قومی یکجہتی اور طوائف
ایسا لگتا ہے ہم دائرے میں سفر کر رہے ہیں- وہی ڈی چوک، وہی لیڈر ، وہی عوام اور ان سب کی چابیاں ان ہی مقتدر حلقوں کے پاس-
پچھلے چار سالوں میں کچھ بھی تو نہیں بدلا- کچھ بدلا ہے تو غریب کی شکر، آٹا، گھی اور دوا کی قیمتیں- مایوسی، غربت اور نفرت کے بھاو میں اضافہ دیکھا گیا – قومی یکجہتی، برداشت اور محبت کے سودے خسارے کا شکار رہے-
آئندہ کچھ ہفتوں اور مہینوں یہی مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے- مسافروں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے حفاظتی بند باندھے رکھیں-
مملکت خداداد پاکستان میں آج کل کچھ اسی طرح کی کیفیت ہے- سمجھ نہیں آ رہا کہ اسٹاک مارکیٹ کی خبر ہے، موسم کا حال ہے یا جہاز میں اعلان ہو رہا ہے-
عوام مکمل طور پر اپنی نارمل زندگی سے نکل کر انتہائی درجے تک سیاست کا شکار ہو چکے ہیں- ان کے نزدیک ان کا سیاسی لیڈر ایک مجازی خدا ہے اور اس کے کہے پر ایمان لانا اس کے اوپر لازم ہے- اس کی ہر بات پر لبیک کہنا اور سر جھکانا ان پر فرض ہے-
عوام کو اسی لئے تعلیم سے دور رکھا گیا کہ وہ شعور کی اس منزل تک نہ پہنچیں جہاں وہ سوال کر سکیں- جہاں وہ یہ سمجھ سکیں کہ ان کا استعمال کیا جاتا ہے اور پھر استحصال چاہے وہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو-
جہاں وہ سوال کر سکیں نفرتیں پھیلانے والے سابق حکمراں سے کہ کیوں اپنے اقتدار کی خاطر وہ لوگوں کو اکسا رہا ہے- اتنی نفرت، حقارت، تقسیم اور تفریق-
جہاں ہم سوال کر سکیں اسٹیبلشمنٹ سے کیوں وہ کسی حکومت کو چلنے نہیں دیتے، کیوں اپنی پسند کے الیکشن کروانے جاتے ہیں، کیوں ہندوستان سے تعلقات کو پنپنے نہیں دیتے، کیوں آپ ہماری سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کی لاشوں پر سیاست کرتے ہیں-
سوال کئ ہیں اور بہت مرتبہ پوچھے بھی جا چکے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہے- اس ملک میں بسنے والے لوگ دیوانگی کی حد تک تقسیم ہو رہے ہیں-
ان حکمرانوں سے کہیں بہتر تو وہ طوائف ہوتی ہے جس کا دروازہ ہر دھرم کے لوگوں کے لئے کھلا رہتا ہے- وہ کالے اور گورے میں بھی تفریق نہیں کرتی- سب کا ایک ریٹ- وہ اپنے پیشے کو عبادت کی طرح کرتی ہے- اپنے کمائی کو حلال کرتی ہے- لوگوں کو نفرت کا سبق نہیں دیتی، لوگوں کو تقسیم نہیں کرتی، جھوٹ نہیں بولتی، حکومتی سطح پر دیئے ہوئے تحفے نہیں بیچتی- آپ کی طرح محلوں میں نہیں رہتی- اپنی حفاظت کے لئے پچاس پولیس والے لے کر نہیں چلتی-
اور یہ سیاسی لیڈران اپنے آپ کو عوامی کہتے ہیں جن کے دروازے عام آدمی کے لئے بند ہیں- جو اپنی سواری کے لئے ہیلی کاپٹر، بلٹ پروف گاڑی کا استعمال کرتے ہیں- جو کوئی ان سے آگے چلنے کی غلطی کر لے تو ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیتے ہیں کہ میرے پیچھے پیچھے چلو-
عوامی تو طوائفیں ہوتی ہے جن کے شب و روز ان تنگ گلیوں اور چھوٹے مکانوں میں گزرتے ہیں- جو ایک دوسرے کے آنسو پونچھتی ہیں، مشکل وقت میں ایک دوسرے کو گلے لگاتی ہیں اور معاشرے میں محبت بانٹتی ہیں- خود دکھ سہہ کر دوسرے کو خوشی کے لمحات میسر کرتی ہیں-
ندا فاضلی کی نظم "قومی یکجہتی” کی اس دعا کے ساتھ اختتام کرتا ہوں، شاید کسی کو شرم آ جائے-
وہ طوائف
کئی مردوں کو پہچانتی ہے
شاید اسی لیے
دنیا کو زیادہ جانتی ہے
اس کے کمرے میں
ہر مذہب کے بھگوان کی ایک ایک تصویر لٹکی ہے
یہ تصویریں
لیڈروں کی تقریروں کی طرح نمائشی نہیں
اس کا دروازہ
رات گئے تک
ہندو
مسلم
سکھ
عیسائی
ہر مذہب کے آدمی کے لیے کھلا رہتا ہے
خدا جانے
اس کے کمرے کی سی کشادگی
مسجد اور مندر کے آنگنوں میں کب پیدا ہوگی


