مائی لارڈ اور استاد منگو خان


مائی لارڈ یہ سازش اس حکومت کے خلاف نہیں، یہ سازش اس ملک کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ سازش اس مملکت خداداد کے مستقبل کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ سازش اس کشور حسیں شاد باد کے ڈگمگاتے حال کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ سازش استاد منگو خاں نے کی ہے یا مائی لارڈ نے کی ہے یا مائی لارڈ کے ہائی لارڈ نے کی ہے۔ رعایا نہیں جانتی۔ لیکن ٹھہریے رعایا کچھ کچھ جانتی ہے یا شاید سب کچھ جانتی ہے۔ رعایا کو پتہ ہے کہ لائسنس مانگنے منگو خاں آپ کے پاس آیا تھا کہ اس کے لائسنس پر مہر ثبت کر دی جائے تا کہ اسے پیپل، دھاک، انار، املتاس، دیودار، صنوبر، جیسمین اور سڑک کنارے ہرے درختوں کے لال پتوں کو بھسم کرنا کا موقع فراہم کیا جائے۔ مائی لارڈ آپ نے وہ مہر ثبت کر دی۔ مائی لارڈ یہ کوئی پہلی بار نہیں۔ تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا / اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا.

ایسا تو نہیں کہ آپ استاد منگو خاں کو قریب سے نہ جانتے ہوں آپ تو اس کی رگ رگ سے اسی دن واقف ہو گئے تھے جس دن استاد منگو خاں نے آپ کے ایک فرمان کی دھجیاں فضا میں بکھیر دی تھیں۔ مائی لارڈ آپ کا وہ فرمان تو اس مملکت خداداد کی ریڑھ کی ہڈی تھا۔ پھر بھی اس لاپروا انسان نے اس کو اپنے ہاتھوں سے پھاڑ ڈالا۔ پھر آپ نے کیسے سمجھ لیا کہ اس بار آپ اس کو شہر کے اندر داخل ہونے کے فرمان پر دستخط کریں گے تو وہ چند گھنٹوں کے اندر ایک تاتاری یلغار کے بگولے کی مانند اس کو تہس نہس کر کے نہں رکھ دے گا۔

شہر کی رعایا کا خیال ہے کہ آپ جانتے تھے کہ ایسا ہی ہو گا جیسا ہوا۔ لیکن رعایا یہ بھی جانتی ہے کہ آپ کو بہت سے فیصلوں کو بیلنس کرنے کی بھینٹ چڑھانا پڑتا ہے۔ آج کل یہ بیلنس کرنے کا بڑا رواج ہو گیا ہے۔ مائی لارڈ آپ کی مانند ہمارے جیسے اور لوگ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ بیلنس کرنے سے انصاف ہو گیا۔ مائی باپ بیلنس کرنا تو سب سے بڑی نا انصافی ہے کہ آپ تو نیوٹرل اور جانور کا فرق اچھے طریقے سے جانتے ہی ہوں گے۔

پھر رعایا اس بات سے بھی ہرگز غافل نہیں کہ ہر انسان کے اندر کچھ خواہشات مچلتی رہتی ہیں۔ حکمرانی کی خواہش، حکم چلانے کی خواہش، حکومت کرنے کی خواہش، دولت کی خواہش، مرتبے کی خواہش، الگ نظر آنے کی خواہش، کسی فسطائی نظریے سے محبت کی خواہش، اور یہ بے لگام خواہشیں جب مزید بے لگام ہو جائیں تو چین سے جینے نہیں دیتیں اور بھگتنا رعایا کو پڑتا ہے۔ لیکن رعایا یہ سمجھتی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مائی لارڈ کے اوپر جو ایک اور ہائی لارڈ ہے، اس ہائی لارڈ کو بھی تو کچھ بے لگام خواہشیں تنگ کرتی ہوں گی۔ ان کا بوجھ بھی کہیں آپ ہی کو نہ اٹھانا پڑتا ہو۔

مائی لارڈ رعایا ان بے لگام خواہشوں کو رجیم چینج سازش کا نام دے رہی ہے۔

جیسا کہ استاد منگو خاں کے تھیلے سے کبھی سازشی خرگوش نکلتا ہے تو کبھی امریکی کچھوا۔ لیکن رعایا کو دکھ اس بات کا ہے کہ وہ آپ پہ کچھ کچھ اعتبار کرنے لگ گئی تھی۔ ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا / کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔ لیکن دنیا کی چند دلکش ترین وادیوں میں شمار ہوتی اپنی وادی کے درخت اور در و دیوار بھسم ہوتے دیکھ کر رعایا کا آپ پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے کیونکہ رعایا کو پتہ چلا ہے کہ استاد منگو خاں کو شہر کو آگ لگانے کو صرف آپ ہی کے فرمان کا انتظار تھا اور اس کو بس آپ کی ہاں کی ضرورت تھی اب آپ کو پتہ نہیں کس کی ہاں کی ضرورت تھی لیکن اپ نے اپنی پہاڑوں میں گھری وادی اس کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دی۔ مائی لارڈ گستاخی معاف۔ کہیں یہ جمہوریت کے خلاف ملی بھگت تو نہیں۔ کہیں آپ استاد منگو خاں کی فسطائی دھمکیوں سے ڈر سے تو نہیں گئے۔

جناب والا اس کے بعد کچھ یوں ہوا کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تھا یعنی اس ملک کو ڈیفالٹ سے بچنے کو آئی ایم ایف کا سہارا تھا لیکن اس وادی کو آگ کے شعلوں میں لپٹے دیکھ کر آئی ایم ایف والوں کا دل بھی کھٹا ہو گیا ہے اور ان کے فیصلے میں دراڑ آ گئی ہے تو رعایا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کی قابلیت کو مد نظر رکھتے ہوئے شہر کی حکمرانی بھی آپ ہی کو سونپ دی جائے۔ آگے آپ کی مرضی، مائی لارڈ آپ اسے استاد منگو خان کے سپرد کریں یا اپنے ہائی لارڈ کو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عالیہ شاہ

On Twitter Aliya Shah Can be Contacted at @AaliyaShah1

alia-shah has 45 posts and counting.See all posts by alia-shah

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments