انسانی ڈھال بمقابلہ گھریلو عورت
خان کی جانب ایک بار پھر تمام سپورٹرز کو باہر نکلنے اور دھرنے یا مرنے کی دعوت یا فرمان جاری کر دیا گیا ہے۔ چھ دن کی ڈیڈ لائن ایک ایک دن کر کے کم ہو رہی ہے۔ حکومت اور اتحادیوں کے انداز تو غماز ہیں کہ یہ الٹی میٹم ہوا میں ”ہشت۔ ہشت۔“ کہتے ہوئے اڑا دیا گیا ہے۔
پچھلے لانگ مارچ میں خصوصاً ڈی چوک اور دیگر مقامات پر جس شیلنگ، پتھراؤ، گھیراؤ کا سامنا خان کے ورکروں نے کیا۔ اب دوسری بار شاید دونوں جانب اس میں زیادہ شدت بلکہ حدت کا امکان ہے۔
ایسے میں عاجزانہ سوال ہے کہ دعوہ سنت امام حسین پر چلنے کا، عوام کو عورتوں، بچوں کے ساتھ لانے پر اصرار اور اپنی بیوی گھریلو خاتون؟
عرض ہے، کیا بشری بی بی اور خان کی بہنیں کربلا میں موجود، نواسہ رسول بی بی زینب و کلثوم، حضرت عباس کی بہن بی بی رقیہ، امام حسین کی بیٹیوں فاطمہ کبری و سکینہ، امام حسن کی بیوہ ام فروا، امام حسین کی زوجۂ بی بی شہر بانو، بی بی ام رباب اور حضرت بی بی فاطمہ کی کنیز جناب فضہ سے زیادہ گھریلو۔ معزز اور پردہ دار ہیں؟
چلئے، خان کی فیملی کی کوئی خاتون مارچ میں شامل نہیں ہوئی، بقیہ قیادت پرویز خٹک، شاہ محمود، قاسم سوری، فیصل جاوید، فواد چوہدری، شہباز گل، حماد اظہر، علی زیدی، عمران اسماعیل، اسد قیصر، فیصل واڈا، حلیم عادل شیخ، امین گنڈا پور، شفقت محمود، عمر چیمہ، فیاض الحسن چوہان، عمر ایوب، اعظم سواتی اور دیگر کے اپنے بیوی بچے اور مائیں گھر کیوں بیٹھے تھے؟
رہی پردے کی بات تو کیا وہ محترمہ عائشہ منور حسن اور ڈاکٹر سمعیہ راحیل، قاضی حسین احمد کی صاحبزادی سے زیادہ پردے دار ہیں؟
مولانا محمد علی جوہر کی والدہ بی اماں بھی پردہ کرتیں تھیں، گھریلو خاتون تھیں لیکن کیا وہ سیاسی تحریک کے لئے باہر نہیں نکلیں۔
سچ یہ ہے کہ جب عورتوں، بچوں کی شمولیت انسانی ڈھال بنانے کے لئے کروائی جائے تو اپنی مائیں، بیویاں اور بہو بیٹیاں گھر پر محفوظ ہی رکھی جاتی ہیں۔
جو ہوا اسے دیکھتے ہوئے پر خلوص مشورہ یہی جو سکتا ہے کہ آئندہ جب ایسی صورت ہے اور کال دے دی گئی ہے تو سپورٹرز سوال ضرور کریں کہ آپ میں سے کون کون اپنی ”گھریلو“ خواتین کو لا رہا ہے۔ پہلے آپ لائیں۔ پھر ہم آئیں گے کیونکہ ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں بھی ”گھریلو“ ہی ہیں!


