کیا آپ کے سیاسی لیڈروں کے دلوں میں انتقام کی آگ جل رہی ہے؟


بہت سے عوام و خواص اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جب دو انسان ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں تو دھیرے دھیرے عاشق اور معشوق اور محب اور محبوب میں اتنی قربت پیدا ہو جاتی ہے کہ انہیں ایک دوسرے میں اپنی شخصیت کی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے۔ جب دو محبوبوں کی محبت اپنی معراج پر پہنچتی ہے تو دونوں محبوب ایک دوسرے سے کہتے ہیں

من تو شدم، تو من شدی
تا کس نگوید بعد ازاں، من دیگرم تو دیگری
بعض لوگ اس عمل کو یک جان دو قالب ہونا بھی کہتے ہیں۔

بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ شدید محبت اور شدید نفرت میں نفسیاتی طور پر کچھ زیادہ فرق نہیں۔ جب دو انسان ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں تو وہ بھی دھیرے دھیرے اپنے دشمن کے قالب میں ڈھلنے لگتے ہیں کیونکہ دو نفرت کرنے والے انسان لاشعوری طور پر ایک گہرے نفسیاتی رشتے میں منسلک ہوتے ہیں۔

یہ رشتہ جذباتی بھی ہو سکتا ہے اور سیاسی بھی۔

جب دو عاشق ایک مشترکہ محبوب ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کو اپنا رقیب سمجھنے لگتے ہیں تو وہ اپنے غصے ’تلخی اور نفرت کی وجہ سے ایک دوسرے کا آئینہ بننے لگتے ہیں اور ان کی شخصیت میں منفی تبدیلیاں آنے لگتی ہیں۔

دو عاشقوں کی طرح جب دو سیاسی لیڈر یا دو سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتی ہیں تو ان کی شخصیت مسخ ہونے لگتی ہے اور وہ ایک دوسرے کی شخصیت کی منفی خصوصیات کو لاشعوری طور پر اپنی شخصیت میں جذب کرنے لگتے ہیں۔

سیاست کی صحتمند روایت میں سیاسی لیڈر اور سیاسی پارٹیاں اس راز سے واقف ہوتی ہیں کہ جمہوریت کا مقصد عوام کی خدمت کرنا اور ان کے معاشی اور سماجی مسائل کو حل کرنا ہے۔ صحتمند سیاست میں سیاسی لیڈر اپنے تمام تر نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود مخالف پارٹیوں کے لیڈروں کی رائے اور شخصیت کا احترام کرتے ہیں۔

جب کسی سیاسی پارٹی کا لیڈر ملک کا صدر یا وزیر اعظم بن جاتا ہے تو پھر وہ اپنی پارٹی کا نہیں ساری قوم کا لیڈر بن جاتا ہے اور دوسری پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کا بھی احترام کرتا ہے اور ان کے مسائل کو بھی حل کرنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ وہ بھی اسی قوم کے افراد ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کسی پارٹی کا لیڈر صدر یا وزیر اعظم بننے کے بعد صرف اپنی پارٹی کے ممبروں کا خیال رکھتا ہے تو ہم ایسے لیڈر کو کوتاہ نظر اور سیاسی طور پر نابالغ لیڈر سمجھتے ہیں اور اگر وہ صدر یا وزیر اعظم بن کر دوسری پارٹی کے لیڈروں اور ممبروں کی تذلیل و تحقیر کرتا ہے تو ہم اسے کم ظرف لیڈر سمجھتے ہیں اور جان جاتے ہیں کہ اس کی انا اس کے فرائض منصبی کو پورا کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے۔

جب سیاسی لیڈر منتقم مزاج بن جائیں تو ایسی منتقم مزاجی نہ صرف ان لیڈروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ منتقم مزاجی ان کی شخصیت کو مسخ کر دیتی ہے بلکہ ایسے لیڈر اپنی قوم کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے پیروکاروں کو بھی ذاتی دشمنی اور عناد کی آگ میں دھکیل دیتے ہیں۔

جمہوری نظام کی سماجی خوبصورتی اور سیاسی دلکشی اس عمل میں پوشیدہ ہے کہ جب الیکشن میں دوسری پارٹی جیت جائے تو پہلی پارٹی کا لیڈر نئے صدر یا وزیر اعظم کو احترام سے حکومت کی باگ ڈور تھما دے تا کہ نئی حکومت عوام کی خدمت کر سکے اور خود حکومت سے علیحدہ ہو جائے۔

شمالی امریکہ میں چالیس برس سے رہتے ہوئے میں اس شام کا پروگرام بڑی دلچسپی سے دیکھتا ہوں جب ٹیلی ویژن پر امریکہ کا جاتی حکومت کا صدر آنے والی حکومت کے صدر کو وائٹ ہاؤس کی چابی دیتا ہے۔ چاہے وہ صدر ڈیموکریٹک پارٹی کا ہو یا ریپبلکن پارٹی کا ہو۔ چاہے وہ رونلڈ ریگن ہو یا جمی کارٹر۔ جارج بش ہو یا بل کلنٹن ہو یا باراک اوباما۔ سب نے اس جمہوری روایت کا احترام کیا۔ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسا نرگسیت پسند صدر تھا جس نے بائیڈن کا خیر مقدم کرنے کی بجائے وائٹ ہاؤس پر اپنے پیروکاروں سے حملہ کروا دیا۔ دلچسپی کی بات یہ کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے جمہوری روایت کو توڑنے کی کوشش بھی کی تو دیگر جمہوری اداروں نے اسے روکا اور اس کی منتقم مزاجی کو کنٹرول کیا۔

بدقسمتی سے بہت سے ممالک میں ابھی جمہوری روایت اتنی مضبوط نہیں ہوئی کہ عوام کو منتقم مزاج سیاسی لیڈروں کے غصے اور نفرت کی آگ سے بچا سکے۔

جمہوری روایت عوام کی بھی تربیت کرتی ہے اور انہیں کسی نرگسیت پسند سیاسی لیڈر کے CULT LEADER بننے سے بچاتی ہے کیونکہ جمہوریت پسند عوام اپنی معروضی سوچ کو بچاتے ہیں اور اندھی تقلید سے بچتے ہیں۔

کسی بھی قوم کی بدبختی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کے سماجی مذہبی اور سیاسی لیڈروں کے دل محبت اور خدمت کی بجائے غصے ’نفرت اور انتقام کے جذبوں سے لبریز ہو جاتے ہیں اور ان کی تقریروں میں ان کے ہونٹوں سے محبت کے پھول گرنے کی بجائے انتقام کی آگ کے شعلے لپکنے شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے مخالفین کو تحقیر و تذلیل سے بھری گالیاں دیتے ہیں اور طرہ یہ کہ ان گالیوں پر نادم ہونے کی بجائے فخر بھی کرتے ہیں۔ بقول اقبال

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

فیض احمد فیض کی ایک معرکہ الآرا نظم رقیب کے نام ہے جس میں انہوں نے رقیب سے کہا ہے ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ ہم دونوں کی قدر مشترک یہ ہے کہ ہم دونوں ایک ہی محبوب کی زلف کے اسیر ہیں۔

انسان دوست سیاسی لیڈر بھی ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ سیاسی رقیب ہونے کا باوجود ایک قدر مشترک رکھتے ہیں کیونکہ ان کی مشترکہ محبوبہ عوام ہیں جن کی وہ زلف کے اسیر ہیں اور جن کی وہ دونوں خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

اگر ایسا نہیں ہے تو وہ عاشقی نہیں بوالہوسی ہے اور وہ جمہوریت نہیں آمریت ہے چاہے وہ مذہبی آمریت ہو عسکری آمریت ہو یا سیاسی آمریت۔

منتقم مزاجی سیاسی لیڈروں کے لیے ہی نہیں پوری قوم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ انتقام کی آگ میں بہت سے معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہونے کی بجائے جل سکتے ہیں۔

سیاسی شعور رکھنے والے عوام و خواص اس راز سے واقف ہوتے ہیں کہ جمہوریت کی بنیاد عوام کی خدمت اور انسان دوستی کی معراج انسانیت سے محبت میں مضمر ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 558 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments