دائم اقبال دائم ایک درویش پنجابی شاعر (2)


مولانا مولا بخش کشتہ اپنی کتاب ً پنجابی شاعراں دا تذکرہ ً میں لکھتے ہیں جب دائم کو ابھی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ آئی ہی تھی تو اس نے پڑھائی کی طرف دھیان دینا شروع کر دیا۔ ابھی اس نے اساتذہ سے تھوڑا بہت سبق ہی پڑھا تھا کہ عشق مجازی نے اسے اپنی پٹی پر لگا لیا۔ میاں احمد یار گجراتی کی طرح وہ بھی کسی کے نینوں کی شکار ہو گیا اور پڑھائی چھوڑ دی ( شاہد اپنے تحقیقاتی مقالے میں لکھتے ہیں کہ انہیں اپنی ماموں زاد بہن فاطمہ بی بی سے پیار ہو گیا تھا) کچھ دیر بعد وہ منڈی بہاؤالدین کے نزدیکی گاؤں جھولانا میں چلے گئے۔

اپنے دل میں عشق کی جلتی ہوئی آگ کو بجھانے کا طریقہ پوچھنے کے لیے ایک اللہ والے بزرگ بابا میاں خان کے پاس گئے جنہوں نے ان کا رخ مجازی سے ہٹا کر عشق حقیقی کی طرف موڑ دیا۔ دائم نے دل میں بسے خیالوں اور جذبوں کے اظہار کے لئے پنجابی شاعری کا سہارا لیا اور شعر کہنے لگے۔ ان کے شعروں میں چناب کے پانیوں کی سی روانی ہے اور زبان و بیان کمال کا ہے۔

ان کی رباعیاں بڑی بے مثال اور لاجواب ہیں۔ اس رباعی میں وہ سچے اور سچے عاشق کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں

جنہاں شمع دے نال پریت لائی اور سڑن تھیں مول سنگ دے نے
جیہڑے در حبیب تے آ ڈگے خیر غیر کولوں ناہیں منگ دے نے
اوہا سیس کٹا دیندے تلے خنجر جنہاں پاس ناموس تے ننگ دے نے
دائم فقر دی سار اوہ کی جانن پیتے ہوئے دورے جنہاں بھنگ دے نے

( جن پتنگوں نے شمع کے ساتھ عشق کیا ہے وہ جلنے کی ذرا برابر پروا نہیں کرتے۔ انہیں اپنی موت کی پورا یقین ہوتا ہے لیکن پھر بھی وہ دیوانہ وار شمع کی طرف لپکتے ہیں۔ جو سچے عاشق ہیں انہیں اپنے محبوب کے سوا اور کسی کے در کی تاہنگ نہیں ہوتی۔ جنہیں اپنی عزت اور ناموس کی پرواہ ہوتی ہے وہ خود موت کو گلے لگا لیتے ہیں لیکن اپنی عزت پر کوئی حرف نہیں آنے دیتے۔ دائم ان کو فقیری کا کیا پتہ جو بھنگ کا پیالہ پی کر سو جاتے ہیں مست ہو جاتے ہیں۔ )

ان کی تصانیف کی ایک طویل فہرست ہے۔ اس فہرست میں پنجاب سے اور دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے قصے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری میں بے شمار خیال باندھے ہیں۔ زیادہ مقدار میں عموماً معیار کا خیال نہیں کھا جاتا لیکن ان کے ہاں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کا سارا کلام بہت معیاری اور بہترین اسلوب کا آئینہ دار ہے۔ اس غزل میں کتنی دانائی کی باتیں اور گہری رمزیں پنہاں ہیں جو پڑھنے والوں کو حیران کر دیتیں ہیں۔

عشق مر شکار دے صید واہ واہ آپے دوڑ کے پھسدے دام اندر
قلم لکھدیاں شک دو ٹک ہوئی کوئی سر اے عشق دے نام اندر
اہدے زہراندر جیہڑیاں لذتاں نے ناہیں کسے بھی خورش طعام اندر
اکی پھوک تھیں کیل کے قید کردا جیہڑے اون نہ کسے کلام اندر
اہدی موت اندر کئی زندگیاں نے کئی صبح صادق اہدی شام اندر
اہدی وچہ تدبیر تقدیر بستہ ہوشاں کئی اہدے مست جام اندر
اہدی مرض دے وچہ لقمان حاذق کئی خاص نے ایس دے عام اندر
اہدی نفی دے وچہ بقا دائم کئی بادشاہ اہدے غلام اندر

