چیکو چالاکیاں، بدزبانیاں اور امریکی غلامی سے نجات


اس اصطلاح کو سید طلعت حسین نے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے جو پاکستان کی کم و بیش تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے تو اس اصطلاح کو ایک فسطائیت یا بیمار ذہنیت کے پس منظر میں ایک استعارہ کے طور پر استعمال کیا ہے جس کی نمائندگی عمران خان کے دست راست صاحب زادہ جہانگیر چیکو جو کہ دہری شہریت رکھتے ہیں اور آج کل برطانیہ میں مقیم ہیں اور عمران خان کی گڈ بک میں رہنے کے لئے کبھی سعودی عرب اور کبھی برطانیہ میں چھوٹے چھوٹے مجمع میں "شر انگیزیاں اور بدزبانیاں” کرنا اور اپنے جیسے شرارتی لوگوں سے ان مناظر کی ویڈیو بنوا کر وائرل کروانا اس کا معمول ہے۔

گزشتہ دنوں برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن جا دھمکے اور فون پر کسی کرنل صاحب کو دھمکا  رہے ہیں یا ایکٹنگ کر رہے ہیں، اس کے بعد ہائی کمیشن کے کسی نمائندے کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "ہم نے تمہاری شکلیں اپنے موبائل میں محفوظ کر لی ہیں جس دن عمران خان وزیراعظم بنے گا ہم ایک ایک کو سبق سکھائیں گے” قابل غور بات یہ ہے کہ چیکو کی اس ایکٹنگ کو اس کا ایک ساتھی موبائل میں محفوظ کر رہا تھا تاکہ اس اسٹائل اور فسطائیت کو وائرل کروا کر خان صاحب کے جانثاروں کی فہرست میں نام درج ہو سکے۔

اسی بیمار ذہنیت کا موازنہ عمران خان کے حال ہی میں ایک بیان کے ساتھ جوڑ کر کیا جاسکتا ہے۔ خان صاحب کا فرمانا تھا کہ "جن پولیس افسران نے بھی ہمارے کارکنان پر تشدد کیا ہے ہم نے ان کی شکلیں اور نام محفوظ کر لئے ہیں، اقتدار میں آکر انہیں نشان عبرت بنا دیں گے۔ بدزبانی کا کلچر اور گھٹیا زبانی کی ڈکشنری کی بنیاد رکھنے والے ہمارے عظیم رہنماؤں کی ذرا لغت یا زبان ملاحظہ فرمائیے "مریم میرے بارے میں کیوں سوچتی ہو، میرا نام زیادہ کیوں لیتی ہو کہیں تمہارا شوہر ناراض نہ ہو جائے، بلو رانی، اوہ نامرد بلو، ڈاکو، لٹیرے، چور، اؤے زرداری بڑی بیماری یا چیری بلاسم وغیرہ”۔

اس ڈکشنری سے متعارف کروانے کا قطعی یہ مقصد نہیں کہ دوسری پارٹیوں کے سربراہان دودھ کے دھلے ہیں مگر انہوں نے ریاست مدینہ کا دعوی اور خود کے متعلق رجسٹرڈ صادق اور امین ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر انوکھے لاڈلے یا "تھرڈ آپشن” نے بھی وہی روایتی گل فشانیاں اور انہی ہتھکنڈوں سے کام چلانا تھا تو پھر اس "عطائی تبدیلی یا وقتی بندوبست” کا کیا فائدہ ہوا ہے؟ دراصل یہ عوام کو  بے وقوف بنانے کا ایک تسلسل یا کھیل ہے جو جمہوریت کے نام پر شروع سے عوام کے ساتھ کھیلا جارہا ہے اور اس کھیل کے کنٹرولر عوام کو بور نہیں ہونے دیتے۔ مختلف کردار مختلف ناموں سے سیاسی اکھاڑے میں کودتے ہیں اور پھس پھسی اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھان متی کے کنبے کی صورت میں ایک کمزور سی حکومت بنوا دی جاتی ہے تاکہ جمہوریت اور طاقت کا توازن برقرار رہے اور کمزور جمہوری چہرے کے ساتھ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات استوار رہیں اور گلشن کا کاروبار بھی چلتا رہے۔

ہم جس معاشرے میں بس رہے ہیں وہاں اس بات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کہ”مہذب دکھنے کے لیے مہذب ہونا ضروری نہیں ہے”  جب ڈھول پیٹ کر دنیا کو بیوقوف بنایا جا سکتا ہے تو پھر حقیقی مہذب بننے کا تکلف کیسا؟ ویسے بھی اصل بننا بہت جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے اور اس میں محنت بہت زیادہ لگتی ہے۔”پوز اور کلک” سے مہان بننے کی اداکاری کرنے میں کیا مسئلہ یا مضائقہ ہے؟ لفظوں  کے معنی و مفاہیم "ملٹی شیڈنگ” ہیں اور ہر آنے والا حکمران اپنی مرضی کا معنی اخذ کر کے عوام کو بے وقوف بنا کر چلتا بنتا ہے۔ حقیقی آزادی ہماری ایلیٹ حکمران کلاس بشمول عمران خان کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے، یہ مسئلہ تو دراصل پاکستان کے غریب عوام جو کیڑے مکوڑوں کی طرح اپنی زندگیوں کے دن پورے کرتے ہیں یہ دراصل ان کا مسئلہ ہے، جو ہر بہروپیے کے بہکاوے میں آ کر اس آس پر اپنا قیمتی ووٹ ڈالتے ہیں کہ "شاید ان کے دن پھر جائیں”۔

حکمران کلاس تو شروع دن سے آزاد ہے اور سسٹم کو ہیک کر کے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر کے مشکل وقت پڑنے پر مغرب کی ہواؤں سے فیض یاب ہونے کے لیے وہاں روانہ ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آج تک ہمارے حکمران کلاس کا کچھ بگڑا یا ان کا کوئی کام رکا ہے؟ ہمارا پورا سسٹم اسی طبقے کے گرد طواف کرتا رہتا ہے اور آڑے وقتوں فوری ریلیف کا بندوست کرکے راستہ صاف کر دیا جاتا ہے۔ مگر غریب کا کیا جو شروع دن سے عدالتوں،تھانوں یا چوکوں چوراہوں میں رلتے رہتے ہیں، جنہیں انصاف ملنے کی قبر میں اتر جانے تک بھی کوئی امید نہیں ہوتی۔ لیکن حکمران طبقے کے لیے سوموٹو  لے کر آسانیاں پیدا کر دی جاتی ہیں۔ پھر بھی ناشکرے خان کو گلہ ہےکہ اس کے لئے رات کو عدالتں کیوں کھولی گئیں اور اب آزادی مارچ کے آفٹر شاکس یا نقصانات کو کیسے مینج کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اگر کوئی غریب اپنے حقوق کے لیے ڈی چوک میں ایسی خرمستیاں جو عمرانی طبقے نے کی ہیں کا ارتکاب کر لیتا تو اب تک وہ غریب مار کھا کھا کر ادھ موا ہو چکا ہوتا مگر اس دیس کا چلن ہی نرالا ہے جو ایلیٹ طبقہ شروع دن سے ہی مادر پدر آزاد ہے وہ حقیقی آزادی کا مطالبہ کر رہا ہے اور غریب عوام ان کے نعروں کے اسیر ہو کر استعمال ہو رہے ہیں۔ اس لئے حقیقی آزادی کا حصول عمران خان یا دوسرے لیڈروں کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ تو غریب عوام کا ہے جنہیں شروع سے اس طبقے نے اپنے سسٹم کا غلام بنا رکھا ہےاور انہی کے سہارے یہ ایوانوں میں داخل ہو کر اپنا ہدف حاصل کر کے چلتے بنتے ہیں اور غریب دن بدن غربت کے پاتال میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔  اپنی حکومتی رخصتی کو امریکہ کے کھاتے میں ڈال کر، مجمع میں خود کو خود ہی عاشق رسول کا سرٹیفکیٹ عنایت کرکے اور غریبوں کے مسائل میں سو گنا مزید اضافہ کر کے کنٹینر پر کھڑے ہو کر عوام کو بیوقوف بناتے جاؤ کون پوچھنے والا ہے؟ آپ کے جھوٹ سچ پر مہر تصدیق ثبت کرنے والے کئی صابر شاکر، اوریا مقبول جان، ارشد شریف اور ہارون رشید   مل جائیں گے، فکر کی کیا بات ہے۔

Facebook Comments HS