر وہیں بھول آئے۔

یہاں چند لوگ پانی کنارے لیٹے ہوئے تھے، چند بچے پانی کے اندر اتر کر اٹکھیلیاں کر رہے تھے، کچھ لوگ ایک کشتی میں دریا کے اندر گھومتے نظر آئے، اور کچھ ہم جیسے کنارے کنارے ہی سارے منظر کو اپنی آنکھوں اور سانسوں میں بسانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ کوئی آدھ پون گھنٹے ہم وہاں رہے، پھر وہاں سے سے روانہ ہوئے اور فانی میاں کے کالج پہنچ گئے، آج کل وہاں پر تازہ تازہ بچوں کے قیام (boarding) کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے اور انہیں وارڈن مقرر کیا گیا ہے، ان کی ڈیوٹی کا وقت ہوا چاہتا تھا، انہوں نے وہاں پہنچ کر جائزہ لیا، پرنسپل صاحب اور اساتذہ سے ملاقات کی، ہماری بھی وہاں موجود اساتذہ اور پرنسپل صاحب سے سلام دعا ہوئی، پرنسپل صاحب بھی شاعر ہیں۔

ان سے مل کر خوشی ہوئی، پھر ہم کھانے کے لیے نکل گئے۔ دریائے سندھ کا ایک اور کنارہ ہمارا منتظر تھا، مقام کون سا تھا ہمیں نہیں پتا، لیکن آبادی سے خاص دور تھا اور راستہ نہایت ویران، آٹھ بجے ہی پورے علاقے میں ہو کا عالم تھا، اندھیرا تھا اور سناٹا۔ وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ یہ اچھا خاصا فوڈ سینٹر ہے۔ یہاں مچھلی ہی دست یاب تھی، کئی ایک ہوٹل یہ سروس فراہم کر رہے تھے۔ اور مچھلی بھی عام طور پر رہو تھی، فارمی رہو، یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور نسل ہو گی، کیوں کہ عام رہو کے بر عکس اس میں کانٹا بہت تھا، یہ مچھلی چھوٹے چھوٹے حصوں میں تل کر فراہم کی جا رہی تھی، مچھلی فارم کی تھی لیکن تازہ تھی، اور سستی بھی، ہم نے ایک کلو کا آرڈر دیا، اس نے خاصا حصہ چھیل کر جو ٹکڑا ہمارے سامنے پیش کیا، وہ بہ ہرحال ہم دو افراد کے لیے کافی رہا۔

مچھلی کے ساتھ ایک کٹوری میں سفید سرکہ اور اور تھوڑا سا رائتہ بھی پیش کیا گیا۔ مچھلی وہاں پر صرف ایک ہی صورت میں بڑے کڑاہے میں تل کر دست یاب تھی، ہم نے چکھی تو ظاہر ہے کہ کراچی والوں کے مطابق اس پر مسالا کہاں ہوتا، جو کم عمر بچے وہاں کھانا پیش کرنے پر مامور تھے، ہم نے ان سے فانی میاں کے ذریعے پشتو میں مسالے کا تقاضا کیا، کئی بار کی یاد دہانی کے بعد بالآخر وہ ایک کٹوری میں نمک لا کر رکھ گئے۔

کھانے سے فراغت کے بعد ہم فانی میاں کی رہائش گاہ پہنچے، قہوے کی فرمائش کی، جو ہم نے ساتھ ہی نوش کیا، فانی صبح سات بجے آنے کا کہ کر کالج چلے گئے، ہم نے عادت کے مطابق کچھ وقت موبائل پر برباد کیا، کچھ مطالعہ کیا، چندے پروف پڑھے، سفر کی روداد لکھی اور سو گئے۔

اگلے روز علی الصبح ناشتے سے فراغت کے بعد نہا دھو کر کپڑے تبدیل کر کے ہم اپنی اگلی منزل کے لیے تیار تھے۔ یہ منزل رانی گٹ تھی۔ فانی میاں کی رہائش سے رانی گٹ کا فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے گاڑی کے بغیر وہاں جانا ممکن نہیں تھا، گاڑی کا انتظام یوں ہوا کہ فانی میاں کے ایک ساتھی اپنے ایک دوست کے ساتھ تشریف لائے، اور ہمیں ڈھو کر رانی گٹ کی پہاڑی پر پہنچانے کی ذمے داری اپنے سر لے لی، بڑی ذمے داری تھی، مگر انہوں نے خوب نبھائی۔ الٹا کئی بار معذرت کی کہ ہماری گاڑی چھوٹی ہے، اس میں اے سی بھی نہیں، وغیرہ۔ اور ہم اندر ہی اندر ہنستے رہے کہ واہ مولا تیری شان۔ ہمارے کام کیسے نکالتا ہے کہ ہمیں لوگوں کے رسمی شکریے سے بھی بے نیاز کر دیتا ہے، خیر ہم نے لجاجت سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اللہ انہیں سلامت رکھے۔

ہمیں روانہ ہوتے ہوتے کوئی دس بج گئے اور جب ہم پہاڑی کے نیچے پہنچے تو گیارہ بج چکے تھے۔ یہ راستہ بہت زیادہ پر پیج نہیں، فانی وہاں پہلے جا چکے تھے، پھر بھی ہمیں راستے میں رک کر کئی بار معلوم کرنا پڑا۔ اتنے اہم تاریخی مقام کا کہیں کوئی بورڈ، کوئی نشان، کوئی اتا پتا موجود نہیں۔ صرف پوچھ پوچھ کر ہی جا سکتے ہیں، اور نئے جانے والوں کو پوچھ پوچھ کر ہی جانا چاہیے، تاکہ کسی لمبے چکر سے بچا جا سکے، ایک جگہ ہم نے بھی اندازہ لے اور فانی میاں کی یادداشت کے بھروسے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو دو تین کلو میٹر کا چکر اضافی بھگتنا پڑا۔

راستے میں ہم نے پانی کی دو بڑی بوتلیں لے لی تھی، جو بہت کام آئیں، گرمی تھی، ناشتہ کر کے نکلے تھے، اور چڑھائی پر چڑھنا تھا، اس لیے پانی لینا تو بہ ہر صورت ضروری تھا، خیر، ہم چلتے چلتے اور پوچھتے پوچھتے اس تاریخی مقام کے عین نیچے پہنچ گئے، وہاں سے پتھروں کے ریمپ پر گاڑی کا سفر شروع ہوا، چوں کہ پہاڑ پر چڑھنا تھا، اس لیے اس ریمپ پر مسلسل موڑ تھے، شروع کے موڑ تو جیسے تیسے طے ہو گئے، مگر پھر گاڑی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا، شاید فور وہیل جا سکے، لیکن راستے میں صرف چڑھائی کا مسئلہ نہیں، موڑ بھی تنگ ہیں، ویسے ہمارے فانی صاحب کا تو کہنا تھا کہ یہاں موٹر رکشا بھی آتے ہیں، واللہ اعلم۔

ہم نے ایک دو بار کہا کہ گاڑی یہیں روک لیتے ہیں اور پیدل چلتے ہیں آخر اوپر بھی تو پیدل ہی جانا ہے تو ایک آدھ کلو میٹر مزید سہی، لیکن ہماری بات کسی نے نہیں سنی، مگر ہوا وہی جو ہم پہلے کہہ چکے تھے، ایک دو بار کوشش کے باوجود جب گاڑی نے آگے بڑھنے سے مکمل طور پر انکار کر دیا تو بالآخر پیدل ہی اوپر کی جانب سفر کا آغاز کرنا پڑا۔

رانی گٹ نامی تاریخی مقام ضلع صوابی کے شمال مشرق میں صوابی شہر سے تقریباً بیس کلومیٹر کے فاصلے پر نوگرام نامی گاؤں میں ایک پہاڑی چوٹی پر واقع ہے۔ یہ مقام کوئی 2 ہزار سال پرانا بتایا جاتا ہے۔ رانی گٹ کے آثار آج بھی اس خطے کا تعارف ہیں۔

