شاعرہ ثروت محی الدین: مشرقی خواتین کے لیے رول ماڈل
جب سے ساری دنیا میں کرونا کی وبا پھیلی تھی شمالی امریکہ میں انجانے خوف کے سائے گہرے ہو گئے تھے۔ بہت سے لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے تھے اور سکول ’کالج‘ دفتر اور ریسٹورنٹ اداس ہو گئے تھے۔ پھر لوگوں نے ویکسین لگوانی شروع کی تو کرونا کے خوف میں قدرے کمی آئی۔ پچھلے دنوں کینیڈا میں کرونا کی پابندیاں کم ہوئیں اور ریسٹورانٹوں کے دروازے کھلے تو از سر نو دوستوں سے ملاقاتیں ہونے لگیں اور ادبی محفلیں جمنے لگیں۔
ان حالات میں ایک دیرینہ شاعرہ دوست کا فون آیا کہ میں چند دنوں کے لیے کینیڈا آئی ہوئی ہوں اور آپ سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔ میں نے اپنے عزیز دوست امیر حسین جعفری کو فون کیا اور کہا
’ثروت محی الدین کینیڈا آئی ہوئی ہیں اور ملنا چاہتی ہیں‘ ۔
چنانچہ ہم دونوں ان کے گھر گئے ’انہیں اپنے ساتھ لیا اور ایک مشرقی ریسٹورانٹ کے کونے کی میز پر جا بیٹھے۔
ثروت بڑے اچھے موڈ میں تھیں۔ انہوں نے بڑی اپنائیت سے ہمیں اپنی زندگی کی کہانی سنائی۔ ایسی کہانی جس سے میں ناواقف تھا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ
وہ بچپن میں کوئین میری سکول میں پڑھا کرتی تھیں۔ میٹرک کے امتحان کے بعد سولہ برس کی عمر میں اچانک ان کی شادی کر دی گئی۔ اس طرح وہ ایک روایتی خاندان کی بہو بن گئیں۔ پھر چھوٹی عمر میں ہی ان کے تین بچے بھی ہو گئے۔
ایک دن انہیں جب احساس ہوا کہ ان کی سہیلیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں ایسی تعلیم جن سے وہ محروم رہیں۔
ایک شام انہوں نے اپنی والدہ سے ملاقات کی اور شکایت کی کہ آپ نے اتنی چھوٹی عمر میں میری شادی کیوں کر دی۔ ان کی دانا اور تجربہ کار والدہ نے ان کی بپتا اور شکایت بڑے تحمل اور بردباری سے سنی اور مسکراتے ہوئے کہا کہ ایسی کیا بات ہے اب پڑھ لو
اس مختصر جملے نے ثروت کو کچھ اور سوچنے پر مجبور کیا اور انہوں نے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں چند سال پہلے چھوڑا تھا۔ ایک ہاتھ سے بچوں کو دودھ پلاتیں اور دوسرے ہاتھ سے کتاب پکڑ کر اپنی علم کی پیاس بجھاتیں۔
ثروت کو آرٹ اور پینٹنگ کا بھی بڑا شوق تھا۔ وہ جہاں جاتیں پینٹنگ کی کتابیں لے آتیں اور ان کا سنجیدگی سے مطالعہ کرتیں۔ پھر انہیں آرٹ کی تاریخ پڑھنے کا شوق ہوا۔ اس مطالعہ کے دوران ان کے من میں اچانک ایک کھڑکی کھلی اور انہیں اپنی میوس کی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں انہوں نے وہ سرگوشیاں کاغذ کے پرزوں پر لکھنی شروع کیں۔ انہیں خود اس بات کی حیرت ہوئی کہ وہ سرگوشیاں اردو یا انگریزی کی بجائے پنجابی میں تھیں۔
کچھ عرصہ بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ سرگوشیاں پنجابی کی نظمیں تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے پنجابی کے سب کلاسیکی اور جدید شعرا کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا۔ پھر پنجابی میں ایم اے بھی کیا اور اپنی پنجابی کی شاعری کا مجموعہ بھی چھپوایا۔
ثروت کی زندگی کے جس پہلو نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے بڑی خوبصورتی اور جانفشانی سے اپنی روایتی اور غیر روایتی زندگی میں ایک توازن قائم کیا۔
ایک طرف روایتی خاندانی زندگی اور
