پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ سوشل میڈیا پر زیر بحث: ’کیا اب الیکشن جلدی نہیں ہوں گے؟‘
کچھ ایسا ہی جمعرات کی شب کو بھی ہوا جب وزیرخزانہ مقتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا۔ عموما ہر حکومت کی جانب سے پٹرول، ڈیزل کی قیمت میں اضافے پر سیاسی اور معاشی وجوہات کی بنا پر تنقید ہوتی ہے۔
لیکن اس بار معاملہ ماضی سے یوں مختلف ہے کیوں کہ ناصرف قیمت میں اضافہ غیر معمولی، 30 روپے تک، ہوا بلکہ جن حالات میں یہ فیصلہ کیا گیا وہ بھی غیر معمولی ہیں۔
یاد رہے کہ سابق حکومت کی جانب سے تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان فروری میں کیا جا چکا تھا جس کو تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے بعد موجودہ حکومت نے برقرار رکھا لیکن وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے بیانات سے واضح تھا کہ یہ فیصلہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا۔
اس فیصلے کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کے سوشل میڈیا پر قیمتوں میں اضافہ اور اس کے ممکنہ معاشی اور سیاسی اثرات شدید بحث کا مرکز بنے جہاں ایک طرف تحریک انصاف اور پی ٹی آئی حامیوں نے مسلم لیگ ن کو باور کرایا کہ ماضی میں بطور اپوزیشن وہ کیا دعوے کرتے رہے۔
ساتھ ہی ساتھ سابق وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے مطابق ان کی حکومت روس سے سستا تیل خریدنے کا معاہدہ کرنے کے قریب تھی۔
لیکن ایک صارف نے تحریک انصاف کے سابق وزیر فیصل واوڈا کا ایک پرانا بیان بھی یاد دلایا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ قوم 200 روپے تک پٹرول فی لیٹر کی قیمت بھی برداشت کرے گی۔
قیمتوں میں اضافے پر سیاسی تنقید اور بحث سے ہٹ کر دیکھا جائے تو سوشل میڈیا پر کچھ آوازیں ایسی بھی ہیں جن کا نقطہ نظر سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر ہے۔
’عام آدمی کی قوت خرید میں بھی اضافہ کریں‘
تیل کی مصنوعات میں اضافے پر سوشل میڈیا پر مہنگائی کے اثرات خاص طور پر نمایاں نظر آئے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’عالمی سطح پر مہنگائی مسئلہ تو ہے لیکن خدارا اس بات کا بھی احساس کریں کہ نوکری پیشہ لوگوں کی قوت خرید بہتر کرنے کے لیے انکی انکم میں بھی اضافہ کریں۔‘
https://twitter.com/tauseef_awan/status/1529896688928030720
ایسے ہی ایک اور صارف نے لکھا کہ ’پاکستان کہاں جا رہا ہے۔ پہلے ہی پٹرول کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ مہنگائی حد سے بڑھتی جا رہی ہے۔ روزانہ کا سفر کرنا اب ہر کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔‘
’پٹرول کی قیمت کو سیاسی مسئلہ نہ بنائیں‘
سوشل میڈیا صارفین میں کچھ ایسے بھی تھے جن کا خیال ہے کہ تیل کی مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے کو سیاست کی نظر نہیں کرنا چاہیئے۔
اریبہ شاہد نے لکھا کہ ’یہ اہم ہے کہ تیل کی مصنوعات پر سیاست نہ کی جائے، بلکہ اس کو ریگولیٹ ہی نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے تیل کی مصنوعات پر سیاسی جماعتوں کی قلابازیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’موجودہ حکومت کو اس فیصلے کے بعد اس صورت حال کا سامنا اس لیے ہے، کیوں کہ انھوں نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے بعد مقامی سطح پر اضافے پر عمران خان حکومت پر تنقید کی۔‘
https://twitter.com/AribaShahid/status/1529875503028527105
گلوکار اور چیئرمین برابری پارٹی جواد احمد کا کچھ الگ موقف تھا۔
انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاوئنٹ پر لکھا کہ ’پٹرول کی قیمت میں اضافے سے اشرافیہ کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔‘
ان کے مطابق ’ملک کی سیاسی اشرافیہ صرف ٹی وی پر ہی ایک دوسرے سے لڑائی میں مصروف نظر آتی ہے، اصل میں یہ سب ایک ہیں۔‘
https://twitter.com/jawadahmadone/status/1529906115189825536
ایک اور صارف نے اس صورت حال پر کچھ مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا اور لکھا کہ ’اب میں نے کار سے دوستی ختم کر دی ہے اور میری سائیکل میری دوست ہو گی۔‘
جہاں پٹرول کی قیمت کے اثرات پر بحث ہوئی، وہیں ایک سوشل میڈیا صارف نے اہم سیاسی سوال بھی اٹھایا۔
انس ٹیپو نے لکھا کہ ’جو بم پی ٹی آئی پلانٹ کیا تھا، وہ ایک مہینے بعد پھٹ گیا۔ کیا اب جلد الیکشن نہیں ہوں گے؟‘
ان کا اشارہ غالبا اس جانب تھا کہ مشکل اور ناپسندیدہ فیصلہ کرنے کے بعد کیا ن لیگ عمران خان کے جلد از جلد انتخابات کے اعلان کے مطالبے کو تسلیم کرے گی؟
اس سوال کا جواب دینا تو قبل از وقت ہو گا لیکن وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ میں گفتگو کرتے ہوئے یہ ضرور کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف غریب عوام کے لیے جمعے کے دن پیکج کا اعلان کریں گے۔
ساتھ ہی ساتھ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت سبسڈی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ان کا دعوی تھا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ضرور بحال ہو گا۔