رانی گٹ کی وجۂ تسمیہ عام طور یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہاں بلندی پر موجود ایک بڑا پتھر رانی کی نشست گاہ تھا، جہاں سرشام بیٹھ کر وہ ہوا خوری کیا کرتی اور دریائے سندھ کا پانی نوش کیا کرتی تھی، جو اس کا پسندیدہ مشروب تھا۔ اگرچہ دریائے سندھ وہاں سے کافی فاصلے پر تھا، مگر پانی کے حصول کے لیے اس وقت ملکہ نے ایک انسانی ہاتھوں کی زنجیر تشکیل دی تھی۔ ایک خادم دریائے سندھ سے پانی ایک خاص برتن میں لے کر نہایت تیزی سے مخصوص فاصلے پر کھڑے دوسرے خادم کے حوالے کرتا، پھر وہ برتن مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہوا دریائے سندھ کا تازہ پانی لمحوں میں ملکہ کی خدمت میں حاضر کر دیا جاتا، اور ملکہ اس پتھر پر اپنی نشست پر متمکن ہو کر اسے نوش کیا کرتی۔

رانی گٹ کی ایک تاریخی اہمیت یہ ہے کہ اس کے آثار کا شمار معلوم گندھارا تہذیب کے معروف اور بڑے آثار میں ہوتا ہے۔ اس علاقے میں جہاں یہ آثار واقع ہیں، تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف حکم ران اور فاتحین گزرے ہیں، جن میں سکندر اعظم سر فہرست ہے۔ اس علاقے میں یہ آثار کوئی چار ساڑھے چار مربع کلومیٹر کے علاقے میں بکھرے ہوئے ہیں، تاریخی اعتبار سے یہ پورا علاقہ رانی گٹ کی نمائندگی کرتا ہے۔

رانی گٹ کے اس تاریخی حصے کے آثار 168کنال رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، اس کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے لیے سیاح کو 3540فٹ کا راستہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے، اور اس کی سطح زمین سے بلندی اور اونچائی 900 فٹ ہے۔ یہ تمام کا تمام پہاڑی علاقہ ہے، یہاں بڑی بڑی سیاہ چٹانوں کا سلسلہ دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔

اس بلندی پر چڑھائی کا آغاز ایک ریمپ سے ہوتا ہے، پھر 508 سیڑھیاں ہیں، یہ جیسا کہ عرض کیا گیا بعد میں بنائی گئی ہیں، ان میں سے بڑا حصہ اب خستہ ہے، لیکن قابل استعمال ہے، درمیان درمیان میں کچھ ٹکڑے ایسے آتے ہیں، کہ وہاں سیڑھیوں کا نشان تک مٹ چکا ہے، لیکن ایسا کم جگہوں پر ہے۔ سیڑھیاں ختم ہونے کے بعد ایک سطح مرتفع پر قدم پڑتے ہیں، پھر مزید چڑھائی ایسی ہی ہے جیسے عموماً پہاڑوں کے چوٹی کے راستے ہوتے ہیں۔ یہ مزید مشقت کرنے کے بعد رانی گٹ کے آثار ایک ایک کر کے سامنے آنے لگتے ہیں۔

ان آثار کے دریافت ہونے کی کہانی بھی دل چسپ ہے، رانی گٹ کے موجود آثار کے احاطے میں لگے ایک بورڈ کے مطابق، ایچ ایچ کول (H۔ H Cole) کی نگرانی میں پہلی بار 1883ء میں ان آثار کی کھدائی کی گئی، جس کے بعد اے اسٹین اور ایم اے فاؤچر (A۔ Stein & M۔ A Foucher) نے بھی ان آثار کی سیر کی۔ 1920ء میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی ٹیم نے بھی ان آثار کا معائنہ کیا۔ آخر میں ٹوکیو یونیورسٹی جاپان کی آرکیالوجیکل مشن نے یہاں ایک بڑے پیمانے پر کھدائی کی اور آثار کو محفوظ کرنے کا بیڑا بھی اٹھایا۔ یہ کام 1959ء سے لے کر 2005ء تک جاری رکھا گیا۔ مذکورہ مشن نے نہ صرف کھدائی کی ہے بلکہ پہاڑی میں آثار کی چوٹی تک تقریباً 500 سیڑھیاں اور لوہے کی باڑ بھی بنائی۔ مذکورہ بورڈ کے مطابق رانی گٹ کے موجودہ آثار پہلی صدی عیسوی سے لے کر چھٹی صدی عیسوی تک کے ہیں۔