(عشق کے قیدی بھی بڑے عجیب ہیں جو خود دوڑ دوڑ کر عشق کی قید میں آ کر پھنس جاتے ہیں۔ عشق میں ضرور کوئی ایسی بات ضرور ہے کہ اس کا نام لکھتے ہی میری قلم کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ عشق کے زہر میں جو لذتیں ہیں وہ دنیا کے کسی بھی ذائقہ دار کھانے میں نہیں ہیں۔ عشق کی اپنی ایک پھونک میں اتنی طاقت ہے کہ وہ عاشق کو کیل کر اپنی قید میں بند کر لیتا ہے۔ یہ خوبی کسی دوسرے کلام میں نظر نہیں آتی ہے۔ اس کی موت کے اندر کئی زندگیاں ہیں اور اس کی شام میں کئی سجری سویریں چھپی ہوئی ہیں۔ اس کی تقدیر کے اندر کئی تدبیریں پوشیدہ ہیں اور اس کے مست جام کے اندر کئی ہوش مندیاں ہیں۔ اسے مرض میں کتنے حاذق اور لقمان حکیم کی شفا ہے اور اس کی عام باتوں میں بھی کتنے خاص راز پنہاں ہیں کسی کو کیا معلوم۔ اس کی فنا میں کئی بقا ہیں دائم اور اس کے علام کے اندر کئی بادشاہ ہیں۔ )

ہجر اور فراق ہر شاعر کا پسندیدہ موضوع ہوتا ہے۔ منظوم قصے اور کہانیوں میں دو پیار کرنے والے جب ہجر و وچھوڑے کی سولی پر لٹکتے ہیں تو سجن سے ملے بغیر ان کے لئے دن رات گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی کیفیت کو ہر شاعر نے اپنے طریقے سے بیان کیا ہے۔ دائم اقبال نے ہجر و فراق کو اپنی اس غزل میں بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔

تیری یاد وچ سجناں زندگی دے مینوں دکھ پرانے وی پھولنے پئے
چڑھی ہجر فراق دی دھاڑ خونی ہن بول جدائی دے بولنے پئے
میرے کناں وچ پئی گھنگھور آوے تیری یاد دے وجدے ڈھول نے پئے
تیری سونہہ اج ہویا اے دل زخمی موتی پتھراں تھیں مینوں رولنے پئے
کیویں تیری جدائی وچ رہواں زندہ اپنی موت لئی زہر گھولنے پئے
جیہڑے ڈکے ہوئے سن نینیں مدتاں دے تیری یاد والے ہنجوں ڈوہلنے پئے
ہے سی مدتاں قید جو دل اندر اوس پنجرے دے قفل کھولنے پئے
دائم دور دراز مراد منزل تیری بھال والے بھار تولنے پئے

(اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میرے پیارے سجن تیرے ہجر و فراق کی یاد میں مجھے زندگی کے کچھ پرانے دکھ درد بھی یاد کرنے پڑے۔ ہجر و فراق کی ایسی خون آشام آواز سنائی دی جس کو وجہ سے مجھے تیری جدائی کے بول بولنے پڑ گئے۔ میرے کانوں میں تیری یاد کی گھنگھور 6ھٹاؤں کے ڈھول بجتے سنائی دے رہے ہیں۔ تیری قسم میرے محبوب تمہاری یاد میں آج میرا دل زخمی ہے۔ آج مجھے پتھروں میں سے موتی چننے پڑے۔ تہمری جدائی میں میں کیسے زندہ رہ سکتا ہوں۔

تمہاری جدائی میں کب زندہ رہوں گا۔ اس موت کے لئے مجھے اپنے ہاتھوں اپنے لئے زہر گھولنا پڑا۔ میں نے تیری یاد میں آنے والے جو آنسو مدتوں سے اپنی آنکھوں میں چھپائے ہوئے تھے وہ آنسو بھی مجھے بہانے پڑھے۔ میرے دل کے نہاں خانے میں جو مدتوں سے مقفل تھا اس پنجرے کے تالے بھی مجھے کھولنے پڑھے۔ تیرے ملنے کی منزل تو بہت ہی دور دراز ہے لیکن اس کے لئے بھی مجھے یہ دشوار گزار سفر کرنا ہی پڑا۔ )

عشق میں جب جذب و مستی کی کیفیت طاری ہوتی ہے اہو ایسے میں اگر محبوب کا دیدار ہو جائے تو عاشق پھولے نہیں سماتا اور بے اختیار ہو کر ناچنے گانے لگتا ہے۔ ایسی ہی جذبو مستی کی کیفیت میں لکھی ہوئی دائم اقبال کی لکھی ہوئی ایک بہت ہی بہترین غزل جس کا ایک ایک شعر اپنے اندر سر کیفیات لیے ہوئے ہے۔

شوخ نین جیہوں بازیاں ماردے نیں ایسی نہیں پھرتی کسے نٹ دے وچہ
تڑپ تڑپ کے کٹ دے قید عاشق، زلف رات تیری کالی کٹ دے وچہ
بے وفا وفا وی جاندے نیں، فطرت حسن دی عشق بدلا دیندا ء
پٹی پٹ دی بنھدی آپ سوہنی، ویکھ پھٹ مہینوال دے پٹ دے وچہ
دانہ باد لے چل مینوں صاحبا وے، ہتھ جوڑ کے صاحباں کوک دی رہی
اتر نیلیوں سوں گیا جنڈ تھلے، ناں رہی بدھ ماسہ مرزے جٹ دے وچہ
پنوں مست کڑکے مست شتر اتے کھٹی عمر دی لے گئے بلوچ ستیاں
سسی بھاگ سہاگ لٹا بیٹھی، پا کے جھات نشیلڑے ہٹ دے وچہ
ہیر روح امانت اے رانجھے دی، ڈولی بت نرا پا لے گئے کھیڑے
ویکھ ماندری تخت ہزاریاں دا، لڑ گئی نانگنی اوپری جھٹ دے وچہ
میری لاش تک ساقی ارشاد کیتا، غسل کفن جنازے دے نہیں قابل
دائم بے حیا سرے دا رند کافر دیہو سٹ شراب دے مٹ دے وچہ

اے میرے محبوب تیرے شوخ نشیلے نین چاروں طرف ایسے پھرتی سے گھوم گھوم کر دیکھتے ہیں یہ پھرتی تو بازیاں لگانے والے نٹوں میں بھی نہیں ہیں۔ تیرے نین سب کی خبر رکھتے ہیں۔ تیری رات جیسی سیاہ زلفوں کے جال میں عاشق تڑپ تڑپ کر قید کاٹتے ہیں۔ تیری زلفیں عاشقوں کو اپنا قیدی بنا لیتی ہیں۔ بے وفاؤں کو بھی وفا کی پہچان ہوتی ہے اور وہ وفا کرنا جانتے ہیں۔ حس کی فطرت عشق کی وجہ سے بدل جاتی ہے۔ عشق حسن کی فطرت بدل دیتا ہے۔

مہینوال کی ران کا زخم دیکھ کر سوہنی خود اس کی ران پر پٹی باندھتی ہے۔ صاحباں بھی مرزے کو کہتی رہی کہ مجھے دانہ باد لے چلو لیکن مرزا جٹ اپنی گھوڑی نیلی سے اتر کر جنڈ کے درخت کے نیچے آرام سے سو گیا اور اسے کوئی سدھ بدھ نہ رہی۔ پنوں اونٹ پر مست ہو کر سویا رہا اور اس کی عمر بھر کی کمائی بلوچ لے گئے۔ سسی بھی گھر میں بیٹھی رہی اور اپنا سہاگ لٹا بیٹھی۔ ہیر تو رانجھے کی امانت تھی لیکن اسے کھڑے بیاہ کر لے گئے۔

روح رانجھے کے پاس رہ گئی اور ہیر کا جسم کھیڑوں کے پاس رہ گیا۔ تخت ہزارے کے سپیرے کو دیکھ کر عشق کے ناگ نے اسے ڈس لیا۔ مے خانے میں میری لاش کو دیکھ کر ساقی نے یہ فرمان جاری کیا کہ یہ کفن پہنانے اور جنازے کے قابل نہیں ہے۔ دائم صدا کا بے حیا کافر شرابی ہے اسے شراب کے مٹکے کے اندر پھینک دو)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments