انٹرنیشنل بکر انعام اور بکر انعام


سال 2022 ء کا انٹرنیشنل بکر انعام ہندی ادب کی نامور ادیبہ گیتا نجلی شری کو ناول ”ریت سمادھی“ کے انگریزی ترجمے Tomb of sand کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ ہندی ادب یا اگر یوں کہا جائے کہ برصغیر کی کسی بھی مقامی زبان سے اس مقابلے میں شامل ہونے والی اور انعام جیتنے والی پہلی کتاب ہے۔ ریت سمادھی کا انگریزی ترجمہ ڈیزی راک ویل نے کیا ہے۔

یاد رہے کہ انٹرنیشنل بکر انعام ہر سال کسی بھی زبان سے انگریزی میں ترجمہ کیے گئے فکشن کے کام پر دیا جاتا ہے۔ اس انعام کا اجراء 2005 ء میں کیا گیا ابتداء میں اس کا مقصد ہر دو سال بعد کسی ایک ادیب کو اس کے مکمل کام کے لیے انعام سے نوازا جانا تھا۔ یہ روایت دس سال تک برقرار رہی اور اس دوران چھ ادیبوں کو یہ انعام دیا گیا۔ جن کی تفصیل کچھ یوں ہے :

سال 2005 ء کا انعام اسماعیل کدارے (البانیہ) ، 2007 ء کا انعام چینوا اچیبے (نائجیریا) ، 2009 ء کا انعام ایلس منرو (کینیڈا) ، 2011 ء کا انعام فلپ روتھ (امریکہ) ، 2013 ء کا انعام لیڈیا ڈیوس (امریکہ) اور 2015 ء کا انعام لاسزلو کراسزناہورکائی (ہنگری) کو دیا گیا۔

پاکستان کے نامور ادیب انتظار حسین بھی 2013 ء میں اس انعام کے لیے شارٹ لسٹ کا حصہ بنے۔ 2016 ء میں اس انعام کے قواعد میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا اور یہ انعام ہر سال کسی بھی زبان کی فکشن کی کتاب جس کا انگریزی ترجمہ برطانیہ یا آئرلینڈ میں شائع ہو چکا ہو اسے دینے کا فیصلہ کیا گیا اور انعامی رقم پچاس ہزار پاونڈ کو لکھاری اور مترجم کے درمیان یکساں تقسیم کا قاعدہ متعارف کروایا گیا۔ اب تک سات کتابوں کے تراجم کو یہ انعام مل چکا ہے جن کی تفصیل یوں ہے :

سال 2016 ء: دا ویجیٹیرئین، مصنف ہان کانگ (جنوبی کوریا) ، مترجم ڈیبرا سمتھ، 2017 ء: آ ہارس واکس انٹو آ بار، مصنف ڈیوڈ گروسمین (اسرائیل) ، مترجم جیسیکا کوہن، 2018 ء: فلائٹس، مصنف اولگا توکارچک (پولینڈ) ، مترجم جینیفر کرافٹ، 2019 ء: سیلیسٹیئل باڈیز، مصنف جوخة الحارثی (اومان) ، مترجم میریلن بوتھ، 2020 ء: دا ڈسکمفرٹ آف ایوننگ، منصف میریکے رائن فیلڈ (نیدرلینڈ) ، مترجم مشیل ہچیسن، 2021 ء: ایٹ نائٹ آل بلڈ از بلیک، مصنف ڈیوڈ ڈیاوپ (فرانس) ، مترجم اینا موسچویکس، 2022 ء: ٹومب آف سینڈ، مصنف گیتا نجلی شری (بھارت) ، مترجم ڈیزی راک ویل

یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ اب تک جن سات کتابوں کے تراجم کو یہ انعام ملا ہے ان کی مترجم خواتین ہیں۔

بکر بنیادی طور پر ادارے کا نام ہے جو سال میں دو انعامات جاری کرتا۔ ایک ”انٹرنیشنل بکر انعام“ اور دوسرا ”بکر انعام“ ۔ اب آئیے بکر انعام کی طرف جو انٹرنیشل بکر انعام کی نسبت قدرے پرانا انعام ہے۔ اس انعام کا آغاز 1969 ء میں کیا گیا اور 2001 ء تک اس کا نام ”بکر پرائز فار فکشن“ تھا، 2002 ء سے مین گروپ کی شمولیت کے بعد اس کا نام ”مین بکر پرائز“ کر دیا گیا جو 2019 ء میں مین گروپ کی علیحدگی تک برقرار رہا اور 2019 ء سے اسے صرف بکر پرائز کہا جاتا ہے۔

اس انعام کا مقصد انگریزی زبان میں لکھے جانے والے فکشن خاص کر ناول کو جو برطانیہ یا آئرلینڈ میں شائع ہوا ہو اسے نوازا جانا ہے۔ پاکستان سے محسن حامد وہ واحد ادیب ہیں جو اس انعام کے لیے دو مرتبہ شارٹ لسٹ کا حصہ بن چکے ہیں۔ 2007 ء میں محسن حامد اپنے ناول دا ریلکٹینٹ فنڈامینٹلسٹ اور 2017 ء میں ناول ایگزٹ ویسٹ کے لیے شارٹ لسٹ کا حصہ بنے۔ بھارت سے اب تک تین ادیب ارون دھتی رائے، کرن ڈیسائی اور اراوندا ڈیگا اپنے ناولوں کے لیے یہ انعام جیت چکے ہیں۔

جب کہ بھارت ہی میں پیدا ہونے والے سلمان رشدی بھی 1981 ء میں بکر انعام جیت چکے۔ پانچ ادیب دو مرتبہ یہ انعام جیت چکے ہیں جن میں جے ایم کوئٹزی، پیٹر کیری، جے جی فیرل، ہیلری مینٹیل اور مارگریٹ ایٹ وڈ شامل ہیں۔ مارگریٹ ایٹ وڈ اور آئرس مردوخ سب سے زیادہ مرتبہ شارٹ لسٹ کا حصہ بننے والی لکھاری ہیں جو چھ مرتبہ نامزد ہو چکی ہیں۔

Facebook Comments HS