دوسری طرف غیر روایتی تخلیقی زندگی
یہ وہ توازن ہے جو اکثر ادیب ’شاعر اور دانشور عمر بھر قائم نہیں کر پاتے۔
ایک طرف والدہ بننے اور دوسری طرف شاعرہ بننے کی ذمہ داریوں کا توازن۔
یہ اسی توازن کا فیضان ہے کہ اگر آپ ثروت محی الدین سے ملیں گے تو آپ کو ان کے چہرے پر ایک متین مسکراہٹ اور دل میں قناعت محسوس ہوگی۔
زندگی سے نہ کوئی شکوہ نہ شکایت۔ صوفیانہ شاعری پڑھتے پڑھتے اور لکھتے لکھتے وہ خود ایک درویشنی بن گئی ہیں۔ آج ہم تینوں درویشوں نے مل کر کھانا کھایا اور ایک دوسرے کو دل کا حال سنایا تو کرونا وبا کے بادلوں کے پیچھے سے دوستی کا چاند دوبارہ نکل آیا۔
میں آج شام سوچ رہا تھا کہ وہ لوگ کتنے خوش قسمت ہیں جن کی زندگی میں مخلص دوستوں کا حلقہ ہوتا ہے کیونکہ دوست ہمارے دکھوں کو آدھا اور سکھوں کو دگنا کر دیتے ہیں۔
میں نے ثروت کو اپنی سوانح عمری WHEN DREAMS COME TRUE کا تحفہ دیا تو کہنے لگیں مجھے بھی دوست مشورہ دے رہے ہیں کہ میں اپنی سوانح عمری لکھوں۔ میں نے کہا ضرور لکھیں کیونکہ آپ کی سوانح عمری بہت سی مشرقی لڑکیوں اور عورتوں کو انسپائر کرے گی اور آپ ان کا رول ماڈل بن جائیں گی۔
میرا خیال ہے کہ ہمارے نوجوانوں کے لیے اور خاص طور پر نوجوان خواتین کے لیے مقامی رول ماڈلز کا بہت فقدان ہے۔ ہم رول ماڈل تلاش بھی کرتے ہیں تو کبھی یورپ سے کبھی شمالی امریکہ سے اور کبھی مشرق وسطیٰ سے امپورٹ کر کے لاتے ہیں۔
ہم اپنے ادیبوں ’شاعروں اور دانشوروں کی ان کی زندگی میں نجانے کیوں قدر نہیں کرتے۔
جاتے ہوئے میں نے ثروت محی الدین کو اپنی اور عظمیٰ عزیز کی مشترکہ کتاب۔ عزیز الحق۔ لاہور کا سقراط۔ تحفے کے طور پر دی اور درخواست کی کہ وہ روز ہفتہ اٹھائیس مئی کو پاکستان کے شام آٹھ بجے ہماری زوم کی محفل میں شامل ہوں اور اس کتاب کی تقریب رونمائی میں اپنے تاثرات ہمارے مہمانوں سے شیر کریں۔ مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ انہوں نے میری دعوت قبول کر لی۔
مخلص دوستوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ زندگی کی شاموں کو بامعنی بنا دیتا ہے اور کووڈ کی وبا کے بعد تو اور بھی بامعنی۔
ثروت محی الدین اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں بہت پراثر شاعری کرتی ہیں اور ہمارا زندگی کے راز ہائے سربستہ سے تعارف کرواتی ہیں۔ آپ بھی ان کی ایک پنجابی اور ایک اردو کی نظم سن لیں۔ حاضر خدمت ہیں
۔ ۔
پنجابی کی نظم
۔ ۔
موم دی بتی وانگوں
بلدی جاواں
اگ اپنی دے
سیک دے اندر
قطرہ قطرہ
پگھلدی ہوئی
اپنا روپ وٹاواں
ثروت محی الدین
۔ ۔
اردو کی نظم
۔ ۔
روح کی تو کوئی عمر ہوتی نہیں
وہ تو یہ جسم ہے
جو شب و روز پل پل گزرتے ہوئے
وقت کے ساتھ چلتا
مہہ و سال کا سب حساب رکھتا
بدلتی رتوں دھوپ چھاؤں کو سہتا
لڑکپن جوانی بڑھاپے کی دہلیز کو پار کرتا
فنا کی اٹل وادیوں کی طرف گامزن ہے
روح کا رنگ ڈھنگ تو بدلتا نہیں
صبح دم پھول کی پتیوں پہ پڑی شبنمی تازگی
گرتی بارش کی رم جھم گھٹاؤں کا شور
نیلگوں آسماں پر گلابی سی ڈور
گرمیوں کی دو پہروں میں
کوئل کی آواز کا وہ سحر
درد کی اک لہر
اک عجب سی کسک
چاندنی کی مہک
روح کے واسطے کچھ بدلتا نہیں
عمر کی کوئی منزل ہو
احساس کا، سوچ کا، آگہی کا
تعلق جو ہے روح سے
وہ کبھی ختم ہوتا نہیں
وہ تو دائم
ازل سے ابد تک ہمیشہ
رہے یوں ہی قائم۔