اوپر موجود رانی گٹ کے آثار میں ایک بڑا کمرہ نما پتھر بھی ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ ایک سنگتراش بیٹھا کرتا تھا۔ اور اس جگہ بیٹھ کر سنگتراش مورتیاں تیار کرتا تھا اور اس کی خاطر پتھر تخت بھائی سے اونٹوں کے ذریعے لائے جاتے تھے اور یہاں سے گوتم بدھ کی ان مورتیوں کو تبلیغی مقاصد کے لیے دوسرے علاقوں کو بھیج دیا جاتا تھا، اس وجہ سے اس علاقے کو بدھ پیروکاروں کے لیے ایک طرح سے مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔

خیر اوپر کی جانب ہمارا سفر شروع ہوا، ہم نے پیدل آگے بڑھنا شروع کیا، سیڑھیوں کے آغاز تک پہنچتے پہنچتے ہم خاصا ہانپ چکے تھے۔ پھر سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں تو چند ہی قدم کے بعد ہمیں رکنا پڑا، ذرا تھمے، پانی پیا، پھر آگے بڑھے، لیکن اب رکنے کے وقفے اور دورانیے بڑھنے لگے۔ فانی میاں کہتے کہ بس تھوڑا سا ہی سفر باقی ہے، لیکن ظاہر ہے کہ ہمیں علم ہو چکا تھا کہ پانچ سو سے زائد سیڑھیاں ہیں، اس لیے ان کی باتوں میں کہاں آتے۔

فانی میاں بار بار ہمیں کہتے کہ آپ میرا ہاتھ تھام لیجیے سفر جلدی کٹ جائے گا، لیکن جناب قدم تو ہمیں ہی اٹھانے تھے ہاتھ تھامنے سے کیا ہوتا، راستہ کشادہ تھا، چڑھنے میں کوئی خاص دقت نہیں تھی، سوائے اس کے کہ وقفے وقفے سے سانس پھولنے لگتا تھا، اسے ہی حد اعتدال پر رکھنے کے لیے ہم وقفے وقفے سے راستے میں رک جاتے، لمبے سانس لیتے، ذرا سستاتے، پھر دوبارہ اوپر کی جانب بڑھنے کا آغاز کر دیتے۔ کبھی ایسی صورت پیش آئے تو ایک احتیاط یہ کرنی چاہیے کہ سانس ناک سے، منہ بند کر کے، لینا چاہیے، دوسرے چند سانس لمبے لمبے لینا بھی مفید ہوتا ہے، اسی طرح پیاس محسوس ہوتو پانی بہت تھوڑا پینا چاہیے، خیر ہم رکتے چڑھتے، اور چڑھتے رکتے کوئی گھنٹے بھر میں اوپر پہنچ ہی گئے، یہ ایک سطح مرتفع سی تھی، یہیں وہ بورڈ آویزاں ہے، جس پر ان آثار کے دریافت ہونے کی تفصیل، جو ہم نے اردو میں ذکر کی، انگریزی میں تحریر ہے۔

یہاں دائیں جانب کپڑے کا ایک چھپر پڑا تھا، جس کے نیچے دو چار پائیاں بچھی تھیں، اور ان پر دو ہی افراد بھی موجود تھے، یہ حضرات محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے یہاں مامور تھے، ان بے چاروں سے ہمیں تو کیا فائدہ حاصل ہوتا الٹا انہوں نے ہمارے ہاتھ میں پانی کی بوتل دیکھ کر فرمائش کردی، چناں چہ تقریباً ایک بوتل ان کے حوالے کر دی گئی۔ البتہ ان کی چارپائی پر اس کڑی دوپہر میں تھوڑی دیر تک جھکی جھکی حالت میں ہمیں سائے میں سستانے کا موقع مل گیا۔ اس موقع پر یہ بھی بڑا غنیمت معلوم ہوا۔

اس کے بعد مزید اوپر جاکر آثار دیکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان آثار کی تفصیل اوپر ہم ذکر کر چکے ہیں، ان میں ایک جگہ لوہے کا جنگلا لگا کر احاطہ بھی بنایا گیا ہے، جہاں اس پورے علاقے سے ملنے والے بدھا کے بڑے بڑے بتوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے زمین پر رکھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

فانی میاں مختلف چڑھائیوں اور کھائیوں میں ہمیں اتارتے اور چڑھاتے رہے۔ ہم بھی نہایت دل جمعی سے ان کی بات مانتے رہے اور ان مناظر کو اپنی آنکھوں میں محفوظ بھی کرتے رہے۔ جب واپس ہونے لگے تو میں نے پوچھا کہ اس سارے سفر کا حاصل کیا ہوا، بڑے رسان سے بولے کہ اب ہم کہہ سکیں گے کہ آپ یہاں آئے تھے اور آپ کا یہاں آنا آپ کے ہم عمروں اور ہم عصروں کے لیے قابل رشک ہو گا کہ آپ اتنی بلندی پر چڑھنے میں کام یاب ہو گئے۔

میں نے پھر پوچھا کہ اتنی بلندی پر چڑھنے سے کیا ملتا ہے، کہنے لگے مزید چڑھنے کا حوصلہ۔ ہمیں یوسفی صاحب یاد آ گئے، ان کا ایک مکالمہ ہے، مرزا سے سے کرکٹ کے فضائل پر گفت گو ہو رہی تھی، یوسفی نے پوچھا کہ کرکٹ کا کیا فائدہ ہے؟ مرزا صاحب ان کو قائل کرتے ہوئے کہنے لگے کہ کرکٹ کھیلنے سے کلائی مضبوط ہوتی ہے، یوسفی صاحب نے پوچھا کلائی مضبوط ہونے سے کیا ہوتا ہے، مرزا رسان سے بولے کرکٹ اچھی کھیلی جاتی ہے۔

واپسی کا ہمارا سفر بہت تیزی سے ہوا، لیکن اترتے ہوئے ہمیشہ گھٹنوں پر زیادہ زور پڑتا ہے، اس کے نتیجے میں ہماری ایک پرانی چوٹ تازہ ہو گئی، چند ماہ پیشتر گھر میں چند دن کے وقفے سے ہم دوبارہ سلپ ہوئے تھے جس کے نتیجے میں دائیں گھٹنے کے قریب کے پٹھوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل ہوا، جو اس دوران بہتری کی جانب مائل تھا، مگر اب اس میں درد شروع ہو گیا، پہلے پہل تو تشویش ہوئی، اسی روز اسلام آباد اور وہاں سے کراچی کا سفر تھا، لیکن اب جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے تو تشویش کی بات نہیں۔ اترتے ہوئے احتیاط تو کرنی پڑی، مگر تھکن کا احساس نہیں ہوا۔ ایک اطمینان البتہ رگ و پے میں اترتا ہوا محسوس ہوا کہ اس بلندی کو ہم نے سر کر لیا، اور ایسے تاریخی نوادر دیکھنے کا ہمیں موقع میسر آیا۔ شکریہ فانی

نیچے اتر کر واپس صوابی انٹرچینج کے قریب پہنچے، یہاں اسلام آباد سے کچھ دوست ہمیں لینے کے لیے موجود تھے، یہاں ہم نے منہ ہاتھ دھوئے، مقامی فالودہ ٹرائی کیا، بعض دوستوں نے تازہ جوس استعمال کیا، فانی میاں سے اجازت لی اور ہم اسلام آباد کو روانہ ہو گئے، جہاں شام میں چند گھنٹے بعد کراچی کے لیے ہماری فلائٹ تھی۔

Facebook Comments HS