ایڈولف ہٹلر, عمران خان اور سرگودھا کا احمد نواز


سماجی و معاشی مسائل سے دوچار معاشرے جہاں کم علمی اور کم فہمی کا ایک گہرا اثر ہو وہاں عوام کے جذبات کو ذاتی اور اوچھے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک معمولی سا فن ہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ ذہانت یا علمیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہوتی ہے تو محض ایک مجرمانہ ذہنیت کی، اپنے مفاد اور بقا کے لیے کسی بھی حد تک گر جانے کی نیت اور ارادے کی ہوتی ہے۔

احمد نواز نامی ایک سیکیورٹی گارڈ سرگودھا میں ایک نجی بینک میں اپنے فرائض انجام دیتا تھا۔ فرائض میں لاپرواہی کے باعث اسے عموماً بینک مینیجر سے ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑتا۔ پھر ایسا ہی ایک دن تھا مگر اس دن اس کی ”مجرمانہ ذہنیت“ اچانک جاگ اٹھی۔ اس نے بینک مینیجر کو قتل کیا اور پھر بھرپور اعتماد کے ساتھ ”مقتول“ بینک مینیجر کو توہین رسالت کا مجرم قراردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ جمع ہو گئے اور پھر اس پرائمری فیل سیکیورٹی گارڈ کو کاندھوں پر اٹھایا گیا، ریلی نکالی گئی، پھول پھینکے گئے، ایمان افروز نعرے لگائے گئے، مذہب کے دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کے ارادوں کو پختہ کیا گیا، قانون نافذ کرنے والے ادارے دباؤ اور مشکل میں نظر آئے۔ پھر رفتہ رفتہ جھوٹ کے بطن سے نکلے جذبات کی دھول بیٹھنے لگی۔ حقائق سامنے آنے لگے۔ مجرم ایکسپوز ہوا۔ مگر احمد نواز خود ایکسپوز ہونے سے پہلے معاشرے کو بھی ’ایکسپوز‘ کر گیا۔

اب اس سے بڑی مثال کی طرف آتے ہیں۔ بیسویں صدی کا جرمنی شدید معاشرتی و معاشی مسائل میں گھرا، دو عالمی طاقتوں کے درمیان ہچکولے کھا رہا تھا۔ پھر اچانک ایڈوولف ہٹلر نامی ایک سیاسی لیڈر نمودار ہوتا ہے۔ نرگسیت کا شکار، سیماب صفت اور شعلہ بیان ایڈولف ہٹلر جرمن عوام کو بتاتا ہے کے یہ غدار ہے، وہ غدار ہے، انہیں بتاتا ہے کے ساری دنیا تمہارے خلاف سازش کر رہی ہے۔ وہ جرمن قوم کو بتاتا ہے کہ جرمن قوم کا ماضی کتنا شاندار تھا اور درحقیقت جرمن دنیا کی سب سے عظیم قوم ہے اور عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کا واحد راستہ ہٹلر کی قیادت ہے۔

قوم میں برسوں کی محرومی، بے چینی، اضطراب کا لاوہ پھٹتا ہے، مگر غلط وقت، غلط جگہ، اور غلط ہاتھوں میں۔ پھر جنگ جرمنی اور ہٹلر کی ذلت آمیز شکست پر ختم ہوتی ہے اور اس قوم کو جو تقریباً ایک زبان ہو کر ہٹلر کے نقش پا کی پیروی کرتے کرتے ذلت کی گہری کھائی میں جا گری تھی اسے ہوش آتا ہے۔ مگر وقت گزر چکا ہے۔ دو نسلیں برباد ہو چکی ہیں۔

اب ان دو مثالوں کے بعد ہم آتے ہیں عمران خان کی طرف۔ عمران خان کب سیاست میں لائے گئے، کیوں لائے گئے، کس طرح کامیابی کی سیڑھی پر چڑھائے گئے، فی الحال ہم اس موضوع کو کسی اور دن کے لیے چھوڑتے ہیں۔ اس وقت ہم عمران خان کے پونے چار سالا دور اقتدار میں ان کی کارکردگی اور پھر مبینہ ”سازشی تھیوری“ پر نظر ڈالیں گے۔

ایک بہترین ٹیم کے ساتھ کرپشن، مہنگائی اور غربت کے خاتمے سمیت روزگار کے مواقع، غیرملکی قرضوں سے نجات، طبی سہولیات اور نظام انصاف میں انقلابی بہتری، تعلیم کو ترجیح۔ بلا امتیاز احتساب، انسانی حقوق کی پاسداری اور آزاد میڈیا کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آنے والی تحریک انصاف اور عمران خان نے درحقیقت اپنے ہر وعدے سے انحراف کیا۔

تحریک انصاف کے مایوس کن دور اقتدار میں ملک پر قرضہ تیس ہزار ارب روپے سے پچپن ہزار ارب روپے ہو گیا۔ مہنگائی کی شرح 5.2 فیصد سے بڑھ کر 12.7 فیصد ہو گئی۔ انتہائی غربت میں زندگی گزارنے والے افراد کی شرح 31 فیصد سے 44 فیصد ہو گئی۔ بے روزگاری کی شرح میں دگنا اضافہ ہوا۔ طبی سہولیات کا حال یہ رہا کہ کوئی نیا ہسپتال تو نہ بن سکا مگر جان بچانے کی ادویات کی قیمتوں میں دو سو فیصد اضافہ ہوا۔ نظام عدل میں تنزلی ہمیں 115 سے 130 نمبر پر لے آئی

تعلیم کی اہمیت کا یہ عالم تھا کے تعلیم کے لیے پاکستان کی تاریخ کا کم ترین بجٹ مختص کیا گیا اور شرمناک طور پر یونیورسٹیز کو چندہ جمع کر کے معاملات چلانے کی ہدایت دی گئی۔ صرف پختون خواہ میں تین سو سے زائد پرائمری اسکولز، اور اٹھارہ گرلز کالجز بند کر دیے گئے۔

سیاسی مخالفین اور میڈیا کا گلہ گھوٹنے کا جو مظاہرہ دیکھنے کو ملا ایسی مثالیں صرف ”ضیا رجیم“ میں موجود تھیں جس کے نتیجے میں آزادی صحافت کی فہرست میں پاکستان 139 ویں نمبر سے اچھلتا کودتا 157 ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ ریاستی اداروں کے ہاتھوں گروہی اور انفرادی حیثیت میں انسانی حقوق کی پامالی بدترین سطح پر پہنچ گئی۔

احتساب کے نام پر نیب کے ذریعے ایک طرف مخالفین کو نشانہ بنایا گیا اور دوسری طرف اسد عمر صاحب کا اربوں روپے کو یوریا اسکینڈل ہو یا بابر اعوان کا اربوں روپے کا نندی پور پروجیکٹ اسکینڈل، گوندل صاحب کا کرپشن ہو یا چینی کے معاملے میں لاڈلوں کی کرپشن، بی آر ٹی ہو یا مالم جبہ اسکینڈل، راوی نے چین ہی لکھا۔ اقربا پروری اس انتہا کو پہنچی کے ایف بی آر چیئرمین، شبر زیدی یہ کہہ کر چلتے بنے کہ ”جس بڑی مچھلی پر ہاتھ ڈالیں وہ پی ٹی آئی فنانسر نکلتا ہے“

ہالینڈ کے وزیر اعظم اور اس کی سائیکل کی مثال دینے والے، وی آئی پی کلچر ختم کرنے کے دعویدار نے اپنے گھر سے وزیر اعظم ہاؤس تک بذریعہ ہیلی کاپٹر ”آنیوں جانیوں“ میں ایک ارب روپے پھونک ڈالے۔ گورنر ہاؤسز کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنے کے وعدوں کی پاسداری تو دور کی بات گورنر ہاؤسز اور وزیر اعلی ہاؤسز کی ”چائے پانی“ کے اخراجات پر ہی ہوش اڑ جائیں۔

معاشی پالیسی نہایت سادہ رہی۔ امداد، قرضہ

اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال کر بجٹ خسارہ پورا کیا جاتا رہا۔ ایکسپورٹ، تجارت، چھوٹی صنعتوں کے ڈیویلپمنٹ اور غیر ترقیاتی بجٹ میں کمی کرنے جیسے اقدامات کو نظر انداز کیا گیا۔ ملک کی تاریخ میں نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک سے بھی نہایت سخت ترین شرائط پر قرضہ لے کر عارضی بندوبست کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کے آخر کار اسٹیٹ بنک آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوانا پڑا۔

خارجہ پالیسی ایک بے ہنگم ڈگر پر لڑکھڑاتی رہی

پہلے ترکی اور ملائشیا کے ساتھ بلاک بنانے کی غیر منطقی بھڑکیں اور پھر سعودی حکمرانوں کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد شرمناک اعترافیہ یوٹرن۔ امریکہ کے دباؤ پر امریکہ کو خوش کرنے کے لیے سی پیک لپیٹ کر چین کو ناراض کرنا پھر افغانستان سے امریکی و اتحادی فوج کے انخلا پر بغلیں بجا کر امریکہ کی نظر میں ناپسندیدہ ٹھہرنا، پھر امریکہ کو فوری انخلا نہ کرنے کا مشورہ دے کر طالبان کی نئی نویلی حکومت سے گالیاں کھانا۔ روس یوکرین تنازعہ میں ”غیر کی شادی میں عبداللہ دیوانہ“ بن کر پورے یورپ و امریکہ کو ایسا پیغام دینا جس کا خود بھی کوئی علم نہ ہو اور آخر کار کشمیر کے سفارتی محاذ پر ذلت آمیز شکست کی وجہ بن جانا۔

کرپشن تو ایسا ننگا ناچ ناچی کہ ’الامان الحفیظ‘ ۔ کرونا فنڈ میں چالیس ارب روپے کی کرپشن، فارن فنڈنگ کیس میں تہتر لاکھ ڈالر کی کرپشن، مالم جبہ اور بی آرٹی میں پچاسی ارب روپے کی کرپشن، چینی و یوریا اسکینڈلز میں کئی سو ارب رویے کی کرپشن، بلین ٹری، بنک آف خیبر اور نیب اصلاحات کے نام پر اربوں کی کرپشن، القادر روحانی یونیورسٹی فنڈ میں کروڑوں کی کرپشن، نمل کی زرعی زمینوں پر قبضے کی کرپشن، ابراج گروپ کے ساتھ مل کر بل گیٹس کے ایک ارب ڈالر چندے سے ایک بڑا حصہ لینے کی مبینہ کرپشن،

علیمہ خان کی مبینہ بھاری بھرکم کرپشن، اسد قیصر، فواد چوہدری اور دوسرے پی ٹی آئی رہنماؤں کی پی ٹی وی اور سرکاری محکموں میں غیرقانونی بھرتیوں کی کرپشن، من پسند میڈیا گروپ کو نوازنے کی اربوں روپے کی کرپشن، سوشل میڈیا ٹیمز، یوٹیوبرز اور من پسند صحافیوں کو پروپیگنڈا کے عوض سیکرٹ فنڈز سے اربوں روپے کی ادائیگی کی کرپشن، لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے فنڈز میں تین ارب روپے کی کرپشن، پنجاب میں فرح خان اور درجنوں فرنٹ مین اینڈ وومین کے ذریعے اربوں روپے کی کرپشن، اور اب توشہ خانہ اسکینڈل میں واردات۔ جدید قسم کی کرپشن۔ کرپشن کے ذریعے ہوش ربا کرپشن۔ شاید ہی کوئی محکمہ ہو جہاں تحریک انصاف کی حکومت نے کرپشن کے نئے ریکارڈ نہ بنائے ہوں جس کا ثمر یہ ملا کے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جاری فہرست میں پاکستان اب نو درجہ ترقی کرچکا ہے۔

یہ تھا تحریک انصاف کی پونے چار سالہ حکومت کا نچوڑ۔

یہ نتیجہ کپتان عمران خان اور مخدوم قریشی، اسد عمر۔ فواد چوہدری، شہبازگل، شیخ رشید، فردوس عاشق اعوان، فیصل واوڈا، علی امین گنڈا پور اور اسی قماش کے لوگوں پر مبنی ”بہترین ٹیم“ کی موجودگی میں حیران کن بھی نہیں تھا۔ اس پونے چار سالہ دور اقتدار میں عمران خان اور تحریک انصاف نے ’ارطغرل ڈرامہ‘ دیکھنے کے علاوہ جو کام یکسوئی، تسلسل اور کامیابی سے کیا، وہ تھا جھوٹ بولنا، جھوٹ پر انحصار اور جھوٹ کا بڑھاوا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اپنے مخالفین اور ناقدین پر یک طرفہ الزامات لگانا اور اسے ثابت کیے بغیر اس پر اصرار کرنا۔ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر چھیچھور پن اور بازاری انداز میں مخالفین کی تضحیک کر کے کمزور جمہوری روایات کو مزید کمزور اور بچے کچھے سیاسی کلچر کو برباد کرنا۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی شان میں قلابے ملا دینا۔ اور اکثر اوقات یہ کوشش مضحکہ خیز حد تک ’سرخ لکیر‘ کو عبور کرتے نظر آئی۔

یہ تھی پاکستان کے سیاسی اسٹیج کی صورت حال جس کے باعث عمران خان عوام میں عدم مقبولیت کی انتہا پر تھے مگر ان کا ’اعتماد‘ عروج پر تھا کیوں کہ ابھی خان صاحب کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بدنام زمانہ ”ایک ہی صفحہ“ پھٹا نہیں تھا۔

مگر بقول جون ایلیا ”بہت اداس ہوں میں کہ غم صدا نہیں رہتا“ کے مصداق اہم عسکری عہدوں پر تعیناتی کو لے کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شروع ہونے والی چپقلش ’یاروں‘ کو اس موڑ پر لے آئی کہ چوہدری پرویز الہی کو کہنا پڑا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اب پی ٹی آئی کی نیپیاں بدلنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور یوں پھر سیاسی دنگل کے لیے اپوزیشن کے بندھے ہوئے ہاتھ پیر کھول دیے گئے۔ اب خان صاحب عدم اعتماد کی تحریک سے خوفزدہ ہو کر بوکھلاہٹ میں کبھی اپوزیشن پر غراتے تو کبھی اسٹیبلشمنٹ پر لپکتے۔

مگر وقت اور اقتدار ہاتھ سے نکل رہا تھا، ساکھ تو پہلے ہی نکل چکی تھی یہی وہ لمحات تھے جب خان صاحب کے اندر کا ”احمد نواز“ جاگ اٹھا اور پھر انہوں نے اپنی بقا کے لیے ایک جلسے میں قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر ایک ایسا فرضی سازشی خط باہر نکالا جس طرح اپنی بقا کے لیے احمد نواز نے ایک الزام اپنے وجود سے باہر نکالا تھا

ایسا ہی الزام ایڈولف ہٹلر نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے باہر نکالا تھا۔ پھر ہم نے دیکھا کے ہمارے ’سیاسی احمد نواز‘ کو بھی وہ لوگ میسر آ گئے جو اسے کاندھے پر اٹھا کر غلامی نامنظور کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ’پاکستانی ہٹلر‘ کو بھی عقل و دلیل نامنظور کے نعرے لگاتی عوام میسر آ گئی ہے جو جرمنی کے ایڈولف ہٹلر کو ملی تھی۔ اب معاملہ کچھ یوں ہے کہ جھوٹ کے بطن سے نکلے جذبات کی دھول تو ہر حال میں بیٹھے گی۔

سازشی نظریہ سے ’اصلی مدعا‘ تو باہر آہی جائے گا۔ مگر کب؟ اس کا جواب مشکل ہے۔ ہاں یہ ضرور واضح ہے کہ جتنی جلدی جھوٹ کی دھول بیٹھے گی، جتنی جلدی ’پاکستانی ہٹلر‘ کا چہرہ عوام کے سامنے ایکسپوز ہو گا، قومی نقصان اور ذلت اتنی ہی کم ہوگی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).